Al-Risala · February 2001

The greatest concern of Islam is Allah.

Al-Risala, February 2001, pp. 37–42

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام ﷺ نے جب مکہ میں اسلامی دعوت کا کام شروع کیا اور لوگوں سے کہا کہ ایھا الناس قولوا لا اله الا الله تفلحوا۔ تو یہ ”ناقص دین“ کی دعوت نہ تھی بلکہ وہ پورے معنوں میں کامل دین کی دعوت تھی۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اس دور میں مکہ کے جو لوگ ایمان لائے وہ اسلام کی تاریخ ساز شخصیت تھیں مثلاً ابو بکر صدیق، عمر فاروق، عثمان بن عفان اور علی بن ابی ان لوگوں کا ایمان و اسلام مکی دور ہی میں مکمل تھا، ایسا نہیں کہ وہ بعد کو مکمل ہوا جب کہ تمام آیتیں نازل ہو گئیں۔

اصل یہ ہے کہ نظریہ توحید کی حقیقت اسلام میں بیج کی مانند ہے۔ بیچ جب زمین میں جگہ پکڑلے تو اس کے بعد وہ اپنے آپ میں کامل درخت کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ اسی طرح جس انسان کو توحید کی حقیقت حاصل ہو جائے وہ اسی کے ساتھ مکمل مومن کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دو چیزیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ایک ہے شخصیت مومن، اور دوسری چیز ہے خارجی احوال۔ مومن کی شخصیت اسی دن مکمل ہو جاتی ہے جب کہ اسے اللہ کی کامل معرفت حاصل ہو جائے۔ البتہ خارجی احوال کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ احوال میں تکمیل یا استحکام اس وقت متحقق ہوتا ہے جب کہ اہل اسلام کو اپنے ماحول میں عملاً غالب حیثیت حاصل ہو جائے، یہی واقعہ مذکورہ آیت کے نزول کے وقت عرب میں آیا۔ تفسیری فرق کے نتائج مذکورہ تفسیری فرق کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں، یہ بے حد سنگین معاملہ ہے۔

نتیجہ میں آدمی کے فکر و عمل پر نہایت دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

جو لوگ مذکورہ آیت کی تفسیر اس طرح کریں کہ اس میں فہرست احکام کی تکمیل کا اعلان کیا گیا ہے وہ اس کا مطلب یہ سمجھ لیں گے کہ اسلام ایک مکمل قانونی نظام ہے اور کسی مکمل قانونی نظام کو زمین پر قائم کرنے کے لئے سیاسی اقتدار ضروری ہے۔ اس سیاسی ذہن کے تحت وہ اس آیت کا تقاضہ یہ سمجھ لیں گے کہ وقت کے حکمرانوں سے ٹکراؤ کر کے "اقتدار کی کنجیاں" ان سے چھین لیں اور پھر حکومت کے زور پر اس مکمل قانونی نظام کو زمین پر نافذ کریں۔ یہ تفسیر عین فطرت کی بنا پر وہی نتیجہ پیدا کرے گی جو کمیونزم کے نظریہ نے پیدا کیا۔ یعنی اس تفسیر کو ماننے والے ہر جگہ وقت کے حکمرانوں سے بے فائدہ لڑائی چھیڑ دیں گے جس کے نتیجہ میں یہ ہوگا کہ اسلام عملاً نفرت اور تشدد اور تخریب کاری کا مذہب بن جائے گا، جیسا کہ اسی تفسیر کی بنا پر موجودہ زمانہ میں دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے برعکس آیت کی صحیح تفسیر سامنے ہو تو لوگوں کے اندر دعوتی ذہن پیدا ہو گا۔ وہ اللہ کا شکر ادا کریں گے کہ اس نے آج کی دنیا میں ہمارے لئے انتہائی اعلیٰ قسم کے دعوتی مواقع پیدا کردئے ہیں۔ ان جدید مواقع کو استعمال کر کے ہم اسلام کے پیغام کو سارے انسانوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ اس طرح ہم ساری دنیا کو اسلام کے سایہ رحمت میں لانے کا عظیم کارنامہ انجام دے سکتے ہیں۔

