To meet my girl friend.
Al-Risala, March 2002, pp. 55–58
By Maulana Wahiduddin Khan
کھڑکی کے پیچھے بیٹھی ہوئی خاتون نے اس کے جواب میں یہ نہیں کہا کہ گرل فرینڈ سے ملنے کے لئے ہم ویزا نہیں دیتے۔ بلکہ اس کی بات کو ایک معقول جواب کے طور پر لیتے ہوئے صرف یہ پوچھا کہ اس سوئس لڑکی سے تمہاری ملاقات کہاں ہوئی۔ نو جوان نے کہا کہ آسٹریلیا میں۔ اس کے بعد خاتون کلرک نے کہا کہ قاعدہ کے مطابق تم اس لڑکی کی طرف سے گارنٹی لیٹر منگواؤ پھر تم کو ویزا جاری کر دیا جائے گا۔
مغربی کلچر کے مطابق، یہ ویسا ہی ایک سادہ جملہ ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ میں اپنی بیوی سے ملنے سوئزرلینڈ جارہا ہوں۔ مغربی کلچر میں گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کی حیثیت عملاً میاں بیوی کی مانند ہو چکی ہے اور شراب کی حیثیت وہی ہے جو ہمارے یہاں پانی کی حیثیت ہے۔
میں مبتلا ہونے کے باوجود مغربی کلچر کا انسان سماجی اخلاق کے معاملہ میں موجودہ مذہبی لوگوں سے بہت زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان لوگوں نے عورت اور شراب کو ذاتی آزادی کی چیز قرار دے دیا ہے۔ لیکن جہاں تک سماجی اور کاروباری اخلاقیات کا تعلق ہے، اس کو وہ سختی کے ساتھ ڈسپلن کا معاملہ سمجھتے ہیں۔ اس تقسیم کی بنا پر انہوں نے شخصی آزادی کے باوجود اجتماعی ڈسپلن کو برقرار
۲۴ جولائی کی رات کو ۱۰ بجے گھر سے دہلی ایئر پورٹ کے لئے روانگی ہوئی۔ میری زبان سے یہ مسنون دعا نکلی: اللهم انت الصاحب في السفر وانت الخليفة في الأهل (خدایا تو سفر میں میرا ساتھی ہے اور تو میرے بعد میرے گھر والوں کا نگہبان ہے)۔ اس قسم کی دعائیں جو حدیثوں میں موجود ہیں وہ مومن کے لئے بے حد قیمتی تحفہ ہیں۔ ان دعاؤں کی حیثیت یہ نہیں ہے کہ وہ کچھ پراسرار الفاظ کا مجموعہ ہیں جن میں طلسماتی خواص چھپے ہوئے ہیں۔ بلکہ وہ مومنانہ جذبات کا لفظی اظہار یہ دعائیں بتاتی ہیں کہ زندگی کے مختلف مواقع پر اللہ کے کسی بندے کے دل میں اپنے رب کے لئے کس قسم کے احساسات جاگنے چاہئیں ۔ یہ ایک سچے بندے کی طرف سے خوف اور محبت کا تحفہ ہے جس کو وہ نفسیاتی سطح پر اپنے رب کے لئے بھیجتا ہے۔
دہلی ائر پورٹ پر ڈاکٹر کپلا (ہندو خاتون) اور رین پوچے جی (بدھسٹ) پیشوا ملے۔ دونوں بھی سوئزرلینڈ کی اس کانفرنس میں شرکت کے لئے جا رہے تھے۔ ہم لوگ دیرتک ائر پورٹ کے لاؤنج میں بیٹھے ہوئے مختلف موضوعات پر بات کرتے رہے۔
رین پوچے جی ایک مشہور بدھسٹ ہیں۔ حال میں وہ تبت کی پراوزنل گورنمنٹ یا مہاجر گورنمنٹ (Government in exile) کے لئے مہاجر تبتیوں کے اتفاق رائے سے پرائم منسٹر مقرر ان سے کئی بار میری ملاقات ہو چکی ہے۔ بدھسٹ خدا کو نہیں مانتے۔ اس کے باوجود میں نے دیکھا کہ رین پوچے جی میں تواضع (modesty) ہے۔
میں نے سوچا کہ رین پوچے جی کی اس تواضع کا راز کیا ہے۔ میری سمجھ میں آیا کہ تواضع کا راز
یہ ہے کہ آدمی اپنے سے بر تر کسی حقیقت کو دریافت کر سکے۔ مومن اللہ کو ایک بر تر ہستی کے طور پر دریافت کرتا ہے۔ یہ دریافت اس کو متواضع بنا دیتی ہے۔ سائنس داں علم کو ایک بر تر حقیقت کے طور پر دریافت کرتا ہے۔ اسی طرح سے بدھسٹ لوگ انسانیت کو بر تر حقیقت کے طور پر مانتے ہیں۔ چیز ان کے لئے تواضع کی نفسیات پیدا کرنے کا ذریعہ بن گئی ہے۔
۲۴ جولائی کو ائر پورٹ پر دو رکعت نماز پڑھی۔ سجدہ کی حالت میں ایک عجیب تجربہ ہوا۔ محسوس ہوا کہ سجدہ کسی انسان کی طرف سے اپنے رب کے لئے سب مشن (submission) یا سرنڈر (surrender) کی آخری صورت ہے۔ میں نے کہا کہ خدایا، سر فگندگی کی اس کے آگے بھی کوئی صورت ہوتی تو میں تیرے لئے اس کو کرتا تا کہ میں تیری رحمتوں کو حاصل کر سکوں۔ نماز کے بعد سوچتے ہوئے ایک عجیب حقیقت سمجھ میں آئی۔ میری سمجھ میں آیا کہ سجدہ اظہار عبودیت کا آخری ماڈل (final model) ہے۔ اس دنیا میں اللہ نے جو چیزیں پیدا کی ہیں ان میں سے ہر ایک اپنے آخری ماڈل پر ہے۔ چیونٹی، شیر، دریا، پہاڑ، درخت، انسان، غرض ہر چیز، حتی کہ گھاس بھی اپنے آخری ماڈل پر ہے۔ کوئی بڑے سے بڑا آرٹسٹ بھی کسی چیز کا کوئی اور ماڈل تیار نہ کر اس دنیا کی ہر چیز اتنی مکمل ہے کہ اس کے آگے تکمیل کا کوئی اور درجہ پانا انسانی عقل کے لئے ممکن
یہی معاملہ اسلامی عبادت کا ہے جو اللہ نے انسان کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ اہم جزء سجدہ ہے جس کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ واسجد واقترب ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سجدہ انسانی عبودیت کے اظہار کا آخری ماڈل ہے، اس کے آگے کوئی اور ماڈل قابلِ تصور نہیں۔ اس لئے وہ موجودہ دنیا میں قربتِ الہی کا بھی آخری لمحہ ہے۔
دہلی سے نیویارک کا سفر سوئس ائر کی فلائٹ کے ذریعہ ہوا۔ یہ ایک ڈائرکٹ فلائٹ تھی جو دہلی سے نیویارک تک کا سفر ساڑھے سات گھنٹہ میں طے کرتی ہے۔
میرے پاس فرسٹ کلاس کا ٹکٹ تھا۔ جب میں اس کے فرسٹ کلاس میں پہنچا تو تھوڑی دیر
کے لئے عجیب احساس ہوا۔ یہ ایک خوبصورت کیبن تھی۔ جدید طرز کی انتہائی آرام دہ سیٹ، ہر قسم کے کھانے پینے کا عمدہ سامان، بہترین سروس کے لئے ہر وقت ائرسٹپس موجود، وغیرہ وغیرہ۔ مگر فرسٹ کلاس کا یہ ظاہری سحر(fascination) صرف تھوڑی دیر کے لئے تھا۔ جلد ہی وہ بالکل ختم ہو گیا۔ میری طبیعت گھبرا اٹھی اور میں چاہنے لگا کہ جلد سفر ختم ہو اور میں اس خوبصورت قید خانہ سے نکل کر باہر کی کھلی دنیا میں پہنچ جاؤں۔ اپنے اس احساس پر غور کرتے ہوئے مجھے وہ آیت یاد آئی جو اہل جنت کی زبان سے قرآن میں آئی ہے۔ نتبوأ من الجنة حيث نشاء (الزمر ۷۳)۔ سوچا کہ خواہ کوئی جگہ بظاہر کتنی ہی زیادہ پر راحت اور پر عیش کیوں نہ ہو، اگر وہ محدود ہو تو انسان بہت جلد اس سے اکتا جائے گا۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے لامحدود وسعتوں میں جینا چاہتا ہے۔ انتہائی حد تک ایک آزادی پسند مخلوق ہے۔ وہ اپنے جینے کے لئے ایک ایسی جگہ چاہتا ہے جہاں نہ صرف ہر قسم کا عیش و آرام موجود ہو بلکہ اسی کے ساتھ وہ ایسی جگہ ہو جو محدودیتوں سے پاک ہو۔ وسیع جگہ صرف جنت ہو سکتی ہے جس کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے عرضها السماوات والارض (آل عمران ۱۳۳)
۲۴ جولائی ۲۰۰۱ کو دہی سے نیورک کی طرف پرواز کرتے ہوئے کچھ چیزیں پڑھیں۔ ائر کے فلائٹ میگزین میں ایک مضمون اسپورٹس (sports) پر تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ کھیل کی دنیا میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی اچانک ایک بڑی کامیابی حاصل کرتا ہے اور وہ زیرو سے ہیرو بن جاتا اس مضمون کا عنوان تھا: