Let truth prevail
Al-Risala, March 2002, pp. 63–79
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ اپنے نظریہ کی صداقت پر میرا یقین ہی میرے لئے اس اطمینان کی کافی وجہ ہے کہ وہ غالب ہو کر رہے گا۔ اللہ کے فضل سے اس عمل کا آغاز شروع ہو گیا ہے۔ آج دنیا میں ہر جگہ بڑی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ہم سے پورا اتفاق کرتے ہیں۔ یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور انشاء اللہ وہ بڑھتی ہی رہے گی۔
۲۶ جولائی کی صبح ہوئی تو میرے ہوٹل کے کمرہ کے قد دیوار شیشہ کے دوسری طرف سہانے مناظر دکھائی دینے لگے۔ سر سبز پارک ، اس میں کھڑے ہوئے خوبصورت سرسبز درخت ، ان کے پیچھے بلند پہاڑ کے مناظر، پہاڑ کی چوٹی پر چاندی کی طرح چمکتی ہوئی برف ، اور اس سے بہتے ہوئے چشمے، ان سب کے اوپر کھلا ہوا نیلا آسمان، پھر اس میں تیرتے ہوئے بادل کی ٹکڑیاں اور پھر ان سب کے درمیان ایک خوشگوار آفاقی سکون اور پھر صبح کا ابھرتا ہوا سورج۔ کچھ دیر کے بعد ایسا محسوس ہوا جیسے فطرت کے جنتی مناظر کو دکھانے کے لئے خدا نے ایک آسمانی ٹارچ جلا دی ہو۔ اسی کے ساتھ خوبصورت چڑیوں کے ہلکے نغمے اس آفاقی حسن میں مزید اضافہ کر رہے تھے۔ ان مناظر کے پیچھے وہ محل نما ہوٹل تھا جس کے کمرہ نمبر ۴۱۶ میں میں مقیم تھا۔
سوچتے ہوئے خیال آیا کہ میرے سامنے شیشہ کے ایک طرف اگر دنیائے فطرت ہے تو شیشہ
کے دوسری طرف دنیائے صنعت۔ وہ دنیائے صنعت، جس کا نام رائل پارک ہوٹل ہے۔ جدید صنعتی دور کی تمام آسائشیں اعلیٰ معیار پر مہیا کی گئی ہیں۔
مزید سوچتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ فطرت کی دنیا ہزاروں سال پہلے جیسی تھی ویسی وہ آج پہاڑوں کی بلندی، درختوں اور چشموں کا حسن، چڑیوں کے نغمے، سورج کی سہانی کرنیں، غرض فطرت کی تمام چیزیں ایک ابدی شان کے ساتھ ہمیشہ سے یکساں طور پر موجود ہیں۔ صنعت ایک امکان کے روپ میں یہاں چھپی ہوئی تھی۔ خدا کی دی ہوئی عقل کے ذریعہ انسان نے اس کو دریافت کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی کے آخر میں پہنچ کر یہ دنیائے صنعت اپنی کامل صورت میں ظاہر ہوگئی۔ مگر یہاں ایک فرق ہے۔ دنیائے فطرت میں ہر قسم کی کامل سرگرمیاں موجود تھیں مگر وہ کثافت (pollution) سے مکمل طور پر خالی تھیں۔ دنیائے صنعت جو انسان نے بنائی وہ کثافتوں کا ناقابل حل مسئلہ بھی اپنے ساتھ لائی ہے۔
مزید غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ دنیائے فطرت اور دنیائے صنعت کے بعد اب انسانی تاریخ کا تیسرا مرحلہ سامنے آنے والا ہے جس کو دنیائے جنت کہا جاسکتا ہے۔ یہ دنیائے جنت کامل بھی ہوگی اور ابدی بھی اور اسی کے ساتھ مکمل طور پر کثافت سے خالی (pollution free) بھی۔ تاریخ انسانی کے ابتدائی دو مرحلوں میں ہر ایک کو زندگی کے مواقع حاصل تھے مگر تاریخ بشری کے تیسرے مرحلہ میں صرف ان خوش قسمت لوگوں کو جگہ ملے گی جنہوں نے اس سے پہلے کے مرحلوں میں اس استحقاق کا ثبوت دیا ہو کہ وہ تکمیلی مرحلہ حیات میں بسائے جانے کے قابل ہیں۔ اس کانفرنس میں میرے سوا ایک اور مسلم اسکالر بھی آئے تھے۔
۲۶ جولائی کی صبح کو ناشتہ پر ایک صاحب سے گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ قرآن میں پیغمبر کو حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ: وجاهدهم به جهادًا كبيرا (الفرقان ۵۲)۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ تم ان کے ساتھ قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کرو۔ ظاہر ہے کہ جہاد کبیر کے لئے قوت کبیر درکار ہے۔ آپ کسی سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم پنسل کے ذریعہ بڑی لڑائی کرو۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کی
نظر میں قرآن خود ایک بڑی طاقت ہے۔ گویا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ بڑا جہاد کرو بڑی طاقت کے ذریعہ جیسا کہ قرآن ہے :
Do great jihad with the great power that is the Quran. اس سے مزید یہ نکلتا ہے کہ نظریہ کی طاقت تمام طاقتوں سے زیادہ بڑی طاقت ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کا حکم دینے کا کوئی مطلب نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ نظریاتی طاقت سیاسی طاقت سے بہت زیادہ بڑی ہے :
Ideological power is greater than political power. صبح کو جب روشنی بڑھی تو پہاڑوں کے اوپر کوئی چیز نیچے اوپر حرکت کرتی ہوئی نظر آرہی معلوم ہوا کہ دو رسیوں کے ذریعہ کچھ لوگ اس عمل کی مشق کر رہے ہیں جس کو کوہ پیمائی (mountaineering) کہا جاتا ہے۔
سویٹر لینڈ کے زمانۂ قیام میں اس کے مختلف مقامات پر جانے کا اتفاق ہوا۔ سویٹر لینڈ ایک ایسا ملک ہے جو گویا پورا کا پورا فطرت کا ایک گلدستہ ہے۔ اس وسیع گلدستہ میں جگہ جگہ خوبصورت آبادیاں ہیں جن میں اتنے کم آدمی رہتے ہیں کہ وہاں شور اور گندگی جیسی چیزوں کا کوئی وجود نہیں۔ ایک جگہ میں نے دیکھا کہ ایک خوبصورت مقام پر ایک خوبصورت جھیل ہے۔ وہاں کچھ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں کھیل رہے تھے اور خوشیاں منار ہے تھے۔ اس کو دیکھتے ہوئے مجھ پر ایک خاص تاثر قائم مجھے مولا ناشبلی نعمانی کی مشہور نظم کا وہ شعر یاد آیا جو انہوں نے بمبئی کے قریب ریاست زنجیرہ کو دیکھ کر کہا تھا:
کہاں یہ لطف یہ منظر یہ سبزہ یہ بہارستان عطیہ تم کو یاد لکھنؤ ہوگی تو کیوں ہوگی میں نے سوچا کہ یہ خوش باش نو جوان جو اس خوبصورت دنیا کا لطف اٹھا رہے ہیں وہ بھلا آخرت کی یاد والی زندگی کیسے پسند کر سکتے ہیں جس میں آدمی کل کی مسئولیت میں اتنا زیادہ گم ہوتا ہے کہ آج کی پر بہار زندگی اس کے لیے ایک بے بہار زندگی بن جاتی ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ دنیا کی چیزیں شیریں ہیں اور سرسبز ہیں (حلوۃ خضرة) مگر اس کی
یہ شیرینی اور سرسبزی آزمائش کے لئے ہے، نہ کہ حصول لذت کے لئے۔ جو لوگ دنیا کی لذتوں میں گم ہو جائیں وہ اپنے امتحان میں فیل ہو گئے اور جو لوگ ان لذتوں سے گزر کر آخرت کو پالیں وہ اللہ کی نظر میں کامیاب ٹھہریں گے۔
۲۶ جولائی کو ۱۱ بجے دن میں کا نفرنس کا پہلا اجلاس ہوا۔ اظہار خیال کی زبان انگریزی تھی۔ ہر ایک نے زیر بحث موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اکثر لوگوں نے اپنی تقریر میں مغربی ملکوں کی مذمت کی۔ یہی منظر مجھے مسلمانوں کے جلسوں میں بھی نظر آتا ہے۔ یہ بات بہت عجیب ہے کہ تمام لوگ مغربی تہذیب سے فائدہ اٹھار ہے ہیں۔ مگر عین اسی وقت تقریباً تمام لوگ مغربی ملکوں کی مذمت کرتے ہیں۔
دوپہر بعد کے اجلاس میں میری تقریر تھی۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ نیوکلیئر ڈس آرمانٹ(nuclear disarmament) بلا شبہ وقت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس کی سنگینی کی بنا پر خود نیوکلیئر طاقتیں مثلاً روس اور امریکہ نیوکلیئر ہتھیار کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اس مسئلہ پر اتفاق رائے نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیوکلیئر ہتھیار بڑی طاقت ہونے کی علامت بن اس لئے دونوں یہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر انہوں نے نیوکلیئر ہتھیاروں کو ضائع کیا تو وہ بڑی طاقت ہونے کی حیثیت کو کھودیں گے۔ مگر میرے نزدیک یہ ایک غیر حقیقی بات ہے۔ دونوں طاقتوں میں سے کوئی طاقت اگر اپنے نیوکلیئر ہتھیاروں کو ضائع کر دے تو اچانک اس کو ایک بہت بڑی حیثیت حاصل ہو جائے گی اور وہ ہے اخلاقی اعتبار سے بڑی طاقت (moral superpower) کا درجہ حاصل کرنا۔
