Al-Risala · December 2001

سوال و جواب

Al-Risala, December 2001, pp. 31–135

By Maulana Wahiduddin Khan

چند روز قبل میں اپنے ایک دوست سے سیاسی اقتدار کی حقیقت کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ گفتگو کے دوران میرے دوست نے کہا کہ موسیٰ کی دعوت پر فرعون نے کہا تھا کہ یہ (موسیٰ) ہمیں اپنے اقتدار سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں۔ تو کیا فرعون کے اس قول سے سیاسی اقتدار کا نشانہ ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ فرعون جو موسیٰ علیہ السلام کا مخاطب تھا اس کے اس قول سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی تحریک سیاسی انقلاب کی تحریک تھی جس سے فرعون اپنے لئے سیاسی خطرہ محسوس کر رہا تھا۔ اس بنا پر اس نے ایسا کہا۔ (جاوید حسین وانی، اننت ناگ، کشمیر)

فرعون کا قول ”يريد أن يخر جكم من أرضكم“، الأعراف اور الشعراء میں آیا ہے۔ آیت سے یہ نظریہ نکالنا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مشن ایک سیاسی مشن تھا، بلاشبہ ایک مجرمانہ جسارت کی حیثیت رکھتا ہے۔ پہلی بات یہ کہ یہ فرعون کے قول سے موسیٰ علیہ السلام کا مشن نکالنا ہے۔ جب کہ حضرت موسیٰ کا پیغمبرانہ مشن قول موسیٰ سے نکلے گا، نہ کہ قول فرعون سے۔ استدلال کا یہ طریقہ نہایت غیر منطقی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کشمیریوں کے ایک مخالف شخص کے قول سے کشمیریوں کا مقصد متعین کیا جائے۔ اپنے ذاتی معاملہ میں کوئی بھی اس قسم کے غیر منطقی استدلال کو تسلیم نہیں کرے گا۔ قرآن کے معاملہ میں ایسا استدلال کیوں کر درست ہو سکتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ اگر حضرت موسیٰ کا مقصد یہ تھا کہ فرعون کو تخت سے بے دخل کر کے مصر میں اپنا سیاسی اقتدار قائم کریں تو حضرت موسیٰ نے نعوذ باللہ، خود اپنے مشن کے خلاف عمل کیا۔ کیوں کہ جب فرعون اور اس کا لشکر مکمل طور پر تباہ ہو گیا تو اس کے بعد حضرت موسیٰ کے لئے بہترین موقع تھا کہ وہ اپنی قوم کے ساتھ واپس آ کر مصر کے اقتدار پر قبضہ کر لیں۔ مگر اس کے برعکس حضرت موسیٰ نے یہ کیا کہ وہ مصر کو چھوڑ کر اپنی قوم کے ساتھ صحرائے سینا کے غیر آباد علاقے میں چلے گئے۔ مذکورہ سیاسی تفسیر کو ماننے کی صورت میں حضرت موسیٰ کے اس عمل کی کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی۔

اس قسم کے واضح حقائق کے باوجود جو لوگ حضرت موسیٰ کے مشن کو سیاسی مشن بتائیں وہ صرف اس قابل ہیں کہ ان کے ساتھ قرآن کے اس حکم پر عمل کیا جائے: واعرض عن الجاهلين۔ میں دبئی میں رہتا ہوں۔ وہاں میری ملاقات اکثر پاکستانی لوگوں سے ہوتی ہے۔ ان کو میں ماہنامہ الرسالہ اور الرسالہ کی دوسری مطبوعات پڑھنے کو دیتا ہوں۔ یہ لوگ عام طور پر اس کو پسند کرتے ہیں مگر اکثر پاکستانی مسلمان ایک شبہہ کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اب تک ہم یہ جانتے تھے کہ اسلام کی خاص صفت یہ ہے کہ وہ ایک مکمل سیاسی نظام ہے۔ اور ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم جہاد کرکے اس سیاسی نظام کو قائم کریں۔ مگر الرسالہ اور الرسالہ مطبوعات میں ہم کو اسلام کا یہ تصور نہیں آخر یہ فرق کیوں ہے۔ (ادریس محمد انصاری، دبئی)

یہ صرف پاکستانیوں کا مسئلہ نہیں۔ موجودہ زمانہ کے اکثر مسلمان اسی غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ اسلام ایک سیاسی نظام ہے اور جہاد کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں سے لڑ کر اس سیاسی نظام کو قائم کیا مگر یہ ایک سیاسی بدعت ہے جو موجودہ زمانہ کے نام نہاد انقلابی مفکرین نے پھیلائی ہے۔ انہوں نے اسلام کو گھٹا کر اس کو صرف ایک سیاسی نظام بنا دیا ہے۔

They have reduced Islam to a mere political system. اسلام کا یہ سیاسی تصور صرف ایک ردِ عمل ہے جو موجودہ حالات کے نتیجہ میں پیدا ہوا۔ طور پر قرآن اور سنت سے ماخوذ نہیں۔ قرآن و سنت کے مطابق، اسلام ایک ربانی نظام کا نام ہے، نہ کہ کسی سیاسی نظام کا نام (آل عمران ۷۹)

اسلام کا مقصد ہر انسان کے دل میں اللہ کا خوف اور محبت پیدا کرنا ہے، نہ کہ اسلامی سیاست کے قیام کے نام پر حکمرانوں سے لڑائی چھیڑنا اور پورے سماج کو تشدد کا جنگل بنا دینا۔ جیسا کہ موجودہ زمانہ کے نام نہاد انقلابی مفکرین کے پیرو دنیا کے بہت سے ملکوں اور علاقوں میں انجام دے رہے ہیں۔

یہ نام نہاد اسلامی سیاست ہر جگہ عملاً وہی چیز بن گئی ہے جو قرآنی اصول کے مطابق، ایک فسادی سیاست ہے (البقرہ ۲۰۵)۔

اسلام کا آغاز اللہ کی ذاتی معرفت سے ہوتا ہے۔ اسلام ایک ایسے شعوری واقعہ کا نام ہے جب کہ ایک آدمی اللہ کو اس کی ذات اور صفات کے ساتھ دریافت کرے اور اپنے قلب اور دماغ کے ساتھ اس کی طرف پوری طرح متوجہ ہو جائے۔ وہ اللہ کو اپنا سب کچھ بنا لے۔

اسلام کی معرفت یا اسلام کی دریافت کے بعد آدمی کے اندر ایک زبردست تبدیلی آتی وہ اللہ کو یاد کرنے والا بن جاتا ہے۔ وہ اپنے نفع اور نقصان، اپنی نفرت اور محبت، غرض اپنے ہر قول اور فعل کو اللہ کے لئے خاص کر دیتا ہے۔ وہ غیر اللہ سے یکسو ہو کر صرف ایک اللہ کا عبادت گزار بن جاتا ہے۔

اسی طرح اس کا اجتماعی سلوک مکمل طور پر اللہ کے تابع ہو جاتا ہے۔ لوگوں کے ساتھ اس کا اخلاق، لوگوں کے ساتھ اس کے معاملات، لوگوں کے ساتھ اس کا لین دین، سب اللہ کے حکم کی روشنی میں انجام پانے لگتے ہیں۔ اس کے ہر قول اور اس کے فعل میں اللہ کا رنگ غالب آجاتا ہے۔ آدمی اپنے خاندان کے اندر خاندان کا ایک اچھا ممبر بن جاتا ہے۔ سماج کے اندر وہ اس کے ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ ملک کے اندر وہ قانون کی پابندی کرنے والا اور اپنی ڈیوٹی انجام دینے والا ایک شہری بن جاتا ہے۔ زندگی کی جس سطح پر بھی دوسروں کے ساتھ اس کا تعلق قائم ہوتا ہے وہ لوگوں کے لئے ایک سچا انسان ثابت ہوتا ہے۔ یہی اصل اسلام ہے۔

جہاں تک حکومت اور اقتدار کا تعلق ہے، وہ قرآن کے مطابق، امر مقصود نہیں، بلکہ وہ امر موعود (النور ۵۵) اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی اقتدار کا حصول اسلامی تحریک کا نشانہ نہیں ہے۔ تحریک کا نشانہ اصلاً صرف دو چیزیں ہیں ـــــــــ اللہ کے بندوں تک اللہ کا پیغام پہنچانا اور جو لوگ اللہ کے پیغام کو قبول کر لیں ان کی تعلیم و تربیت کرنا (لِتُنذِرَ به و ذکرئ للمؤمنين) قرآن کے مطابق، سیاسی اقتدار امتحان کے پرچوں میں سے ایک پرچہ ہے۔ جس طرح مال کسی ایک ہی شخص یا ایک ہی گروہ کو نہیں

دیا جاتا بلکہ ہر ایک کو دیا جاتا ہے تاکہ ہر ایک کی آزمائش ہو سکے۔ یہی معاملہ سیاسی اقتدار کا بھی سیاسی اقتدار بھی مختلف لوگوں کو باری باری دیا جاتا ہے۔ سیاسی اقتدار کسی فرد یا گروہ کی ابدی وراثت کسی ایک کو مستقل طور پر سیاسی اقتدار کا مالک بنانا گو یا دوسروں کو سیاسی آزمائش سے بری کرنا ہے۔ یہ اللہ کی سنت کے خلاف ہے۔ قرآن کے مطابق، فتح و شکست اور سیاسی غلبہ اور سیاسی مغلوبیت باری باری کبھی ایک کے حصہ میں آتی ہیں اور کبھی دوسرے کے حصہ میں (تلک الایام نداولها بین الناس)

یہی وجہ ہے کہ قرآن میں اقتدار کے معاملہ کو اُخروی (الصف ۱۳) کہا گیا ہے۔ اُخروی مطلوب کے علاوہ ایک اور چیز جو دنیوی حالات کے لحاظ سے درکار ہوتی ہے۔ میں یہ کہ سیاسی غلبہ یا سیاسی اقتدار کی حیثیت اسلام میں اضافی ہے، نہ کہ حقیقی۔ الرساله جون ۲۰۰۱ کے شمارہ میں ایک چیز میرے ذہن کو بہت زیادہ کھٹک رہی ہے۔ پر آپ نے لکھا ہے کہ’’ گجرات میں غیر معمولی تباہی کا سبب یہ تھا کہ پچھلے برسوں میں وہاں کثرت سے ایسے مکانات بنائے گئے جن کو (non-engineered construction) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں ثابت شدہ طریقہ یہ ہے کہ جس مقام میں معلوم طور پر زلزلہ آنے کا امکان ہو وہاں quake resistant مکان بنائے جائیں۔ اس طرح گجرات کی آفت کے ذریعہ قدرت کی طرف سے گویا یہ پیغام دیا گیا ہے کہ لوگ اپنے مکانات فن تعمیر کے اصول کے مطابق بنائیں‘‘۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ خدا کے پاس’’ کن فیکون‘‘ کی ابدی طاقت ہے، اس کے نزدیک non-engineered construction اور quake resistant کا کوئی فرق نہیں، جو خدا عاد اور قوم ثمود کے محلات کو تاخت و تاراج کر سکتا ہے جو’’ ارم ذات العماد لم یخلق مثلها فی البلاد‘‘ تھے، اس ذات قہار کے نزدیک مذکورہ باتیں چہ معنی دارد است؟ (جمیل احمد عباس، چکنوٹ، ویشالی، بہار)

الرسالہ میں جو بات لکھی گئی ہے وہ یہ نہیں ہے کہ خدائی عذاب کے مقابلہ میں کوئی چیز انسان کو بچا سکتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ دو چیزیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ایک ہے، نظام فطرت کے تحت پیش آنے والے عام مسائل۔ اور دوسری چیز ہے، اللہ کے فیصلہ کے تحت پیش آنے والا غیر معمولی واقعہ جس کو عذاب کہا جاتا ہے۔ الرسالہ کے مذکورہ شمارہ میں جو بات کہی گئی ہے وہ اول الذکر صورت حال سے متعلق ہے، نہ کہ ثانی الذکر صورت حال سے متعلق۔

برسات کی بارش سے بچنے کے لئے آپ چھت بناتے ہیں اور وہ چھت آپ کو بارش کے مسائل سے محفوظ رکھتی ہے۔ مگر قوم عاد پر عذاب کی جو بارش برسائی گئی، کوئی بھی چھت انسان کو اس سے محفوظ نہیں رکھ سکتی تھی۔ اسی طرح مخصوص حکمت کے تحت اللہ نے زمین کے اندر نہایت گرم لاوا رکھا اس کی مسلسل حرکت سے زمین پر ہر روز زلزلے آتے ہیں۔ عام حالات میں یہ زلزلے اتنے خفیف ہوتے ہیں کہ صرف آلات کی مدد سے ان کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ مگر کبھی کبھی ان میں تیزی آجاتی ہے اور زمین کے اوپر کا حصہ ہلنے لگتا ہے اس وقت ہم اس کو زلزلہ کہتے ہیں۔ جس طرح دوسرے فطری مسائل کے مقابلہ میں ہم بچاؤ کا انتظام کرتے ہیں۔ مثلاً بارش سے مقابلہ کے لیے چھت، سیلاب سے مقابلہ کے لیے بند، گرمی سے مقابلہ کے لیے سایہ، سرد موسم سے مقابلہ کے لیے گرم کپڑا، وغیرہ۔ اسی طرح زلزلہ سے مقابلہ کے لیے بھی مطالعہ اور تجربہ کے بعد مخصوص ٹکنیک دریافت کی گئی ہے اور اس کے استعمال سے مختلف ملکوں میں بچاؤ کا سامان کیا گیا ہے۔ مگر عذاب کا معاملہ اس قسم کے فطری مسائل سے نوعی طور پر مختلف ہے۔ فیصلہ الہیٰ ہوتا ہے جو بہر حال واقع ہو کر رہتا ہے۔ مگر ہم کو یہ حق نہیں کہ ذاتی قیاس کے تحت ہم کسی واقعہ کو عذاب الہی کہیں۔ اس قسم کا اعلان صرف پیغمبر براہ راست خدائی اطلاع کی بنا پر کر سکتا تھا۔ پیغمبر کے بعد اب کسی واقعہ کو خدا کا عذاب کہنا ایک ایسی جسارت ہے جس کا تحمل اللہ سے ڈرنے والا کوئی انسان نہیں کر سکتا۔

خدا کی حقیقت (وجود) سب سے افضل مانی جاتی ہے۔ لیکن شیطان برائی کرنے کے لیے انسان کو اکساتا ہے اور کامیاب ہو جاتا ہے۔ مگر خدا بے بس لگتا ہے۔ شیطان کیسے خدا کے برابر طاقتور (بلراج اوبرائے، ریٹائرڈ جج، میرٹھ)

خدا انسان کا خالق ہے۔ خدا بلاشبہ تمام طاقتوں کا مالک ہے۔ شیطان کو دنیا میں بظاہر انسان کے اوپر جو اختیار حاصل ہے اس کا تعلق خدا کی طاقت سے نہیں ہے بلکہ خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan) سے ہے۔ شیطان کو موجودہ دنیا میں جو اختیار حاصل ہے وہ اس لیے ہے کہ خدا نے اپنی امتحانی مصلحت کی بنا پر وقتی طور پر اس کو یہ موقع دیا ہے۔ شیطان کا اختیار اس کی ذاتی صفت نہیں۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا کو خدا نے آزمائش (test) کی مصلحت کے تحت بنایا ہے۔ انسان کو اس لیے بسایا گیا ہے کہ اس کو جانچ کر دیکھا جائے اور یہ فیصلہ کیا جائے کہ کون انسان اپنے حسن عمل کی بنا پر اس قابل ہے کہ اس کو جنت کی ابدی دنیا میں بسایا جائے اور جو لوگ اپنی بدعملی کی بنا پر نالائق ثابت ہوں ان کو جنت سے محروم کر کے کائنات کے ابدی کوڑا خانہ میں ڈال دیا جائے۔ موجودہ دنیا کا پورا نظام اسی آزمائشی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ موجودہ دنیا کی صحیح توجیہہ صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ اس کو اسی روشنی میں دیکھا جائے اور اس کے واقعات کی توجیہہ اسی بنیادی اصول کی روشنی میں کی جائے۔ مثلاً انسان کو موجودہ دنیا میں جو اختیار ملا ہوا ہے وہ بھی اسی آزمائشی مصلحت کی بنا پر ہے۔ انسان کے اندر صحیح اور غلط کی تمیز کی جو صلاحیت ہے اس کا راز بھی یہی انہی میں سے ایک شیطان کا وجود بھی ہے۔

اسلامی عقیدہ کے مطابق، شیطان خفیہ نوعیت کی ایک مستقل مخلوق ہے۔ شیطان یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ انسان کو بہکائے۔ وہ انسان کو اس طرح متاثر کرے کہ برائی اس کو خوبصورت دکھائی دے، اور بھلائی اس کو بُری صورت میں نظر آئے۔ مگر شیطان کو انسان کے اوپر صرف بہکانے کا اختیار حاصل

شیطان کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ انسان کے ساتھ زبردستی کرے یا اس کو غلط راستہ پر چلنے کے لیے مجبور کر سکے۔

موجودہ دنیا میں انسان کا معاملہ ویسا ہی ہے جیسے امتحان ہال میں کسی طالب علم کا معاملہ۔ طالب علم کو امتحان ہال میں مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے۔ وہ اپنی کاپی پر جو چاہے لکھے اور جو چاہے نہ مگر یہ آزادی صرف تین گھنٹہ کے لیے ہے۔ تین گھنٹے کا وقت پورا ہوتے ہی اس کی کاپی واپس لے لی جاتی ہے۔ اس کے بعد اس کے تعلیمی مستقبل کا فیصلہ اس کی اسی کارگزاری پر کیا جاتا ہے جو اس نے تین گھنٹے کے ملے ہوئے وقت میں انجام دی تھی۔

ایسا ہی کچھ معاملہ انسان کا موجودہ دنیا میں ہے۔ کسی انسان کو عمر کا جو وقفہ ملا ہے وہ گویا اس کے لیے تین گھنٹہ کا وقفہ ہے۔ اس وقفہ عمل کے دوران اس کو موقع ہے کہ وہ یا تو شیطان کے بہکاوے میں آ کر اپنا اعمال نامہ خراب کر لے، یا اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو شیطان کے بہکاوے سے بچائے۔ وہ شیطان کو رد کر کے فرشتے کی آواز کو سنے اور سچائی کے راستہ پر قائم ہو جائے۔ لوگ فرشتے کی آواز کو سنیں اور اس کی پیروی کریں ان کے لیے خدا کا ابدی انعام ہے، اور جو لوگ شیطان کی آواز کو سنیں اور اس کی پیروی کریں ان کے لیے خدا کی ابدی سزا۔

شیطان کے بارے میں مذکورہ سوال صرف اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ موجودہ دنیا ہی کو واحد دنیا سمجھا جائے۔ مگر جب موجودہ دنیا کے ساتھ آخرت کی دنیا کو ملا لیا جائے تو یہ سوال اپنے آپ حل ہو جاتا ہے۔ موجودہ دنیا کو آخرت کی دنیا سے ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا عمل کرنے کی جگہ ہے اور آخرت کی دنیا اس کا بدلہ پانے کی جگہ۔ آخرت کی دنیا میں جو اعلیٰ انعام دیا جانے والا ہے وہ بے حد قیمتی ہے۔ اس قیمتی انعام کے مستحق صرف وہ بلند حوصلہ افراد ہوں گے جو شیطان کی ترغیبات (temptations) سے اپنے آپ کو بچائیں اور ہر ممکن قربانی دیتے ہوئے سچائی کے راستہ پر قائم رہیں۔ جن کی موت اس حال میں آئے کہ انہوں نے شیطان کے اوپر مکمل غلبہ پالیا تھا۔

میں الرسالہ کا قاری ہوں۔ الرسالہ، مارچ ۱۹۶۵ میں ایک مضمون چھپا تھا جس میں یہ درج تھا کہ بندہ نے رمضان میں ایک مہینہ تک اللہ کے حکم کی تعمیل کی، تو اب اللہ نے اس کو قبول کرتے ہوئے اپنے انعام کے طور پر بندہ کو یہ موقع دیا کہ وہ پابندیوں سے آزاد ہو کر جو چاہے کھائے اور جو چاہے پیئے (صفحہ ۱۸)۔ اس عبارت پر کچھ لوگوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حرام وحلال کی تمیز کئے بغیر جو چاہے کھاؤ جو چاہے پیو۔ میری سمجھ سے اس عبارت کو اس طرح ہونا چاہئے تھا: پابندیوں سے آزاد ہو کر اللہ کے دیے ہوئے مال حلال سے جو چاہے کھائے اور جو اگر عبارت اس طرح ہوتی تو لوگوں کو اعتراض کا موقع نہ ملتا۔ (سید آصف علی، پوسٹ بکس ۲۴۸۰۲ ، شارجہ)

یہ معاملہ عبارت میں غلطی کا نہیں ہے، بلکہ یہ ان لوگوں کی سوچ کی غلطی کا معاملہ ہے جن لوگوں نے یہ اعتراض کیا۔ اگر کھلے ذہن کے ساتھ اس مضمون کو پڑھا جائے تو معلوم ہوگا کہ خود اسی مضمون میں مذکورہ اعتراض کا جواب موجود ہے۔ آپ دوبارہ پورے مضمون کو پڑھیں تو آپ پائیں گے کہ اس میں چند سطر پہلے یہ الفاظ چھپے ہوئے موجود ہیں، رمضان کا مہینہ کھانے پینے پر پابندی لگانے کا مہینہ ہے اور عید الفطر کا دن ان پابندیوں سے آزاد ہونے کا دن ہے ۔ ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ پابندیوں سے آزادی سے مراد وہ پابندیاں ہیں جو روزہ کے دنوں میں عائد کی گئی تھیں، نہ کہ مطلق

یہ اعتراض نہیں ہے بلکہ شوشہ ہے۔ اور شوشہ ہر عبارت میں نکالا جا سکتا ہے، حتی کہ قرآن میں بھی، جیسا کہ ارشاد ہوا ہے: واذا علم من آياتنا شيئا اتخذها هزوا (الجاثیہ ۹) میری ملاقات ایک جماعت کے لوگوں سے اکثر ہوتی رہتی ہے۔ وہ آپ پر نکتہ چینی کرتے

وہ کہتے ہیں کہ آپ دعوت کی بات کرتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آپ نے کتنے لوگوں کو مشرف بہ اسلام کیا ہے۔ الرسالہ کے خبر نامہ اسلامی مرکز میں تو ایسی خبریں موجود نہیں ہوتیں۔ (اقبال احمد فیضی، بھلائی)

سوال کرنے والے کے اندر اگر سنجیدگی ہو تو وہ اس سوال کا جواب خود ہی معلوم کر سکتا ہے۔ ہمارا مشن تقریباً چالیس سال سے چل رہا ہے۔ اس مدت میں اللہ کے فضل سے ہم نے مختلف ملکوں کے لاکھوں انسانوں تک اسلام کا پیغام پہنچایا ہے۔ ان میں سے ہزاروں لوگ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں، فالحمد للہ علی ذلک۔ مگر میں اور میرے ساتھی یہ کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کر رہے ہیں اس لیے ہم اس کو خبر نامہ میں نہیں چھاپتے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جس جماعت کے لوگ آپ سے اس قسم کے سوالات کرتے ہیں وہ اپنے نظریہ کے مطابق، اس ملک کو دار الطاغوت سمجھتے رہے ہیں۔ اب وہ اس ملک کو دار الدعوہ کہتے ہیں اور اپنے دعوے کے مطابق، دعوتی کام میں مصروف ہیں۔ سوال یہ ہے کہ دار الدعوہ کا یہ تصور ان کو کہاں سے ملا۔ یقینی طور پر وہ انہیں راقم الحروف کی تحریروں سے ملا۔ ان کے اپنے جماعتی نظریہ کے مطابق، تو یہ ملک ان کے لیے صرف دار الطاغوت تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں ان کے لیے صرف یہ ممکن تھا کہ وہ اس طاغوتی نظام سے لڑیں۔ پھر یا تو اسی راہ میں اپنی جان دے دیں یا اس کو اسلامی نظام میں تبدیل کر دیں۔ ان کے مسلمہ عقیدہ کے مطابق، سیاسی نظام کو بدلے بغیر دعوت کے کام کا انجام پانا ممکن ہی نہیں۔

راقم الحروف نے اللہ کی توفیق سے، ان حضرات کو بتایا کہ جس ملک کو تم غلط طور پر دار الطاغوت سمجھتے ہو وہ دراصل دار الدعوہ ہے یعنی یہاں آج بھی پر امن انداز میں دعوت کا عمل انجام دیا جا سکتا ہے۔ ان حضرات کے نظریہ کے مطابق، ہندوستان جیسے ملک میں ان کے لیے صرف دو ہی امکانی صورت تھی ۔ ایک یہ کہ مفروضہ طاغوتی نظام سے لڑ کر اپنے کو ہلاک کرنا، یا منافقانہ سمجھوتہ کر کے اس کے

اندر زندگی گزارنا۔ راقم الحروف نے اللہ کی توفیق سے ان کو اس دوطرفہ مصیبت سے نجات دی۔ حالت میں یہ حضرات میرے خلاف جو بے بنیاد پروپیگنڈہ کرتے ہیں وہ بے حد سنگین ہے۔ کہ ان کی یہ روش انہیں اس حدیث رسول کا مصداق بنا دے: من لم يشكر الناس لم يشكر الله (احمد، الترمذی، بحوالہ مشکاۃ المصابیح، جلد ۲ صفحہ ۹۱۱)

قرآن میں اعلان کیا گیا ہے کہ اللہ کا ذبوں کو ڈھیل نہیں دیتا۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے کہ ــــــــ اور وہ کوئی بات گھڑ کر ہمارے اوپر لگاتا۔ تو ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑتے۔ پھر ہم اس کی رگ دل کاٹ پھر تم میں سے کوئی اس سے ہم کو روکنے والا نہ ہوتا ۔ ۴۷) اس صورت میں اگر مرزا غلام احمد قادیانی صاحب جھوٹے تھے تو کیا وجہ ہے کہ ابھی تک اللہ تعالیٰ نے ان پر کوئی گرفت نہیں (بہادر خاں، بارہ مولہ، جموں وکشمیر)

