Alternative Visions by Fred Dalmayr
Al-Risala, March 2002, pp. 62–63
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکٹر مظفر کے پاس یہ کتاب موجود تھی۔ انہوں نے متعلقہ صفحات کی فوٹو کاپی کرا کر ہمیں ۲۵ جولائی کو شام کے کھانے پر جن لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں ان میں سے ایک پروفیسر گریول وہ ٹمناس اکیڈمی ریویو کے ایڈیٹر ہیں۔ وہ مانچسٹر سے آئے تھے۔ انہوں نے میرے حالات اور میرے موضوع کے بارے میں تفصیل سے جاننا چاہا ۔ میں نے جو باتیں بتائیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ میری تعلیم اگر چہ اسلامی مدرسہ میں ہوئی مگر تعلیم سے فراغت کے بعد جب میں وسیع تر دنیا میں آیا تو میں مذہب سے برگشتہ ہو گیا۔ اس کے بعد حالات نے میرے اندر وہ چیز پیدا کی جس کو روح تجسس (spirit of enquiry) کہا جاتا ہے۔ چنانچہ میں نے از سر نو ہر موضوع کا مطالعہ شروع
کیا، فلسفہ و نفسیات، تاریخ، سائنس، مذہب، سماجیات اور آخر میں اسلام کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد مجھ پر یہ حقیقت منکشفت ہوئی کہ اسلام خدا کا سچا دین ہے۔ اب میں نے اسلام کو نئے یقین کے ساتھ اختیار کر لیا۔ اس کے بعد اسلام ہی میرا مستقل موضوع بن گیا۔
ایک پروفیسر صاحب نے کہا کہ آپ جو نظریہ پیش کرتے ہیں اس کی بہت سے لوگ مخالفت پھر آپ اپنے مشن کا مستقبل کیا دیکھتے ہیں۔ میں نے کہا کہ تاریخ کا یہ تجربہ ہے کہ سچ ہمیشہ جھوٹ کے اوپر غالب آتا ہے۔ حق کو ناحق کے اوپر ہمیشہ فتح حاصل ہوتی ہے۔ اس حقیقت کو ایک جملہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے :