Al-Risala · February 2001

تکمیل استحکام نہ کہ تکمیل احکام

Al-Risala, February 2001, pp. 32–37

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی اس آیت میں اکمال دین یا تکمیل دین کا مطلب یہ نہیں لیا جا سکتا کہ نازل ہونے والے احکام دین کی فہرست آج مکمل ہوگئی۔ یہاں اکمال دین سے مراد استحکام دین ہے نہ کہ فہرست احکام کی تکمیل ۔ یہی مفہوم لغت سے ثابت ہوتا ہے اور یہی مفہوم آیت کے سیاق وسباق سے بھی۔

سب سے پہلے لغت کو لیجئے۔ مشہور عربی لغات لسان العرب میں اس کی جو تشریح کی گئی

كما تقول الآن كمل لنا الملك و كمل لنا ما نريد بان كفينا من كنا نخافه...... فاما أن يكون دين الله عزوجل فى وقت من الاوقات غير كامل فلا (لسان العرب، مطبوعة اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تمہارے او پر اپنی نعمت پوری کردی۔ اس کا مطلب یہ ہے، اور اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے، اب میں نے تمہارے دین کو کامل کر دیا، اس طرح کہ میں تمہارے دشمن سے خوف کے معاملہ میں تمہارے لئے کافی ہو گیا اور میں نے تم کو ان کے اوپر غالب کر دیا۔ جس طرح تم کہتے ہو کہ اب ہمارا اقتدار ہمارے لئے مکمل ہو گیا۔ اور ہمارے لئے وہ چیز کامل ہو گئی۔ جس کو ہم چاہتے تھے، اس طرح کہ ہم ان پر کافی ہو گئے جن سے ہمیں خوف تھا۔ اور یہ کہ اللہ عزوجل کا دین کسی بھی وقت غیر کامل رہا ہو تو ایسا نہیں ہو سکتا۔

تفسیر کی کتابوں میں عام طور پر کسی آیت کے تحت مختلف اقوال نقل کئے جاتے ہیں۔ چنانچہ یہ قول بھی تفسیر کی کتابوں میں عام طور پر موجود ہے۔ یہاں چند حوالے نقل کئے جاتے ہیں۔ مفسر القرطبی نے لکھا ہے : و قیل ”اکملت لكم دينکم" بأن اهلکت لكم عدوكم واظهرت دينكم علی الدین کلہ كما تقول : قد تم لنا مانريد اذا كفيت عدوك (الجامع لاحکام القرآن ٦٢/٦) اور کہا گیا ہے کہ میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا، یعنی میں نے تمہارے لئے تمہارے دشمن کو ہلاک کر دیا اور میں نے تمہارے دین کو سارے دین پر غالب کر دیا۔ جیسا کہ تم کہتے ہو کہ جو ہم چاہتے تھے وہ ہمیں پورا ہو گیا۔ جب کہ تم اپنے دشمن پر کافی ہو جاؤ۔