یہ ایک مغالطہ ہے، نہ کہ استدلال۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ ” جو لوگ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کریں بلکہ یہ ارشاد ہوا ہے کہ اگر وہ بات گھڑتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت کا تعلق صرف ایک شخص ، یعنی محمد بن عبد اللہ سے ہے۔ اس آیت میں کوئی عام حکم بیان نہیں ہوا ہے۔ کا تعلق متعین طور پر ذات رسول سے ہے۔ آپ کے معاصرین آپ کے بارے میں اس قسم کا الزام لگاتے تھے، اس لیے اُن کے جواب میں یہ آیت اتاری گئی۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اقرار یا انکار سے آپ کے معاصرین کی جنت یا جہنم کا فیصلہ ہونا تھا۔ اس لیے آپ کے بارے میں یہ سخت اعلان کیا گیا۔ جہاں تک جھوٹے مدعیان نبوت کا تعلق ہے ان کے مخاطبین کے بارے میں اللہ کی یہ ان لوگوں کا فیصلہ آخرت میں ہوگا، نہ کہ دنیا میں۔

میں بہار کے ایک میڈیکل کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا طالب علم ہوں۔ یہ ایک اقلیتی

ادارہ ہے جس میں ۵۰ فیصد سیٹ مسلمانوں کے لیے ریزرو ہے۔ یہ کالج A.I.C.T.E سے ریکگنائزڈ ہے اور وقتی طور پر مگدھ یونیورسٹی سے اس کا الحاق بھی ہے۔ مگر یونیورسٹی لڑکوں کا امتحان وقت پر نہیں یونیورسٹی بار بار الزام عائد کرتی ہے کہ کالج ریگولر طریقہ پر نہیں چلتا ہے۔ اس لیے اس کا کوئی کام وقت پر کرنا مناسب نہیں۔ جب کہ کالج انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی خود بدعنوانی کا شکار ہے۔ سال سے فرسٹ ایئر میں ہوں مگر ابھی تک امتحان ہونے کی کوئی امید نہیں۔ اس کے متعلق کئی بار گورنر اور وائس چانسلر سے بات ہو چکی ہے پھر بھی کوئی مثبت جواب نہیں مل پایا۔ اس حال میں ہم لوگوں کو کیا کرنا برائے کرم آپ کوئی مشورہ دیں (خالد علی خاں، بہار)

میں ذاتی طور پر رعایتی ادارے قائم کرنے کے خلاف ہوں۔ اور رعایتی داخلہ کے بھی خلاف میرے نزدیک زندگی مقابلہ کا نام ہے۔ اس دنیا کا اصول یہ ہے کہ مقابلہ کرو یا ختم ہو جاؤ: -compete or perish میرا مشورہ ہے کہ آپ اب سے یہ فیصلہ کریں کہ آپ محنت کے ذریعہ دنیا میں اپنا مقام بنائیں گے، نہ کہ رعایت کے ذریعہ۔ شکایت ہمیشہ رعایت چاہنے والوں کو ہوتی ہے۔ جو لوگ محنت کا طریقہ اختیار کریں، انہیں کبھی کسی سے شکایت نہیں ہوتی۔ جو لوگ رعایتی ادارے کھولتے ہیں، ریزرویشن کی اہمیت پر تقریریں کرتے ہیں وہ خود اپنے بچوں کو ایسے تعلیمی اداروں میں داخل کرتے ہیں جہاں سخت مقابلہ کا ماحول ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کا اصل مسئلہ کسی نہ کسی طرح ڈگری حاصل کرنے کا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ زندگی میں ترقی کرنے کا ہے۔

زندگی میں اعلیٰ ترقی کبھی رعایت اور ریزرویشن کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ اعلیٰ لیاقت کی بنیاد پر اور اعلیٰ لیاقت محنت سے آتی ہے، نہ کہ رعایت سے۔

الرسالہ میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ظلم و زیادتی کے خلاف مسلمانوں کو صبر کی روش اختیار کرنا

اس سلسلہ میں کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ظلم و زیادتی پر صبر کرنا تو ظلم و زیادتی کو بڑھاوا دینا ہے۔ اس شبہ کا کیا جواب ہے۔ (ندیم احمد سنابلی، دہلی)

اس سلسلہ میں پہلی بات یہ کہ قرآن میں پیغمبروں کی زبان سے ارشاد ہوا ہے کہ: ولنصبرن علی ما آذیتمونا (ابراہیم ۱۲) یعنی تمہاری ایذاؤں پر ہم صبر ہی کریں گے۔ اگر ظلم و زیادتی پر صبر کرنا اس کو بڑھاوا دینے کے ہم معنی ہوتا تو پیغمبروں کو کبھی اللہ کی طرف سے یہ تعلیم نہ دی جاتی جو مذکورہ آیت کے مطابق، انہیں دی گئی۔

