شریعت اور تطبیق شریعت
Al-Risala, February 2001, pp. 19–31
By Maulana Wahiduddin Khan
انٹرنیٹ پر راقم الحروف کے کچھ دعوتی مضامین کو دیکھنے کے بعد اس کے ایک قاری نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اپنا ایک ای میل بھیجا۔ اس میں انہوں نے ڈرامائی انداز میں میرے نقطۂ نظر کی تردید کی تھی۔ انہوں نے چند مثالیں دیتے ہوئے ظاہر کیا تھا کہ راقم الحروف کا نقطۂ نظر قرآن کے نقطۂ نظر کی عین ضد ہے۔ انھوں نے لکھا تھا:
Maulana Wahiduddin says: Muslims should keep patience against atrocities committed for other nations and engage themselves in dawah work. But in sharp contrast to it God Almighty says:
And fight them on until there is no more fitnah, and religion becomes Allah's in entirety. (8:39)
پھر ہم کس کی بات مانیں ۔ مولانا وحید الدین کی یا اللہ کی۔
بظاہر یہ بات بڑی سنسنی خیز معلوم ہوتی ہے۔ مگر حقیقتاً وہ اتنی ہی زیادہ بے حقیقت ہے۔ اس غلطی کو اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر قرآن ایک مکمل مجموعہ کی شکل میں مکہ میں موجود ہوتا جیسا کہ آج وہ مذکورہ مکتوب نگار کے پاس برائے حوالہ موجود ہے تو عین ممکن ہے کہ ٹھیک یہی واقعہ قدیم مکہ میں پیش آتا جس کا ایک نمونہ انٹرنیٹ کے مذکورہ مکتوب میں نظر آتا ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مکی دور میں جب وہاں کے مشرکین نے مسلمانوں کے اوپر سخت مظالم شروع کئے تو کچھ مسلمان اس سے متاثر ہو کر یہ کہتے کہ ہمیں ان مشرکین سے جنگ کی اجازت دیجئے اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ یہ فرماتے کہ تم لوگ صبر کرو کیوں کہ مجھے صرف دعوت و تبلیغ کا حکم دیا گیا ہے، مجھ کو جنگ کا حکم نہیں دیا گیا۔ اب اگر موجودہ مجلد قرآن کی طرح اس وقت مکمل قرآن موجود ہوتا تو شاید ایک شخص کھڑا ہو کر کہتا کہ ” دیکھو، محمدؐ ہم سے صبر کرنے کے لئے کہتے ہیں، حالانکہ قرآن میں اللہ یہ کہتا ہے کہ ان سے جنگ کرو۔
مگر قدیم مکہ میں ایسا حادثہ پیش نہیں آیا، اور اس کی سادہ سی وجہ یہ تھی کہ قدیم مکہ میں کسی کے پاس آج جیسا مکمل قرآن موجود ہی نہ تھا۔
اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ جو لوگ مذکورہ قسم کا اعتراض کرتے ہیں ان کی اصل غلطی کیا ہے۔ ان کی اصل غلطی وہ ہے جس کو وضع الشی فی غیر موضعه کہا جاتا ہے۔ وہ قرآن کی آیت کو غلط مقام پر استعمال کر رہے ہیں۔ ایسے وقت میں جب کہ مسلمان دعوت کے مرحلہ میں ہیں اور انہیں صبر کی روش اختیار کرتے ہوئے اپنی دعوتی ذمہ داری کو ادا کرنا ہے، وہ ان آیتوں کو پیش کر رہے ہیں جو دفاع کے مرحلہ کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے اتاری گئیں۔ غلط انطباق (wrong application) کے مرتکب ہیں۔ وہ مکی حالات میں مدنی حالات والی آیتوں کے حوالے دے رہے ہیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم مکہ میں پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کو وہ سارے مسائل اور مصائب پیش آ رہے تھے جن کا ذکر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے حوالہ سے کیا جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام نے ان مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم لوگ صبر کی روش اختیار کرو اور ٹکراؤ سے اعراض کرتے ہوئے دعوت کا کام جاری رکھو۔ پھر مکہ میں ایسا کیوں نہیں ہوا کہ مذکورہ مسلم مجاہد جیسا کوئی شخص کھڑا ہو کر یہ کہتا کہ دیکھو محمد ہم سے صبر کرنے کے لئے کہتے ہیں، حالانکہ قرآن میں اللہ صاف طور پر حکم دے رہا ہے کہ ان کافروں سے جنگ کرو۔ قدیم مکہ میں ایسا حادثہ پیش نہ آنے کی سادہ سی وجہ یہ تھی کہ اس وقت وہاں موجودہ قسم کا مکمل قرآن مجلد صورت میں موجود ہی نہ تھا جو آج مذکورہ مسلم مجاہد کے ہاتھ میں ہے۔ اصل یہ ہے کہ قرآن اس طرح بیک وقت ایک مجلد کتاب کی صورت میں نہیں اترا جس طرح آج وہ ہمارے پاس موجود ہے۔ بلکہ قرآن مختلف اوقات میں جزء جزء کی صورت میں ۲۳ سال میں اتارا گیا۔ اس کی صورت یہ تھی کہ حالات کی نسبت سے جس وقت جو حکم مطلوب ہوتا اس وقت وہ حکم قرآن میں اتار دیا جاتا۔ مثال کے طور پر ابتدائی مرحلہ میں صبر کرتے ہوئے
دعوت کا حکم (المدرس ۲۷) دیا گیا۔ اس کے بعد جب حالات کا تقاضا ہوا تو ہجرت کا حکم نازل ہوا اس کے بعد جب حالات میں مزید تبدیلی ہوئی تو انہیں قتال کا حکم دیا گیا (البقره ۱۹۰) اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کے ابتدائی دور میں جب قرآن اتر رہا تھا تو ترتیب نزول اور ترتیب واقعات دونوں میں یکسانیت تھی۔ اس بنا پر حکم اترتے ہی لوگوں کو فوراً معلوم ہو جاتا تھا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ مگر بعد کو یہ ہوا کہ ۲۳ سال کے دوران مختلف اوقات میں اتری ہوئی آیتیں ایک واحد کتابی مجموعہ کی صورت میں لوگوں کو دے دی گئیں۔ بعد کی نسلوں کے سامنے یہی مجلد
اب سوال یہ ہے کہ حالات خود قانونِ فطرت کے مطابق ہمیشہ مختلف ہوتے ہیں۔ کہ قرآن کی صورت میں ہمارے پاس جو خدائی گائیڈ بک ہے اس میں ہر قسم کے حالات کے لئے مختلف احکام بیک وقت ایک ہی مجلد کتاب میں اکھٹا ہیں۔ پھر بعد کے زمانے کے مسلمان اپنے معاملات میں اس مجموعہ قرآن سے کس طرح رہنمائی حاصل کریں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ قرآنی آیات کا مطالعہ ان کے اسباب نزول کی روشنی میں کیا جائے_ یعنی کسی وقت میں اپنی موجود حالت (given situation) کا بے لاگ تعین کیا جائے۔ اور دوسری طرف یہ معلوم کیا جائے کہ اس سے مشابہ حالت (similar situation) جب دور اول میں پیش آئی تو اس وقت وہاں کون سی آیت نازل کی گئی۔ اور جب قرآن میں وہ آیت یا حکم مل جائے تو اس کو اپنے اوپر منطبق کیا جائے۔ گویا کہ جو مقصد دور اول میں مجرد نزول آیت کے ذریعہ حاصل ہوتا تھا وہ اب دونوں زمانوں کے حالات میں مشابہت (similarity) کے ذریعہ حاصل کیا جائے گا۔
سہولت فہم کی خاطر یہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کا زمانہ نبوت وسیع تر نقشہ کے اعتبار سے، چار دوروں میں تقسیم ہے__ (۱) مکی دور کا نصف اول (۲) مکی دور کا نصف ثانی (۳) مدنی دور کا نصف اول (۴) مدنی دور کا نصف ثانی۔ یہ چار دور جو پیغمبر اسلام کے زمانے
میں پیش آئے وہ چار فطری دور تھے۔ بنیادی طور پر یہی چار دور ہمیشہ انسانی تاریخ میں ظاہری فرق کے ساتھ دہرائے جاتے ہیں۔ قرآن اور حقیقی حالات دونوں کا مطالعہ کرکے نہایت آسانی سے اس مشابہت (similarity) کو دریافت کیا جاسکتا ہے جو بعد کے زمانوں میں قرآن سے رہنمائی لینے کے لئے درکار ہے۔
جیسا کہ عرض کیا گیا، قرآن آج جس طرح ہمارے پاس ایک کامل مجموعہ کی صورت میں ہے اس طرح وہ ابتدائی دور کے مسلمانوں کے پاس موجود نہ تھا بلکہ اس وقت وہ جزوِ جزء کی صورت میں تھا۔ اس زمانہ میں قرآن کا کوئی ایک حصہ حسب موقع نازل ہوتا تھا، یعنی واقعی صورت حال کے لحاظ سے جو حکم مطلوب ہو تا، وہی حصہ قرآن اس وقت کے اہل ایمان کو دے دیا اس بنا پر قرآن کا متعلقہ حصہ اترتے ہی اہل ایمان کو معلوم ہو جاتا تھا کہ انہیں کیا کرنا ہے اور وہ فوراً اس مطلوب کام میں لگ جاتے۔
مثال کے طور پر جس وقت حالات کا تقاضہ یہ تھا کہ ساری توجہ دعوت و تبلیغ کے کام پر لگائی جائے، اس وقت یہ آیت اتری کہ ادع الى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة (النحل (۱۲۵) چنانچہ اس وقت کے پیروان رسول نے دعوت کو واحد نکاتی فارمولا (single point formula) کے طور پر اختیار کر لیا اور اس کام میں پوری طرح مشغول اسی طرح جب صبر و تحمل کا موقع تھا تو یہ آیت اتری فاصبر كما صبر اولوا العزم من الرسل (الاحقاف (۳۵) اس کے بعد اس وقت کے اہل ایمان نے پوری ذہنی یکسوئی کے ساتھ صبر کی روش کو اختیار کر لیا۔ اسی طرح جب فریق ثانی کی جارحیت کے نتیجہ میں دفاع کا مسئلہ سامنے آیا تو قرآن میں یہ آیت اتری: قاتلوا في سبيل الله الذين يقاتلونكم (البقرة ۱۹۰) اس حکم کو پانے کے بعد اہل ایمان جنگ کے میدان میں سرگرم ہو گئے، وغیرہ۔ رسول اللہ ﷺ کے ۲۳ سالہ دور نبوت میں ایسا ہی ہوتا رہا۔ ہر بار قرآن کا وہی حصہ اترتا تھا جو موقع کے لحاظ سے بروقت مطلوب ہوتا تھا۔ اس لئے اس وقت کے اہل ایمان کے لئے اس
معاملہ میں صرف واحد معلوم حکم کی پیروی کا مسئلہ تھا نہ کہ فیصلہ کرنے کا کہ مختلف اور متعدد احکام میں سے کون سا حکم بروقت ان سے مطلوب ہے اور کون سا حکم مطلوب نہیں۔ لیکن بعد کے زمانہ میں صورت حال بدل گئی۔ اب ایسا ہوا کہ مختلف اوقات میں اترے ہوئے قرآن کے حصے ایک کتابی مجموعہ کی صورت میں مجلد کر دیئے گئے۔ گویا حکم اور حکم کا پس منظر (بیک گراؤنڈ) یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ اس کے بعد یہ ذمہ داری خود مسلمانوں کی ہو گئی کہ وہ گہرے مطالعہ اور تدبر کے ذریعہ یہ جانیں کہ قرآن کا کون سا حکم کس معین وقت (given situation) میں ان پر قابل انطباق (applicable) ہے۔ اور اس طرح مطلوب قرآنی آیت کو دریافت کر کے اس پر یکسوئی کے ساتھ عمل شروع کر دیں۔ مزید غور و فکر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں ابتدائی دور کے اہل ایمان کی اصل ذمہ داری وہ تھی جس کو قرآن میں استماع (الاعراف ۲۰۲) کہا گیا ہے۔ یعنی قرآن کا جو حصہ اتارا جائے اس کو پوری توجہ کے ساتھ سننا اور اس کی پیروی میں مصروف ہو جانا۔ اس کے مقابلہ میں بعد کے مسلمانوں کی مزید ذمہ داری وہ قرار پائی جس کو قرآن میں استنباط (الننساء ۸۳) کہا گیا یعنی دیانت اور تقویٰ کے ساتھ غور و فکر کر کے خود یہ معلوم کرنا کہ وہ بروقت جس صورت حال میں ہیں اس کی نسبت سے وہ کس حکم الہی کے مخاطب ہیں ، اور پھر اس پر یکسوئی کے ساتھ عمل شروع کر دینا۔
گویا کہ پہلے یہ تھا کہ دعوت کے وقت دعوت کا حکم اترتا تھا۔ صبر کے وقت صبر کا حکم اور جنگ کے وقت جنگ کا حکم نازل ہوتا تھا۔ اس بنا پر لوگوں کو حکم اور اس کا انطباق سمجھنے میں کوئی اشتباہ نہیں ہوتا تھا۔ بعد کے مسلمانوں کے لئے یہ ہوا کہ ایک ہی وقت میں دعوت اور صبر اور جنگ سب کا حکم انہیں ایک ساتھ دے دیا گیا۔ اب یہ خود مسلمانوں کی اپنی ذمہ داری قرار پائی کہ وہ بطور خود یہ معلوم کریں کہ ان مختلف احکام میں سے کون سا حکم بروقت ان سے متعلق ہے۔ پہلے صورت حال بھی ایک تھی اور حکم بھی ایک۔ اور اب اس کے برعکس یہ ہو گیا کہ احکام مختلف
اور متعدد ہیں اور صورت حال کسی وقت خاص میں عملاً بدستور ایک ہے۔
جیسا کہ عرض کیا گیا، موجودہ قرآن نزولی ترتیب پر نہیں ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ جس ترتیب سے قرآن کی آیتیں اتریں اسی ترتیب سے وہ مصحف میں جمع کر دی گئیں۔ یہ غیر نزولی ترتیب غالباً مصلحت امتحان کی بنا پر ہے۔ وہ امتحان یہ ہے کہ مسلمان اپنی بے آمیز عقل کو استعمال کر کے یہ دریافت کریں کہ مختلف احکام میں سے وہ کون سا حکم ہے جو بروقت ان سے مطلوب ہے۔ یہ امتحان اپنی نوعیت کے اعتبار سے ویساہی ایک امتحان ہے جس دور اول کے مسلمان مبتلاء کئے گئے تھے۔ دور اول کے مسلمانوں کا امتحان یہ تھا کہ وہ مختلف مدعیان ہدایت میں سے اس ہادی کو دریافت کریں جو اللہ کے نزدیک ہادی بر حق ہے۔ اسی طرح بعد کے مسلمانوں کے لئے یہ امتحان ہے کہ وہ مختلف اور متنوع احکام میں سے اس حکم کو دریافت کریں جو کسی وقت خاص میں اللہ کے نزدیک ان سے مطلوب ہے۔ پیغمبر کا ظہور اس کے ہم عصر لوگوں کے لئے معرفت ہادی کا امتحان تھا۔ قرآن کی غیر نزولی ترتیب بعد کے لوگوں کے لئے معرفت ہدایت کا امتحان ہے۔ بعد کے لوگوں کو اس امتحان میں اسی طرح پورا اترنا ہے جس طرح دور اول کے اہل ایمان اسی نوعیت کے امتحان میں ڈالے گئے اور کامیاب ہوئے۔ پیغمبر اور اس وقت کے اہل ایمان اسلام کے ابتدائی دور میں ۱۳ سال تک مکہ میں رہے۔ اس وقت وہاں مشرکین کے سردار غالب حیثیت میں تھے۔ وہ پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کو ستاتے تھے اور ان کے اوپر ظلم کرتے تھے۔ اب یہ سوال تھا کہ ان حالات میں اہل اسلام کیا کریں۔ اس وقت انہیں یہ رہنمائی دی گئی کہ : ولنصبرن على ما آذيتمونا (ابراہیم ۱۴) یعنی ظلم و زیادتی کے باوجود صبر کے طریقہ پر قائم رہو۔
اس طرح بروقت ہدایت کے مطابق اہل اسلام کو یہ معلوم ہو گیا کہ ان حالات میں انھیں کیا کرنا ہے۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ خواہ فریق ثانی کی طرف سے ظلم کیا جا رہا ہو مگر انہیں یک طرفہ طور پر صبر کی روش پر قائم رہنا ہے۔
اس کے بعد وہ وقت آتا ہے کہ پیغمبر اور آپ کے ساتھی ہجرت کر کے مدینہ چلے مگر اب حالات بدل چکے تھے۔ چنانچہ نئے حالات میں حکم بھی بدل گیا۔ اس سے پہلے جس ظلم پر صبر کی ہدایت دی گئی تھی اس ظلم کے بارے میں اب یہ ہدایت دی گئی کہ ایسے ظالموں کے خلاف قتال کرو: أذن للذين يُقتلون بانهم ظلموا (الحج ۳۹)
اس سے معلوم ہوا کہ کبھی ظلم کے مقابلہ میں دفاع مطلوب ہوتا ہے۔ اور کبھی یہ مطلوب ہوتا ہے کہ اپنی طرف سے کوئی جوابی کارروائی نہ کرتے ہوئے صرف صبر کیا جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ کیسے معلوم ہو کہ کس صورت حال میں صبر و برداشت کا طریقہ اختیار کرنا ہے اور وہ کون سی صورت حال ہے جب دفاعی قتال جائز ہو جاتا ہے۔
دورِ اول کے اہل اسلام کو اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے خود کوئی فیصلہ نہیں کیوں کہ عملاً جو صورت حال ہوتی تھی اسی کے مطابق جواب آسمان سے نازل ہوتا تھا۔ اس طرح سوال اور جواب دونوں بیک وقت اپنے آپ معلوم ہوتے رہتے تھے۔ مگر بعد کے مسلمانوں کے لئے یہ صورت حال باقی نہیں رہی۔ بعد کے زمانہ کا معاملہ یہ ہے کہ حالات کی نسبت سے سوال تو موجود ہے مگر اس کا جواب مسلمانوں کو خود تلاش کرنا ہے۔ یہی بعد کے زمانہ کے اہل اسلام کا امتحان ہے۔ دورِ اول کے اہل اسلام کا امتحان اگر رسول کو پہچاننا تھا تو بعد کے لوگوں کا امتحان حکم رسول کو پہچاننا ہے۔ اب قرآن میں مذکورہ دونوں قسم کی آیتیں ایک ساتھ موجود ہیں۔ اب خود اہل اسلام کی یہ اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ بے آمیز غور و فکر کے ذریعہ یہ جانیں کہ کسی وقت خاص (given situation) میں کون سا حکم ان کو اپنے اوپر چسپاں کرنا ہے، اور کس حکم کو اس وقت خاص میں اپنے لئے گویا عملاً موقوف سمجھنا ہے۔ حکم کی اس نوعیت کا تعین پہلے وحی کے ذریعہ براہ راست ہوتا تھا اور اب یہ تعین ہمیں ذاتی اجتہاد کے ذریعہ
ایک اور مثال لیجئے۔ پیغمبر اور آپ کے ساتھی جب مکہ میں تھے اس وقت بھی مشرکین
وہاں موجود تھے اور ہجرت کے بعد بھی فتح مکہ تک مشرکین وہاں موجود رہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پہلے دور میں مکہ کے مشرکین کے بارے میں جو حکم دیا گیا وہ صرف یہ تھا کہ پر امن طریقِ کار کو اختیار کرتے ہوئے انہیں نظریہ توحید سے آگاہ کرو (قم فأنذر، أدع الى سبيل ربك بالحكمة) اس ہدایت کے مطابق پیغمبر اور آپ کے ساتھی مکہ میں لوگوں کے پاس جاتے اور ان کو قرآن کی نازل شدہ دعوتی آیتیں سناتے۔ ان کے مجامع کو خطاب کرتے ہوئے کہتے: ایها الناس قولوا لا اله الا الله تفلحوا (اے لوگو کہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تم فلاح پاؤ گے) مگر ہجرت اور فتح مکہ کے بعد صورت حال بدل گئی اب انہیں مشرکین کے بارے میں قرآن کی سورہ برآۃ اتری جس میں ان کے بارے میں یہ اعلان کیا گیا کہ: براءة من الله ورسوله الى الذين عاهدتم من المشركين (اعلان برآت ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکین کو جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا) التوبہ ا۔
اس سورہ کے نزول کے بعد جو پہلا حج آیا اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے ایک وفد کو مکہ بھیجا۔ ان لوگوں نے وہاں جا کر مشرکین کے درمیان یہ اعلان کیا کہ : ان الله برئ من المشركين ورسوله (تفسیر ابن کثیر ۳۳۳/۲) یعنی اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بری ہیں۔ کوئی عہد یا ذمہ داری اب مشرکین کے حق میں موجود نہیں۔ اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ کے مشرکین کے مقابلہ میں جب دعوت و تبلیغ مطلوب تھی، اس وقت قرآن میں دعوت و تبلیغ کی آیتیں اتریں۔ اور جب ان کے مقابلہ میں برآت مطلوب ہو گئی تو اس وقت برآت والی آیتیں قرآن میں نازل ہوئیں۔ اس طرح حسب موقع خود آیات کے نزول کی ترتیب ہی اس بات کو جاننے کے لئے کافی ہو گئی کہ کس وقت انہیں کیا کرنا ہے اور کس وقت کیا نہیں کرنا ہے۔
بعد کے مسلمانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اب یہ صورت حال ہے کہ پورا قرآن بیک وقت مجلد صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ اس میں دونوں قسم کی آیتیں ایک ساتھ پائی