مفسر النسفی نے سورہ المائدہ کی اس آیت کے تحت لکھا ہے : الیوم ظرف لقولہ

اليوم كمل لنا الملك أى كفينا من كنا نخافه (تفسير النسفى ١/ ٢٧٢) یعنی اس آیت میں اليوم، اكملت لكم دينكم کا ظرف ہے۔ یہ کہ میں تمہارے دشمن کے خوف کے معاملہ میں تمہارے لئے کافی ہو گیا۔ اور میں نے تم کو ان کے اوپر غالب کر دیا، جس طرح بادشاہ کہتے ہیں کہ آج اقتدار ہمارے لئے مکمل ہو گیا یعنی ہم ان کے لئے کافی ہو گئے جن سے ہمیں خوف تھا۔ القاضی محمد ثناء اللہ عثمانی اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں: وقيل اظهرت دينكم علی الادیان كلها و آمنتکم من الاعداء (التفسير المظہری ٣ / ٢٥) یعنی کہا گیا ہے کہ میں نے تمہارے دین کو دوسرے تمام دینوں پر غالب کر دیا اور تم کو دشمنوں سے مامون کر دیا۔ اس تفسیر کے حق میں ایک داخلی شہادت یہ ہے کہ اس آیت میں تکمیل دین کا نتیجہ یہ بتایا گیا ہے کہ اب تمہارے لئے خشیت انسانی کا مسئلہ نہیں، اب تمہارے لئے صرف خشیت الہی کا کھلی ہوئی بات ہے کہ فہرست احکام کی تکمیل کا کوئی بھی تعلق خوف و خشیت کے مسئلہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے بالکل غیر متعلق ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ تکمیل کی اس آیت کے نزول کے بعد بھی مسلسل اہلِ اسلام کے لئے انسانوں کی طرف سے خوف و خشیت کے مسائل پیدا کئے جاتے رہے۔ اور قانون فطرت کے تحت ہمیشہ ایسا ہی ہو تا رہے۔ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عرب میں مدینہ کی اسلامی حکومت کے خلاف بغاوست کا پھیل جانا، خلیفہ دوم اور خلیفہ سوم اور خلیفہ چہارم کو قتل کیا جانا، کعبہ کا ڈھایا جانا اور عبد اللہ بن زبیر وامام حسین کا قتل کیا جانا، وغیرہ وغیرہ۔

تکمیل کو تکمیل فہرست کے معنی میں لیا جائے تو اس پر ایک سنگین شبہ وارد ہو تا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اسلام سے پہلے جو انبیاء آئے ان میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو چھوڑ کر تمام پیغمبروں پر صرف اساسی دین اترا تھا۔ پھر کیا نعوذ باللہ یہ تمام پیغمبر ناقص دین کے ساتھ دنیا میں آئے اور نا قص دین ہی پر ان کی وفات ہو گئی۔

سورۃ المائدہ کی آیت کے نزول سے قبل یا تو طبعی طور پر وفات پا گئے یا جنگ میں شہید ہو گئے۔ اصحاب رسول نے بڑی بڑی قربانیاں دیں۔ انہوں نے ہر قسم کا ظلم برداشت کرتے ہوئے پیغمبر اسلام کا ساتھ دیا۔ پھر کیا (نعوذ باللہ وہ ناقص دین پر جئے اور ناقص دین پر وفات پا گئے۔ ظاہر ہے کہ ایسا ماننا گمراہی کی حد تک غلط ہوگا۔ اس لئے صحیح بات یہ ہے کہ مذکورہ آیت میں تکمیل سے تکمیل فہرست نہ مانی جائے بلکہ اس کی تشریح قیام واستحکام کی اصطلاحوں میں کی جائے۔ واقعات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ۱۰ھ میں جب یہ آیت اتری اس وقت تمام احکام نازل ہو چکے تھے۔ مصدقہ روایات بتاتی ہیں کہ قرآن کے کئی احکام سورہ مائدہ کی اس آیت کے مثال کے طور پر ربا کا حکم اور کلالہ کا حکم، وغیرہ (الجامع لاحکام القرآن للقرطبی ۶/ ۶۲) ایسی حالت میں اس آیت میں تکمیل دین سے فہر ست احکام کی تکمیل کو مراد لینا ممکن نہیں۔ قرآن کی آیتوں کے نزول میں جو ترتیب پائی جاتی ہے وہ اس معنی میں نہیں ہے کہ نزول آیات کا یہ معاملہ ابتدائی نقطہ سے شروع ہو کر تکمیل کے نقطہ تک پہنچا۔ بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ احکام کی مطلوبیت ہمیشہ واقعی حالات کی نسبت سے ہوتی ہے۔ یعنی جیسے حالات ویسا حکم۔ کے مکی دور میں دعوتی حالات تھے اس لئے وہاں زیادہ تر توحید کی آیتیں اتریں جو کہ دین کی اصل اور اساس ہے۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں مسلمانوں کا ایک معاشرہ بن گیا تو وہاں قانونی اور معاشرتی احکام بھی نازل کردئے گئے۔