اصل یہ ہے کہ جب کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو لوگ عام طور پر اس کے خلاف جوابی تدبیر کو تدبیر سمجھتے ہیں مگر یہ صرف ایک جذباتی ردِ عمل ہے۔ جس کا نتیجہ ہمیشہ الٹا نکلتا ہے۔ ایسے مواقع پر جوابی تدبیر صرف مسئلہ کو بڑھاتی ہے۔ وہ فریق ثانی کے اندر ضد اور انتقام کی آگ بھڑکا کر مسئلہ کو شدید تر بنا دیتی ہے۔ وہ کسی حال میں مسئلہ کا حل نہیں۔

صبر کا مطلب عدم عمل نہیں، صبر کا مطلب زیادہ مؤثر عمل ہے۔ صبر اور بے صبری میں یہ فرق ہے کہ بے صبر آدمی پیش آمدہ مسئلہ کو جذباتی تدبیر کے ذریعہ حل کرنا چاہتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں صبر والا آدمی حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ مسئلہ کا حل نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔ بے صبری کا طریقہ ہمیشہ ناکام ہوتا ہے اور صبر کا طریقہ ہمیشہ کامیاب۔

اس معاملہ کی ایک معلوم اور معروف مثال یہ ہے کہ ہر سال ہندو لوگوں کی طرف سے گن پتی کا جلوس نکلتا ہے۔ ابتداءً مسلمان یہ کرتے تھے کہ گن پتی کا جلوس جب ان کی مسجد کے سامنے سے گزرتا تو وہ روک ٹوک کرتے۔ وہ جلوس کی روٹ بدلنے کی مانگ کرتے۔ اس کے نتیجہ میں دونوں فرقوں کے درمیان ٹکراؤ ہوتا اور خونی فساد کی نوبت آ جاتی۔ اب اللہ کا فضل ہے کہ الرسالہ کی تعمیری مہم کے نتیجہ میں اس معاملہ میں مسلمان صبر و اعراض کی حکمت کو سمجھ گئے ہیں۔ چنانچہ اب بھی ہر سال پہلے کی طرح گن پتی کا جلوس نکلتا ہے۔ جلوس والے اب بھی وہی کرتے ہیں جو وہ پہلے کرتے تھے۔

کئی سالوں سے گن پتی کے جلوس کے موقع پر فرقہ وارانہ فساد کا ہونا تقریباً بند ہو گیا ہے۔ اس کا سبب صرف یہ ہے کہ اب مسلمان گن پتی کے جلوس کے موقع پر صبر و اعراض کا فارمولہ اختیار کرتے ہیں، جبکہ اس سے پہلے وہ بے صبری اور جذباتیت کا طریقہ اختیار کئے ہوئے تھے۔ احادیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے مسائل میں صحابہ کی روایتوں میں اختلاف مثلاً بعض روایتوں میں سینے پر ہاتھ باندھنے کا ذکر ہے اور بعض دوسری روایتوں میں ناف کے نیچے باندھنے کا۔ اس طرح کے اختلاف کی موجودگی میں صلوا كما رأيتموني اصلی کے حکم پر کس طرح عمل کیا جائے گا۔ (محمد امین گڈو، سری نگر، کشمیر)

اس طرح کے اختلافات سے معلوم ہوتا ہے کہ آداب نماز میں توسع کا اصول ہے۔ تو حد کے اصول پر کوئی ایک نمونہ قائم کرنے کی کوشش درست نہیں۔ امام شافعی نے بجا طور پر کہا ہے کہ رأى صواب يحتمل الخطاء ورأى غيرى خطأ يحتمل الصواب ۔ میری رائے درست ہے احتمال خطا کے ساتھ اور فریق ثانی کی رائے غلط ہے احتمال صواب کے ساتھ۔ ظاہر ہے کہ اس معاملہ میں روایتوں کے اختلاف کو ایک ثابت کرنے کی ساری کوشش کے باوجود صرف احتمال ثابت ہوتا ہے تو زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس اختلاف کو توسع پر محمول کیا جائے ۔ اور میرے نزدیک یہی محدثین کا

نماز اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے خشوع کا ایک عمل ہے نہ کہ محض کچھ ظواہر کی صحت ادائیگی ایسی حالت میں ظاہری آداب میں فرق ہونا ایک فطری بات ہے۔ نمازی کو چاہئے کہ اپنا سارا دھیان داخلی کیفیت پر دے ، نہ کہ ظاہری ہیئت پر ۔ چنانچہ ظاہری ہیئت کی صحت ادائیگی کے باوجود ایک شخص کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ارجع فصل فإنك لم تصل (جاؤ پھر سے نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی)۔

Printed page