سورۃ المائدہ (آیت ۳) میں اسلام کے جو امتیازی اوصاف بتائے گئے ہیں، وہ چار چیزوں پر مشتمل ہیں ــــــــ (۱) منکرین حق کا مایوس ہو جانا (۲) اکمال دین (۳) اتمام نعمت (۴) اسلام کا پسندیدہ دین بن جانا۔ اب ان چاروں پہلوؤں کے بارے میں مختصر غور کیجئے۔ منکرین حق کے مایوس ہو جانے کا مطلب کیا ہے۔

ساری دنیا میں الناس علی دین ملوکھم کا اصول رائج تھا۔ کسی ملک کے عوام کا مذہب وہی ہوتا تھا جو ان کے حکمراں کا مذہب ہوتا تھا۔ لوگوں کو ریاستی مذہب (state religion) کے سوا کسی اور مذہب کو اختیار کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ جب کوئی شخص یا گروہ ریاستی مذہب کے

سوا کوئی مذہب اختیار کرنا چاہتا تو اس کا یہ فعل ریاست سے بغاوت کے ہم معنی سمجھا جاتا تھا۔ ایسے لوگوں کو وہی سزا دی جاتی تھی جو باغیوں کے لئے مقرر تھی۔ یہی تصور ہے قدیم زمانہ میں مذہبی ایذارسانی (religious persecution) کا سنگین مسئلہ پیدا کیا۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ فتنہ کا خاتمہ کردیں۔ پر امن کوشش کے ذریعہ۔ اور اگر فریق ثانی جارحیت پر اتر آئے تو وہ لڑ کر اس کو مٹا دیں اس کے مطابق پیغمبر اور آپ کے اصحاب نے ایک عظیم جدوجہد شروع کی۔ تاہم اس قسم کا ہزاروں سال سے رائج شدہ نظام کبھی فوری طور پر ختم نہیں ہوتا۔ وہ نسل در نسل کی کوششوں کے بعد ختم ہوتا ہے۔ پیغمبر اور آپ کے اصحاب کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے غیر معمولی قربانیوں کے ذریعہ اس کے تسلسل کو توڑ دیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ فتنہ کے خلاف یہ تحریک ایک عمل کے طور پر تاریخ انسانی میں شامل ہوگئی۔ یہ عمل مختلف صورتوں میں برابر جاری رہا یہاں تک کہ موجودہ زمانہ میں وہ اپنی آخری تکمیل کو پہنچ گیا۔ اب ساری دنیا میں مذہبی آزادی کا زمانہ آچکا ہے۔ آج عالمی طور پر یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ ہر انسان ناقابل تنسیخ طور پر یہ حق رکھتا ہے کہ وہ کسی روک ٹوک کے بغیر اپنے مذہب پر عمل قرآن کے مذکورہ الفاظ گویا یہ بتا رہے ہیں کہ اب تاریخ کی تشکیل جس انداز پر ہونے والی ہے اس میں مذہبی جبر کا امکان ہی سرے سے ختم ہو جائے گا۔ کسی بھی شخص یا ادارہ کو یہ حق حاصل نہ ہوگا کہ وہ اہل توحید پر ان کے دین کے سلسلہ میں کوئی رکاوٹ ڈالے ۔ یہی مطلب ہے قرآن کی اس آیت کا کہ منکرین حق اب تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے۔ اب تم انسانی خوف سے مامون ہو کر اللہ کے دین کی پیروی کر سکتے ہو۔

اس سلسلہ میں دوسری چیز اکمال دین یا تکمیل دین ہے۔ یہ الفاظ بھی محض وقتی الفاظ نہیں ہیں وہ اس پوری تاریخ کی نوعیت کو بتاتے ہیں جو اسلامی انقلاب کے بعد دنیا میں بننے والی اور آج جب کہ میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں یہ تاریخی عمل پورا ہو کر اپنی آخری حد پر پہنچ چکا ہے۔

اس استحکام دین کے بہت سے پہلو ہیں۔ مثلاً اسلام کی مسلسل اشاعت کے نتیجہ میں ساری دنیا میں ایک بلین سے زیادہ مسلمانوں کا پایا جانا، دنیا کے ہر گوشہ میں اسلامی اداروں کا قائم ہونا، دنیا بھر میں تقریباً ۶۰ مسلم حکومتوں کا وجود میں آنا، حج کی عبادت کے نتیجہ میں مسلمانوں کے اندر عالمی اتحاد کا پیدا ہونا۔

اس فہرست میں وہ نئے موافق اسباب بھی شامل ہیں جو صنعتی انقلاب کے نتیجہ میں وسیع پیمانہ پر پیدا ہوئے ہیں۔ مثلاً پٹرول اور دوسرے ذرائع کے حصول کے نتیجہ میں مسلمانوں کے اندر مضبوط معاشی بنیاد کا وجود میں آنا۔ جدید کمیونی کیشن کے نتیجہ میں تمام دنیا کے مسلمانوں میں اتحادی فضا کا فروغ پانا۔ پرنٹنگ پریس کے ذریعہ اسلام کا اشاعتی استحکام وغیرہ۔ اس قسم کی مختلف چیزوں نے اب خدا کے دین کو اتنا زیادہ مستحکم کر دیا ہے کہ کوئی بھی دشمن یا مخالف خدا کے دین کو کوئی حقیقی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

اب اتمام نعمت کو لیجئے ۔ نعمت کا مکمل ہونا کیا ہے۔ یہ دراصل تحریک رسالت کا مکمل ہونا ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسان جب زمین پر آباد ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی ہدایت کے لئے اپنے پیغمبر بھیجنے شروع کئے۔ ایک روایت کے مطابق مجموعی طور پر ایک لاکھ سے زیادہ پیغمبر دنیا مگر پچھلے تمام پیغمبروں کا حال کم و بیش یہ رہا کہ ان کی دعوت صرف فکری مرحلہ تک پہنچی وہ عملی انقلاب کے مرحلہ میں داخل نہ ہو سکی۔

جب بھی کوئی پیغمبر اللہ کی طرف سے دین کا پیغام لے کر آیا تو وقت کے سردار اس کے مخالف بن جاتے۔ وہ پہلے ہی مرحلہ میں اس کو دبا دینے کی کوشش کرتے۔ چنانچہ پچھلے پیغمبروں کے زمانہ میں صرف یہ ہوا کہ انہوں نے حق کا اعلان کیا اور لوگوں کو اس سے باخبر کرنے کے لئے اپنی ساری کوششیں کیں۔ مگر ان کی پشت پر ایسی طاقتور جماعت نہ بن سکی جو اللہ کے دین کو فکری دور سے بڑھ کر عملی انقلاب کے دور میں پہنچادے۔ اس غیر مقبولیت کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچھلے پیغمبروں کا اندراج ان کی ہمعصر تاریخوں میں نہ ہو سکا۔ خالص تاریخی اعتبار سے، پچھلے تمام پیغمبر،

بشمول حضرت مسیح غیر تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔

خدا کے دین کی تاریخ میں یہ تبدیلی اہلِ ایمان کے حق میں ایک عظیم نعمت ہے۔ زمانوں میں کوئی شخص صرف انفرادی ماحول میں رہنے پر مجبور تھا۔ اب وہ دور آگیا ہے کہ خدا کا دین انسانی تاریخ میں ایک عمومی فکر کے طور پر شامل ہو چکا ہے۔ یہ صورت حال مختلف پہلوؤں سے اہل ایمان کے لئے ایک عظیم نعمت ہے، ایک ایسی نعمت جو پچھلی امتوں کے زمانہ میں حاصل نہ ہو سکی تھی۔

