قرآن و حدیث میں امن کی تعلیم
Al-Risala, December 2001, pp. 15–20
By Maulana Wahiduddin Khan
خود لفظ اسلام میں امن کا مفہوم شامل ہے۔ اسلام کا روٹ ورڈ سلم ہے۔ سلم کے معنی امن کے اس لئے اسلام کا مطلب ہے، امن کا مذہب۔ حدیث میں آیا ہے کہ: السلام من الاسلام (البخاری، کتاب الایمان) یعنی سلامتی اسلام کا جز ہے۔ اسی طرح حدیث میں ہے: المسلم من سلم الناس من لسانه و يده (مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے لوگ امن میں تسلیم عباس من شاہ کے رشتہ دار ہیں،
قرآن میں اللہ کے جو نام (صفت) بتائے گئے ہیں ان میں سے ایک السلام (الحشر ۲۳) یعنی امن و سلامتی۔ گویا اللہ کی ذات خود صفت امن کا مظہر ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: اِن الله هو السلام (البخاری، کتاب الاذان) یعنی اللہ خود سلامتی ہے۔ اسی طرح اللہ کی ہدایت کو قرآن میں سبل السلام (المائدہ ۱۶) کہا گیا ہے۔ یعنی امن کے راستے ۔ اسلام کے مطابق، جنت انسان کے قیام کی معیاری جگہ ہے، اور قرآن میں جنت کو دار السلام (یونس ۲۵) کہا گیا ہے۔ یعنی امن کا گھر۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت کا قول ایک دوسرے کے لئے سلامتی سلامتی (الواقعہ ۲۶) دوسرے لفظوں میں یہ کہ اہل جنت کا اجتماعی کلچر پیس کلچر ہوگا۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے : والصلح خير (النساء ۱۲۸)۔ یعنی صلح کی روش اپنے نتیجہ کے اعتبار سے زیادہ بہتر ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، اللہ نے مصالحانہ طریق عمل پر وہ کامیابی مقدر کر دی ہے جو اس نے غیر مصالحانہ یا متشددانہ طریقہ عمل پر مقدر نہیں کی۔ پیغمبر اسلام کی اہلیہ عائشہ بنت ابی بکر اجتماعی معاملات میں آپ کی جنرل پالیسی کو اس طرح بیان کرتی ہیں: ما خير رسول الله صلى الله عليه وسلم بين امرين الا اختار ايسرهما (البخاری، کتاب المناقب) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو چیزوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب کرتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب پرامن عمل(peaceful activism) دستیاب ہو تو پر تشدد ایکٹوزم (violent activism) کو اختیار نہیں کیا جائے گا۔ کیوں کہ پرامن عمل کی حیثیت مقابلہ آسان انتخاب (easier option) کی ہے اور پرتشدد عمل کی حیثیت مقابلہ مشکل انتخاب (harder option) کی۔
مثلاً کسی تحریک کے پہلے ہی مرحلہ میں اسٹیٹس کو کو بدلنے کی کوشش کرنا مشکل انتخاب ہے اور اسٹیٹس کو کو بدلے بغیر حاصل شدہ دائرہ میں اپنا عمل جاری کرنا آسان انتخاب ۔ نزاع کے موقع پر لڑ جانا مشکل انتخاب ہے اور نزاع کے موقع پر صلح کر لینا آسان انتخاب۔ حریف کے مقابلہ میں متشددانہ طریق کار کو اپنانا مشکل انتخاب ہے اور حریف کے مقابلہ میں پرامن طریق کار کو اپنانا آسان انتخاب۔
کا جواب جارحیت سے دینا مشکل انتخاب ہے اور جارحیت کا جواب صبر و تحمل سے دینا آسان انتخاب۔ مسئلہ پیدا ہونے مکی صورت میں ہنگامہ آرائی کا انداز اختیار کرنا مشکل انتخاب ہے اور مسئلہ پیدا ہونے کی صورت میں خاموش تدبیر اختیار کرنا آسان انتخاب۔ اصلاح کے لئے ریڈیکل طریقہ اختیار کرنا مشکل انتخاب ہے اور اصلاح کے لئے تدریجی طریقہ اختیار کرنا آسان انتخاب۔ نتیجہ کی پروا کئے بغیر پر جوش اقدام کرنا مشکل انتخاب ہے اور نتیجہ کو سامنے رکھتے ہوئے حکیمانہ اقدام کرنا آسان انتخاب۔ سے محاذ آرائی کرنا مشکل انتخاب ہے اور حکمرانوں سے اعراض کرتے ہوئے تعلیم و تربیت کے دائرہ میں اپنے عمل کا آغاز کرنا آسان انتخاب۔ ان چند مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ مذکورہ حدیث کے مطابق، اختیار ای سر کیا ہے اور اختیار اعسر کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں امن کی حیثیت عموم (rule) کی ہے اور جنگ کی حیثیت صرف استثناء (exception) کی۔ اسلام کی تمام تعلیمات اور پیغمبر اسلام کی عملی زندگی اس کی تصدیق کرتی ہے۔ پیغمبر اسلام کا نمونہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر ۶۱۰ء میں مکہ میں پہلی وحی اتری۔ اللہ نے آپ کو جس مشن پر مامور کیا وہ توحید کا مشن تھا۔ اس مشن کی نسبت سے مکہ میں ایک بہت بڑا عملی مسئلہ موجود تھا۔ وہ یہ کہ کعبہ جس کو اللہ کے پیغمبر ابراہیم اور اسماعیل نے توحید کے گھر کی حیثیت سے بنایا تھا اس کو بعد کے زمانہ میں عملاً شرک کا مرکز بنا دیا گیا۔ وہاں ۳۶۰ بت رکھ دئے گئے۔
اس صورت حال کا بظاہر یہ تقاضا تھا کہ قرآن میں پہلا حکم اس مفہوم کا اترے کہ: طَهَّرِ الكعبة من الأصنام (کعبہ کو بتوں سے پاک کرو)۔ مگر اس مسئلہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اس وقت قرآن میں پہلا حکم یہ اترا کہ وثيابك فطھر (المدثر (۴) یعنی اپنے اخلاق اور سیرت کی تطہیر کرو۔ ہی مرحلہ میں پیغمبر اسلام کو کعبہ کی تطہیر کا حکم دیا جاتا تو اس وقت جب کہ مکہ پر مشرکین کا غلبہ تھا، یقینی طور پر یہ حکم فوراً ٹکراؤ اور جنگ کا سبب بن جاتا۔ چنانچہ اس حکم کے مطابق، پیغمبر اسلام کی دور کے تیرہ سال تک کعبہ میں پر امن طور پر نماز پڑھتے رہے جب کہ وہاں سیکڑوں کی تعداد میں بُت رکھے ہوئے
اسی طرح آپ نے اور آپ کے اصحاب نے عمرۃ الحدبیہ (۶۲۹ء) کے موقع پر کعبہ کا طواف کیا، جب کہ اس وقت کعبہ میں ۳۶۰ بت بدسر موجود تھے۔
پیغمبر اسلام نے ایسا اس لیے کیا تاکہ مشرکین سے جنگ اور ٹکراؤ کو ایوائڈ کیا جا سکے اور امن کی حالت برقرار رہے۔ آپ کی پوری زندگی اسی امن پسندانہ پالیسی کی مثال ہے۔ مکہ سے ہجرت کے موقع پر مشرکین جنگ پر آماده تھے مگر آپ خاموشی کے ساتھ مکہ سے نکل کر مدینہ چلے گئے ۔ (۶۲۸ء) کے موقع پر پورے معنوں میں جنگی حالات پیدا ہوگئے تھے۔ مگر آپ نے مشرکین کی یکطرفہ شرطوں پر راضی ہو کر ان سے امن کا معاہدہ کر لیا۔ غزوۂ خندق ( ۶۲۷ء) کے موقع پر مشرکین کی بارہ ہزار فوج مدینہ کی سرحد پر جنگ کا چیلنج کر رہی تھی۔ مگر آپ نے لمبی خندق کھود کر اپنے اور دشمنوں کے درمیان ایک فاصل (buffer) قائم کر دیا، وغیرہ۔
اسلام تو توحید کا مشن ہے۔ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو ایک اللہ کا پرستار بنایا جائے۔ لوگوں کے دل و دماغ کو اس طرح بدلا جائے کہ وہ صرف ایک اللہ سے محبت کریں (البقرہ ۱۶۵) اور صرف ایک اللہ سے خوف کریں (التوبہ ۱۸)۔ صرف ایک اللہ ان کا سب سے بڑا کَنْسَرن (concern) بن جائے۔ اس قسم کا دعوتی مشن جنگ اور متشددانہ ٹکراؤ کا تحمّل نہیں کر سکتا۔ اس لیے کہ جنگ اور تشدد کے حالات پیدا ہونے کے بعد وہ معتدل فضا ختم ہو جاتی ہے جب کہ ذہنی اصلاح اور روحانی انقلاب کی کوئی تحریک مؤثر طور پر چلائی جا سکے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پر امن حالات ہمیشہ اسلام کے لئے موافق فضا بناتے ہیں اور پر تشدد حالات ہمیشہ اسلام کے لئے مخالف فضا وجود میں لاتے ہیں۔ جنگ ایک ریاستی عمل اسلام میں جنگ عوام کا کام نہیں ہے بلکہ وہ باضابطہ طور پر قائم شدہ حکومت کا کام ہے۔ جس طرح عوام وقت آنے پر بطور خود نماز پڑھ لیتے ہیں اسی طرح وہ بطور خود جنگ یا قتال نہیں کر سکتے۔ جنگ یا قتال کا اعلان صرف ایک قائم شدہ ریاست کر سکتی ہے۔ حکومت اگر پکارے تو عوام اس کے معاون بن کر اس کے تحت شریک ہو سکتے ہیں مگر خود سے وہ ہرگز کوئی جنگ نہیں چھیڑ سکتے۔
