From Zero to Hero.
Al-Risala, March 2002, pp. 58–62
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ یہی معاملہ بہت سے لوگوں کے ساتھ برعکس صورت میں ہونے بہت سے لوگ دنیوی کمالات دکھا کر آج کی مادی دنیا میں ہیرو بنے ہوئے ہیں۔ ان کا چرچا ہوتا ہے۔ ان کے پاس ہر قسم کے مادی ساز و سامان ہیں۔ لوگ ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ایک وقت آنے والا ہے جب کہ وہ اپنی یہ شان وشوکت کھو دیں گے۔ وہ اچانک ہیرو سے زیرو
بن جائیں گے۔ مگر انسان آج کے دن میں اتنا گم ہے کہ اسے کل کے دن کی کوئی خبر نہیں۔ راستہ میں کچھ اخبارات دیکھے۔ ہیرلڈ انٹرنیشنل ٹ্রিبیون کے زیورک ایڈیشن (۲۲ جولائی) میں انڈونیشیا کے معزول صدر عبدالرحمن وحید پر ایک تفصیلی رپورٹ چھپی تھی۔ عبدالرحمن وحید کے غیر جمہوری اور آمرانہ رویہ کا تذکرہ کرتے ہوئے اخبار نے یہ الفاظ لکھے تھےــــــ یہ ستم ظریفی کی بات ہے کہ ایک شخص جو جمہوریت کا چیمپئن تھا اس نے اپنی پوزیشن کو بچانے کے لئے غیر جمہوری طریقے
It is ironic that a person who was a champion of democracy tried to protect his position by undemocratic means. ہمارا جہاز ۲۵ جولائی ۲۰۰۱ کی صبح کو ٹھیک وقت پر زیورک پہنچ گیا۔ جہاز جب ایئرپورٹ کے قریب پہنچ کر نیچے اتراتو چاروں طرف سر سبز مناظر دکھائی دے رہے تھے۔ یہ ایک خوبصورت دنیا تھی جو گویا فطرت کے سبزہ زار ماحول میں بنائی گئی تھی۔ اس کو دیکھ کر میری زبان سے نکلا: It is like seeing paradise from a distance. مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ نے ایک نہایت حسین اور معیاری دنیا بنائی جہاں انسان ابدی طور پر پرمسرت زندگی گزار سکے۔ یہ جنت ہے۔ پھر اس نے ایک اور دنیا موجودہ زمین کی صورت میں ہماری زمین ساری کائنات میں ایک انتہائی انوکھا استثناء ہے۔ جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے، اس دنیا میں جنت کے مشابہہ تمام چیزیں رکھ دی گئی ہیں (البقرہ ۲۵)۔ گویا یہ دنیا کامل جنت کا ایک ناقص تعارف ہے۔ یہ دنیا انسان کو اس لئے دی گئی ہے تاکہ وہ اس کے اندر جنت کی ابتدائی جھلک دیکھے اور پھر اس کا شکر ادا کر کے ابدی جنت کا مستحق بنے (لئن شکرتم لازیدنکم) ابراہیم ۷۔ ۲۵ جولائی کی صبح کو ہم لوگ زیورک ایئر پورٹ پر تھے۔ یہ ایئر پورٹ نہایت منظم اور نہایت ٹرانسپورٹ کا عمدہ انتظام ہے۔ ایئر پورٹ سے نکلتے ہی بس مل جاتی ہے۔ ساتھ ایئر پورٹ کے ٹھیک نیچے ریلوے اسٹیشن ہے۔ یہاں سے ہر مقام کے لئے آرام دہ ٹرین حاصل کی جاسکتی ہے۔
دہلی اور نیو یارک کے ٹائم میں ساڑھے تین گھنٹہ کا فرق ہے۔ صبح ساڑھے سات بجے ہم لوگ نیو یارک سے کنڈرسٹگ (Kandersteg) کے لئے روانہ ہوئے۔ یہ ایک پہاڑی تفریح گاہ (hill resort) ہے۔ یہیں پر قیام کا انتظام تھا۔ ڈھائی گھنٹے کا یہ سفر ایسا تھا گویا کہ ہم ایک آفاقی پارک کے درمیان سے گزر رہے ہوں۔ راستہ کے دونوں طرف پر کشش ہریالی اور سرسبز مناظر کے درمیان جگہ جگہ خوبصورت مکانات اور برفیلی پہاڑیاں، ایسا محسوس ہوا جیسے کہ ہم کسی خواب کی دنیا سڑک اتنی عمدہ تھی کہ ہماری گاڑی سڑک پر پھسلتی ہوئی چل رہی تھی۔ ماحول میں نہ دھواں تھا اور نہ شور۔
سوئز رلینڈ یورپ کے تقریبا درمیان میں ہے اس کے چاروں طرف فرانس، جرمنی، اٹلی اور آسٹریہ واقع ہیں۔ وہ افغانستان کی طرح ایک محصور ملک (landlocked country) ہے۔ لینڈ دور جدید کا ایک اعلیٰ ترقی یافتہ ملک ہے جہاں ہر طرف امن اور خوشحالی کا دور دورہ ہے۔ افغانستان برعکس طور پر ایک ایسا تباہ ملک بنا ہوا ہے جہاں خود افغانیوں کے لئے اتنی کم کشش ہے کہ وہ پہلی فرصت میں بھاگ کر دوسرے ملکوں میں چلے جاتے ہیں۔
اس فرق کا راز ایک لفظ میں استحکام (stability) ہے۔ سوئز رلینڈ کے لیڈروں نے ۱۸۱۵ میں پڑوسی ملکوں سے اپنی سرحد کو متعین کرایا۔ اس کے بعد سے آج تک وہاں کامل طور پر استحکام کا ماحول قائم جب کہ اس مدت میں افغانستان میں بار بار لڑائی جھگڑوں کے نتیجہ میں استحکام ٹوٹا رہا اس بنا پر وہاں امکانات کے باوجود ترقی نہ ہوسکی۔
سماجی اور سیاسی استحکام کوئی اتفاقی واقعہ نہیں۔ وہ شعوری ایڈجسٹمنٹ کے ذریعہ حاصل ہونے والا ایک واقعہ ہے۔ مثال کے طور پر سوئز رلینڈ میں مختلف گروہ بستے ہیں جن میں کلچر اور زبان اور مذہب کی یکسانیت نہیں، اس کے باوجود وہاں مکمل اتحاد ہے۔ اس اتحاد کا راز اختلاف کو گوارا کرنا ہے، نہ کہ اختلاف کو مٹانا۔ اس کے برعکس افغانستان میں تقریباً سارے لوگ مسلمان ہیں اور سب کی زبان بھی اس کے باوجود ان کے غیر مصالحت پسندانہ مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ وہ صدیوں سے آپس میں
لڑتے رہے ہیں اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ان کی یہ لڑائی ابھی اور کتنے دن جاری رہے گی (17 (867/EB افغانستان میں جو کچھ ہوا يا ہو رہا ہے وہ یقینی طور پر قبائلی لڑائی ہے، نہ کہ اسلامی جہاد۔ اس کانفرنس کا انعقاد کنڈ راستگ (Kandersteg) میں کیا گیا تھا۔ یہ سوئزرلینڈ کا مشہور ریزورٹ (resort) ہے۔ یہاں مختصر آبادی ہے۔ اس مختصر بستی میں ایک ہزار سے کچھ زیادہ لوگ آباد ہیں جن کی زبان عام طور پر جرمن ہے۔ یہ سوئزرلینڈ کا ایک گاؤں (village) ہے۔ مگر وہ دور جدید کی تمام بہترین سہولتوں سے آراستہ ہے۔ یہاں ایک خوبصورت ریلوے اسٹیشن بھی ہے۔ یہاں سے بیٹھ کر آپ روم اور دوسرے مقامات تک جاسکتے ہیں۔ سوئزرلینڈ کی ٹرین میں سفر کرنا بذات خود ایک تفریح کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب یہ ٹرین فطرت کے خوبصورت مناظر کے درمیان سے گزرتی ہے تو اس کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسان جنتی سفر کا خواب دیکھ رہا ہو۔
کشمیر کو برصغیر ہند کا سوئزرلینڈ کہا جاتا ہے۔ یہ بات امکان کے اعتبار سے بالکل درست مگر بدقسمتی سے کشمیر میں اس امکان کو واقعہ نہ بنایا جاسکا۔ کشمیر کے نادان لیڈروں نے اگر اپنی بے فائدہ سیاست اور جنگ جوئی سے کشمیر کے ماحول کو بگاڑانہ ہوتا تو بلاشبہہ کشمیر عملی اعتبار سے بھی آج بر صغیر ہند کا سوئزرلینڈ ہوتا۔ کشمیر کے لیڈروں نے اپنی بے دانشی کی بنا پر جس ترقی کا خواب سیاست میں دیکھا تھا، اس خواب کی تعبیر زیادہ بہتر طور پر سیاحت اور تعلیم میں موجود تھی۔ مگر یہ لیڈر اپنے روایتی ذہن کی بنا پر اس نئے امکان کو سمجھ نہ سکے۔ وہ بے فائدہ طور پر سیاست کی چٹان سے ٹکراتے رہے جب کہ عین اسی وقت سیاحت اور تعلیم جیسے تعمیری میدانوں میں ان کے لئے ہر قسم کی اعلیٰ ترقی کے دروازے کھلے ہوئے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کو خود اس کے نادان لیڈروں نے تباہ کیا ہے نہ کہ کسی مفروضہ ظالم نے۔
اس کانفرنس میں مختلف ملکوں کے لوگ تقریباً ۲۵ کی تعداد میں شریک ہوئے۔ یہ سب کے سب اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ میرا ابتدائی اندازہ یہ تھا کہ سوئزرلینڈ کی اس انٹرنیشنل کانفرنس میں شاید میرا کوئی جاننے والا نہ ہوگا۔ دہلی میں ہمارے دفتر کی طرف سے کتابوں کا ایک بنڈل دیا جا رہا تھا۔
غیر ضروری سمجھ کر اس کو اپنے ساتھ لے جانے پر راضی نہ تھا۔ مگر دفتر کے اصرار پر آخر وقت میں اس کو ساتھ رکھ لیا۔
۲۵ جولائی کو شام کے کھانے پر کانفرنس کے شرکاء سے ملاقات ہوئی۔ میرے اندازے کے خلاف معلوم ہوا کہ ان میں سے بیشتر لوگ مجھ کو جانتے تھے۔ ان میں شاید ایسے لوگ کم ہوں جنہوں نے میری کتابیں پڑھی ہوں مگر یہ لوگ میرے نام سے ضرور واقف تھے۔ میں نے جاننا چاہا کہ ان لوگوں کو میرے بارے میں یہ واقفیت کیسے ہوئی۔ معلوم ہوا کہ اس میں بڑا حصہ ہمارے مخالفین کا ہے۔ نے مجھ کو ساری دنیا میں بدنام کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح میرا نام لوگوں کے علم میں آ گیا۔ لوگوں کی طرف سے بدنامی کی مہم شہرت عام میں تبدیل ہو گئی۔ یہ وہی معاملہ ہے جس کو قرآن میں رفع ذکر (الانشراح) کہا گیا ہے۔
اس کانفرنس میں جو لوگ آئے ان میں سے ایک ملیشیا کے ڈاکٹر چندر مظفر تھے۔ موومنٹ فار اے جسٹ ورلڈ کے پریذیڈنٹ ہیں۔ انہوں نے گفتگو کے دوران بتایا کہ امریکہ سے ایک کتاب چھپی ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے میرا اور میرے مشن کا تذکرہ تفصیل کے ساتھ کیا کتاب کا نام اور اس کے مصنف کا نام یہ ہے: