دشمن اور جارح کا فرق
Al-Risala, December 2001, pp. 20–26
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ نے اپنی حکمتِ امتحان کے تحت دنیا میں انسان کو آزادی دی ہے۔ اس آزادی کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان دشمنیاں قائم ہوتی ہیں (طٰہٰ ۱۲۳)۔ حتی کہ لوگوں کے درمیان جنگ کی نوبت آجاتی ہے۔ مگر اسلام میں دشمنی اور جنگ دونوں میں واضح فرق کیا گیا ہے۔ اہل اسلام کو یہ حق نہیں کہ وہ جس کو اپنا دشمن سمجھیں اس کے خلاف وہ جنگ چھیڑ دیں۔ کے مقابلہ میں اہل اسلام کو صرف پر امن دعوت کا کام کرنا ہے، نہ کہ ان سے جنگ چھیڑ دینا۔ میں قرآن میں واضح حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (حم السجدہ ۳۳، ۳۴)۔ گویا اسلام میں دشمن کو پر امن کوشش کے
ذریعہ اپنا دوست بنانا ہے، نہ کہ اس کو دشمن قرار دے کر اس کے خلاف جنگ کرنا۔ اسلام میں جنگ کی اجازت ہے مگر یہ اجازت صرف ان حالات میں ہے جب کہ اعراض کے باوجود فریق ثانی حملہ کر دے اور حقیقی دفاع کی صورت پیدا ہو جائے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا (الحج ۳۸) یعنی ان لوگوں کو لڑنے کی اجازت دی گئی جن کے خلاف جنگ کی جاتی ہے اس سبب سے کہ ان پر ظلم ہوا۔ قرآن میں دوسری جگہ جنگ کی اجازت دیتے ہوئے یہ وضاحت کی گئی ہے کہ یہ فریق ثانی ہے جس نے پہلی بار جنگ کی ابتداء کی (التوبہ ۱۳)۔ معلوم ہوا کہ اسلامی تعلیم کے مطابق، جنگ دشمن کے خلاف نہیں بلکہ حملہ آور کے خلاف ہے۔ مسلمان اگر کسی کو اپنا دشمن سمجھیں تو ان کو یہ اجازت نہیں کہ وہ اس کے خلاف حملہ کر دیں۔ کے مقابلہ میں اول و آخر جو حق دیا گیا ہے وہ پر امن دعوت ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ جارحیت کے خلاف دفاعی جنگ اسلام میں جائز ہے، مگر وہ بھی اس وقت جب کہ جنگ سے اعراض کی تمام کوششیں ناکام ہو گئی ہوں۔ پیغمبر اسلام کا عملی نمونہ اس کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ جنگ ایک غیر مطلوب شے اسلام کے لئے جنگ کا ماحول اتنا ہی غیر مطلوب ہے جتنا کہ تجارت کے لئے نفرت و تشدد کا ماحول غیر مطلوب ہے۔ تجارت امن اور اعتدال کے ماحول میں کامیاب ہوتی ہے۔ اسی طرح اسلام کے مقاصد صرف امن کے حالات اور نارمل تعلقات میں حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ: أيها الناس لا تتمنوا لقاء العدو، و سلوا الله العافية (البخاری، کتاب الجہاد) یعنی اے لوگو، تم دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو، بلکہ تم اللہ سے امن مانگو۔
جنگ کرنے والے ہمیشہ سیاسی اقتدار کی حصول کے لئے جنگ کرتے ہیں اور سیاسی اقتدار اسلام میں کوئی ایسی چیز ہی نہیں جس کے حصول کے لئے جنگ کی جائے۔ قرآن کے مطابق، سیاسی اقتدار اہل اسلام کا نشانہ نہیں بلکہ وہ ایک امر موعود (النور ۵۵) ہے۔ قرآن کے مطابق، اقتدار کا مالک اللہ ہے، وہی جس کو چاہتا ہے اسے دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اس سے اس کو چھین لیتا ہے
( آل عمران ۲۶) یہی وجہ ہے کہ اقتدار اور سیاسی فتح کبھی ایک کے حصہ میں آتی ہے اور کبھی دوسرے کے حصہ میں ( آل عمران ۱۴۰)۔