نزول آیات کی یہ ترتیب ہمیشہ کے لئے مطلوبیت کی ترتیب ہے۔ اہل اسلام کو ہر دور میں یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے حقیقی حالات کا بے لاگ جائزہ لیں، اور پھر اس کی نسبت سے یہ متعین کریں کہ حالات کے مطابق قرآن کے کن احکام پر انہیں عمل کرنا ہے۔

سنن ابن ماجہ اور مسند احمد میں روایت آئی ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے (اپنے زمانہ خلافت میں) کہا کہ قرآن میں سب سے آخری آیت جو اتری وہ ربا کی آیت تھی اور

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور آپ نے اس کی تفسیر نہیں کی۔ پس تم لوگ ربا کو بھی چھوڑ دو اور جس میں ربا کا شبہ ہو اس کو بھی چھوڑ دو۔ (قال عمر رضی اللہ عنہ ان آخر ما نزل من القرآن آية الرباء و إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قبض و لم يفسرها فدعوا الربا والريبة) مسند احمد از ۳۶ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دعوی بجائے خود درست نہیں کہ قرآن تمام احکام دین کا مکمل حقیقت یہ ہے کہ قرآن اصلاً اساسات دین کی کتاب ہے۔ اس میں دین کے تمام بنیادی مسائل مکمل طور پر بیان کر دئے گئے ہیں۔ جہاں تک تفسیری احکام کا تعلق ہے، ان کی مکمل فہرست پیش کرنا قرآن کا موضوع ہی نہیں۔ یہ کام علماء اسلام کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ قرآن کی اساسی ہدایات کی روشنی میں قیاس اور استنباط کے ذریعہ انہیں مرتب کریں، اسی بنا پر فقہاء اسلام نے قرآن میں قیاس اور استنباط کے ذریعہ ہزاروں احکام وضع کئے۔ مزید یہ کہ قیاس و استنباط کا یہ سلسلہ ختم نہیں ہو گیا بلکہ وہ قیامت تک جاری رہے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ سورہ المائدہ کی مذکورہ آیت میں تکمیل دین سے مراد استحکام دین ہے۔ آیت میں جس الیوم (آج) کا ذکر ہے اس دن استحکام کی تکمیل ہوئی تھی نہ کہ نزول احکام کی مکہ میں جب اسلام کا آغاز ہوا اسی وقت اللہ نے اپنا کامل دین اتار دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کا مل دین کی طرف لوگوں کو بلا رہے تھے۔ یہ کامل دین کیا ہے، یہ توحید ہے۔ ہی تمام انبیاء کے دین کی اصل ہے۔ بقیہ جو چیزیں ہیں وہ اسی اصل کے فروع یا تقاضے ہیں۔ لئے حدیث میں آیا ہے کہ جس آدمی نے اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا وہ جنت میں داخل ہو گیا (من قال لا إله الا الله دخل الجنة) اسی طرح آپ نے فرمایا کہ کہو اللہ میرا رب ہے اور اس پر جم جاؤ (قل ربی اللہ ثم استقم)

توحید کوئی سادہ بات نہیں، وہ ہر اعتبار سے ایک مکمل عقیدہ ہے اس کا تعلق انسان کی پوری شخصیت سے ہے۔ جب ایک آدمی کو توحید کی حقیقی معرفت حاصل ہوتی ہے تو عین اسی

وقت اس کو مکمل دین مل جاتا ہے۔ توحید کی صورت میں وہ سب کچھ پا لیتا ہے۔ اس لئے قرآن میں سب سے زیادہ توحید پر زور دیا گیا ہے۔ بلکہ قرآن کی تمام آیتیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر توحید ہی کا بیان ہیں۔ ایک امریکی اسکالر جس نے اسلام کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور اسلام پر ایک کتاب تیار کی ہے، اس نے اس حقیقت کو اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے:

Printed page