میں نے بعض حدیثوں کی روشنی میں بتایا کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر مرد دو عورت دوسرے مردو عورت کو اپنا بہن اور بھائی سمجھے۔ ہر مذہب والا دوسرے مذہب کا احترام کرے۔ اسلام صرف اکرام مسلم نہیں بلکہ اکرام انسان کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ مزاج ہر قسم کے تشدد اور نفرت کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اصل ضرورت یہ ہے کہ ان اعلیٰ انسانی قدروں کی ترویج کی جائے۔
موجودہ زمانہ کے تعلیم یافتہ طبقہ میں ایک عجیب وغریب صفت ہے۔ وہ ہے بے اصل نظریات کو خوبصورت الفاظ میں بیان کرنا۔ یہ صفت خودان اہل علم کے لئے غرور (arrogance) کا ذریعہ ہے اور دوسروں کے لئے اجتماعی فساد کا ذریعہ۔ سوئزرلینڈ کی موجودہ کانفرنس میں بھی اسی قسم کے نمونے ایک پروفیسر نے ایک مغربی مصنف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عام طور پر لوگ صرف اس تشدد کو جانتے ہیں جو گن اور بم کے ذریعہ سے چلا جاتا ہے مگر اس سے بھی زیادہ بڑا ایک تشدد ہے اور وہ ہے تنظیمی تشدد structural violence۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ موجودہ زمانہ میں اقتصادی تنظیمات جو غریبی اور بے روزگاری جیسے مسائل پیدا کرتی ہیں وہ تمام تشدد سے زیادہ بڑا تشدد ہیں۔ میرے نزدیک اس قسم کی باتیں صرف لفظوں کا کھیل ہیں۔ جس چیز کو تنظیمی تشدد کہا جاتا ہے وہ دراصل اجتماعی زندگی کے تحت پیدا ہونے والے چیلنج کے مظاہر ہیں۔ اسی چیلنج پر ہر قسم کی انسانی ترقیوں کا اگر یہ چیلنج نہ ہو تو خود ترقی کا عمل رک جائے۔ عجیب بات ہے کہ تاریخ کے اکثر اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد اسی قسم کے لفظی کھیل میں مبتلا رہے ہیں۔
ڈارون کا بقاء اصلح (survival of the fittest) کا نظریہ، روسو کا سیاسی غلامی کا نظریہ، مارکس کا اقتصادی لوٹ کا نظریہ، سب اسی کی مثالیں ہیں۔ ان مفکرین کے خوبصورت الفاظ نے بے شمار لوگوں کو گمراہی میں مبتلا کیا۔
موجودہ زمانہ میں کچھ نام نہاد اسلامی مفکرین نے بھی اسی قسم کی لفظی شاعری کی۔ اور بہت سے مسلمانوں کو فکری گمراہی میں مبتلا کر دیا۔ اسی میں سے ایک طاغوتی حکمرانی کا نظریہ ہے۔ اس بے بنیاد نظریہ نے جن مسلمانوں کو متاثر کیا ان کا یہ حال ہوا کہ وہ دو برائیوں میں سے ایک برائی کو لینے پر مجبور یا تو وہ طاغوتی حکمرانی کو ختم کرنے کے نام پر کبھی نہ ختم ہونے والی لڑائی جاری کر دیں اور پھر اپنے آپ کو تباہ کر لیں۔ یا پھر طاغوتی نظریہ کے تحت ہر چیز کو اپنے لئے حرام سمجھتے ہوئے اس سے سمجھوتہ اور اس طرح غیر ضروری طور پر منافق بن کر زندگی گزاریں۔
۲ جولائی کی صبح ہوئی تو باہر دور سے مرغ کی بانگ سنائی دی۔ اسی کے ساتھ بعض چڑیوں کی
سریلی آوازیں آنے لگیں۔ میں نے سوچا کہ یہ چڑیاں یہاں ٹھیک وقت پر صبح صادق کی آمد کا اعلان کر دہلی میں روزانہ میں صبح کے وقت ان آوازوں کو سنتا تھا۔ اور سوئٹزرلینڈ میں بھی وہ ٹھیک اسی طرح سنائی دے رہی ہیں۔ اس پر سوچتے ہوئے میرا ذہن فطرت کے با معنی نظام کی طرف گیا۔ فطرت کا نظام حکمت اور معنویت کا ایک عجیب خزانہ ہے۔ فطرت کو یہ آداب اس کے خالق نے سکھائے فطرت کا مطالعہ خالق کی معرفت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