اس قرآنی حقیقت کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ سیاسی اقتدار کا ملنایا سیاسی اقتدار کا چھینا جانا دونوں فطرت کے قانون کے تحت پیش آتے ہیں، اقتدار نہ کسی گروہ کو اس کی کوشش سے ملتا ہے اور نہ کسی دوسرے گروہ کی سازش اس کو کسی سے چھین سکتی ہے۔ جنگ کے بغیر فتح پیغمبر اسلام کی زندگی میں ایک واقعہ وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ (۶۲۸ء) کہا جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام اس وقت مدینہ میں تھے اور مکہ اہل شرک کے قبضہ میں تھا جو اس وقت آپ سے برسر جنگ پیغمبر اسلام نے عمرہ کی عبادت کے لئے مکہ جانا چاہا کیوں کہ کعبہ مکہ میں ہے، اس بنا پر عمرہ کی عبادت مکہ ہی میں ادا کی جاتی ہے۔ آپ کا یہ سفر خالص عبادتی سفر تھا۔ مگر مکہ والوں نے اس کو اپنے لئے عزت (prestige) کا سوال بنالیا۔ انہوں نے آپ کو مکہ سے باہر حدیبیہ کے مقام پر روک دیا اور کہا کہ آپ یہاں سے واپس جائیں۔ یہ بحث یہاں تک بڑھی کہ جنگ کی صورت حال پیدا ہوگئی۔ پیغمبر اسلام کے ساتھ چودہ سو مسلمان تھے۔ اگر یہ لوگ اس پر اصرار کرتے کہ وہ مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کریں گے تو یقینی طور پر دونوں فریقوں کے درمیان جنگ چھڑ جاتی۔ مگر پیغمبر اسلام نے مشرکین کے مطالبہ کو مان لیا اور دس سال کا امن معاہدہ کر کے حدیبیہ سے مدینہ واپس آ گئے۔ معاہدہ حدیبیہ بظاہر مقابلہ کے میدان سے واپسی کا معاہدہ تھا۔ مگر جب یہ معاہدہ ہو گیا تو قرآن میں اس کو اہل اسلام کے حق میں فتح مبین (الفتح ۱) قرار دیا گیا۔ اُس وقت کے حالات میں اس کا مطلب یہ تھا کہ تم لوگوں نے اپنے حریف سے جنگ نہ کر کے ان کے اوپر فتح حاصل کر لی۔ اس کا مطلب یہ تھا ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جنگ سے اعراض کر کے اور امن کا معاہدہ کر کے اہل اسلام کو یہ موقع (opportunity) حاصل ہو گیا کہ وہ اپنی طاقتوں کو جنگ میں ضائع ہونے سے بچائیں اور اس کو مکمل طور پر تعمیر اور استحکام میں لگائیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
کہ حدیبیہ کے معاہدہ امن کے بعد دو سال کے اندر اہل اسلام نے اپنے آپ کو اتنا مستحکم بنا لیا کہ وہ اس حیثیت میں ہو گئے کہ کسی باقاعدہ لڑائی کے بغیر صرف پر امن تدبیر کے ذریعہ مکہ پر فتح حاصل کر ’’جنگ کے بغیر فتح‘‘، کا یہ اصول بلاشبہ اسلام کا ایک نہایت اہم اصول ہے۔ یہ اصول فطرت کے اٹل نظام پر قائم ہے۔ وہ افراد اور گروہوں کے لئے بھی اتنا ہی مفید ہے جتنا کہ حکومتوں کے اس اصول کو ایک جملہ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے—ٹکراؤ اعراض کرو اور مواقع کو
Avoid the confrontation, and avail the opportunities. قتال برائے ختم قتال قرآن میں رسول اور اصحاب رسول کو جو احکام دیے گئے، ان میں سے ایک حکم یہ تھا: وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة و يكون الدين كله لله فإن انتهوا فإن الله بما تعملون بصير (الانفال (۳۹) یعنی اور ان سے سے لڑو یہاں تک کہ فتنه باقی نه رهے اور دین سب اللہ کے لیے ہو جائے ۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ دیکھتا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔
اس آیت کے دو حصے ہیں۔ یہاں ایک ہی بات کو پہلے منفی اور اس کے بعد مثبت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فتنے کی حالت کو اس طرح ختم کر دو کہ پوری طرح غیر فتنے کی حالت قائم ہو جائے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ انسان کی پیدا کردہ مصنوعی حالت نہ رہے بلکہ خدا کی مقرر کی ہوئی فطری حالت واپس آجائے۔