اس طرح مسلمانوں کو خود اپنے ذاتی اجتہاد سے یہ جاننا ہے کہ کس وقت خاص میں وہ اپنے آپ کو ایک آیت کا مخاطب سمجھیں۔ اور کس وقت خاص میں وہ یہ جانیں کہ اب وہ دوسری آیت کے مخاطب ہو گئے ہیں۔
یہی بعد کے زمانہ کے لوگوں کا امتحان ہے۔ دور اول کے لوگوں کا امتحان میں کامیاب ہونا یہ تھا کہ وہ رسول بر حق کو پہچانیں اور اس کو اپنا رہنما بنا لیں۔ اور ان کا امتحان میں ناکام ہونا یہ تھا کہ وہ رسول کو پہچاننے میں عاجز ثابت ہوں اور اس بنا پر اس کا ساتھ نہ دے سکیں۔ بعد کے زمانہ کے لوگ بھی امتحان کے اسی میدان میں کھڑے ہوئے ہیں اس فرق کے ساتھ کہ اب پچھلے لوگوں کو ذاتِ رسول کو پہچاننا تھا اور آج کے لوگوں کو حکم رسول کو پہچاننا ہے۔ بعد کے زمانہ کے مسلمانوں کی کامیابی یہ ہے کہ وہ قرآن کے مختلف احکام میں سے اس حکم کو دریافت کریں جو ان کے حالات کے لحاظ سے ان سے مطلوب ہے۔ اور ان کا ناکام ہونا یہ ہے کہ وہ اپنے حق میں مطلوب حکم کو دریافت نہ کر سکیں۔ مثلاً اگر ان کے واقعی حالات کے لحاظ سے صبر و دعوت کی آیتیں ان پر منطبق ہوتی ہیں، ایسی حالت میں اگر وہ قرآن سے قتال کی آیتوں کو لے کر دوسری قوموں سے لڑنا شروع کر دیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اپنے امتحان میں ناکام ہو گئے۔ یہ ناکامی بے حد سنگین ہے، یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ویسی ہی ناکامی ہے جیسے عہد رسالت میں آپ کا کوئی معاصر شخص آپ کے رسولِ خدا ہونے کو پہچاننے میں ناکام رہ جائے۔ اس پہچان کی کامیابی بھی بہت بڑی ہے اور اس کو نہ پہچاننے کی محرومی بھی بہت بڑی۔ ہدایت و ضلالت کا راز قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: يُضِلُّ به كَثِيراً ويهدي به كثيراً (البقرہ (۲۶) یعنی اللہ اس کے ذریعہ بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو اس سے راہ دکھاتا ہے۔ قرآن بلاشبہ ایک بر حق کلام ہے۔ پھر کیوں ایسا ہے کہ قرآن کی باتوں سے کسی کو گمراہی ملتی ہے اور کوئی اس کو پڑھ کر ہدایت حاصل کر لیتا ہے۔ اس فرق کا خاص سبب ریفرنس کا فرق ہے۔ قرآن کو اگر اس کے صحیح
ریفرنس میں پڑھا جائے تو پڑھنے والے کو اس سے ہدایت ملے گی۔ اس کے برعکس اگر ریفرنس کو بدل دیا جائے تو وہی کلام آدمی کے لئے گمراہی کا سبب بن جائے گا۔
قرآن کو اس کے صحیح ریفرنس میں پڑھنے کی صورت یہ ہے کہ اس کو اسباب نزول کی روایتوں کی روشنی میں پڑھا جائے۔ حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں کثرت سے وہ روایتیں آئی ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ قرآن کی کونسی آیت کس خاص موقع پر اتاری گئی۔ اسباب نزول کی یہ روایات نہ صرف قرآن کے ابتدائی مفہوم کو سمجھنے میں مددگار ہیں بلکہ بعد کے زمانہ میں بھی اس کے صحیح انطباق (application) کو جاننے کے لئے وہ معتبر رہنما کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسباب نزول کی روایات کی روشنی میں قرآن کے مطالعہ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن ایک زمانی کتاب ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ حکم کی ابتدائی نوعیت کو سمجھا جائے تاکہ اس حکم کا وسیع تر انطباق دریافت کیا جاسکے۔