آدابِ فطرت پر غور کرتے ہوئے مجھے اس نوعیت کی کچھ اور باتیں یاد آئیں، مثلاً اقبال کا یہ شعر: سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی میں نے سوچا کہ اقبال ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان تھے۔ مگر عجیب بات ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو علم کے بجائے شاعری کا تحفہ دیا۔ انہیں چاہئے تھا کہ مسلمانوں کو آدابِ فرزندی کے بجائے آدابِ فطرت کے رموز بتائیں۔ آدابِ فطرت کے رموز کا مطالعہ آدمی کے اندر سچائی کی معرفت پیدا کرتا ہے۔ کہ ”آدابِ فرزندی“ اس شعر میں محض ایک ادبی ترکیب ہے۔ حضرت اسماعیل نے اپنے والد حضرت ابراہیم کے جواب میں جو کچھ کیا وہ استثنائی نوعیت کا ایک پیغمبرانہ معاملہ تھا۔ اگر کوئی عام باپ ایک خواب دیکھے اور اس کی بنیاد پر اپنے بیٹے سے کہے کہ مجھ کو حکم ملا ہے کہ میں تم کو ذبح کروں تو بیٹے کے لئے ہرگز جائز نہ ہوگا کہ اپنی گردن باپ کی چھری کے نیچے دے دے۔ اقبال کا شعر جس ”آدابِ فرزندی“ کی تعلیم دیتا ہے وہ آداب سرے سے مطلوب ہی نہیں۔ ۲ جولائی کی رات کو جب کہ میں سوئٹزرلینڈ کے مذکورہ ہوٹل میں سویا ہوا تھا، میں نے خواب میں دیکھا کہ مشہور فلم اسٹار امیتابھ بچن اتفاقاً کسی وجہ سے میرے گھر میں آئے ہیں۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ آپ نے بہت پیسہ کما لیا ہے اب آپ کچھ اور کام کیجئے ۔ زندگی میں پیسہ ہی سب کچھ نہیں ۔ کے سوا کچھ اور برتر چیزیں ہیں جنہیں انسان کو جاننا چاہئے۔ میں نے کہا کہ آپ دوبارہ کسی دن ہمارے یہاں آئیے اور ہمارے ساتھ ہمارا سادہ کھانا کھائیے۔ پھر اطمینان کے ساتھ آپ سے باتیں ہوں گی۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ پیسہ اور شہرت جیسی چیزوں سے اوپر اٹھ کر سوچیں اور اپنی زندگی کی از سر نو منصوبہ
بندِی (replacing) کریں۔
کانفرنس کے شرکاء میں جو غیر مغربی ملکوں کے لوگ تھے ان میں اکثر افراد ایسے تھے جو اچھی انگریزی بولتے تھے۔ مثلاً تھائی لینڈ کے ڈاکٹر چیتانا گا جرا (Chetana Nagavajara)۔ تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ لوگ سب کے سب امریکہ یا برطانیہ جیسے ملکوں کے پڑھے ہوئے تھے۔ لوگ مغربی یونیورسٹیوں کی ڈگریاں رکھتے تھے۔ وہ اچھی انگریزی زبان میں کتابیں لکھ کر شائع کرتے ان وجوہ سے وہ تعلیم یافتہ طبقوں میں نمایاں ہو جاتے ہیں۔
مزید یہ کہ یہ لوگ اسی پچھلی نسل کے بیٹے اور پوتے ہیں جنہوں نے مغربی اقتدار کو سب سے بڑی برائی بتا کر اس سے نجات کے لیے ہنگامہ خیز تحریکیں چلائی تھیں ۔ ایک شخص کے الفاظ میں جن مغربی زنجیروں کو ہمارے باپ دادا نے لوہے کی زنجیریں سمجھ کر کاٹا تھا اسی کو ہم نے سونے کی زنجیر سمجھ کر خود سے اپنے پیروں میں ڈال لیا۔
یہ برائی جس طرح غیر مسلم لوگوں میں ہے اسی طرح وہ مسلمانوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ کو ہر ملک میں ایسے مسلمان ملیں گے جو اپنی ہر تقریر اور تحریر میں نہایت جوش کے ساتھ امریکہ کو اسلام دشمن بتائیں گے۔ مگر پہلا موقع ملتے ہی وہ اپنے بیٹے اور بیٹی کو امریکہ بھیجنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔ تاکہ وہ وہاں سٹل (settle) ہو کر کامیاب مادی زندگی حاصل کر سکیں۔ یہ کیسا عجیب اسلامی جہاد تھا جس کا نتیجہ غیر اسلام کی صورت میں برآمد ہوا۔
ایک بدھسٹ پیشوا بھی اس کانفرنس میں شریک تھے۔ وہ تبت کے ان پناہ گزینوں میں سے ہیں جو تبت میں چینی غلبہ کے بعد وہاں سے نکل کر دوسرے ملکوں میں چلے گئے۔ یہ تبتی لوگ ابھی تک مختلف ملکوں میں غیر شہری کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی حیثیت ابھی تک بے جگہ افراد اس صورت حال کے نتیجہ میں ان لوگوں کے اندر سخت قسم کی منفی )displaced persons( ذہنیت پیدا ہو گئی ہے۔ اس کا ایک مظاہرہ سوئزر لینڈ کی کانفرنس میں ہوا۔ مذکورہ بدھسٹ پیشوا جو اس کانفرنس میں آئے تھے ان کو میں عرصہ سے جانتا ہوں۔ بظاہر وہ ایک ملنسار اور نرم گفتار آدمی ہیں۔