اس آیت میں فتنے سے مراد مذہبی جبر ہے جو قدیم زمانہ میں ساری دنیا میں رائج تھا۔ میں ہر جگہ بادشاہت کا رواج تھا۔ اس زمانہ میں زندگی کے صرف دو بڑے شعبے تھے—اقتدار اور یہ دونوں شعبے مکمل طور پر بادشاہ کے ہاتھ میں ہوتے تھے۔ اس طرح پوری انسانی زندگی عملاً بادشاہ کے قبضہ میں رہتی تھی۔ حتیٰ کہ لوگوں کا مذہب بھی وہی ہوتا تھا جو بادشاہ کا مذہب ہوتا تھا۔ زمانہ کی حالت کو ایک قدیم عربی مقولہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: الناس على دين ملوکهم
(لوگ اپنے بادشاہوں کے مذہب پر ہوتے ہیں)۔
قدیم زمانہ میں جبر کی یہ صورت حال خدا کی فطری اسکیم کے خلاف تھی۔ اس کے نتیجہ میں ساری دنیا میں ایک قسم کی سیاسی مرکزیت (political centralization) قائم ہوگئی تھی۔ اس نظام کے اندر ہر کام صرف بادشاہ کی اجازت کے تحت ہوسکتا تھا۔ عام افراد کوئی بھی کام آزادانہ طور پر کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے تھے۔ یہ تقریباً وہی صورت حال تھی جس کا ایک نمونہ کمیونسٹ ڈکٹیٹر شپ کے تحت قائم شدہ سابق سوویت یونین میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اللہ کو مطلوب تھا کہ سیاسی جبر کے اس غیر فطری نظام کو ختم کر دیا جائے اور زندگی کا پورا نظام اس حالت فطری پر قائم ہو جائے جو اللہ نے امتحان کی مصلحت کے تحت انسان کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ سیاسی اقتدار کی اجازت کے بغیر ہر آدمی آزادانہ طور پر وہ کام کر سکے جس کو وہ کرنا چاہتا ہے۔ اسلام کے دور اول میں ملوکیت کو ختم کر کے خلافت کا قیام اسی عمل کا آغاز تھا۔ یہ نظام سب سے پہلے عرب میں قائم کیا گیا۔ اس وقت کی دنیا میں دو بڑی سلطنتیں __ بازنطینی ایمپائر اور ساسانی ایمپائر قائم تھیں۔ ان سلطنتوں کے لئے مذکورہ قسم کا اصلاحی پروگرام ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا تھا۔ انہوں نے اس اصلاحی تحریک کو کچلنا چاہا۔ اس کے نتیجہ میں اصحاب رسول کا ان سلطنتوں کے ساتھ زبردست مقابلہ پیش آیا۔ اللہ کی مدد سے اس مقابلہ میں اصحاب رسول کو کامیابی حاصل ہوئی اور اس جبری نظام کا خاتمہ ہو گیا۔ جس کو فرانسیسی مورخ ہنری پرین (Henry Pyrrene) نے مطلق شہنشاہیت (absolute imperialism) کا نام دیا ہے۔
ہزاروں سال سے قائم شدہ جبری نظام کو ختم کر کے آزادی کا نظام قائم کرنا ایک انتہائی انقلابی یہ واقعہ اپنے پہلے ہی دور میں مکمل نہیں ہو سکتا تھا۔ اسلام کا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے اللہ کی مدد سے ساتویں صدی عیسوی میں اس قدیم جبری نظام کے تاریخی تسلسل کو توڑ دیا۔ اس کے بعد یہ تبدیلی ایک عمل (process) کے روپ میں انسانی تاریخ میں داخل ہوگئی۔ یہ عمل مختلف قسم کے فطری نشیب و فراز کے ساتھ مسلسل جاری رہا یہاں تک کہ وہ بیسویں صدی عیسوی میں اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔
عدم مرکزیت (de-centralization) کا یہ واقعہ بیسویں صدی کے آغاز ہی میں پیش آگیا۔ سیاسی اقتدار محدود ہو کر صرف انتظامیہ (administration) کی حیثیت میں باقی رہا۔ اب سیاسی ادارہ کا دخل زندگی کے ایک فیصد حصہ تک محدود ہو گیا۔ اور زندگی کے بقیہ ننانوے شعبے اس طرح آزاد ہو گئے کہ ہر انسان اپنی مرضی کے مطابق، ان کو اپنے لئے استعمال کر سکے۔
انسانی زندگی کے نظام میں یہ عظیم تبدیلی عین اسلام کے حق میں تھی۔ اب (دوسروں کی طرح) اہل اسلام کے لئے یہ ممکن ہو گیا کہ سیاسی معنوں میں خواہ وہ حکمران ہوں یا نہ ہوں، زندگی کی تعمیر و تشکیل میں وہ اپنا ہر منصوبہ کسی رکاوٹ کے بغیر چلا سکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس تبدیلی نے زندگی کے نظام کو بادشاہت کے دور سے نکال کر اداروں (institutions) کے دور میں پہنچا دیا۔
اب اہل اسلام کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ ہر قسم کے ادارے قائم کر کے زندگی کے تمام شعبوں پر قابض ہو سکیں۔ حتیٰ کہ خود سیاسی ادارہ کو بھی بالواسطہ انداز میں اپنے زیر اثر کر لیں۔ مذکورہ تبدیلی کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ اہل اسلام بڑے پیمانے پر ہر قسم کے آزادانہ ادارے قائم کریں، اور اداروں کے ذریعہ معاشرہ میں وہ نفوذ حاصل کر لیں جو پہلے صرف سیاسی اقتدار کے ذریعہ ممکن ہوا کرتا تھا۔ مثلاً تعلیمی اداروں کے ذریعہ نئی نسلوں کی تربیت، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ عمومی فکری فضا بنانا، کتابوں کے ذریعہ اپنے افکار کی اشاعت، تحقیقی اداروں کے ذریعہ اجتہاد کا عمل جاری رکھنا، مساجد اور مدارس کے ذریعہ اپنے مذہب کی حفاظت، صنعتی اداروں کے ذریعہ مالیات کا حصول، مواصلات کے ذریعہ اپنے مقاصد کی عالمی تنظیم، مختلف قسم کے این جی او (NGOs) کے ذریعہ اپنے مذہبی اور ثقافتی امور کی تنظیم، وغیرہ۔
موجودہ زمانہ میں جن قوموں نے تبدیلی کے اس راز کو سمجھ لیا ہے وہ بظاہر سیاسی اقتدار کی کرسی پر نہ ہوتے ہوئے بھی ہر قسم کی کامیابیاں حاصل کئے ہوئے ہیں۔ کسی گروہ نے ملک کے اندر اپنا تعلیمی ایمپائر بنا لیا ہے اور کسی نے صنعتی ایمپائر ۔ کسی نے اپنا اشاعتی ایمپائر بنا لیا ہے اور کسی نے مواصلاتی کسی نے اپنا مالیاتی ایمپائر بنا لیا ہے اور کسی نے معالجاتی ایمپائر ۔ اس غیر ریاستی ایمپائر کی آخری
مثال کمپیوٹر ایمپائر ہے جس نے لوگوں کو موقع دیا ہے کہ وہ نہ صرف قومی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر پورے نظامِ زندگی کو اپنے کنٹرول میں لے سکیں ۔
میں سمجھتا ہوں کہ قرآن کی آیت (ویکون الدین کلہ للہ) کا ایک اہم پہلو یہی زمانی اس تبدیلی نے سیاسی اقتدار کو گھٹا کر اب اس کو صرف ایک قسم کا سیاسی دردِ سر (political headache) بنا دیا ہے۔ اب اہل اسلام کے لئے ضروری نہیں کہ وہ سیاسی اقتدار کے حصول کے لئے جنگل کریں۔ سیاسی اقتدار ، خواہ جس کسی کے قبضہ میں ہو، وہ ہر حال میں ایسا کر سکتے ہیں کہ غیر سیاسی ادارے قائم کرکے اپنے تمام مطلوب فائدے حاصل کرلیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ اہل اسلام سیاست سے دست بردار ہو جائیں ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اداروں اور تنظیموں کے ذریعہ ملنے والے فوائد کو حاصل کرتے ہوئے وہ محدود دائرہ میں پرامن سیاسی عمل کا طریقہ اپنا ئیں ۔ وہ سیاسی ہنگامہ آرائی سے مکمل پر ہیز کرتے ہوئے ممکن دائرہ میں اپنا خاموش سیاسی سفر جاری رکھیں ، یہاں تک کہ اللہ ان کے لیے وہ مواقع کھول دے جو انہیں سیاست کے ادارہ تک بھی پہنچادے۔