Al-Risala · March 2001

تاریخ دعوت حق

Al-Risala, March 2001, pp. 4–32

By Maulana Wahiduddin Khan

مطالعہ سیرت (کتابچہ) ڈائری (جلد اول)

تعمیر کی طرف قرآن کا مطلوب انسان دین کیا ہے؟

اسلام دین فطرت تاریخ کا سبق فسادات کا مسئلہ انسان اپنے آپ کو پہچان اسلام ہند میں بصری کارم تدبیر منزل (؟

سفر نامہ (غیر ملکی اسفار، جلد اول) سفر نامہ غیر ملکی اسفار، جلد دوم اسلام: ایک تعارف مذہب اور جدید چیلنج 50.00 فکراہ اسلامی 5.00 50.00 شتم رسول کا مسئلہ 12.00 5.00 طلاق اسلام میں 80.00 60.00 مضامین اسلام 65.00 7.00 حیات طیبہ 25.00 7.00 باغ جنت 8.00 7.00 نار جہنم 20.00 8.00 سچا راستہ 25.00 7.00 دینی تعلیم 35.00 10.00 خلیج ڈائری 8.00 7.00 رہنمائے حیات 7.00 7.00 تعددازواج 7.00 60.00 ہندوستانی مسلمان 7.00 7.00 روشن مستقبل 7.00 7.00 صوم رمضان 5.00 5.00 اسلام کا تعارف 5.00 10.00 علما اور دور جدید 5.00 50.00 سفر نامہ فلسطین 5.00 راہیں بند نہیں سبق آموز واقعات حقیقت کی تلاش حل یہاں ہے سوشلزم اور اسلام اسلام اور عصر حاضر اسلام دور جدید کا خالق تعبیر کی غلطی دین کی سیاسی تعبیر

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الرَّسَالَہ، مارچ، 2001 خصوصی شمارہ: ایک ہفتہ بہار میں اردو اور انگریزی میں شائع ہونے والا اسلامی مرکز کا ترجمان مولانا وحیدالدین خاں صدر اسلامی مرکز 1, Nizamuddin West Market, Tel. 4625454, 4611128 Fax 4697333, 4647980 e-mail: skhan@ vsnl.com Single copy Rs. 10 One year Rs. 110. Two ygars Rs. 200 Three years Rs. 300. Five years Rs. 480 Abroad: One year $ 10/£6 (Air mail) DISTRIBUTED IN ENGLAND BY IPCI: ISLAMIC VISION 481, Coventry Road, Birmingham B10 OJS Tel. 0121-773 0137, Fax: 0121-766 8577 DISTRIBUTED IN USA BY AL-RISALA FORUM INTERNATIONAL 1439 Ocean Ave., 4C Brooklyn New York NY 11230 Tel./Fax 718-2583435 on behalf of The Islamic Centre, New Delhi ان تازہ کتابوں میں ایک نظر بہاریں قرآن کا مطلومی ان سبق آموز واقعات Printed and published by Saniyasnain Khan on behalf of The Islamic Centre, New Delhi. Printed at Nice Printing Press, 7/10, Parwana Road, Khureji Khas, Delhi- 110051

آج کے ہندوستان میں اگر انگریزوں کی وراثت جاری رہتی تو یہاں مذکورہ قسم کے واقعات دکھائی دیتے جب کہ عملاً یہاں اس کے بالکل برعکس ہو رہا ہے۔

بہار کے سفر کے لئے مجھے ۳۱ اکتوبر ۲۰۰۰ کی شام کو روانہ ہونا تھا۔ ایک ہفتہ کے اس سفر کا پورا پروگرام بہار کے لوگوں نے بنا لیا تھا۔ مگر سفر سے صرف ایک دن پہلے ۳۰ اکتوبر کو مجھے زکام ہوا اور اسی کے ساتھ حرارت آگئی۔ ٹمپریچر ۱۰۰ ڈگری تک پہنچ گیا۔ میں سخت پریشان تھا کہ ایسی حالت میں یہ لمبا سفر کس طرح کروں گا۔ میرے ساتھی مجھ کو سفر سے منع کرنے لگے۔

آخر کار بے بسی کے احساس کے ساتھ میں نے اللہ سے یہ دعا کی کہ خدایا، تیرے کچھ خطر بندوں کا دل توڑنے سے بچنے کے لئے میں یہ سفر کر رہا ہوں، تو بھی میرے دل کو ٹوٹنے سے بچا لے ۔ میری بیماری کو اچھا کر دے۔ اور میرے حق میں اس رحمت کا فیصلہ فرمادے جو حضرت ابراہیم کی زبان سے قرآن میں اس طرح بیان ہوئی ہے: واذا مرضت فهو يشفين (الشعراء ٨٠)

اس کے بعد ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ میں بادل ناخواستہ ٹرین میں سوار ہو گیا۔ اور پھر وہاں عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد سو گیا۔ فجر سے پہلے نیند کھلی تو اندر کی بنیان پسینہ میں بالکل بھیگی ہوئی تھی۔ پسینہ نکلنا میرے لئے علاج بن گیا۔ چنانچہ جب میں یکم نومبر ۲۰۰۰ کی صبح کو پٹنہ ریلوے اسٹیشن پر اترا تو میری طبیعت ٹھیک ہو چکی تھی اور میرا بخار اتر گیا تھا۔ اس کے بعد سفر کے آخر تک میری طبیعت بالکل ٹھیک دعا ایک طاقت ہے، بلکہ وہ سب سے بڑی طاقت ہے۔

بہار کا ابتدائی تعارف مجھے تقریباً ٦٥ سال پہلے اس وقت ہوا جب کہ میں یوپی کے ایک عربی مدرسہ کا طالب علم تھا۔ ایک بار بہار کے ایک نوجوان اس مدرسہ میں داخلہ کے لئے آئے۔ مجھے یاد ہے کہ جب وہ دار الاقامہ میں پہنچے تو وہاں کے طلبہ نے سنجیدہ انداز میں کہا: کیا آپ کے شامل بدھنا بھی ہے۔ یہ بظاہر ایک سنجیدہ سوال تھا۔ مگر وہ بہار کے طالب علم کی تضحیك تھی۔

بہار کے طلبہ لوٹے کو بدھنا کہتے تھے اور ساتھ کی جگہ شامل بولتے تھے۔ یہ زبان یوپی والوں سے اور یوپی والے چونکہ اپنی زبان کو معیاری سمجھتے ہیں اس لئے وہ اس قسم کے فرق پر بہار والوں کا مذاق اڑاتے تھے۔

یہ معاملہ صرف نوجوان طلبہ تک محدود نہ تھا۔ اساتذہ کا رویہ بھی اس معاملہ میں زیادہ مختلف نہ تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار ہماری کلاس میں عربی کا ایک لفظ، غالباً دقیق سامنے آیا۔ ہمارے استاد نے اس کا بہار کے ایک طالب علم نے اس کو بتاتے ہوئے کہا با ہیک۔ استاد نے یہ سن کر کہا کہ آپ

نے تو اس کو اور موٹا کر دیا۔ بہار کے لوگ چونکہ اکثر 'ر' کو ’ڑ‘ کی طرح بولتے ہیں، اس لئے یہ لطیفہ

یو پی اور دہلی کے لوگ بہار والوں کی زبان اور ان کی تہذیب کو لمبی مدت سے اپنے سے کم سمجھتے رہے چنانچہ "بہاری" کا لفظ وسط ہند کی زبان میں کم تر کے معنی میں معروف ہو گیا۔ مگر اب صورت حال بالکل بدل گئی ہے۔ یو پی اور دہلی کے مسلمانوں کا فخر پسندی کا مزاج ان کے لئے الٹا ثابت ہوا۔ ذہن کی بنا پر ان کے اندر محنت اور ایڈجسٹمنٹ کا مزاج پرورش نہ پا سکا۔ چنانچہ وہ جدید ترقیاتی میدان میں زیادہ آگے نہ بڑھ سکے۔ اس کے برعکس بہار کے لوگوں کے حالات نے ان کے اندر تواضع (modesty) اور کمی کا مزاج پیدا کیا۔ اپنے اس مزاج کی بنا پر وہ زیادہ محنت کرنے لگے۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ آج بہار کے مسلمان تقریباً ہر میدان میں یو پی اور دہلی کے مسلمانوں سے آگے ہیں، ملک کے اندر بھی اور ملک کے باہر بھی۔ بہار کے سفر کا پروگرام بنا تو وہاں سے ایک صاحب کا خط موصول ہوا۔ یہ خط ان کے الفاظ میں یہ تھا: "مغربی چمپارن میں آپ کے دورہ کا پروگرام سن کر بہت خوشی ہوئی۔ لیکن اس بات کا بہت دکھ ہوا کہ آپ کے پروگرام میں علاقہ دیوراج رام نگر شامل نہیں۔ علاقہ دیوراج رام نگر مغربی چمپارن کا دل ہے۔ علاقہ محروم رہ گیا تو یہ پروگرام میرے خیال سے ادھورا رہ جائے گا۔ اگر ممکن ہو تو رام نگر یا بگہی میں سے کسی ایک کو ضرور منتخب کریں گے۔ انشاء اللہ ضیافت میں کوئی کمی نہیں ہوگی (شمس الہدیٰ خاں۔ رام نگر، مغربی چمپارن) اس خط میں "ضیافت" کا لفظ میرے لئے بڑا عجیب تھا۔ ممکن ہے مکتوب نگار کے ذہن میں ضیافت کا کوئی دوسرا مفہوم ہو۔ مگر ہمارے علاقہ میں عام طور پر ضیافت کا لفظ کھانے پینے کے معاملہ میں بولا جاتا ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے رہنماؤں نے جو نمونہ پیش کیا ہے وہ یہی ہے کہ ان کے سفروں میں اگر کھانے پینے کا اعلیٰ اہتمام ہو تو وہ خوش ہوتے ہیں۔ اور اگر اس کا اعلیٰ اہتمام نہ ہو تو وہ نا خوش ہو جاتے ہیں۔ اور اس کو اپنی بے عزتی کے ہم معنی سمجھتے ہیں۔ مگر میرا معاملہ اس کے بالکل بر عکس ہے۔ جو لوگ مجھ کو قریب سے جانتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ مجھے پر تکلف کھانے کے بجائے معمولی کھانا پسند ہے۔ پر راحت زندگی کے بجائے سادہ زندگی میں میری روح کو خوشی ملتی ہے۔ شہرت اور عزت کے مقام پر بیٹھنے سے زیادہ لذیذ میرے لئے یہ بات ہے کہ میں اپنے آپ کو گم نامی میں پاوں اور اپنی تنہائیوں میں اللہ کو یاد کروں۔ یکم نومبر کی صبح کو جب میں پٹنہ کے ریلوے اسٹیشن پر اترا تو وہاں اسٹیشن کی طرف سے پبلک ایڈریس سسٹم پر مسلسل اعلان ہو رہا تھا: ایک ہندو مسافر جو میرے ساتھ ہی ٹرین سے اترے تھے انہوں نے اس کو سن کر کہا کہ اس کو سنئے یہ اعلان آپ کے لیے ہو رہا ہے۔ ریلوے اناؤنسر کہہ رہا تھا۔ مولانا وحید الدین پدم بھوشن

پرسكارت کا بہار کی پاون دھرتی پراردک سواگت ہے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ ریلوے کی طرف سے کیا جانے والا یہ اعلان چھ بار دہرایا گیا۔

ریلوے اسٹیشن پر بہار کے مختلف علاقوں کے لوگ بڑی تعداد میں موجود تھے۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر ہم لوگ جناب ایم ٹی خان کی رہائش گاہ (عدالت گنج) پہنچے۔ یہاں تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ قیام رہا۔ لوگ کافی تعداد میں اکٹھا ہو گئے۔ ان سے مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ اس مجلس میں کئی تعلیم یافتہ خواتین بھی موجود تھیں۔ اس نسبت سے میں نے کہا کہ عورتوں کی تعلیم بے حد ضروری ہے۔ تعلیم یافتہ بنائے بغیر مسلم معاشرہ ترقی یافتہ معاشرہ نہیں بن سکتا۔ تاہم تعلیم سے میری مراد وہ تعلیم نہیں ہے جو فیشن سکھائے، بلکہ وہ تعلیم ہے جو حقیقی معنوں میں باشعور بنائے۔

پٹنہ میں انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا کی خاتون نمائندہ سنجیدہ بانو نے اپنے اخبار کے لئے تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ان کا ایک سوال یہ تھا کہ آپ بھی ایک عالم ہیں، مگر روایتی علماء اور آپ کے درمیان فرق ہے ایسا کیوں، میں نے کہا کہ میں کوئی ماڈرن عالم نہیں۔ میں بھی پورے معنوں میں ایک روایتی عالم ہوں۔ جہاں تک اسلام اور قرآن وحدیث کا تعلق ہے میرے اور ان کے درمیان عقیدہ وعمل کا کوئی اختلاف اس اعتبار سے دونوں کا دین مکمل طور پر ایک ہے۔ میرے اور ان کے درمیان جو فرق ہے وہ نظریہ کا نہیں بلکہ طریق کار کا ہے۔

میرا معاملہ یہ ہے کہ میں نے مدرسہ میں عربی اور دینی تعلیم کی تکمیل کے بعد ذاتی محنت سے انگریزی پڑھی اور جدید علوم کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ اس سے میں نے سمجھا کہ اسلام کی ابدی صداقت کو جدید اسلوب میں پیش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ آج کے انسان کے لئے زیادہ قابل فہم ہو سکے۔ بات کے سوا دونوں کے درمیان کوئی اور فرق نہیں۔

مشہور فلم اسٹار شیکھر سمن پٹنہ میں پیدا ہوئے۔ ۱۸ اکتوبر ۲۰۰۰ کو آل انڈیا ریڈیو پر میں ان کا ایک انٹرویو سن رہا تھا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں ملک کے اندر اور ملک کے باہر ہر جگہ جاتا مگر آج بھی مجھے پٹنہ ہی سب سے زیادہ پسند ہے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ کلاکار کو چاہئے کہ وہ ہر دن اپنے آپ کو ری انونٹ (re-invent) کرے ۔ آپ کا آج آپ کے کل سے اچھا ہونا چاہئے۔ ہر دن آپ کو پچھلے دن سے اچھا کام کرنا چاہئے۔ یہ بات ہر ایک کے لیے درست ہے۔ آدمی کے فطری امکانات اتنے زیادہ ہیں کہ بے شمار استعمال کے بعد بھی وہ ختم نہ ہوں۔ ایک ایسی زندگی گزارنے کے لئے جس میں ہر دن وہ اپنے آپ کو از سر نو دریافت

اس کی واحد شرط یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو کم محسوس کرے۔ وہ کبھی اس احساس کا شکار نہ ہو کہ میں نے اپنے کام کو جیسا کرنا چاہئے تھا ویسا کر دیا۔ اس پہلو سے عدم قناعت (discontent) کسی آدمی کا سب سے بڑا سرمایه هے اور قناعت (content) اس کی سب سے بڑی بے مانگی۔

ایک مغربی مفکر کا قول ہے که علم میں ترقی کے لئے سب سے زیادہ ضروری چیز تواضع (modesty) تواضع کے بغیر کوئی شخص علم کے اعلیٰ مرتبے تک نہیں پہنچ سکتا۔ آدمی کے اندر اگر کبر کی نفسیات ہو تو اس کے اندر دوسروں سے سیکھنے کا مزاج نه هوگا۔ اس کی بے اعترافی اس میں رکاوٹ بن جائے گی که وه اپنے سوا کسی اور کو صاحب علم مانے اور اس سے استفادہ کر کے اپنے علم کو بڑھائے۔ اس کے برعکس جس آدمی کے اندر تواضع کی نفسیات ہو وہ ہر لمحہ اس کے لئے تیار رہے گا کہ جو چیز بھی کسی سے ملے اس کو وہ فورا شکریہ کے ساتھ قبول کر لے اور اس طرح اپنے علم کو مسلسل بڑھاتا رہے۔ تواضع کا مزاج کسی آدمی کے لئے علم کے دروازہ کو کھولتا ہے اور کبر کا مزاج اس کے لئے علم کے دروازہ کو بند کر دیتا ہے۔ پٹنہ میں یکم نومبر کی صبح کو جناب محمد محی الدین صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ پٹنہ یونیورسٹی میں پروفیسر اور وائس چانسلر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے میری تحریروں کے بارے میں اپنے تاثر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ کے خیالات سے پورا اتفاق ہے۔ ہندوستان میں اسی طرح کام کرنے کی ضرورت ہے، كنفرنٹیشن کی پالیسی اس ملک میں مفید نہیں ہو سکتی۔

میں نے کہا کہ میں كنفرنٹیشن کی پالیسی کو تباہ کن حد تک غلط سمجھتا ہوں، مگر اس پالیسی کی اہمیت صرف ہندوستان کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ قانون فطرت کے اعتبار سے ہے۔ آپ خواہ ہندوستان میں ہوں یا یورپ و امریکہ میں، ہر جگہ آپ کی کامیابی کا راز صرف یہ ہے کہ كنفرنٹیشن کی پالیسی سے بچ کر تعمیری انداز حتی که خالص مسلم ملکوں میں بھی كنفرنٹیشن کی پالیسی کے ساتھ آپ کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ٹائمس آف انڈیا کا پٹنہ ایڈیشن (یکم نومبر (۲۰۰۰) دیکھا اس میں صفحہ دس پر مختلف لوگوں کے اقوال درج تھے سب سے پہلا قول حضرت علی بن ابی طالب کا تھا۔ اس قول کو انگریزی زبان میں اس طرح نقل کیا

It is right that the king should govern himself before governing his subjects. یعنی بادشاہ کو اپنی رعایا پر حکم چلانے سے پہلے خود اپنے آپ پر حکم چلانا چاہئے۔ میں سمجھتا ہوں که صالح حکمران کی یہ بہترین تعریف ہے۔ عادل حکمران اور غیر عادل حکمراں کے

در میان یہ فرق ہے کہ عادل حکمراں دوسروں کو جس چیز کا حکم دیتا ہے اس پر پہلے وہ خود عمل کر چکا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس غیر عادل حکمراں دوسروں کے نام تو بڑے بڑے حکم جاری کرتا ہے مگر خود اپنی ذات کو اس سے مستثنیٰ کر لیتا ہے۔

ایک اور قول برطانیہ کے مشہور قانون داں لارڈ ایکٹن کا تھا۔ اس کے الفاظ یہ تھے کہ اصل خطرہ یہ ہے کہ کوئی متعین طبقہ حکمرانی کے لئے غیر موزوں نہیں، بلکہ ہر طبقہ حکمرانی کے لئے غیر موزوں ہے: The danger is not that a particular class is unfit to govern. Every class is unfit to govern. میں سمجھتا ہوں کہ لارڈ ایکٹن کے اس قول کی تشریح خود انہی کے ایک اور قول سے ہوتی ہے انہوں نے کہا: اقتدار بگاڑتا ہے (power corrupts)- لوگ اکثر اس حکمراں طبقہ کو برا کہنے لگتے ہیں جو بالفعل حکومت کر رہا ہو۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی برائی اسی مخصوص طبقہ میں ہے۔ مگر ایسا نہیں۔ خود اقتدار کے عہدہ میں ہے، جو بھی سیاسی اقتدار کی کرسی پر بیٹھے گا وہ کم یا زیادہ بگاڑ کا شکار ہوگا۔ اس لئے قابل عمل بات یہ ہے کہ لوگ اس معاملہ میں زیادہ حساس نہ ہوں۔ اس لئے کہ ایک حکمراں کو ہٹا کر دوسرا جو حکمراں آپ لائیں گے، عین ممکن ہے کہ وہ اس سے بھی زیادہ بگڑا ہوا ہو۔

اس معاملہ کی ایک مثال بہار کے مشہور لیڈر جے پرکاش نارائن کی زندگی میں پائی جاتی ہے۔ نے کانگریس کی حکومت میں کچھ خرابیاں دیکھیں۔ اس کے بعد انہوں نے یہ رائے قائم کرلی کہ ہندوستان کی تمام برائیوں کی جڑ کانگریس پارٹی کی حکومت ہے۔ اگر کانگریس کو سیاسی اقتدار سے ہٹا دیا جائے تو ملک میں سمپورن کرانتی (ٹوٹل ریولیوشن) آجائے گا۔ چنانچہ انہوں نے زبردست سیاسی اکھیڑ پچھاڑ کے بعد کانگریس کو مکمل طور پر اقتدار سے ہٹا دیا۔ مگر اس کے بعد دوسری حکومت جو جنتا پارٹی کے زیر اقتدار بنی وہ کانگریس سے بھی زیادہ نااہل ثابت ہوئی۔ خود جنتا پارٹی کے اندر اقتدار کی اتنی رسہ کشی ہوئی کہ مقرر مدت پوری کرنے سے پہلے ہی وہ ٹوٹ کر ختم ہو گئی۔ اس لیے سیاسی معاملات میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ حکمراں کے بگاڑ پر صبر و تحمل کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے ممکن دائرے میں اصلاح کی کوشش کی جائے۔

پٹنہ ایک تاریخی شہر ہے۔ یہاں کی قابل دید چیزوں میں سے ایک خدا بخش اُورینٹل پبلک لائبریری یہ اپنی خصوصیات کی بنا پر عالمی شہرت کی مالک ہے۔ اس لائبریری کے بانی خدا بخش خاں تھے۔ نے اپنے والد محمد بخش کی وصیت کے مطابق یہ لائبریری قائم کی تھی۔

یہ لائبریری ۲۹ اکتوبر ۱۸۹۱ کو قائم کی گئی۔ اس لائبریری کی غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر پارلیمنٹ

کے ایک ایکٹ کے تحت دسمبر ۱۹۶۹ میں اس کو قومی اہمیت کا ادارہ بنا دیا گیا۔ اس وقت خدا بخش لائبریری میں میں ہزار ایک سو ایک عربی۔ اور اردو مخطوطات اور دو لاکھ کے قریب نایاب اور جدید مطبوعات

لائبریری زندگی کا حصہ ہے۔ ہر بستی میں لائبریری کا وجود ضروری ہے۔ حتیٰ کہ ہر گھر کے اندر چھوٹی یا بڑی لائبریری ضرور موجود ہونا چاہئے۔ کھانا اگر جسمانی خوراک ہے تو لائبریری گویا دماغی خوراک۔ پٹنہ میں جناب ایس ایم ہاشم صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے ایک چھپا ہوا رسالہ مجھ کو دیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے۔ اسلام کے پاس زندگی کے ہر مسئلہ کا حل موجود ہے ضرورت ہے کہ اسلام کو ایک مکمل نظام حیات کی حیثیت سے نافذ کیا جائے۔

یہ بظاہر خوبصورت نظریہ صرف ایک بے اصل نظریہ ہے۔ وہ دین کے غلط تصور پر قائم ہے۔ صحیح ہے کہ اسلام کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے مگر یہ تعلق اس معنی میں ہے کہ ایک فرد جب اسلام کے عقیدہ کو دل سے اپنا عقیدہ بناتا ہے تو اس کے بعد اس کے ہر قول اور ہر عمل میں اس کا اظہار ہوتا ہے۔ طرح اگر ایک پورا معاشرہ اسلام کے عقیدہ کو گہرائی کے ساتھ اختیار کرے تو اس کا اثر معاشرہ کی تمام سرگرمیوں میں ظاہر ہونے لگے گا۔

پٹنہ میں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی ان میں سے ایک جناب محتشم علی خان (0612-687955 ,Tel:) (0612-221531 تھے ۔ وہ الرسالہ مشن سے اتفاق رکھتے ہیں۔ وہ پیشہ کی مصروفیت کے باوجود الرسالہ کا مطالعہ پابندی سے کرتے ہیں۔ میرا اندازہ ہے کہ تعلیم یافتہ مسلمانوں کی بیشتر تعداد الرسالہ کے نقطہ نظر سے متفق ہو چکی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کچھ لوگ زبان سے اپنے اس اتفاق کا اظہار کرتے ہیں اور کچھ لوگ اپنے دل سے۔

میں نے سوچا کہ جن لوگوں کا دل یہ گواہی دیتا ہے کہ الرسالہ کا مشن ایک درست مشن ہے وہ زبان سے اس کا اظہار کیوں نہیں کرتے۔ میری سمجھ میں آیا کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ محسوس کرتے ہیں کہ زبان سے اس کا اعلان کرنا بالواسطہ طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرنا ہے۔ اور غلطی کا اعتراف بلا شبہ ہر آدمی کے لئے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔

یکم نومبر کی صبح کو پٹنہ سے ڈھاکہ کے لئے روانگی ہوئی۔ اس سفر میں کئی لوگ میرے ساتھ تھے۔ برادرم محمد ثناء اللہ ندوی (۲۶ سال) بھی میرے ساتھ تھے۔ انہوں نے ۱۹۹۵ میں ندوہ سے فراغت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آپ کی سب سے پہلی کتاب جو میں نے پڑھی وہ الاسلام - تحدّی (مذہب اور جدید چیلنج)

اس کے بعد میں برابر آپ کی تحریریں پڑھتا رہا ہوں۔ انہوں نے اپنے قلم سے کایہ الفاظ لکھے ۔ ” میں نے حضرت کی کتابوں سے جہاد کا صحیح تصور ، دعوت کاحقیقی نہج ، سنت رسول کا صحیح نمونہ ، زندگی کا اصل مقصد، جینے کا حوصلہ، حق کی تلاش کا سچا جذ بہ اور خدمتِ دین کی روحانی قوت کا سبق لیا ہے اور اب الحمد للہ مولانا کی کتابوں سے اور ان کے مشن و دعوت حق سے مکمل اتفاق رکھتا ہوں ۔ برادرِ م شاہ اللہ ندوی بہار کے اس پورے سفر میں میرے ساتھ رہے ، میں نے انہی کے ذریعہ یہ سفرنامہ لکھوایا۔

یکم نومبر کو پٹنہ سے ڈھاکہ جاتے ہوئے در میان میں ہم لوگ مظفر پور سے گزرے۔ دیر کے لئے قیام کیا گیانہ۔ مظفر پور بہار کا ایک شہر ہے جو کپڑے وغیرہ کی مارکیٹ کے لئے مشہور ہے۔ مظفر پور میں ایک قدیم مدرسہ ہے۔ یہاں عربی اور دینی تعلیم کا انتظام ہے۔ مولانا عبد الرحیم امدادی نے کہا کہ ان کے شیخ حضرت قاری محمد صدیق باندوی نے سلّم کی تعلیم اسی مدرسہ میں حاصل کی تھی۔ سلم قدیم منطق کے موضوع پر ایک کتاب ہے۔ اس کا پورا نام سلم العلوم ہے۔ اس کے مصنف بہار کے ایک عالم قاضی محب اللہ بہاری وفات1119ھ ہیں۔ وہ اورنگ زیب عالمگیر کے ہم عصر تھے۔ زمانہ میں منطق کی اس کتاب کی اتنی زیادہ اہمیت ہوئی کہ اور نگ زیب نے قاضی محب اللہ بہاری کو اپنے بیٹوں کی تعلیم کے لئے مقرر کیا۔ مگر اب اس کتاب کی اہمیت زیادہ تر تاریخی ہے۔ عصری منطق کے اعتبار سے اس کی زیادہ اہمیت نہیں۔

سلّم العلوم کی شرحیں کثرت سے لکھی گئی ہیں۔ ” شرح نویسی یہ طریقہ میرے نزدیک صرف تقلیدی ذہن کی پیداوار ہے۔ صحیح یہ ہے کہ لکھنے والے لوگ خود اپنی تحقیق سے نئی کتابیں لکھیں۔ کے اس طریقہ کا نقصان یہ ہوا کہ بعد کے زمانہ میں ذہنی ارتقاء کا عمل رک گیا۔ لوگوں نے قدیم متون کو مقدس سمجھ لیا۔ اس کے بعد انسانی ذہن کا کام صرف اس کی شرح لکھنا رہ گیا کہ خود کوئی نیا اورتخلیقی کام

مظفر پور ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک قدیم مسجد ہے۔ انیسویں صدی کے آخر میں جب یہاں ریلوے لائن بچھائی جانے لگی تو مسجد اس کے راستہ میں پڑ رہی تھی۔ یہ انگریزوں کا زمانہ تھا۔ دانش مندی سے کام لیا۔ چنانچہ انگریز اس پر راضی ہو گئے کہ مسجد کی عمارت کو نہ چھیڑتے ہوئے ریلوے لائن کو مسجد کے دائیں اور بائیں سے نکالا جائے۔

اس منظر کو دیکھ کر مجھے ۱۹۱۳ کا واقعہ یاد آجا جب کہ کانپور مچھلی بازار) کی ایک مسجد کے غسل خانہ کی دیوار کا ایک کو نا روڈ کو سیدھا کرنے کے لئے توڑا گیا تو اس وقت کے مسلم لیڈروں نے سارے ملک میں اس

پر هنگامه کھڑا کر دیا۔ اس زمانہ کے کئی مسلم لیڈر اسی واقعہ کے بعد مشہور ہوئے۔ اگر چہ ان کو اپنی یہ ذاتی شہرت اس قیمت پر ملی کہ انہوں نے مسلمانوں کے دل میں انگریزوں کے خلاف نفرت پیدا کر کے داعی اور مدعو کے رشتہ کو درہم برہم کر دیا۔

اس زمانہ میں کانپور کی مسجد کے اس واقعہ پر بہت سے مضامین اور اشعار لکھے گئے۔ مولانا شبلی نعمانی نے اس پر ایک پر جوش نظم لکھی تھی اس میں ڈرامائی انداز میں دکھایا گیا تھا کہ میں ایک جگہ پہنچا جہاں مسلمانوں کی خون آلود لاشیں پڑی ہوئی تھیں، اس کے بعد یہ شعر تھا:

پوچھا جو میں نے کون ہو تم، آئی یہ صدا ہم کشتگانِ معرکۂ کانپور ہیں گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو اس شعر کو کسی قدر تبدیلی کے ساتھ اس طرح کہنا زیادہ صحیح ہوگا: پوچھا جو میں نے کون ہو تم، آئی یہ صدا ہم کشتگانِ معرکۂ بے شعور ہیں برادرم محمد ثناء اللہ ندوی نے بتایا کہ وہ نہ صرف خود الرساله اور مطبوعات الرساله کو پڑھتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی پڑھاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں اپنے تجربات کے دائرہ میں انہوں نے بتایا کہ ایک دن وہ اپنی دکان پر میری کتاب ”مذہب اور جدید چیلنج“ پڑھ رہے تھے۔ اس اثناء میں ایک مقامی عالم آگئے۔ پوچھا کہ آپ کون سی کتاب پڑھ رہے ہیں۔ ثناء اللہ صاحب نے کہا کہ یہ مولانا وحید الدین خاں کی کتاب ”مذہب اور جدید چیلنج“ ہے۔ انہوں نے یہ سنتے ہی کہا کہ لاحول ولاقوت۔ یہ تم کس کی کتاب پڑھ رہے ہو۔ یہ تو مسلم دشمنوں کے ایجنٹ ہیں، وہ معمر قذافی کے آدمی ہیں۔ ثناء اللہ صاحب نے کہا کہ کیا آپ نے ان کی کتابیں پڑھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ ثناء اللہ صاحب نے ان سے کہا کہ پھر آپ نے بغیر جانے ہوئے کیسے رائے قائم کر لی۔ انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں وہ تو لیبیا کے معمر قذافی کے ایجنٹ ہیں جو ایک بدنام دشمنِ اسلام ہے۔

جناب ثناء اللہ ندوی کے پاس اس وقت راقم الحروف کی کتاب غیر ملکی اسفار حصہ اول تھی جس کو وہ پڑھ چکے تھے۔ اس کتاب میں لیبیا کا ایک سفر نامہ شامل ہے جس میں معمر قذافی کے بارے میں یہ الفاظ چھپے

مجھے کرنل قذافی کی پالیسیوں سے اتفاق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کرنل قذافی کے ثوره (انقلاب) نے لیبیا کو نقصان زیادہ پہنچایا ہے اور فائدہ کم۔ اسلام کے بارے میں بھی اُن کی بہت سی تعبیرات احمقانہ ہیں“

ثناء اللہ ندوی صاحب نے بتایا کہ اس اقتباس کو سننے کے بعد مذکورہ عالم اس قدر مبہوت ہوئے کہ وہ حیرانی کے ساتھ میری طرف دیکھنے لگے۔ ان کی خاموشی اس بات کی علامت تھی کہ وہ اس مطبوعہ اقتباس کو دیکھنے کے بعد سر تا سر لاجواب ہو گئے ہیں۔ مگر انہوں نے اس کا اعتراف کرتے ہوئے یہ نہیں کہا کہ میں اس معاملہ میں سخت غلطی پر تھا۔ بلکہ انہوں نے صرف یہ کیا کہ موضوع بدل کر دوسری بات شروع

لوگوں کی یہ عام کمزوری ہے کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرتے۔ خواہ اس پر کتنے ہی زیادہ دلائل دے دئے جائیں۔ ان میں سے کوئی شخص یہ کرتا ہے کہ دلائل کے مقابلہ میں بے بس ہو کر چپ ہو جاتا ہے اور کوئی شخص اس کے بعد بھی بے تکان بولتارہتاہے خواہ اس کو خود بھی اپنے بولے ہوئے الفاظ کا مطلب معلوم نہ ہو۔

راستہ میں ہم لوگ موتی ہاری سے گزرے۔ یہاں کچھ دیر کے لئے مدرسہ خیر العلوم میں قیام کیا۔ اس کے ناظم مولانا محمد عالم القاسمی ہیں۔ یہ مدرسہ ۱۹۷۲ میں قائم ہوا۔ یہاں ڈیڑھ سو طلبا کی تعلیم کا انتظام اساتذہ اور دوسرے کارکنوں کی تعداد سترہ ہے۔ یہ مدرسہ ایک پر سکون جگہ پر واقع ہے۔ اس طرح کے لاکھوں چھوٹے بڑے مدرسے پورے ملک میں خاموش کام کر رہے ہیں۔ وہ علم دین کو ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچارہے ہیں۔ انہی مدارس کا یہ کارنامہ ہے کہ ہندوستان میں آج علم دین مسلم ملکوں میں احیاء تعلیم کا یہ کام حکومتوں کے تعاون سے ہوتا ہے۔ ہندوستان میں یہ کام علماء کی قربانیوں کے ذریعہ انجام پارہا ہے۔ ہندوستان میں اتنی بڑی تعداد میں مدارس دینیہ کی موجودگی اس خدائی ضمانت کی ایک زندہ مثال ہے جس کو حفاظت دین کہا جاتا ہے۔ مدارس کے موضوع پر میں نے ایک مفصل مقالہ شائع کیا ہے۔ یہ مقالہ ماہنامہ الرسالہ کے شمارہ ستمبر ۲۰۰۰ میں تفصیل کے ساتھ چھپا ہے۔ میں نے ظہر کی نماز اسی مدرسہ کی مسجد میں پڑھی۔ نماز کے بعد طلباء واساتذہ کے سامنے ایک مختصر اس خطاب میں میں نے کہا کہ یہ مدارس ایک عظیم خدمت انجام دے رہے ہیں۔ یہ ادارے اس تحفظ دین کا ذریعہ ہیں جس کا فیصلہ اللہ نے فرمایا ہے۔ اللہ کا یہ فیصلہ اسباب کے اعتبار سے زیادہ تر انہیں مدارس کے ذریعہ انجام پارہا ہے۔

سفر کے دوران اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ الرسالہ مشن کس طرح لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنارہا ہے مثلاً اس سفر میں ایک واقعہ پیش آیا۔ میرے اس سفر کا پروگرام طے کرنے کے بعد مولانا عبد الرحیم امدادی نے مختلف مقامات کے سفر کئے تاکہ پروگرام کا نظام بنا سکیں۔ اس سلسلہ میں وہ ڈھا کہ گئے۔ وہاں ان کو

جناب عطاءء اللہ ڈھاکوی سے ملنا تھا۔ ایک کپڑے کے تاجر سے انہوں نے عطا اللہ صاحب ڈھاکوی کاپتہ اس تاجر نے اپنے قیاس کے ذریعہ مولانا عبدالرحیم امدادی سے کہا "غالباً آپ مولانا وحید الدین کے پروگرام کے سلسلہ میں یہاں آئے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ ہاں، تاجر نے کہا کہ میں خود بھی مولانا کا شیدائی ہوں۔ اس کے بعد مذکورہ تاجر مولانا عبدالرحیم امدادی کو اپنی دکان میں لے گئے اور کہا کہ میں بھی آپ کے ساتھ اس پروگرام میں شریک

یہ تاجر محمد ثناء اللہ ندوی تھے۔ انہوں نے الرسالہ مشن کی کافی کتابیں پڑھی ہیں اور وہ پوری طرح اس مشن میں شامل ہو چکے ہیں۔ مگر اس سے پہلے ان کا تعارف اس حیثیت سے نہ مجھ سے تھا اور نہ کسی اور یکم نومبر ۲۰۰۰ء سے پہلے میں محمد ثناء اللہ ندوی کا نام بھی نہیں جانتا تھا۔ مگر اس سفر کے دوران ان کا جو تعارف ہوا اس سے معلوم ہوا کہ وہ خود اپنی ذات میں دعوت کی ایک تاریخ لئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنی دعوتی زندگی کے کئی ایسے واقعات بتائے جو میرے جیسے آدمی کے لئے بلاشبہ حیرت انگیز ہیں۔ بتایا کہ ڈھاکہ میں ایک نوجوان محمد نسیم احمد ہیں۔ میں ان کو تقریباً پانچ سال سے جانتا تھا لیکن مجھے یہ پتہ نہ تھا کہ وہ الرسالہ مشن سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

موجودہ پروگرام کے تحت عبدالرحیم امدادی صاحب ڈھاکہ آئے۔ وہ ان کی دکان پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اس در میان اتفاق سے محمد نسیم صاحب وہاں آگئے۔ انہوں نے نسیم صاحب کو پروگرام کی بابت بتلایا۔ وہ بہت خوش ہوئے اور پھر انہوں نے اپنے بارے میں یہ بات بتائی کہ وہ الرسالہ مشن کی ساری کتابیں پڑھ

انہوں نے الرسالہ کے بہت سے شمارے دہلی سے منگو اکر تقسیم کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں بہار کے اس پروگرام میں شروع سے اخیر تک شریک رہوں گا۔

ایک عجیب سبق آموز بات معلوم ہوئی کہ بہار کا موجودہ پروگرام اتفاق سے ایسے وقت میں بتاجب کہ یہاں ہندوؤں میں چھٹ تیوہار پڑ رہا تھا۔ یہ کپڑے کی تجارت کے لئے سیزن کی حیثیت رکھتا ہے۔ ثناء اللہ ندوی کے لئے ایک آزمائش کا لمحہ تھا۔ وہ دکان میں بیٹھ کر سیزن کا فائدہ اٹھائیں یا دکان کو بند کر کے ہمارے پروگراموں میں شرکت کریں۔ پروگرام میں شرکت کے لئے دکان کو بند کرنا ضروری تھا کیوں کہ ان کی غیر موجودگی میں دوسرا کوئی شخص نہ تھا جو دکان کو دیکھے۔

۳۱ اکتوبر ۲۰۰۰ کو وہ اپنی دکان پر تھے، شام ۳ بجے تک سترہ ہزار روپے کی بکری ہو چکی تھی۔

خریداروں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ تین بجے انہوں نے فیصلہ کیا کہ بہرحال مجھے پروگرام میں شرکت کرنا ہے۔ چنانچہ انہوں نے گاہکوں کی بھیڑ چھوڑ دی اور دکان کو بند کر کے اللہ پر توکل کرتے ہوئے پٹنہ کے لئے روانہ یکم نومبر کو محمد ثناء اللہ ندوی نے اپنا یہ واقعہ بتایا تو میری آنکھوں میں بے اختیار آنسو آگئے۔ کہا کہ خدا یا تو اس نوجوان کی اور ہم سب کی مدد فرما۔

بمبئی کے مسٹر نسیم علی خاں صاحب سے ملاقات ہوئی۔ (022-8210416 .Tel) انہوں نے بتایا کہ بمبئی میں بہار کے لوگ کثرت سے ہیں۔ اور ان میں سے بہت سے لوگ الرسالہ کے قاری ہیں۔ بہار کمیونٹی کے کئی ممتاز لوگ الرسالہ مشن سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ اور الرسالہ کے قاری ہیں۔ باشندگان بہار کے صدر مسٹر فاروق اور اس انجمن کے سکریٹری مسٹر فیروز احمد شیخ، وغیرہ۔ انہی میں سے بہار کے ایک ممتاز دانشور اور صحافی اور افسانہ نگار مسٹر محمود ایوبی ہیں۔ وہ آج کل بمبئی میں رہتے ہیں۔ (022-6395408 .Tel) اس سے پہلے وہ ہفتہ وار اردوبلٹز کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر رہ چکے آج کل وہ آزاد صحافی کے طور پر مختلف اخباروں میں مضامین لکھتے ہیں۔ محمود ایوبی صاحب کے بارے میں جناب نسیم علی خاں صاحب نے بتایا کہ وہ الرسالہ مشن کی بہت قدر کرتے ہیں۔ نسیم صاحب نے کہا: ”محمود ایوبی صاحب الرسالہ کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے اکثر کہا کرتے ہیں کہ ہم کو تو ہندوستان میں صرف ایک ہی مولانا نے متاثر کیا ہے اور وہ ہیں مولانا وحید الدین خاں۔ میں نے ان کے کہنے اور کرنے میں کہیں تضاد نہیں پایا۔ ان کا دوٹوک الفاظ میں بات کرنا اور مشکل سے مشکل مسئلہ کا حل آسان طور پر بیان کر دینا ان کا خاصہ ہے۔ ان کی تحریر اور ان کی رہنمائی حقیقت پسندی کا سبق دیتی ہے۔ سید نعیم اختر صاحب منشاء ٹولہ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آج کل دنیا بھر کے علماء جہاد کی باتیں یہ لوگ ہر ملک کے مسلمانوں کو جہاد کے اوپر بھڑکائے ہوئے ہیں۔ صرف آپ ایک ایسے عالم ہیں جو جہاد اور ٹکڑاؤ کی بات نہیں کرتے۔ ایسا کیوں، کس طرح یہ سمجھا جائے کہ دونوں میں سے کون بر حق ہے۔ میں نے کہا کہ جہاد کو بطور ایک شرعی حکم کے میں بھی اسی طرح مانتا ہوں جس طرح دوسرے علماء مگر شریعت کے ہر حکم کی کچھ شرطیں ہیں، اسی طرح جہاد کی بھی کچھ لازمی شرطیں ہیں۔ بات یہ کہ تمام علماء کی متفقہ رائے کے مطابق، جہاد سے پہلے دعوت ضروری ہے۔ دعوت کی پر امن جدد جہد کے بغیر مسلح جہاد چھیڑنا اسلام میں سرے سے جائز ہی نہیں۔ میرا کہنا یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ہمارا پہلا فریضہ یہ ہے کہ ہم دوسری قوموں تک اللہ کا پیغام پہنچائیں۔ نہ یہ کہ ملک و مال کی شکایتوں کو لے کر ان سے لڑنا شروع کر دیں۔ شرائط کی تکمیل کے بغیر جو جہاد کیا جائے وہ شریعت کی نظر میں فساد ہو گا نہ کہ جہاد۔

دوسری بات یہ کہ اگر بالفرض وہ حالات پیدا ہو جائیں جب کہ جہاد کرنا مسلمانوں کے لئے ضروری ہو جاتا ہے تب بھی جہاد سے پہلے اعداد (تیاری) کا مرحلہ طے کرنا ضروری ہوگا۔ اعداد کے بغیر جہاد صرف ایک خود کشی کا فعل ہے، وہ ہرگز جہاد نہیں۔

اکثر پر جوش مسلمان اس معاملہ میں غزوہ بدر کا حوالہ دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ غزوہ بدر میں فریق ثانی کی نسبت سے کوئی تیاری نہیں تھی پھر بھی مسلمانوں نے ان سے جنگ کی اور کامیاب ہوئے۔ نزدیک ایسا کہنا صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ کہنے والا مجرمانہ حد تک قرآن سے ناواقف ہے۔ واضح طور پر ثابت ہے کہ جب یہ اطلاع ملی کہ مکہ سے ایک ہزار مسلح فوج مدینہ کی طرف آرہی ہے تو مسلمان اپنی عدم تیاری کی بنا پر ان سے مڈبھیڑ کے لئے راضی نہ تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس یہ خوش خبری بھیجی کہ تم لوگ آگے بڑھو، میں تمہاری مدد کے لئے ایک ہزار فرشتے لگا تار بھیج رہا ہوں (الانفال 9) اللہ تعالیٰ کی اس واضح یقین دہانی کے بعد مسلمان کمزوریا تیاری کے بغیر نہیں رہے، بلکہ وہ تمام طاقتوروں سے زیادہ طاقت ور ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں مسلمانوں کو فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی، جب کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان بدر کا حوالہ دے کر کم از کم ڈیڑھ سو سال سے بار بار لڑ رہے ہیں۔ اور ہر موقع پر یکطرفہ شکست سے دوچار ہوئے ہیں۔ اگر وہ ”بدر“ کو دہرارہے ہیں تو بدر کا نتیجہ ان کے حصہ میں کیوں نہیں آیا۔ بہار کا یہ سفر ایک قافلہ کی صورت میں تھا۔ ایک ہزار کلومیٹر کے پورے سفر میں یہ قافلہ میرے اس بناء پر یہ سفر ایک چلتا پھرتا اجتماع بن گیا۔ ایک ہفتہ کے پورے سفر میں رات اور دن گفتگوؤں اور تبادلہ خیال کا سلسلہ جاری رہا ان میں سے کچھ باتیں اس سفر نامہ میں شامل ہیں۔ ڈھاکہ جاتے ہوئے راستہ میں ہم لوگ موتی ہاری سے گزرے، یہ بہار کا مشہور شہر ہے۔ پچھلے سفر جون ۲۰۰۰ کے موقع پر موتی ہاری میں میرا ایک خطاب ہوا تھا۔ دہلی واپسی کے بعد وہاں کے ایک مسلم نوجوان نے بتایا کہ موتی ہاری کے ایک طالب علم دہلی میں پڑھتے ہیں وہ اپنے وطن سے یہ خبر لائے ہیں کہ مولانا وحید الدین موتی ہاری آئے تھے، یہاں تو انہوں نے کلنٹن اور امریکہ کی باتیں کیں۔ نہیں کہ اس سے ان کا مقصد کیا تھا۔

میں نے کہا کہ یہ اسی قسم کا اعتراض ہے جیسے قدیم مدینہ کے یہود نے قرآن کے بارے میں کہا تھا کہ یہ کیسا خدائی کلام ہے کہ اس میں مکھی اور مچھر کی باتیں ہوتی ہیں۔ (القرطبی ار ۲۴۲) مفسرین لکھتے ہیں کہ یہود اس طرح قرآن کا مذاق اڑاتے تھے۔ مگر یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اصل یہ ہے کہ جو لوگ اپنے تعصبات کی بنا پر حق کا اعتراف کرنے کے لئے تیار نہ ہوں، وہ ہمیشہ تضحیک کا انداز اختیار کرتے ہیں۔

صاحب حق کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس کی بات اتنی بے وزن ہے کہ وہ ماننے کے قابل ہی نہیں۔ ایک چیز بہار کی پہچان بن گئی ہے اور وہ ہے بہار کی ٹوٹی ہوئی سڑکیں۔ دہلی سے پٹنہ پہنچنے کے لئے میں نے ایک ہزار کلومیٹر ٹرین کے ذریعہ سفر کیا۔ یہ سفر پر سکون طور پر طے ہو گیا۔ پٹنہ کے بعد دوبارہ مجھے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرنا تھا۔ یہ بہار کے اندرونی مقامات میں ہوا۔ یہ دوسرا سفر میری زندگی کا ایک عجیب تجربہ تھا۔ کار آہستہ رفتار کے ساتھ اس طرح چل رہی تھی جیسے کہ ہر قدم پر ایک گڑھا موجود ہے اور کاران سے گزرتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے۔ بہار میں سڑکوں کے نام پر جو چیز ہے اس کو جدید اصطلاح میں شاید سڑک کہنا مشکل ہے۔ ان نا ہموار سڑکوں پرگزرتے ہوئے مجھے ایک کارٹون یاد آیا۔ امریکہ کے مشہور صنعت کار بل گیٹس کی آمد (اکتوبر ۲۰۰۰) 2000)پرٹائمس آف انڈیا میں شائع ہوا تھا۔ اس کارٹون میں بل گیٹس اور بہار کی چیف منسٹر کے درمیان ایک مفروضہ ملاقات کا ذکر ہے۔ گیٹس بہار کی چیف منسٹر رابڑی دیوی سے ملاقات کے دوران کہتے ہیں: اگر آپ نے میری وہ کتاب پڑھی ہو جس کا نام روڈ اہیڈ ہے تو...... رابڑی دیوی بات کو کاٹتے ہوئے درمیان میں کہہ اٹھتی ہیں کہ روڈ اہیڈ! آپ کس چیز کی بات کر رہے ہیں۔ بہار میں آگے کاروڈ تودرکنار یہاں پیچھے بھی کوئی روڈ نہیں اور نہ دائیں طرف اور نہ بائیں طرف۔ بہار میں سرے سے کوئی روڈ نہیں۔ کیا آپ روڈ بنانے کے لئے بہار آئیں گے۔ Bill: Well, yes, if you've read my book The Road Ahead you'll Rabri: Road ahead? What you are talking? In Bihar let alone road ahead there is no road behind. Or on right side, or left side. In fact, there is no road at all in Bihar. You will come to build a road in Bihar. یکم نومبر کی شام کو چار بجے ہم لوگ ڈھاکہ پہنچے۔ یہاں بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ کے بعد ڈھاکہ کی صغریٰ اردو لائبریری میں پروگرام ہوا۔ یہاں شہر کے تعلیم یافتہ لوگ اکٹھا ہوئے ۔ سے بیشتر لوگ الرسالہ مشن سے واقف تھے۔

صغریٰ لائبریری میں عصر و مغرب کے درمیان ایک تقریر ہوئی۔ یہاں لوگ اتنی زیادہ تعداد میں آئے کہ ہال کی کرسیاں ناکافی ہو گئیں۔ بہت سے لوگوں نے باہر کھڑے ہو کر تقریر سنی۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ ہے مگر یہ کمیونسٹ ٹائپ کا کوئی نظریہ نہیں۔ مطلب یہ نہیں کہ ہم سیاسی اکھیڑ پچھاڑ کے ذریعہ حکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں تاکہ اسلام کے

قوانین کو لوگوں کے اوپر نافذ کیا جائے ۔ مکمل ضابطہ حیات کا اصل مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان اسلام سے اپنی زندگی کے لئے رہنمائی حاصل کرے ۔ جب بھی اس کے سامنے کوئی صورت حال آئے خواہ اس کا تعلق گھر کے اندر سے ہو یا گھر کے باہر سے ، تو وہ قرآن وسنت میں تلاش کر کے معلوم کرے کہ اس صورت حال میں اس کے لئے کیا رہنمائی ہے۔ اور پھر جورہنمائی ملے اس کو بے چوں چرا قبول کرلے۔ اسلام کا مکمل ضابطہ ہونا ذاتی پیروی کے معنی میں ہے نہ کہ خارجی نفاذ کے معنی میں۔

میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں ۱۹۷۲ء کے بعد مسلسل تمام لکھنے اور بولنے والے مسلمان صرف یہ کرتے رہے ہیں کہ وہ سازشوں کا انکشاف کر رہے ہیں، وہ مسلمانوں کو یہ خبر دیتے رہے ہیں کہ یہاں ان کے لئے دوسرا اسپین بنایا جانے والا ہے۔ اور مسلمانوں کو بتا رہے ہیں کہ ان کے لئے یہاں ترقی کے مواقع نہیں ہیں۔ ہر آدمی مایوسی کی بولی بول رہا ہے۔ حالانکہ قرآن میں مایوسی نے روکا گیا ہے (یوسف ۸۷)۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر حال میں امید اور حوصلہ کی بات کہی جائے، سخت ترین حالات میں بھی مایوسی کی بات نہ کی جائے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ غزوہ خندق کے موقع پر دشمنوں کی طرف سے اتنا سخت محاصرہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو ضروریات تک کے لئے باہر جانا مشکل ہو گیا۔ مگر اس وقت بھی رسول اللہ اپنے اصحاب کو یہ بشارت دے رہے تھے کہ تم لوگ قیصر وکسریٰ کے خزانے حاصل کروگے۔ معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت ترین حالات میں بھی مسلمانوں سے مایوسی کی بات نہیں کرتے تھے۔ بلکہ ہر حال میں لوگوں کو اچھی خبر دیتے تھے۔ اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہونے کا تقاضہ یہ تھا کہ نئے ہندوستان میں اسلام کی اس تعلیم کے مطابق مسلمانوں کے سامنے ملک کی امید افزا تصویر پیش کی مگر یہ لکھنے والے اور بولنے والے لوگ ایک طرف اس پر فخر کرتے تھے کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے، مگر عین اسی وقت وہ مذکورہ اسلامی ضابطے کو مکمل طور پر ترک کئے ہوئے تھے۔ ۳۰ منٹ کی تقریر کے خاتمہ پر لوگوں نے مختلف قسم کے سوالات کئے جس کا جواب میں دیر تک دیتا رہا۔ ایسا محسوس ہو تا تھا کہ ابھی لوگ بہت دیر تک مزید سننا چاہتے ہیں مگر پروگرام کے مطابق وہاں سے مجھے روانہ ہونا پڑا۔ جناب مطیع الرحمن صاحب سابق ایم ایل اے کے مکان پر ایک مختصر اجتماع ہوا۔ یہاں کئی لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ جناب مطیع الرحمن صاحب میری تحریریں پڑھتے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ آپ کا فکر عصری فکر کے مطابق ہے۔ آپ موجودہ نسل کو عصری معیار کے مطابق رہنمائی دینے کا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں میں جو اعتقادی و مسلکی جھگڑے ہیں ان سے مجھ کو کوئی دلچسپی نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان جھگڑوں سے بچتے ہوئے ملت کو

آگے بڑھانا چاہئے اور یہی بات میں نے آپ کی تحریروں میں پائی ہے۔

یکم نومبر کو نماز مغرب کے بعد مقامی ہائی اسکول کے وسیع گراؤنڈ میں عمومی اجتماع ہوا۔ کے مطابق حاضرین کی تعداد تقریباً تین ہزار تھی۔ یہاں میں نے اپنی ۲۵ منٹ کی تقریر میں خاص طور پر یہ کہا کہ اس ملک میں جو مسئلہ ہے وہ ہندو بمقابلہ مسلم یا مسلم بمقابلہ ہندو کا نہیں ہے۔ بلکہ ہندو اور مسلمان دونوں کا مقابلہ فطرت سے ہے۔ دونوں ہی فرقوں کو فطرت کے نظام کو اور تاریخی عوامل کو سمجھنا ہے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی تعمیر کرنا ہے۔ فطرت کے قوانین کو نظر انداز کر کے نہ مسلمان ترقی کر سکتے ہیں اور نہ ہندو۔ لوگوں نے بتایا کہ آج اتفاق سے ہندوؤں کا ایک مقدس تہوار ہے جس کو وہ لوگ چھٹھ تیوہار کہتے جو وقت جلسہ کا تھا عین وہی وقت ہندوؤں کی پوجا کا تھا۔ اس لئے اس عمومی جلسہ میں ہندو نسبتاً کم اگر یہ رکاوٹ نہ ہوتی تو یقیناً ہندو لوگ بڑی تعداد میں شریک ہوتے۔

یکم نومبر کو شام کا کھانا عطاء اللہ ڈھاکوی صاحب کے یہاں تھا۔ یہاں کافی لوگ اکٹھا ہوئے اور دیر تک مختلف دینی و ملی موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ لوگ اپنے شبہات پیش کرتے رہے۔ اور میں اللہ کی توفیق سے ان کا جواب دیتا رہا۔

ایک صاحب جو مدرسہ سے فارغ تھے انہوں نے کہا کہ آپ نے علماء کے کارناموں پر کچھ نہیں اس کا سبب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ شاید آپ ماہنامہ الرسالہ کا مطالعہ نہیں کرتے ہیں۔ ابھی ستمبر ۲۰۰۰ کا شمارہ جو خصوصی طور پر ۸۰ صفحات میں شائع ہوا ہے وہ پورا کا پورا شمارہ علماء کے کارناموں ہی پر مشتمل ہے۔ جناب عطاء اللہ صاحب ڈھاکوی کے یہاں شام کے کھانے کے بعد ہم لوگ جناب مطیع الرحمن صاحب سابق ایم ایل اے کے یہاں گئے اور رات ان کے مکان پر گزاری۔ فجر کی نماز کے بعد میں نے درس حدیث کی صورت میں کچھ باتیں کہیں۔ میں نے کہا کہ اسلام کی جو عبادات ہیں وہ کوئی پر اسرار چیز نہیں۔ دین ایک زندہ عمل ہے نہ کہ پراسراریت کا کوئی مجموعہ۔ موجودہ زمانہ میں لوگوں کا حال یہ ہے کہ لوگ نماز پڑھتے ہیں مگر دین ان کی عملی زندگیوں میں شامل نہیں۔ اس کا سبب یہی ہے کہ وہ نماز کو شعوری یا غیر شعوری طور پر رسمی افعال کا ایک پر اسرار مجموعہ سمجھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ نماز سے ان کا ذہن بیدار وہ ان کو با شعور انسان نہیں بناتی۔ ایسی نماز انسان کی زندگی میں بس ایک ضمیمہ کے طور پر رہے گی۔ پھر میں نے لوگوں کو ایک حدیث سنائی۔ وہ حدیث یہ ہے کہ من صلى الصبح لهو في ذمة الله (مسلم كتاب المساجد) پھر اس حدیث کی مختصر تشریح کی۔ ۲ نومبر کی صبح کو فجر کے بعد محمد نسیم احمد ولد جمیل احمد کے مکان پر اجتماع ہوا۔ کافی لوگ جمع ہوئے۔ یہاں پر اتحاد کے موضوع پر ایک تقریر ہوئی۔

نے کہا کہ اس وقت مسلمانوں میں ایک عجیب و غریب منظر دکھائی دیتا ہے۔ وہ یہ کہ قوم کے کروڑوں لوگ روزانہ پانچ وقت کی باجماعت نماز ادا کرتے ہیں۔ عین اسی وقت کہیں بھی مسلمانوں کے درمیان اتحاد موجود حالانکہ نماز باجماعت اتحاد کا عظیم سبق ہے۔ نماز باجماعت اس بات کی عملی تربیت ہے کہ تم لوگ خواہ دس ہو یادس ہزار ہو یا اس سے زیادہ ہو، اپنے میں سے ایک شخص کو آگے کھڑا کر کے بقیہ سب کے سب ایک سیٹ پر چلے جاؤ۔ یہ طریقہ اتحاد کا سب سے زیادہ طاقتور ذریعہ ہے۔ جس قوم میں ہر آدمی اپنی بات چلانا چاہے اس میں بے اتحادی ہوگی اور جس قوم میں یہ مزاج ہو کہ سب لوگ اپنی بات کو پیچھے کر کے ایک شخص کی بات مان لیں تو اسی کے نتیجہ کا نام اتحاد ہے۔ مگر آج نماز باجماعت کا یہ نتیجہ کہیں موجود نہیں۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ لوگ مسجد میں نماز باجماعت تو ادا کرتے ہیں مگر نماز باجماعت کے شعور سے وہ یکسر خالی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مسجد میں جا کر نماز ادا کرو اور اس کے بعد پر اسرار طور پر اس کی برکتیں ہمیں حاصل ہو جائیں گی۔ ضرورت ہے کہ نماز کو ایک زندہ عمل کے طور پر لوگوں کے درمیان قائم کیا جائے نہ کہ ایک پر اسرار قسم کے رسمی عمل کے طور پر۔

۲ نومبر کی صبح کو آزاد مدرسہ اسلامیہ ڈھاکہ کا معائنہ کیا۔ یہ مدرسہ ۱۹۳۲ میں قائم کیا گیا۔ مدرسہ کا قیام مولانا حسین احمد مدنی کی تحریک پر عمل میں آیا۔ اس مدرسہ کے ناظم قاری محمد انوار الحق اور صدر مدرس مولانا عبد السلام صاحب ہیں۔ یہاں طلباء و اساتذہ کے سامنے ایک مختصر خطاب کیا۔ اس موقع پر میں نے مختصر طور پر علم کی اہمیت بتائی۔ میں نے کہا کہ اس دنیا میں علم ہی طاقت کا سر چشمہ ہے۔ میں اہل اسلام دنیا میں غالب ہوئے تو اس کا راز شمشیر نہیں تھا بلکہ علم تھا۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں اہل مغرب نے دنیا میں جو غلبہ حاصل کیا ہے اس کا راز بھی اہل مغرب کی سازش نہیں ہے بلکہ علم ہے۔ ہے (Knowledge is Power)۔ یہ اصول ہر ایک کے لئے ہے۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں کو بیک وقت دو چیزوں میں کمال حاصل کرنا ہے۔ دین اور علم۔ دونوں میں سے کسی ایک کی کمی بیک وقت دونوں ہی کے لئے نقصان کا باعث ہوگی۔

نسیم احمد صاحب کے مکان پر خطاب کے بعد جب میں وہاں سے اٹھ کر جانے لگا تو ایک پر جوش نوجوان نے نعرہ لگایا۔ ” مولانا وحید الدین زندہ باد“ میں نے کہا کہ دنیوی تحریکیں شور کے اوپر کھڑی ہوتی ہیں، لیکن سچی اسلامی تحریک ہمیشہ خاموشی پر کھڑی ہوتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ من صمت نجا۔ چپ رہا اس نے نجات پائی)۔

اس حدیث کا تعلق شخصی کردار سے بھی ہے اور اجتماعی پالیسی سے بھی۔ خاموشی کوئی انفعالی روش

نہیں، خاموشی پورے معنوں میں ایک عمل ہے۔ خاموشی دراصل سوچی سمجھی روش کا نام ہے۔ برعکس شوریہ ہے کہ آدمی وقتی جذبات کے تحت ہنگامہ آرائی کرنے لگے۔ خاموش عمل منصوبہ بند عمل ہے اور پر شور عمل غیر منصوبہ بند عمل۔

ایک پندرہ سالہ بچہ ابراہیم ڈھاکوی سے مجھ کو ملایا گیا۔ اس کے والد نے کہا کہ یہ بچہ پڑھنے میں محنت کرتا ہے لیکن اس کو کچھ یاد نہیں رہتا۔ میں نے کہا کہ اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ دنیا کے بہت سے بڑے لوگ اپنی ابتدائی عمر میں کمزور طالب علم کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر یہی لوگ جنہوں نے بعد کو بڑے بڑے کارنامے انجام دئے۔ فطرت کی طرف سے ہر انسان کو صلاحیتیں دی جاتی ہیں۔ البتہ کسی کی صلاحیت شروع ہی سے نمایاں ہو جاتی ہے اور کسی کی صلاحیت بعد کا ظہور میں آتی ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا ہمارے علاقہ میں آپ کے خلاف بہت سی کتابیں پھیلائی جارہی ہیں۔ لٹریچر لوگوں کے درمیان تقسیم کیا جارہا ہے، آپ اس کے ازالہ کے لئے کچھ کیجئے۔ میں نے کہا کہ مخالفت نے کبھی کسی مشن کا راستہ نہیں روکا۔ اللہ نے آغاز انسانیت ہی میں اس کی ایک مثال آدم و ابلیس کی صورت میں قائم فرمادی۔ ابلیس نے آدم کی زبردست مخالفت کی بلکہ اس کو اپنا ابدی مشن بنالیا مگر تاریخ ثابت کرتی ہے کہ ابلیس کی مخالفت آدم کے عروج کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ آپ لوگ اپنے مثبت کام میں جہاں تک مخالفتوں کا تعلق ہے تو قدرت کا قانون ہی ان کے ازالہ کے لئے کافی ہے۔ مدرسہ آزاد اسلامیہ سے روانہ ہو کر، ہم لوگ ڈاکٹر صغیر احمد کی رہائش گاہ پر پہنچے۔ راستہ میں ہمارے ساتھ جناب عطاء اللہ ڈھاکوی بھی تھے۔ جو پہلے کمیونسٹ تحریک کے علاقائی لیڈر تھے۔ ان کی زندگی میں یہ انقلاب کیسے ہوا اس کو انہوں نے خود اپنے الفاظ میں یوں بیان کیا کہ پہلے میں کمیونسٹ تحریک کا پر جوش مبلغ اب میں الرسالہ تحریک کا خاموش داعی بن گیا ہوں اور یہ میرے لئے ایک نئی زندگی کے ہم معنی ہے۔ اس نے مجھے ایک نئی زندگی دی ہے۔ پہلے میں سرمایہ دار کی نفرت میں جیتا تھا۔ اب میں سرمایہ دار سمیت تمام انسانوں کی محبت میں جیتا ہوں۔

جناب ایم ٹی خان صاحب نے ایک بات کہی۔ اس پر اضافہ کرتے ہوئے میں نے کہا کہ لوگ کامیابی اس کو سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مقصد کو پالیں۔ مگر کامیابی کا راز یہ ہے کہ لوگ مواقع کار کو پالیں۔ مثلاً آج کل پوری مسلم دنیا میں ٹکراؤ کا ماحول ہے۔ ان سے امن کے لئے کہا جائے تو فوراً ہر عرب کہے گا کہ امن کس اس وقت سارا عرب ذہن یہی ہے۔ اسی طرح دوسرے علاقوں کے مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ امن وہ ہے جس سے عدل حاصل ہو۔ عدل کے بغیر امن کوئی چیز نہیں۔

یہ بات قانون فطرت کے خلاف ہے۔ قانون فطرت کے مطابق امن مواقع کے حصول کے لئے ہوتا ہے نہ کہ عدل کے حصول کے لئے۔ عدل مواقع کار کو استعمال کرنے سے حاصل ہوتا ہے، وہ امن کے ساتھ بندھا ہوا نہیں آتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کا امن معاہدہ کیا تو اس معاہدہ کے ساتھ ساتھ آپ کو عدل نہیں ملا بلکہ اس سے پیدا شدہ مواقع کار کو استعمال کرکے آپ نے عدل کو حاصل کیا۔ ۲ نومبر کو دس بجے ہم لوگ جامعہ الامام ابن تیمیہ پہنچے۔ اس ادارہ کی بنیاد ۱۹۶۴ میں رکھی گئی۔ جامعہ کو دیکھ کر میرے اوپر ایک عجیب تاثر ہوا۔ میں نے بعض ہندی اور انگریزی اخباروں میں پڑھا تھا کہ نیپال کی سرحد کے قریب مسلمانوں نے اپنے تعلیمی ادارے بنائے ہیں جہاں جنگجوئی کی تربیت دی جاتی ہے۔ جامعہ ابن تیمیہ نیپال کی سرحد سے صرف تین کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ اور مذکورہ رپورٹوں میں خصوصی طور پر اس کا بھی ذکر تھا۔ میں نے اگر چہ اس سے پہلے ٹی وی انٹرویو میں اس کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں خود مدرسہ ہی کا ایک پروڈکٹ ہوں۔ اور اگر آپ لوگ مجھ کو ایک امن پسند انسان سمجھتے ہیں تو اسی سے سمجھ لیجئے کہ ہر مدرسہ امن پسندی کی تربیت گاہ ہے۔

آج جب میں نے جامعہ کے کیمپس میں قدم رکھا تو میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہہ پڑے۔ یہ آنسو اس درد کے تحت نکلے تھے کہ ہمارا ملک کتنی بڑی حقیقت سے بے خبر ہے۔ جامعہ ابن تیمیہ میں مجھے ہر طرف امن، اور انسانی خیر خواہی اور علم دوستی کا ماحول نظر آیا۔ ایسا ادارہ بلا شبہ ملک کے لئے ایک سرمایہ کی حیثیت رکھتا ہے، مگر کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو اس قسم کے تعمیری اداروں پر بے بنیاد طور پر تخریب کا الزام تاہم یہاں آنے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ مدارس کے بارے میں جس غلط پروپیگنڈے کی تردید میں دیکھے بغیر قیاس کی بنیاد پر کر رہا تھا اب میں خدا کے فضل سے اس کی تردید مشاہدہ کی بنیاد پر کر سکتا ہوں۔ جامعہ میں خواتین کا ایک مدرسہ بھی ہے اس کو بھی دیکھا۔ اس کا ایک الگ اور مستقل کیمپس ہے۔ اس میں دار الاقامہ سے لے کر مسجد تک ہر چیز موجود ہے۔ پچھلے سالوں میں ہندوستان کے مسلمانوں میں خصوصی طور پر یہ رجحان پیدا ہوا ہے کہ وہ اپنی لڑکیوں کو پڑھائیں۔ چنانچہ بہت سے مدرسے اور اسکول خواتین کی تعلیم کے لئے قائم ہوئے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک روشن علامت ہے۔

جامعہ الامام ابن تیمیہ چندہ ہاڑی پندرہ ایکڑ کے رقبہ میں واقع ہے۔ اس کے مختلف شعبوں کو دیکھنے کے لئے مجھے کار سے چلنا پڑا۔ اس کے وسیع کیمپس میں چلتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے یہاں زمین کے اوپر ایک اسلامک یونیورسٹی ابھر رہی ہو۔ دل سے دعا نکلی کہ اللہ اس ادارہ کو وہ ادارہ بنائے جو اسلام کی جدید ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہو۔ میں نے یہاں کے اساتذہ کی ایک مجلس میں کہا کہ دعوتی نقطہ نظر سے

موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا کام اسلام کو جدید ذہن کے لئے قابل فہم بناناہے دعوت کا کام ایک دو طرفہ اس میں ایک طرف داعی ہوتا ہے اور دوسری طرف مدعو۔ دعوت کے عمل کو درست طور پر انجام دینے کے لئے ضروری ہے کہ داعی اپنے مدعو کے ذہن کو سمجھے۔ اس کی زبان اور اس کا اسلوب کلام ایسا ہو جو اس کے مدعو کے لئے قابل فہم ہو، جو مدعو کو سوچنے پر مجبور کر دے۔

2 نومبر کو 9 بجے ڈاکٹر صغیر احمد صاحب کی رہائش گاہ پر ایک اجتماع ہوا۔ یہاں تعلیم یافتہ مسلمان اکٹھا ہوئے، ان سے مختلف موضوعات پر باتیں ہوئیں۔ میں نے مختلف سوالات کے جواب دئے۔ ایک سوال یہ تھا کہ انگریزوں کے زمانہ میں مسلمان سرکاری ملازمتوں میں چھ فیصد تھے۔ آج ایک فیصد بھی نہیں ہیں۔ مسلمانوں کی تہذیب کے خلاف طرح طرح کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ پھر ہم کو کیا کرنا چاہئے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات جب کسی قوم پر آتے ہیں تو وہ ہمیشہ تاریخ کے اسباب کے تحت آتے ہیں۔ ایسا ہر واقعہ دراصل ایک تاریخی process کی تکمیل ہوتا ایسی حالت میں مسئلہ کا حل شکایت اور احتجاج نہیں ہے، بلکہ یہ تاریخ کو ری پاس کرنے کا مسئلہ ہے۔ جو قوم اس قسم کے حادثہ کا شکار ہو اس کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ تاریخ میں ایک نیا عمل (پراسن) جاری کرے، اس مسئلہ کا دوسرا کوئی حل نہیں۔

مولانا ذکاء اللہ عبد القدوس صاحب نے کہا کہ قرآن میں واضح طور پر یہ آیت ہے کہ وعد الله الذين آمنوا منكم وعملوا الصالحات لَیسْتَخْلِفَنَّہمْ في الارض (النور (۵۵)۔ موجودہ حالات کی روشنی میں اس آیت کی تفسیر کیا ہے۔ میں نے کہا کہ استخلاف بلاشبہ اللہ کا ایک وعدہ ہے۔ مگر خود آیت بتاتی ہے کہ یہ ایک مشروط وعدہ ہے۔ یعنی جب شرط پوری ہوگی اسی وقت وعدہ کی تکمیل ہوگی۔ آیت کے مطابق یہ شرطیں بنیادی طور پر دو ہیں ـــــ ایمان اور عمل صالح۔ ایمان اور عمل صالح کے بغیر خلافت کے وعدہ کی تکمیل ممکن نہیں۔

اس آیت کے مطابق امت میں اگر ایمان اور عمل صالح موجود ہو تو لازماً اس کو خلافت حاصل اسی طرح اس کے برعکس اگر خلافت موجود نہ ہو تو یہ اس کا لازمی ثبوت ہوگا کہ امت کے اندر مطلوب ایمان اور مطلوب عمل صالح موجود نہیں۔ یہ ایک لازم و ملزوم معاملہ ہے۔ اس لئے اگر ایک چیز موجود نہ ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ دوسری چیز موجود نہیں ہے۔

11 بجے جامعۃ الامام ابن تیمیہ کے ہال میں طلبہ و اساتذہ کو خطاب کیا۔ وسیع ہال مکمل طور پر بھرا ہوا قرب وجوار کے لوگ بھی کافی تعداد میں شریک تھے۔ میں نے اپنی تقریر میں دو چیزوں کی اہمیت بتائی۔

ایک علم اور دوسری دعا۔ علم کے ذریعہ آدمی صاحب شعور بنتا ہے اور دعا کے ذریعہ وہ اس بر تر طاقت کی نصرت حاصل کرتا ہے جو اس کو ہر جگہ کامیاب کرنے والی ہے۔

میں نے کہا کہ امام ابن تیمیہ سے میں نے ذاتی طور پر یہ دونوں چیزیں سیکھی ہیں۔ ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جب قرآن کی کسی آیت کے سلسلہ میں ان کو اشکال پیش آتا تو وہ تنہائی میں چلے جاتے اور وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھتے اور سجدہ میں سر رکھ کر کہتے: یا معلم ابراهیم علمنی (اے ابراہیم کے معلم، مجھے بھی علم دے دے) یہ دعا کوئی سادہ دعا نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کا قاری اس کے مصنف سے ہر لمحہ کنسلٹ کرسکتاہے خواہ یہ قاری کسی بھی مقام پر اور کسی بھی زمانہ میں ہو۔ یہ ایک ایسی خوش قسمتی ہے جو قرآن کے قاری کے سوا کسی اور کتاب کے قاری کو حاصل نہیں۔ میں نے اللہ کے فضل سے ابن تیمیہ کے اس طریقہ کو اپنا مستقل طریقہ بنالیا۔ اس سے مجھے غیر معمولی فائدے حاصل ہوئے۔ پھر میں نے کہا کہ ابن تیمیہ کی ایک اور خصوصیت یہ تھی کہ وہ ہر قسم کی چیزیں کثرت سے پڑھتے تھے۔ چنانچہ ان کی کتابیں معلومات کا خزانہ بن گئیں۔ میں نے اپنی زندگی میں اللہ کی توفیق سے ایسا ہی کیا۔ میں نے اپنی تقریباً پوری زندگی مختلف قسم کے علوم کے مطالعہ میں گزار دی۔ مطالعہ میرے لئے بے حد مفید ثابت ہوا۔ اگر آپ کا مطالعہ محدود ہو تو آپ مسائل کی پوری نوعیت کو نہیں اور نہ اس کا گہرا تجزیہ کر سکتے۔ اس لئے آپ کو چاہئے کہ مطالعہ کو زیادہ سے زیادہ بڑھائیں۔ کہ ہر قسم کی چیزیں پڑھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ علم کے بغیر انسان کی شخصیت ادھوری رہتی ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ جس تحمل اور ایڈ جسٹمنٹ کی تلقین کرتے ہیں وہ ہر آدمی اپنی ذاتی زندگی میں اپنائے ہوئے ہے۔ مگر جب آپ اس طریقِ عمل کو ملی زندگی میں اختیار کرنے کے لئے کہتے ہیں تو یہی لوگ آپ کی مخالفت کرنے لگتے ہیں۔ جس حکمت کو وہ اپنی ذاتی زندگی میں جانتے ہیں، کیا وجہ ہے کہ ملی زندگی کے معاملات میں وہ اس سے بے خبر ہیں۔

میں نے کہا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ ذاتی معاملات میں وہ اپنی جبلت (instinct) کے تحت عمل لیکن ملی زندگی میں معاملہ شعور کا ہو جاتا ہے جہاں ان کو اپنے شعور کے تحت بالقصد کام کرنا ہے۔ مگر مسلم سماج اور مسلم اداروں نے ان کے اندر یہ شعور زندہ نہیں کیا۔ اس لئے وہ اس کو اجنبی سمجھ کر رد کر آپ کا کام یہ ہے کہ اس معاملہ میں ان کے شعور کو جگائیں ۔ شعوری بیداری کے بعد اپنے آپ ان کا یہ تضاد ختم ہو جائے گا۔

بتایا کہ جناب حیدر علی صاحب (۶۰ سال) اس سفر میں ہمارے ساتھ تھے۔ چند پروگرام میں

شرکت کے بعد میں نے ان سے اس سفر کا تاثر پوچھا۔ انہوں نے اپنے الفاظ میں اپنا تاثر اس طرح ظاہر کیا: میں نے یہ جانا کہ ہمارے تمام مسائل کا حل قرآن میں موجود ہے۔ مجھے جو بھی بات کرنا چاہئے اپنے دین کے حوالہ سے کرنا چاہئے۔ اور اللہ کو حاضر و ناظر جان کر کرنا چاہئے۔ اور میں نے پایا کہ ذکر میں جو لذت ہے وہ کسی اور چیز میں نہیں۔ اور ان باتوں کو میں نے الرسالہ کے ذریعہ حاصل کیا ہے۔

جناب حیدر علی صاحب نے کہا کہ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ مسلمانوں نے ہندوستان میں آٹھ سو سال تک حکومت کی۔ مسلمانوں نے ہندوستان کو تاج محل کی خوبصورتی، قطب مینار کی اونچائی اور لال قلعہ کی مسلمانوں کی ان فخریه باتوں سے ہندوؤں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے تو کیوں؟ نے یہ نمایاں کام کئے ہیں۔ اس پر فخر کرنے میں کیا برائی ہے۔

میں نے کہا کہ جو مسلمان ایسی بات کرتے ہیں ان کو سوچنے کا ایک ہی ڈھنگ معلوم ہے اور وہ قومی دعوتی سوچ کیا ہوتی ہے اس کی ان کو خبر نہیں۔ قوم پرست انسان اپنی بڑائی میں جیتا ہے اس لئے وہ اپنی بڑائی کو ثابت کر کے خوش ہوتا ہے۔ اس کے برعکس داعی کامعابلہ یہ ہے کہ وہ انسانیت کی خیر خواہی میں جیتا ہے اس کی سوچ خیر خواہانہ سوچ ہوتی ہے، یہی سوچ اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ کوئی ایسی بات نہ کرے جو مدعو کو اس سے دور کرنے والی ہو۔ میں نے کہا کہ کچھ علوم وہ ہیں جو خیر خواہی کی درسگاہ میں پڑھائے جاتے ان علوم کو وہی حاصل کر سکتا ہے جس نے خیر خواہی کی درسگاہ میں تعلیم حاصل کی ہو، ورنہ وہ ان علوم سے بے بہرہ رہے گا۔

سوڑھنی کے محمد مطلوب عالم مطلوب (۳۸ سال) مرکز تعمیر انسانیت کے نائب صدر ہیں۔ کے صدر، جلال الدین سلمی ہیں، جناب ماسٹر اکرام الدین صاحب اس ادارہ کے سکریٹری ہیں، جناب محمد نظام الدین ضیعی اس کے ناظم ہیں۔ یہ لوگ الرسالہ مشن سے پورا اتفاق رکھتے ہیں۔ جناب محمد مطلوب عالم مطلوب نے اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا: "میں جب مولانا صاحب کی کتاب کا مطالعہ کرتا تھا تو میری یہ خواہش ہوتی تھی کہ ان سے ملوں۔ یکم نومبر کی صبح کو پٹنہ ریلوے اسٹیشن پر پہلی بار مولانا صاحب کو دیکھا تو اچانک میری آنکھوں سے آنسو امل پڑے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جس طرح ان کی کتابوں میں ایسی چیز ملتی تھی جس کو پہلے میں نے کہیں اور نہیں پڑھا تھا اسی طرح ان کو دیکھ کر یہ محسوس ہوا کہ میں ایک ایسا چہرہ دیکھ رہا ہوں جیسا چہرہ میں نے پہلے کہیں اور نہیں دیکھا تھا۔ سفر کے دوران میں نے دیکھا کہ مولانا صاحب اپنا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرتے۔ وہ اپنے ہر لمحہ کا استعمال انسانیت کو پیغام پہنچانے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ دو روز جو میں نے مولانا کے ساتھ گزارے ہیں وہ میری زندگی کے قیمتی لمحات تھے"۔

۲ نومبر کی شام کو ہم لوگ موتی ہاری پہنچے۔ ہم لوگوں کا پہلا پڑاؤ ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب کی رہائش گاہ پر تھا۔ اپنی زندگی کے حالات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے اسکول کا کام ۱۹۲۵ء میں شروع کیا۔ اس وقت یہاں ایک روپے میں ایک من دھان ملتا تھا۔ میں نے پوچھا کہ آج یہاں ایک من دھان کی قیمت انہوں نے کہا آج یہاں ایک من دھان کی قیمت ڈیڑھ سو روپے ہے۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ دینی اورملی ادارہ بنانا ۱۹۲۵ء میں زیادہ آسان تھا یا آج زیادہ آسان ہے۔ پھر میں نے کہا کہ واقعات بتاتے ہیں کہ یہ کام پہلے کے مقابلہ میں آج زیادہ آسان ہے۔ چنانچہ آج نہ صرف بہار میں بلکہ سارے ملک میں پہلے سے سو گنا زیادہ دینی اور تعلیمی ادارے قائم ہیں اور ترقی کر رہے ہیں۔

میں نے کہا کہ ماضی اور حال کے اس فرق پر غور کیجئے تو اس سے بہت بڑا سبق معلوم ہوتا ہے۔ کہ معاشی مسائل یا زمانی تبدیلیاں دین کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہیں۔ مسائل خواہ کتنے ہی زیادہ ہوں اور زمانے میں خواہ کتنی ہی تبدیلیاں آجائیں، مگر دین اور ملت کا قافلہ بدستور آگے بڑھتا رہے گا، قیامت سے پہلے اس کے تیز رفتار سفر کو کوئی روکنے والا نہیں۔

مسٹر ارشد شعیب ہاشمی (۳۰ سال) ایک انجینئر ہیں۔ وہ سروس نہیں کرتے۔ وہ خود اپنی فرم چلا رہے ہیں۔ ان سے میری ملاقات ڈاکٹر ایم اے رحمن کے مکان پر ہوئی۔ ان سے میں نے پوچھا کہ اپنی زندگی کا کوئی خاص تجربہ بتائیے۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیم کی تکمیل کے بعد پہلے میں نے اپنی قوم میں کام مگر مجھے نہایت تلخ تجربہ ہوئے۔ اپنے لوگوں کے درمیان کام کرتے ہوئے گھاٹا بھی اٹھانا پڑا۔ اور باتیں بھی سننی پڑیں۔ آخر کار میں نے اپنے کام کا میدان بدل دیا۔ وہ ایک آرلکٹ ہیں۔ وہ بلڈنگ کا نقشہ بھی بناتے ہیں اور تعمیر بھی کراتے ہیں۔ اب وہ زیادہ تر ہندوؤں میں کام کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں مجھے بالکل مختلف قسم کا تجربہ ہو رہا ہے۔ یہاں میرے کام کی قدر ہوتی ہے۔ یہ لوگ مجھ پر اعتماد کرتے مالی لین دین میں وہ قابل اعتماد ثابت ہوتے ہیں۔ مسٹر ارشد شعیب ہاشمی نے کہا کہ ہماری قوم میں ایک عام کمزوری یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنے آپ کو لیڈر سمجھتا ہے۔ کوئی شخص کسی دوسرے کی بات ماننے کو تیار نہیں۔

مولانا عبدالرحیم امدادی صاحب نے اس علاقہ میں مسلسل دورہ کر کے یہاں الرسالہ مشن کا ماحول انہوں نے کہا کہ میرے پاس وسائل کے نام سے کوئی چیز نہ تھی۔ اس کے باوجود میں دیوانہ وار الرسالة کے لئے گھومتا رہا۔ نہ صرف بھوک پیاس کو بلکہ ہر قسم کی تکلیفوں کو مجھے سہنا پڑا۔ آخر کار ایک وقت آیا جب کہ میرے لئے دروازے کھل گئے اور پورے علاقہ میں ساتھیوں اور مددگاروں کی ایک فوج مجھے

حاصل ہو گئی۔ اپنا تجربہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دین کے کام میں اللہ کی مدد ضرور آتی ہے مگر وہ اس وقت آتی ہے جب کہ آدمی کے اوپر سو میں سے ننانوے مرحلے گزر چکے ہوں۔ اللہ کی مدد سوویں مرحلہ پر آتی ہے، اس سے پہلے نہیں۔

۳ نومبر کی صبح کو ہم لوگ ڈاکٹر اے رحمن ماڈل اکیڈمی دیکھنے کے لئے گئے۔ مسٹر سہیل اختر اس کے پرنسپل ہیں۔ وسیع اور شاداب کیمپس میں ایک خوبصورت زیر تعمیر مسجد ابھر رہی ہے جو میرے جیسے آدمی کے لئے خاص طور پر جاذب نظر ہے۔ اس رحمن اکیڈمی اسکول کی ایک خاص صفت یہ ہے کہ یہاں ہندو مسلم کی کوئی تفریق نہیں۔ یہاں مسلم بچوں کے ساتھ ہندو بچے بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ کہ اس اسکول میں اردو زبان لازمی ہے اور ہندو بچے بھی شوق کے ساتھ اردو پڑھتے ہیں۔ ان کے والدین اس پر نہایت خوش ہیں۔ یہاں پڑھنے والے ہندو بچوں کی تعداد اس وقت تقریباً پچاس ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کا یہ تعلیمی ادارہ وہ کام کر رہا ہے جو قومی یکجہتی (نیشنل انٹیگریشن) کے معاملہ میں بہت اہم ہے۔ یعنی مشترک زبان۔ جس ملک کی قومی زبان ایک ہو، وہاں قومی یکجہتی اپنے آپ قائم ہو جاتی ہے، جیسے جاپان۔ جاپانیوں کی زبان ایک ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جاپان میں کسی مزید کوشش کے بغیر قومی یکجہتی اپنے آپ قائم ہے۔

ڈاکٹر اے رحمن اس تعلیمی اکیڈمی کے فاؤنڈر ہیں۔ ۲ نومبر کی شام کو یہاں ایک جلسہ ہوا جس میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔ میں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ قرآن وحدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کا نظام اللہ نے اس طرح بنایا ہے کہ ایک عسر پیدا ہوتا ہے تو عین اسی وقت دویسر سامنے آجاتے ہیں۔ مسئلہ پیدا ہو تا ہے تو دگنا تعداد میں اس کے حل کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ اس حقیقت کو حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: لن يغلب عسر يسرين۔

اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے وہ کوئی پراسرار بات نہیں، وہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ آدمی اپنے ذاتی تجربہ سے اس کو سمجھ سکتا ہے۔ اگر آپ راستہ چل رہے ہوں اور کوئی خطرہ پیش آجائے تو آپ دگنا طاقت سے دوڑنے لگتے ہیں۔ اگر آپ کو کوئی مسئلہ پیش آجائے تو آپ دگنا محنت کرنے لگتے ہیں تاکہ زیادہ محنت کے ذریعہ اپنے مسئلہ کو حل کر سکیں۔ یہ معاملہ فرد کے ساتھ بھی پیش آتا ہے اور قوم کے اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی مشکل سامنے آتی ہے تو آدمی کا دماغ زیادہ متحرک ہو جاتا ہے۔ اس کی چھپی ہوئی قوتیں بیدار ہو جاتی ہیں۔ وہ اپنی عام طاقت سے زیادہ عمل کر کے ایک غیر معمولی انسان بن جاتا ہے۔

میں نے کہا کہ مسلمانوں میں جو اصل کمی ہے وہ یہ ہے کہ ان کے درمیان تھنکنگ پراسس (thinking process) رک گیا ہے۔ آج مسلمانوں کی تعداد ایک بلین سے زیادہ ہے۔ ان کے پاس پٹرول کی صورت میں دولت کے خزانے ہیں۔ تقریبا ساٹھ ملکوں میں ان کا سیاسی اقتدار قائم ہے، وغیرہ وغیرہ اس کے باوجود وہ ساری دنیا میں بے قیمت ہورہے ہیں۔ اس کی واحد وجہ یہی ہے کہ مسلمانوں میں سب کچھ ہے مگر ایک بنیادی چیز ان کے درمیان مفقود ہو گئی ہے۔ اور وہ ہے سوچنے کا عمل (تھنکنگ پراسس)۔ ڈاکٹر اے رحمن ماڈل اکیڈمی کے جلسہ کے بعد اخبار کے کئی نمائندے آگئے۔ انہوں نے انٹرویو ایک اخبار نویس نے پوچھا کہ آپ کا تعلق کس جماعت سے ہے۔ میں نے کہا کہ میرا تعلق امت مسلمہ پوری امت مسلمہ میری جماعت ہے۔ مذکورہ اخبار نویس نے کچھ دیر کے بعد میرے کہنے پر اپنے لکھے ہوئے کو دہرایا تو معلوم ہوا کہ انہوں نے میرا جواب اس طرح لکھا تھا: میں پوری امت مسلمہ کا رہبر میں ان کے اس لکھنے پر سخت حیران ہوا۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں کی غلط رپورٹنگ ہی موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ میں نے آپ کے سوال کے جواب میں یہ کہا تھا کہ میرا تعلق پوری امت مسلمہ سے اور آپ نے اس کو ان الفاظ میں لکھا کہ میں پوری امت مسلمہ کا رہبر ہوں۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اخبار کی رپورٹنگ میں کس طرح بات بدل جاتی ہے۔

ایک اخباری نمائندہ نے سوال کیا کہ آپ کے بارے میں طرح طرح کے الزام لگائے جاتے ہیں۔ مثلاً آپ آر ایس ایس کے آدمی ہیں۔ ان الزامات کے بارے میں آپ کا کیا جواب ہے۔ میں نے کہا کہ اس قسم کے الزامات صرف مجھ سے خاص نہیں ہیں۔ جب بھی کوئی آدمی کام کرنے کے لئے اٹھتا ہے تو لوگ اس کو اسی طرح اپنے الزامات کا شکار بناتے ہیں۔ مثلاً سر سید، اقبال، مولانا حسین احمد مدنی، ابو الکلام آزاد، مولانا علی میاں، وغیرہ۔ ان میں سے کوئی بھی شخص اس قسم کے الزامات سے بچا ہوا نہیں، حتیٰ کہ تبلیغی جماعت جو ایک بے ضرر جماعت ہے اس پر بھی بڑے بڑے الزامات لگائے گئے۔ مثلاً یہ کہ وہ سی آئی اے کے ایجنٹ ہیں، وہ مسلمانوں کو عمل کے میدان سے ہٹانے کی سازش کر رہے ہیں۔ وہ مسلمانوں میں غلط دین پھیلا رہے ہیں، وغیرہ۔

محمد ثناء اللہ ندوی شریک سفر تھے۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے الرسالہ کی تحریریں پڑھی ہیں اور اب صاحب الرسالہ کے ساتھ سفر میں نکلے ہیں اس بارہ میں اپنا تاثر بتائیے۔ ان کا جواب ان الفاظ میں تھا: ”میں نے بہت سارے مصنفین کی کتابیں پڑھی ہیں، لیکن مولانا وحید الدین کی تصانیف، ان کا الرساله، بالخصوص ان کی چند روزہ صحبت نے میرے اندرون میں، میری فکر میں اور میرے جذبہ دعوت میں

انقلاب پیدا کر دیا۔ میں مولانا کو اس دور کا عظیم مفکر، حقیقی داعی، خادم قوم و ملت مانتا ہوں اور ان کے مشن سے مکمل اتفاق رکھتا ہوں۔ جناب ایم ٹی خان (۵۲ سال) بہار کے سفر میں ساتھ تھے۔ سفر کے بارے میں ان کے تاثرات دریافت کئے گئے تو ان کا جواب ان الفاظ میں تھا: ”مولانا سے ملنے اور سننے کے بعد ہم لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ زندگی میں بہتری لانے کے لئے مولانا کی کتابوں کو پڑھنا اور زندگی میں اصلاح کرنا ضروری ہے۔ نے اس بات کو محسوس کیا کہ الرسالہ مشن ہی سے ان کو تعمیری حل مل سکتا ہے۔ کئی لوگ جو سننے سے پہلے سخت تنقیدی انداز اختیار کئے ہوئے تھے، سننے کے بعد ان کا وہ انداز باقی نہ رہا۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ صاحب الرسالہ کے ساتھ سفر کرنے کے بعد میرا ایک احساس یہ ہوا کہ اس مشن کی گہرائی کو صرف کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہی سمجھ سکتے ہیں، عوام نہ اس کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ اختیار کر سکتے ہیں“۔ ڈاکٹر اے رحمن ماڈل اکیڈمی میں جو لوگ شریک ہوئے ان میں سے ایک سینئر وکیل مسٹر اے ایم انہوں نے تقریر سننے کے بعد ایم ٹی خان سے کہا: ”مجھے مولانا کے بارے میں صرف اخبار میں کنٹرولور شیل آرٹیکل پڑھنے کو ملے تھے لیکن اب سننے کے بعد مجھے یہ محسوس ہوا کہ مولانا تو صرف صحت مند فکر اور مثبت سوچ کی بات کرتے ہیں۔ جناب ایم ٹی خان صاحب کے متعلق مشہور ہے کہ ان کو غصہ نہیں آتا۔ ان سے گفتگو کے بعد اندازہ ہوا کہ اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ غصہ کی صفت ان کے اندر سرے سے موجود ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایک تکنیک دریافت کی ہے اور جب بھی کسی کی کوئی ایسی بات سامنے آتی ہے جو غصہ دلانے والی ہو تو میں اس تکنیک کو استعمال کر کے اپنے آپ کو غصہ سے بچا لیتا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ تکنیک یہ ہے کہ جب دوسرا شخص غصہ میں آکر اشتعال انگیز بات کرتا ہے تو میں سوچنے لگتا ہوں کہ میں اس کی سطح پر کیوں یہ احساس مجھے اپنی سطح کو برقرار رکھنے میں مددگار بن جاتا ہے۔

میں نے ایک صاحب سے کہا کہ زندگی ایک امتحان ہے انہوں نے کہا کہ ہاں۔ پھر میں نے سوال کیا کہ یہ مشکل امتحان ہے یا آسان امتحان۔ انہوں نے کہا کہ بہت مشکل امتحان ہے۔ میں نے کہا آپ نے ٹھیک زندگی بلاشبہ ایک سخت مشکل امتحان ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہر انسان اپنے مزاج کے اعتبار سے کسی حد بندی کے بغیر جینا چاہتا ہے، وہ چاہتا ہے کہ میرے اوپر کوئی پابندی نہ ہو، میں جو چاہوں کروں اور جو چاہوں نہ کروں۔ مگر دنیا کی زندگی میں ایک چیز اس کی خواہش کے خلاف ہمیشہ روک بنی رہتی ہے۔ وہ یہ کہ اس کو ایک ایسی دنیا میں جینا پڑتا ہے جس کے خود اپنے مستقل قوانین ہیں۔ انسان ان قوانین کو بدل نہیں

وہ مجبور ہے کہ وہ کسی تبدیلی کے بغیر ان کو مان لے۔ دنیا میں صرف پابند زندگی ممکن ہے، آزاد زندگی یہاں سرے سے قابلِ عمل ہی نہیں۔

جناب نجم الدین ہاشمی صاحب جنرل سیکریٹری انجمن اسلامیہ موتی ہاری ۲ نومبر کو شام کے پروگرام میں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کی ایک بات کی وضاحت چاہتا ہوں۔ آپ نے تقریر میں کہا تھا کہ دنیا میں کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ اپنی منفی سوچ کو مثبت سوچ میں بدلا جائے۔ یہ کام کس طرح میں نے کہا کہ یہ کام تو ہر آدمی ہر روز کرتا ہے۔ اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو موجودہ دنیا میں وہ زندہ ہی نہیں رہ سکتا۔ فرق صرف یہ ہے کہ عام لوگ وہاں اپنی مثبت سوچ بناتے ہیں جہاں ان کا ذاتی انٹرسٹ زد میں مومن وہ ہے جو اصول کی بنیاد پر، نہ کہ ذاتی انٹرسٹ کی بنیاد پر اپنی منفی سوچ کو مثبت سوچ بنا لے۔ ایک صاحب نے کہا کہ وہ مستقل طور پر ٹینشن میں رہتے ہیں۔ اس کا سبب انہوں نے یہ بتایا کہ ان کا خاندان مشترک خاندان ہے۔ میں نے کہا کہ مشترک خاندان ٹینشن سے خالی نہیں ہو سکتا۔ حتیٰ کہ صالح لوگوں کے لئے بھی نہیں۔ پھر میں نے کہا کہ آدمی کے لئے دنیا میں ہمیشہ دو میں سے ایک کا انتخاب رہتا ہے مگر آدمی تیسرا انتخاب لیتا ہے جو ممکن نہیں۔ اسی راز کو جاننے کا نام کامیابی ہے اور اسی راز کو نہ جاننے کا نام ناکامی۔ . میں نے کہا کہ آپ کے لئے دو میں سے ایک کا انتخاب ہے۔ اگر آپ مشترک مکان میں رہنا چاہتے ہیں تو آپ پریکٹیکل اپروچ اختیار کرتے ہوئے اپنے کو آخری حد تک بے شکایت بنالیں۔ دوسرا انتخاب یہ ہے کہ آپ مشترک مکان کو چھوڑ دیں اور اپنے لئے ایک الگ مکان حاصل کریں۔ آپ نے ان دو کے بجائے تیسرا انتخاب لے رکھا ہے۔ یعنی آپ چاہتے ہیں کہ آپ ایک مشترک خاندان میں رہیں مگر آپ کے لئے کسی کی طرف سے کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔ یہ تیسرا انتخاب ہے۔ اور اس طرح کے معاملہ میں تیسرا انتخاب ممکن ہی نہیں۔

جناب ڈاکٹر سہیل اختر صاحب علیگ ۲ نومبر کو شام کے جلسہ میں موجود تھے۔ انہوں نے میری اس تقریر کے بارے میں سوال کیا کہ آپ نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ مسلمانوں کے اندر سے مایوسی اور شکایت کو دور کرنا ہمارا مشن ہے۔ یہ مایوسی اور شکایت مسلمانوں کے اندر سے کیسے نکلے گی۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ صبر کا اسلامی تصور کیا ہے۔ میں نے کہا کہ مایوسی اور شکایت کو ختم کرنے کا نسخہ اسلام کے مطابق قناعت قناعت کے لفظ کو عام طور پر بہت محدود مفہوم میں لیا جاتا ہے۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ قناعت ایک صحت مند مزاج ہے جس کا تعلق پوری زندگی سے ہے۔

کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ ملا ہوا ہے اس پر راضی رہتے ہوئے اپنے عمل کا نقشہ بنانا۔ وہ چیز جس کو مایوسی اور شکایت کہا جاتا ہے وہ ہمیشہ عدم قناعت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ یعنی ملے ہوئے پر راضی نہ ہونا اور نہ ملے ہوئے پر اپنی نظریں جمائے رکھنا۔ جہاں تک صبر کا تعلق ہے تو صبر اسلام میں صرف ایک طریق عمل نہیں، بلکہ وہ ایک عبادت ہے۔ اسلامی صبر یہ ہے کہ حالات خواہ کتنے ہی ناخوش گوار ہوں، آپ اپنے آپ کو منفی سوچ سے بچائیں اور غیر متاثر سوچ کے تحت اپنے عمل کا نقشہ بنائیں۔

آزادی سے پہلے کے ہندوستان میں یہ عام رواج تھا کہ مسلمانوں کے تعلیمی اداروں میں ہندو نوجوان بھی پڑھا کرتے تھے۔ یہ روایت اب بھی بہار میں کسی قدر باقی ہے۔ اس سلسلہ میں ایک دلچسپ مثال ٹائمس آف انڈیا کے پٹنہ ایڈیشن (۹ ستمبر ۲۰۰۰) میں شائع ہوئی ہے۔ یہ واقعہ مزید تفصیل کے ساتھ ٹائمس آف انڈیا کے نئی دہلی ایڈیشن (۱۲ ستمبر ۲۰۰۰) میں چھپا ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بہار کے ضلع گوپال گنج (کھیتاپور) میں ایک مسلم مدرسہ قائم ہے جس میں ۴۰۰ طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان میں سے ۷۰ ہندو ایک سابق ہندو ایم ایل اے نے بھی اپنے بچے کو اس مدرسہ میں داخل کر لیا ہے۔ ٹائمس آف انڈیا کی یہ رپورٹ اگلے صفحہ پر نقل کی جارہی ہے۔

جناب مولانا محمد مطلوب (گیا) اور محمد اکرام الدین صاحبان اس سفر میں ہمارے ساتھ تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم کو الرسالہ نہیں ملا تھا تو ہمارا حال یہ تھا کہ ہمارے سینہ میں دوسروں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکتی رہتی تھی۔ میرے غصہ کا حال یہ تھا کہ اگر کوئی مجھے ایک گالی دے تو میں اسے دس گالی دوں اگر کوئی مجھے ایک ڈنڈا مارے تو میں اس کو دس ڈنڈے ماروں۔ اسی کو میں اپنے لئے کمال سمجھتا تھا۔ تھا کہ یہی بہادری ہے اور ایسا نہ کرنا بزدلی۔ مگر الرسالہ کے مطالعہ سے میرے سینہ میں حسد و انتقام کی بھڑکتی ہوئی آگ بجھ گئی۔ مجھے یہ تجربہ ہوا کہ زندگی دوسروں سے محبت کرنے کا نام ہے نہ کہ ان سے نفرت کرنے کا نام۔ ۳ نومبر کو ہم لوگ مدرسہ حسینیہ بیلواڑہ پہنچے۔ یہاں لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ یہ مدرسہ اس علاقہ میں تعلیم پھیلانے کا کام کر رہا ہے۔ مدرسہ کے پر امن تعلیمی ماحول کو دیکھ کر خوشی ہوئی۔ لوگوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ تعلیم ہی احیاء ملت کے کام کا آغاز ہے۔ جب تک تعلیم لوگوں کے اندر عام نہ ہو جائے، دوسرا کوئی بھی کام نہیں کیا جا سکتا۔ قوم کو تعلیم یافتہ بنائے بغیر دوسرے دوسرے ایشوپری لوگوں کو اٹھانے کی کوشش کرنا صرف شخصی مقبولیت کا ذریعہ ہے، وہ ملت کی تعمیر کا ذریعہ نہیں۔ جناب عبدالمجید صاحب (۷۰ سال) بتایا کی ایک خاص شخصیت ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے کئی ۱۹۳۲ میں وہ ندوہ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ جب کوئٹ انڈیا کی تحریک شروع ہوئی تو

Printed page