انہوں نے کانفرنس میں اپنا جو لمبا مقالہ پڑھا وہ تقریباً پورا کا پورا منفی اسلوب سے بھرا ہوا تھا۔ مغربی ممالک ، مغربی تہذیب اور مغربی زبان ہر چیز سے نفرت کا اظہار ہوتا تھا۔ ان لوگوں کو یہ شکایت ہے کہ چین نے جب تبت پر فوجی قبضہ کر لیا اور اس کے بعد یہ لوگ وہاں سے نکل کر ہندوستان اور دوسرے ملکوں میں منتشر ہو گئے تو کسی ملک نے ان کا ساتھ دے کر چینیوں کو تبت سے نہیں نکالا۔ بلکہ اپنے مفاد کے تحت ہر ملک نے چین سے دوستی قائم کرلی۔ یہی وہ سیاسی شکایت ہے جس کے نتیجہ میں تبتیوں کے اندر مغربی ملکوں سے نفرت کا مزاج پیدا ہو گیا۔ ٹھیک یہی معاملہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا بھی ہے۔ موجودہ زمانہ کے تقریباً تمام مسلمان مغربی قوموں سے نفرت کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے خیال کے مطابق، یہی قومیں ہیں جنہوں نے موجودہ زمانہ میں انہیں سیاسی مغلوبیت سے دوچار کیا ہے۔ چنانچہ موجودہ زمانہ کے تقریباً تمام لکھنے والے اور بولنے والے مسلمان نفرت کی بولی بولتے ہیں۔ اور نفرت کی تحریریں لکھ کر
میرے نزدیک یہ منفی ذہنیت ایک قسم کی نفسیاتی خودکشی کے ہم معنی ہے۔ قرآن کے مطابق، موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں سیاسی ایام ہمیشہ کسی ایک کے حق میں نہیں رہیں گے بلکہ وہ بدلتے رہیں گے (وتلک الايام نداولها بين الناس، آل عمران ۱۴۰)۔ ایسی حالت میں مذکورہ قسم کی منفی سوچ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کا ذہن ہمیشہ ماضی کی یادوں میں اٹکا رہے۔ کے اعتبار سے اپنی منصوبہ بندی نہ کر سکے۔ یا پھر یہ کہ وہ دہرا سوچ کا شکار ہو جائے۔ یعنی ماضی کے بارے میں معیاری طرزِ فکر اور حال کے بارے میں منافقانہ طرزِ فکر۔ یعنی ایک طرف جو کچھ ہو رہا ہے اس کو وہ باطل سمجھے اور دوسری طرف اسی باطل سے سمجھوتہ کرکے اس کے اندر اپنے ذاتی مفادات کو محفوظ کرنے کی کوشش کرے۔ اس کا ذہن فکری اعتبار سے جس نظام کو رد کر رہا ہے اسی نظام کو وہ ذاتی مفاد کی خاطر عملاً قبول کرلے۔
سوئزر لینڈ کے جس محل نما ہوٹل میں ہم کو ٹھہرایا گیا تھا وہ اپنی مخصوص تعمیر اور اپنے جائے وقوع
دونوں کے اعتبار سے غیر معمولی حد تک شاندار تھا۔ اس کے تعارف نامہ میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے: One of the leading hotels of the world. مجھے ہوٹل کے جس وسیع اور مرصع کمرہ میں ٹھہرایا گیا تھا، میں اس کے باتھ روم میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ وہاں کم از کم دس قسم کے تولیے رکھے ہوئے ہیں، ہر کام کے لئے ایک الگ تولیہ۔ ایک علامت ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ چیزیں جن کو سامانِ تعیش کہا جاتا ہے وہ کس قدر بے معنی مادی سامان کے اعتبار سے چیزوں کی تین تقسیم کی گئی ہے_ ضرورت، راحت اور عیش: Necessity, Comfort, Luxury میرے تجربہ کے مطابق ،کسی انسان کے لئے ضروری سامان کا حصول ہی بالکل کافی ہے۔ کوئی شخص اس پر قانع ہونے کے لئے تیار نہ ہو تو اس کے لئے آخری حد راحت ہے۔ اس کے بعد تعیش صرف بیجا اسراف ہے۔ وہ کسی انسان کو زیادہ سے زیادہ فرضی تسکین دے سکتا ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں
سوئیز رلینڈ کو ایک پر امن ملک کہا جاتا ہے۔ وہ دور جدید کی بہت سی امن پسند تحریکوں کا مرکز رہا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد ۱۹۲۰ میں اسی ملک کے شہر جنیوا میں پہلی جمیعیۃ اقوام (League of Nations) قائم ہوئی۔ جس نے بعد کو ۱۹۲۵ میں اس زیادہ بڑے عالمی ادارہ کی صورت اختیار کی جس کو اقوام متحدہ (United Nations) کہا جاتا ہے۔ اس عالمی تنظیم نے تاریخ میں پہلی بار اس دور کو ختم کیا جب کہ ہر حکمران کا یہ حق سمجھا جاتا تھا کہ وہ اپنی فوج لے کر جس ملک میں چاہے گھس جائے اور اس پر قبضہ کر کے اس کو اپنی مملکت میں شامل کرلے۔
۱۹۲۰ میں جب جمیعیۃ اقوام (League of Nations) بنی اور جنیوا میں اس کا ہیڈ کوارٹر قائم ہوا اس وقت اقبال نے اپنے ایک فارسی شعر میں اس پر یہ تبصرہ کیا تھا:
چیست جمیعیۃ اقوام کفن دزدے چند بهر تقسیم قبور انجمنِ ساخته اند یہ تبصرہ یقینی طور پر ایک بے حقیقت تبصرہ تھا۔ اقبال اور ان کے جیسے دوسرے لوگوں کے اس قسم
کے تبصروں سے مسلمانوں میں جدید مغربی چیزوں کے خلاف سخت قسم کا منفی ذہن پیدا ہوگیا۔ تعلیم یہ تھی کہ عصر میں بھی یہ سر کو دیکھو۔ منفی میں بھی مثبت پہلو تلاش کرو۔ مگر اقبال جیسے لوگوں نے مسلمانوں کی برعکس ذہن سازی کی۔ اسی معکوس ذہن سازی نے مسلمانوں کا یہ حال کیا ہے کہ وہ جدید دنیا میں دوسری قوموں سے الگ تھلگ ہو کر رہ گئے۔ وہ نہ خود اپنی دنیا تخلیق کرنے میں کامیاب ہوئے اور نہ وہ دوسروں کی بنائی ہوئی دنیا کا اعتراف کر سکے۔
۲ جولائی کے اجتماع میں روس کے ایک نمائندہ نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ بہتر دنیا کی تعمیر کا خواب ریولوشن (revolution) کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا۔ اس پر یہ سوال تھا کہ سوویت یونین میں تو ریولوشن آیا پھر وہاں بہتر دنیا کیوں تعمیر نہیں ہوئی۔ اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ کمیونسٹ ریولوشن میں روحانیت کے عنصر کی کمی اس کی ناکامی کا سبب تھی۔ اس سلسلہ میں انہوں نے بتایا کہ لینن نے اپنے آخری وقت میں کہا تھا کہ ہمیں مارکس کے ساتھ ایک فرانس آف ایسی کی ضرورت تھی۔ تو جبہ نہیں بلکہ وہ ایک قسم کی خود فریبی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر روسی سوشلزم کے پاس کوئی فرانس آف ایسی نہ تھا تو ہندستانی سوشلزم کا وہی انجام کیوں ہوا جہاں گاندھی کی صورت میں گویا ایک فرانس آف ایسی موجود تھا۔ اصل یہ ہے کہ سوشلزم یا کمیونزم ایک غیر فطری نظریہ ہے اس لئے کسی بھی حال میں اس کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔ فطرت کے مطابق، اقتصادیات کی مشین کو چلانے کے لئے ذاتی انٹرسٹ کا محرک ضروری ہے۔ سوشلزم یا کمیونزم میں یہ محرک ختم ہو جاتا ہے۔ اور جہاں ذاتی انٹرسٹ کا محرک نہ ہو وہاں کوئی اقتصادی نظام کامیاب نہیں ہوسکتا۔ فطرت کی اس کمی کو کسی فرانس آف ایسی کے ذریعہ پورا نہیں کیا جا سکتا۔
سوئزر لینڈ کی اس کانفرنس میں میرے لئے ایک خاص سبق تھا۔ یہ سبق پروفیسر چندر مظفر کی زندگی میں ملتا ہے۔ وہ دونوں پاؤں سے معذور ہیں۔ چنانچہ وہ ہمیشہ ویل چر پر رہتے ہیں۔ نے بتایا کہ بچپن کی عمر میں ان کو پولیو ہو گیا تھا۔ اس کے بعد وہ اپنے پیروں سے چلنے پھرنے کے قابل
اس حادثہ کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ وہیل چیئر پر انہوں نے اپنی پوری تعلیم مکمل اب وہ ملیشیا کے ایک بڑے ادارے کے ذمہ دار ہیں۔
چندر مظفر صاحب نے اپنی محنت اور لگن کی بدولت امتیازی لیاقت حاصل کرلی۔ انگریزی لکھتے اور بولتے ہیں۔ ان کی کئی کتابیں انگریزی زبان میں شائع ہوچکی ہیں۔ میں نے سوچا کہ چندر مظفر صاحب جیسے افراد گویا خدا کی طرف سے ایک رہنما کھمبا(sign post) کی حیثیت رکھتے وہ خاموش زبان میں لوگوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ خدا نے انسان کو اتنی زیادہ صلاحیت دی ہے کہ دونوں پیروں سے معذور شخص بھی ممتاز علمی مقام حاصل کر سکتا ہے، پھر جو لوگ جسمانی اعتبار سے معذور نہیں ہیں وہ کتنا زیادہ ترقی کر سکتے ہیں۔
پروفیسر چندر مظفر ملایا کی یونیورسٹی میں سینٹر آف سولائزیشنل ڈائیلاگ کے ڈائرکٹر ہیں۔ موومنٹ فار اے جسٹ ورلڈ کے پرزیڈینٹ ہیں۔ وہ آلی ران (Aliran Kesedaran Nagara) کے فاؤنڈر پرزیڈینٹ ہیں۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھی ہیں۔
پروفیسر چندر مظفر ۱۹۷۰ء میں ملیشیا کے ایک ہندو خاندان میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۵۱ء میں ان کو پولیو ہوگیا جس کے نتیجہ میں ان کا ایک پاؤں مکمل طور پر اور دوسرا پاؤں بڑی حد تک معذور ہوگیا۔ تعلیم سنگاپور میں ہوئی۔ انہوں نے ۱۹۷۴ء میں اسلام قبول کیا۔ انہوں نے اپنے بارے میں ایک عجیب ان کا خاندان کیرالا سے ہجرت کرکے ملیشیا آیا تھا۔ جب وہ پیدا ہوئے تو ان کے باپ نے ہندو دستور کے مطابق، ان کی تاریخ پیدائش لکھ کر کیرالا کے ایک پنڈت کو بھیجی تا کہ وہ ان کی جنم پتری ان کے بیان کے مطابق، پنڈت نے دو باتیں بتائیں۔ ایک یہ کہ اس بچہ کو کوئی سخت بیماری ہو جائے گی۔ دوسری بات یہ کہ وہ اپنا دھرم چھوڑ کر اسلام قبول کرلے گا۔ عجیب بات ہے کہ پنڈت کی بتائی ہوئی دونوں باتیں سچ ثابت ہوئیں۔
پروفیسر مظفر سے میں نے پوچھا کہ آپ اتنے سخت عارضہ کا شکار ہوئے کہ آپ کو مستقل طور پر وہیل چیئر پر رہنا پڑا۔ ایسی حالت میں آپ نے اسکول سے ڈاکٹریٹ تک کی تعلیم کیسے حاصل کی۔
انہوں نے انگریزی میں بتاتے ہوئے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ خدا کے بارے میں میرا عقیدہ تھا جس نے مجھے اس قابل بنایا کہ میں اپنی جسمانی معذوری پر قابو پا سکوں:
I would like to think that it is my faith in God which enabled me to overcome my physical handicap. آدمی مشکل حالات میں حوصلہ کیوں کھوتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ پیش آمدہ حالات کے مقابلہ میں اپنے آپ کو کم سمجھتا ہے۔ مگر جب اس کا اعتماد خدا پر ہو جائے تو وہ اپنے لئے ایک ایسی ہستی پالتیتا ہے جو حالات سے اوپر ہو، جو خود حالات کو کنٹرول کرنے والی ہو۔ اس بنا پر خدا اس کے لئے ایک ایسی طاقت بن جاتا ہے جو ہر حال میں اس کے لئے کامیابی کی ضمانت بن جائے۔ ۲ جولائی کی شام کو کھانے کی میز پر ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ان کا نام رائے من پانیگر(Raimon Panikkar) تھا۔ ان کی عمر ۸۳ سال ہو چکی ہے۔ وہ اسپین میں بارسلونا کے پاس ٹئورٹٹ(Taverter) کے مقام پر رہتے ہیں۔ وہ صوفی اسلام سے متاثر ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ اسپین میں اسلام کے بارے میں کس قسم کی رائے پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ غلط فہمی کا شکار ہیں۔ میں نے کہا کہ کس قسم کی غلط فہمی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں پرتشدد جہاد کی جو خبریں آتی ہیں ان کو وہ پسند نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ جہاد کے نام پر تشدد کی تحریکیں مسلمانوں کی قومی تحریک کا نتیجہ ہیں وہ اسلام کی تعلیم کا نتیجہ نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان سب کے باوجود اسپین میں بہت سے لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں۔ اسلامی کتابوں کے ترجمے اسپینی زبان میں شائع کئے جا رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ جو لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں ان کو اسلام کا کون سا پہلو زیادہ متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک میرا اندازہ ہے اسلام کی سادگی(simplicity) لوگوں کو خصوصیت کے ساتھ اسلام کی طرف مائل کر رہی ہے۔ اسلام کا بنیادی عقیدہ توحید ہے۔ یعنی ایک خدا کا تصور۔ اس کے مقابلہ میں موجودہ مسیحی عقیدہ تثلیث پر قائم ہے۔ مسیحی عقیدہ کے مطابق ،تثلیث(trinity) کا مطلب یہ نہیں کہ خدا تین ہے۔ کا مطلب تین میں ایک اور ایک میں تین (three in one, one in three) ہے۔ یہ غیر ریاضیاتی