۴ اللہ کے نزدیک اسلام کو اس کے پسندیدہ دین کی حیثیت حاصل ہوگئی، اس کا مطلب اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پچھلے پیغمبروں کے دین سے اللہ راضی نہ تھا اور اب وہ اسلام سے راضی ہو گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر پیغمبر کا دین اللہ کا پسندیدہ دین ہی تھا۔ دوسرے دینوں میں جو فرق ہوا ہے وہ نفس دین کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ ان کی تاریخی حیثیت کے اعتبار سے ہے۔

اصل یہ ہے کہ پچھلے پیغمبروں کو جو دین ملا وہ بعد کے زمانہ میں اپنی اصل صورت میں محفوظ نہ رہ سکا۔ مختلف قسم کے بگاڑ کے نتیجہ میں وہ منزّل دین نہ رہا بلکہ وہ محرّف دین بن گیا۔ حادثہ پچھلے تمام دینوں کے ساتھ پیش آیا۔ بعد کی نسلیں ان دینوں کی حفاظت نہ کر سکیں اس لئے انھوں نے اپنی تاریخی اعتبار یت (historical credibility) کھودی۔

مگر اسلام کا معاملہ استثنائی طور پر مختلف ہے۔ اسلام کے ساتھ اللہ کی خصوصی مدد سے ایسے اسباب اکٹھا ہوئے کہ اس کا متن (text) اور اس کا ابتدائی ریکارڈ (record) عین اپنی اصل حالت میں باقی رہا۔ کوئی شخص خود ساختہ تشریحات کے ذریعہ اپنی گمراہی کا سامان کر سکتا ہے، مگر جہاں تک خود دین اسلام کا سوال ہے وہ خدا کی کتاب اور رسول کی سنت کی صورت میں کامل اور غیر مشتبہ طور پر آج بھی موجود ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام اب وہ واحد دین ہے جس کو خدا کے مستند دین کی حیثیت

اس لئے آدمی پورے اعتماد کے ساتھ یہ کر سکتا ہے کہ وہ قرآن وسنت کے ذریعہ اپنا دین اخذ کرے اور یہ یقین کر سکے کہ اس نے اس دین کو پالیا ہے جو اللہ کے یہاں مقبول دین قرار جب کہ دوسرے ادیان تحریف اور تبدیلی کی بنا پر اپنی حیثیت کھو چکے ہیں۔ آج کی دنیامذاہب کا جنگل بنی ہوئی ہے۔ تقریباً ایک درجن بڑے مذاہب اور سیکڑوں کی تعداد میں چھوٹے مذاہب دنیا میں موجود ہیں۔ مگر اسلام کے سوا کوئی بھی دوسرا مذہب نہیں جو تاریخ کے معیار پر اپنا استناد (authenticity) ثابت کر سکے۔ یہ خصوصیت استثنائی طور پر صرف اسلام کو حاصل ہے۔ اسلام بعد کے انسانوں کو یہ قیمتی موقع دیتا ہے کہ وہ یقین و اعتماد کے ساتھ اسلام کو اختیار کر کے یہ یقین رکھے کہ وہ اللہ کی رحمتوں کے مستحق ٹھہریں گے۔ Countless students around the world have improved their written and spoken Arabic by using the Arabic-English Dictionary for Advanced Learners. Its comprehensiveness and reliability as well as its clear presentation of the material have made the dictionary a prime aid in the study of written Arabic. For the college student and also the younger scholar, it will be a handy and extremely This dictionary will help you to:

• learn more effectively • avoid common mistakes • write and speak better Arabic. • ascertain all word meanings with total accuracy 1, Nizamuddin West Market, New Delhi-110013

Printed page