Al-Risala · December 2001

امن کی طاقت

Al-Risala, December 2001, pp. 26–28

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں آیا ہے : ان اللہ يعطى على الرفق مالا يعطى على العنف ( صحيح مسلم، کتاب البر) یعنی اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ اس حدیث کے مطابق ، پر امن طریق کار (peaceful activism) کو متشددانہ طریق عمل (violent activism) کے اوپر واضح فوقیت

اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے وہ کوئی پر اسرار بات نہیں ۔ یہ ایک سادہ اور معلوم فطری جنگ اور تشدد کی صورت حال میں یہ ہوتا ہے کہ طرفین کے درمیان نفرت اور عداوت موجود ذرائع تباہ ہوتے ہیں۔ دونوں طرف کے بہترین افراد قتل کئے جاتے ہیں۔ سماج منفی نفسیات کا جنگ بن جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے ماحول میں تعمیر و استحکام کا کوئی کام نہیں کیا

جنگ و تشدد میں نقصان تو یقینی ہے مگر نقصان کے باوجود اس میں کوئی فائدہ نبیس۔ اس کے برعکس امن کا ماحول ہو تو لوگوں کے درمیان معتدل تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ اور محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ موافق ماحول کے نتیجہ میں تعمیری سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں۔ کو ترقیاتی کاموں میں استعمال کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔ لوگ مثبت نفسیات میں جیتے ہیں جس کی بنا پر علمی اور فکری ترقی میں اضافہ ہوتا ہے۔

جنگ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ مواقع کار کو مسدود کرتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں امن کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ مواقع کار کو آخری حد تک کھول دیتی ہے۔ جنگ سے ہمیشہ مزید نقصان ہوتا ہے، اور امن سے ہمیشہ مزید فائدہ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام ہر قیمت پر اور آخری حد تک جنگ اور ٹکراؤ سے اعراض کی تعلیم دیتا ہے۔ اور امن کو ہر قیمت پر قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ایک مغالطہ کی وضاحت قرآن میں بعض آیتیں ایسی ہیں جن کا مفہوم یہ ہے : اور ان کو قتل کرو جہاں ان کو پاؤ (البقرہ ۱۹۱) اس طرح کی آیتوں کو لے کر کچھ لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام جنگ اور قتال کا مذہب ہے۔ یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ اس طرح کی آیتیں محدودطور پر صرف ان لوگوں سے متعلق ہیں جنہوں نے اہل اسلام پر ایک طرفہ حملہ کر دیا ہو، وہ اسلام کا کوئی عمومی حکم نہیں۔ اصل یہ ہے کہ قرآن بیک وقت ایک مکمل کتاب کی صورت میں نہیں آیا، بلکہ وہ ۲۳ سال کی مدت میں وقفہ وقفہ کے ساتھ حالات کے مطابق، نازل ہوا۔ ۲۳ سال کی اس مدت کو اگر امن اور جنگ کے اعتبار سے تقسیم کیا جائے تو تقریباً بیس سال کی مدت امن سے متعلق ہوگی اور تقریباً تین سال کی مدت جنگ سے متعلق۔ جنگ یا قتال کی آیتیں مذکورہ تین سال کے دوران اتریں۔ ان کے علاوہ ہیں سال کی مدت میں جو آیتیں اتریں وہ سب کی سب پر امن تعلیمات سے تعلق رکھتی تھیں۔ معرفت، عبادت، اخلاق، عدل، وغیرہ۔

احکام کی یہ تقسیم ایک فطری تقسیم ہے۔ وہ اس قسم کی ہر کتاب میں پائی جاتی ہے۔

طور پر ہندوازم کی مقدس کتاب گیتا کو لیجیے۔ گیتامیں بہت سی ایسی باتیں ہیں جو حکمت اور اخلاق سے تعلق رکھتی ہیں۔ اسی کے ساتھ گیتامیں یہ بھی ہے کہ کرشن جی ارجن سے کہتے ہیں کہ اے ارجن، آگے بڑھ اور یدھ(جنگ) کر۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ گیتا کو ماننے والے بس ہر وقت جنگ کرتے رہیں۔ چنانچہ اسی گیتا سے مہاتما گاندھی نے اپنا اہنسا کا فلسفہ تشکیل دیا۔ کیوں کہ جنگ کی بات گیتامیں استثنائی طور پر حالت جنگ کے لئے ہے۔ عمومی زندگی کے لئے اس میں وہی پر امن احکام بتائے گئے ہیں جو مہاتما گاندھی نے اس سے اخذ کئے اسی طرح بائبل (نیا عہد نامہ) میں حضرت مسیح کی زبان سے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں: یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں۔ صلح کرانے نہیں بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں (متی، باب ۱۰)۔ ان الفاظ کا یہ مطلب لینا درست نہ ہوگا کہ حضرت مسیح کا دین جنگ و قتال کا دین تھا۔ اس لئے کہ آپ کی تعلیمات میں اس طرح کی کلام کی حیثیت صرف استثنائی ہے اور کسی خاص موقع سے متعلق ہے۔ تک عمومی زندگی کا تعلق ہے، حضرت مسیح نے ہمیشہ اخلاق اور محبت جیسی پر امن قدروں کی تعلیم دی۔ یہی معاملہ قرآن کا بھی ہے۔ پیغمبر اسلام نے جب مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو اس کے بعد مشرک قبائل نے آپ کے خلاف جارحانہ حملے کرنے شروع کر دیے۔ آپ ہمیشہ ان حملوں کو صبر و اعراض کی تدبیروں سے ٹالتے رہے۔ تاہم بعض مواقع پر ایسا ہوا کہ جوابی مقابلہ کے سوا کوئی اور انتخاب (option) موجود ہی نہ تھا۔ اس لئے آپ نے وقتی طور پر ان سے دفاعی جنگ کی۔ حالات تھے جن کے پیش آنے پر قرآن میں جنگ کے استثنائی احکام اترے۔ یہ احکام یقینی طور پر وقتی نوعیت کے تھے، نہ کہ ابدی نوعیت کے۔ چنانچہ قرآن میں پیغمبر اسلام کی مستقل حیثیت کو رحمت للعالمین (الانبیاء: ۱۰۷) سے تعبیر کیا گیا۔ یعنی سارے عالم کے لئے رحمت۔

Printed page