قرآن میں ایک عمومی حکم کے طور پر یہ اصول بتایا گیا ہے کہ جب بھی کوئی خوف (خارجی حملہ) کی صورت پیدا ہو تو عوام کو خود سے کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہئے۔ ان کو صرف یہ کرنا چاہئے کہ وہ اس معاملہ کو اولو الأمر (النساء ۸۳) یعنی حکام تک پہنچائیں اور انہیں موقع دیں کہ وہ حسب ضرورت اپنی جوابی کارروائی کا منصوبہ بنائیں ۔
یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے: انما الإمام جنة، يقاتل من وراء ه و يتقى به (البخاری، کتاب الجہاد) یعنی حکمراں ڈھال ہے، قتال اس کی ماتحتی میں کیا جاتا ہے اور اسی کے ذریعہ بچاؤ حاصل کیا جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قتال کا اعلان یا اس کی منصوبہ بندی مکمل طور پر قائم شدہ حکومت کا کام ہے۔ عامۃ المسلمین اس کی ماتحتی میں رہ کر اور اس کے زیر حکم حسب ضرورت اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں، اس سے آزاد ہو کر نہیں۔
اس اسلامی اصول سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں اس غیر حکومتی جنگ کی کوئی گنجائش نہیں جس کو عام طور پر گوریلا وار (Gorilla War) کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ گوریلا وار عوام کی آزاد تنظیموں کی طرف سے لڑی جاتی ہے، نہ کہ حکومتی ادارہ کی طرف سے ۔ خود حکومتی ادارہ کے لئے ضروری ہے کہ اگر وہ کسی ملک یا قوم کے خلاف دفاعی جنگ لڑنا چاہتی ہے تو قرآن کے مطابق، پہلے وہ اس کا باضابطہ اعلان کرے۔ اور اگر اس کے خلاف کوئی معاہدہ ہے تو اس معاہدہ کو وہ منسوخ کر دے (الانفال ۵۸) اسلام میں اعلان کے ساتھ جنگ ہے، بلا اعلان جنگ (undeclared war) اسلام اس اصول کے مطابق، پراکسی وار (proxy war) اسلام میں جائز نہیں۔
اسلام کے تمام اعمال کی کچھ شرائط ہیں۔ اسی طرح اسلام میں جنگ کے لئے بھی کچھ لازمی ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ جنگ خواہ کوئی باقاعدہ مسلم حکومت کرے، اور خواہ وہ دفاعی ہو، تب بھی اس جنگ کا نشانہ جارح لوگوں تک محدود ہوگا۔ یعنی اس جنگ میں مسلمانوں کی فوج صرف مقاتلین (combatants) پر وار کر سکتی ہے، غیر مقاتلین (non combatants) کو اپنے حملہ کا نشانہ بنانا پھر بھی جائز نہ ہوگا۔
چنانچہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ تم ان لوگوں کے ساتھ جنگ نہ کرو جنہوں نے تم سے جنگ ایسے لوگوں کے ساتھ تم حسن سلوک اور انصاف کا معاملہ کرو۔ البتہ جن لوگوں نے تم سے جنگ کی ان سے جنگ کرنے کے لئے تم آزاد ہو۔ ان کے ساتھ تمہارا معاملہ دوستی کا معاملہ نہیں
اگر بالفرض کسی قوم کے ساتھ مسلم حکومت کی جنگ چھڑ جائے اور یہ جنگ اسلامی شرائط کے مطابق ہو تب بھی مسلمانوں کے لئے یہ جائز نہ ہوگا کہ وہ عام شہریوں کے خلاف اس قسم کی تخریبی کارروائی کریں جیسی تخریبی کارروائی کے طور پر ، ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ کو نیویارک اور واشنگٹن میں کی گئی۔ اسی طرح جائز اسلامی جنگ میں بھی مسلمانوں کو اجازت نہیں کہ وہ فریق ثانی پر خود کش بمباری یعنی بالقصد اپنے جسم پر بم باندھ کر فریق ثانی کی فوجی یا شہری آبادی پر ٹوٹ پڑیں اور جان بوجھ کر اپنے کو ہلاک کر کے فریق ثانی کو ہلاک کریں۔ اس قسم کا معاملہ ہرگز شہادت یا استشہاد نہیں۔ اسلام میں شہید ہونا ہے، اسلام میں شہید کروانا نہیں ہے۔