قرآن میں اکثر احکام اجمالی انداز میں آئے ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کر لو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچادو، پھر تم کو اپنے کئے پر پچھتانا پڑے (الحجرات ۶) اسباب نزول کی روایات کے مطابق، یہ آیت ایک مخصوص واقعہ پیش آنے پر اتری۔ آیت میں نہ اس واقعہ کا ذکر ہے اور نہ اس واقعہ سے متعلق افراد کا نام۔ ایسی حالت میں اس آیت کا اصل مفہوم سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کو اس واقعہ کی روشنی میں پڑھا جائے جس کے پیش آنے پر یہ آیت اتری۔
اس طرح مذکورہ واقعہ ہمیں اس پس منظر (background) کا علم دیتا ہے جس کی روشنی میں ہم اس آیت میں وارد شدہ حکم کی اصل نوعیت کو سمجھ سکیں۔ اور جب حکم کی ابتدائی نوعیت کو درست طور پر سمجھ لیا جائے تو بعد کے زمانہ میں اس کا انطباق (application) بھی آسان ہو اس کے بعد ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ کس قسم کی صورت حال میں قرآن کیا حکم دیتا ہے۔
قرآن کی مذکورہ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن جس طرح ہدایت کا سرچشمہ ہے اسی طرح کچھ لوگوں کو اس سے گمراہی ملتی ہے۔ یہ گمراہ ہونے والے کون لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کا مطالعہ غلط ریفرنس میں کریں۔ غلط ریفرنس یہ ہے کہ آدمی قرآن کی آیتوں کو اسباب نزول کی روشنی میں نہ پڑھ کر ان کو خود اپنی خواہشات اور مزعومات کی روشنی میں پڑھنے لگے۔ آزادانہ سوچ کے تحت ایک آدمی یہ کہہ سکتا ہے کہ اپنے دشمن کو ہلاک کرو اور اس طرح اس کے مسئلہ کو حل کرو۔ لیکن اس معاملہ کو قرآنی آیات کے حوالے سے دیکھا جائے تو برعکس طور پر یہ معلوم ہوگا کہ اسلام کا نشانہ مخالفین کو مارنا نہیں ہے بلکہ ان پر تبلیغ کر کے ان کو اسلام کے دائرہ میں داخل کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی یہ آیت واضح رہنما کی حیثیت رکھتی ہے: اور اس سے بہتر کس کی بات ہو گی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں، اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیبے والا ہے۔ اور اگر شیطان تمہارے دل میں کچھ وسوسہ ڈالے تو اللہ کی پناہ مانگو بے شک وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (حم السجدہ ۳۳-۳۶)
قرآن کی آیتوں سے رہنمائی لینے کے لئے اسباب نزول کی روایتیں بے حد اہمیت رکھتی قرآن کی آیتوں کو اگر اسباب نزول کے بغیر پڑھا جائے تو ہر آیت مطلق حکم دیتی ہوئی نظر لیکن جب ہم قرآن کو اسباب نزول کی روایتوں کی روشنی میں پڑھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر آیت کے نزول کا ایک متعین پس منظر ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں جب بھی کوئی صورت حال پیدا ہوئی تو اس صورت حال کی نسبت سے خدا کا حکم قرآن میں اتار اگیا۔ ایسی حالت میں یہ درست نہیں کہ قرآن کی آیتوں کو مطلق انداز میں لے لیا جائے اور مطلق انداز میں اس کا انطباق کیا جائے۔ اس کے برعکس ضروری ہے کہ اسباب نزول کی روشنی
میں آیتوں کا مطالعہ کیا جائے۔ تاکہ اس کے نزول کا پس منظر معلوم ہو اور پھر جب بھی اس کے مشابه صورت حال (similar situation) پیدا ہو تو اس آیت کے حکم کو وہاں منطبق کیا اس اصول کے مطابق ، قرآن کی آیتوں کو اس کے صحیح ریفرنس میں لینا ہدایت کا ذریعہ اور ان کو غلط ریفرنس میں لینا گمراہی کا ذریعہ ۔
خلاصہ یہ کہ قرآن مختلف اور متنوع قسم کے احکام کا مجموعہ ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں ایک جگہ یہ حکم ملے گا کہ مشرکین سے اعراض کرو (الحجر ۹۴)۔ دوسری جگہ قرآن میں یہ حکم ہوگا کہ مشرکین سے قتال کرو۔ (التوبہ ۳۶) یہ دونوں حکم بظاہر ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آج کا ایک قاری ان پر کس طرح عمل کرے ۔
اسباب نزول کی روایات اس کا جواب ہیں۔ قرآن میں جتنے بھی احکام ہیں وہ مخصوص مواقع پر اترے ہیں۔ اسباب نزول کی یہ روایتیں بتاتی ہیں کہ کون سا حکم کس موقع پر اتر اور کون سا حکم کس موقع پر ۔ اس طرح اسباب نزول کی روایتوں کے مطالعہ سے ہم قرآنی احکام کا انطباقِ اول (first application) دریافت کر سکتے ہیں۔ اور جب ایک حکم کا انطباق اول معلوم ہو جائے تو اس کے انطباقِ ثانی (second application) کا جاننا اپنے آپ آسان ہو جاتا ہے۔ اب ہمیں یہ کرنا ہے کہ جب بھی ہم کسی صورت حال میں مبتلا ہوں اور ہمیں اس کے لئے حکم قرآنی کو جاننا ہو تو ہم اسباب نزول کی روایتوں کا مطالعہ کر کے یہ دریافت کریں کہ اس قسم کی صورت حال جب صحابہ کو لاحق ہوئی تو اس وقت ان کے اوپر قرآن کا کون سا حکم اترا۔ دونوں حالتوں کے درمیان مشابہت (similarity) وہ چیز ہے جو ہمیں یہ رہنمائی دیتی ہے کہ کس صورت حال میں ہم قرآن کی کس آیت کا اپنے آپ کو مخاطب سمجھیں۔ یعنی انطباق اول کی روشنی میں انطباقِ ثانی کا تعین کریں۔
اسلام بلاشبہ مکمل ضابطہ حیات ہے۔ مگر اس کے مکمل ضابطہ حیات ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی طاقت حاصل کر کے اس کو ایک نظام کی حیثیت سے لوگوں کے اوپر نافذ کیا جائے۔
ایسا مکمل نفاذ عملاً صرف جزئی نفاذ کے ہم معنی ہوگا۔ کیوں کہ طاقت کے زور سے صرف کچھ خارجی احکام نافذ کئے جاسکتے ہیں۔ جب کہ اسلام کا بیشتر حصہ نیت یا داخلی کیفیت سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ داخلی کیفیت آدمی خود اپنے ارادہ سے اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔ اوپر سے اس کا نفاذ کیا جانا ممکن نہیں۔
اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص یا کوئی جماعت جب بھی کسی صورت حال سے دوچار ہو تو وہ اس موقع کے لئے قرآن وسنت میں اپنے لئے ایک حکم مثلاً آدمی کو غصہ آئے تو وہاں اس کے لئے اسلام میں یہ رہنمائی ہوگی کہ جس کے خلاف تمہیں غصہ آیا ہے اس کو تم معاف کردو۔ اسی طرح کوئی ایسا موقع پیش آئے جہاں آدمی کو گواہی کے لئے بلایا جائے تو وہاں اسلام کے اس حکم میں اس کے لئے یہ رہنمائی ہوگی کہ تم عدل کے مطابق گواہی دو۔ اسی طرح کسی انسان کے خلاف بدگمانی کی بات علم میں آئے تو وہاں اسلام کا یہ حکم اس کی رہنمائی کر رہا ہوگا کہ تم کسی کے خلاف کوئی رائے اس وقت تک ہر گز قائم نہ کرو جب تک کہ اس کی مکمل تحقیق نہ کر لو۔ اسی طرح اگر کسی کو مال یا اقتدار حاصل ہو تو ایسی حالت میں اس کے لئے اسلام یہ رہنمائی دے رہا ہوگا کہ تم اپنے مال کو کس طرح خرچ کرو اور تم اپنے اقتدار کا استعمال کس طرح کرو، وغیرہ۔
خدا کا دین پورا کا پورا برائے امتحان ہے۔ اسلام کا ہر حکم ایک پرچہ امتحان کی حیثیت رکھتا اسلام کی اس نوعیت کا تقاضا ہے کہ اسلام آدمی کے لئے ایک اختیارانہ پیروی کی حیثیت رکھتا ہو نہ کہ مجبورانہ تعمیل حکم کی۔