نئی دہلی، ۳ جولائی ۲۰۰۱ دعا گو وحید الدین
Al-Risala, December 2001, pp. 52–54
By Maulana Wahiduddin Khan
برادر محترم عبد السلام اکبانی صاحب السلام علیکم ورحمة اللہ ۵ مئی ۲۰۰۱ کو ٹیلی فون پر گفتگو کے بعد یہ خط لکھ رہا ہوں۔ آپ سے گفتگو کے بعد یہ سوال میرے ذہن میں آیا کہ قرآن فہمی کے لئے جو شرطیں ہماری کتابوں میں بتائی جاتی ہیں، وہ موجودہ زمانہ کے بڑے بڑے علماء کو بدرجہ کمال حاصل تھیں ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اس کے با وجود وہ موجودہ زمانہ کی نسبت سے قرآن کی رہنمائی حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے، جیسا کہ خود ان کی بعد کی روش سے ثابت ہوتا ہے۔ جدید مسائل کے معاملہ میں ہمارے علماء نے ابتداء جو موقف اختیار کیا، بعد کو انہیں اس سے بلا اعلان رجوع کرنا پڑا۔
ہمارے اکابر علماء نے انیسویں صدی عیسوی کے وسط میں مغربی سامراج کے خلاف مسلح جہاد کا پھر نصف صدی سے زیادہ مدت کی تباہ کن جدوجہد کے بعد مجبور ہو کر انہیں پر امن جدوجہد کی طرف لوٹنا پڑا۔ سیکولر ڈیموکریسی کو پہلے ان علماء نے ناقابل قبول کافرانہ نظام بتایا اور اب اپنے سابقہ اعلان کو واپس لئے بغیر اسی کافرانہ نظام کو قبول کر کے تمام علماء مصالحانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ صدی میں ان علماء نے جن ملکوں کو دار الحرب قرار دیا تھا اور ان کے خلاف جہاد کو فرض بتایا تھا، اب یہ ملک ان کی اپنی تعریف کے مطابق سپر دار الحرب ہو چکے ہیں۔ مگر اب وہ اور ان کی اولاد و احفاد اپنے سابق فتویٰ کو واپس لئے بغیر انہی ملکوں میں اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان علماء نے پہلے مغربی تہذیب کو اسلام دشمن بتا کر اس کو سب سے بڑی برائی قرار دیا۔ اب اپنے سابق اعلان کو واپس لئے بغیر ان کا پورا گروہ اسی مغربی تہذیب سے مصالحت کر کے اس کے اندر اپنے مستقبل کی تعمیر کر رہا ہے۔ طرح ان علماء نے جدید غیر اسلامی نظام کو دار الطاغوت قرار دیا، اور اس سے سمجھوتہ کر کے زندگی گزارنے کو حرام بتایا۔ اب وہ اپنے سابق اعلان کو غلط قرار دئے بغیر اس سے مفاہمت کر کے ”دیندارانہ“ زندگی گزار رہے ہیں۔
اسی طرح ہندوستان میں بابری مسجد یا فرقہ وارانہ فساد جیسے معاملات میں تمام علماء براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ٹکراؤ کے طریقہ کو مسئلہ کا حل بتاتے رہے۔ حتیٰ کہ وہ’’ ”ضرر رسانی‘‘ کے فلسفہ کی حمایت کرتے ہوئے پرجوش طور پر اس قسم کے اشعار پڑھتے تھے :
حفاظت پھول کی ممکن نہیں ہے اگر کانٹوں میں ہو خوئے حریری مگر اب یہ تمام علماء عملاً محاربت کے اس نظریہ کو ترک کرکے پُر امن انداز میں کلام کر رہے ہیں، وغیرہ۔ جیسا کہ معلوم ہے ، اس طرح کے معاملات میں یہ علماء پہلے جہاد و قتال کی اصطلاحوں میں مگر اس کے بعد تمام علماء کا حال یہ ہوا کہ تلخ نتائج کی مجبورانہ منطق تو ان کو سبق سکھانے میں کامیاب ہوگئی ، مگر قرآن کی تعلیمات سے اصولی رہنمائی حاصل کرنے میں وہ سراسر نا کام رہے۔ اس واقعہ پر غور کیجئے تو ان علماء کے بارہ میں دو میں سے کوئی ایک رائے قائم کرنی پڑے گی۔ تو یہ کہا جائے کہ یہ لوگ دو عملی کا شکار ہیں یا یہ مانا جائے کہ موجودہ زمانہ کی نسبت سے وہ قرآن کی رہنمائی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ میں ذاتی طور پر اس کو انھوں سمجھتا ہوں کہ علماء کے اس معاملہ کو دوسرے خانہ میں رکھا جائے۔
مزید غور کرنے پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ قرآن فہمی کی فنی شرطوں کے علاوہ ایک اور شرط ضروری ہے ، اور ہمارے علماء فنی شرطوں کے ماہر ہونے کے باوجود اس مزید شرط پر پورے نہیں اترے۔ اس لئے وہ موجودہ حالت میں قرآن کی رہنمائی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
میرے نزدیک یہ مزید شرط ہے ـــــــــ چیزوں کو جیسا ہے ویسا (as it is) دیکھنا ، محبت اور نفرت سے بلند ہوکر رائے قائم کرنا۔ چنانچہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی کے اندر نفرت کی نفسیات ہو تو وہ منصفانہ طرزِ فکر سے محروم ہو جائے گا (المائدہ ۸) ۔ ان علماء کی زندگیوں کا مطالعہ کیجئے تو صاف نظر آتا ہے کہ یہ حضرات اس مزید شرط پر پورے نہیں اترے۔ مثال کے طور پر اس دور کے تقریباً تمام علماء کے حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مغرب کی استعماری قوموں سے شدید نفرت میں مبتلا تھے۔ حتیٰ کہ ہر عالم کے حالات زندگی میں تعریف کے طور پر یہ لکھا جاتا ہے کہ
"حضرت کو ان قوموں سے شدید نفرت تھی۔
یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ کسی کے خلاف آپ نفرت میں مبتلا ہو جائیں تو اس کے بارے میں آپ درست رائے قائم نہیں کر سکتے۔ بظاہر آپ قرآن کے عالم ہوں گے مگر نفرت کا جذبہ آپ کو اس طرح متاثر کر دے گا کہ قرآن وحدیث کی کھلی تعلیمات کے باوجود آپ اس کے بارہ میں درست رائے قائم کرنے میں نا کام رہیں گے۔ فنی علوم کی مہارت کے باوجود آپ کی رائے متعصبانہ رائے بن کر رہ جائے گی۔
درست رائے قائم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ چیزوں کو ویسا ہی دیکھیں جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں۔ اگر آپ کی آنکھ پر نفرت کی عینک لگی ہوئی ہو تو فنی علوم میں مہارت کے باوجود آپ یقینی طور پر صحیح رائے قائم کرنے میں ناکام رہیں گے۔
جن علوم وفنون کو قرآن فہمی کے لئے لازمی شرط بتایا جاتا ہے وہ بجائے خود درست ہیں۔ قرآن فہمی کے لئے یہی کافی نہیں۔ انسان کوئی مشینی کمپیوٹر نہیں۔ انسان اکثر مختلف قسم کے منفی جذبات (negative sentiments) کا شکار ہو جاتا ہے۔ منفی جذبات اس کے ذہن پر غلبہ حاصل کر کے اس کو ایک قسم کی متاثر سوچ (conditioned thinking) میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ یہ متاثر سوچ اکثر حالات میں درست رائے قائم کرنے میں فیصلہ کن رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اس لئے صرف فنی علوم میں مہارت اس بات کے لئے کافی نہیں کہ آدمی قرآن کی صحیح تفسیر کرنے میں کامیاب رہے۔ ضروری ہے کہ وہ اسی کے ساتھ نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہو۔ وہ حدیث کے الفاظ میں یہ صلاحیت رکھتا ہو کہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھ سکے جیسا کہ وہ ہیں (اللھم ارنا الاشياء كما ھي)۔