عقیدہ اتنا پیچیدہ اور اس قدر نا قابل فہم ہے کہ مسیحی علماء بھی اس کی تشریح کرنے سے عاجز ہیں۔ میری لڑکی ڈاکٹر فریدہ خانم نے بتایا کہ جب وہ دہلی یونیورسٹی میں انگلش لٹریچر سے ایم اے کر رہی تھی تو ایک بار کسی کتاب میں تثلیث کا ذکر آیا۔ انہوں نے اپنے مسیحی استاد (پروفیسر جارج) سے پوچھا کہ تثلیث کے عقیدہ کا مطلب کیا ہے۔ عیسائی پروفیسر نے کچھ دیر سوچا، اس کے بعد کہا کہ اگر تم پوچھو تو میں نہیں جانتا اور اگر تم نہ پوچھو تو میں جانتا ہوں :
If you ask me I do not know, if you do not ask me I know. آج جولائی ۲۰۰۱ کی ۲۸ تاریخ ہے اور صبح کا وقت۔ میں اپنے کمرہ میں اس کے قد دیوار شیشہ کے پاس کھڑا ہوا ہوں۔ صاف وشفاف شیشہ کے باہر فطرت کی حسین دنیا دکھائی دے رہی ہے۔ طرف مکمل سناٹا ہے۔ اس سناٹے میں صرف ایک آواز سنائی دے رہی ہے اور وہ چڑیوں کا صبح کا نغمہ ہے۔ سوچتے ہوئے میرے ذہن میں آیا کہ خدا نے ایک عظیم دنیا بنائی، صرف اس لئے تا کہ کوئی اللہ کا بندہ اس کو دیکھ کر یہ کہہ سکے کہ ربنا ما خلقت هذا باطلا (آل عمران)۔ اس نے اپنی اس دنیا میں انتہائی بامعنی مناظر پیدا کئے ۔ یہ مناظر گویا خاموش زبان میں یہ اعلان کر رہے ہیں کہ کیا کوئی دیکھنے والا ہے جو قدرت کے اس شاہکار کو دیکھے۔ اس نے چڑیوں کے نغمے اور چشموں کی سریلی موسیقی جیسی آوازیں پیدا کیں ، اس لئے کہ کیا کوئی سننے والا ہے جو اسے سنے اور اپنی روح کو ربانی احساس سے اس نے وسیع کائنات کی صورت میں ایک انتہائی بامعنی دنیا پیدا کی جو گویا زبان حال سے کہہ رہی ہے کہ کیا کوئی غور کرنے والا ہے جو اس پر غور کرے اور اس سے نصیحت لے۔ ایک تجربہ گزرا جس کے بعد میں نے سوچا کہ انسانوں میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ وہ جو ایک بار اختلاف کر دیں تو اس کے بعد وہ اس پر اس طرح جم جائیں کہ وہ اپنے اختلاف کو کبھی ختم نہ کریں۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو اختلاف کے ساتھ اعتراف کرنا بھی جانتے ہوں۔ اختلاف کی ایک حد ہو، ایک حد کے بعد وہ اپنا اختلاف ختم کر دیں اور دل میں کوئی شکایت رکھے بغیر فریق ثانی کے ساتھ متحد ہو جائیں۔
سوئٹزر لینڈ کے اس سفر میں ایک خاتون پروفیسر بیٹینا باؤمر (Bettina Baumer) وہ بیلجیئم کے ایک مسیحی خاندان میں پیدا ہوئیں ۔ اس کے بعد انہوں نے کئی زبانیں سیکھیں جن میں سنسکرت بھی شامل ہے۔ وہ کئی سال تک بنارس ہندو یونیورسٹی میں پروفیسر رہیں۔ آج کل وہ اپنی دوسری مصروفیات کے علاوہ بنارس کے ایک ہندو ادارہ کے تحت ہندو شاستروں کا جرمن ترجمہ
انہوں نے کئی دلچسپ باتیں بتائیں۔ مثلاً انہوں نے کہا کہ ۱۹۶۹ء میں جب امریکی خلا باز نیل آرام سٹرانگ اپنی خلائی گاڑی میں سفر کر کے چاند پر اتر ا اور اس کی خبر ساری دنیا میں پھیلی تو بنارس کے پنڈتوں نے اس پر باقاعدہ بحث کی۔ ان کے سامنے اصل سوال یہ تھا کہ چاند تو ایک دیوتا (god) اس پر انسان کیسے چڑھ سکتا ہے۔ آخر کار یہ طے ہوا کہ اگر امریکی خلا باز واقعۃً چاند پر اترتا ہے تو یہ کوئی اور چاند ہوگا نہ کہ چاند دیوتا۔ مذکورہ پروفیسر خاتون نے اس کو انگریزی میں اس طرح بتایا: Whether this is the same moon which is in the Puranas. Finally they decided that it was not the same moon. ان سے میں نے کئی سوالات کئے ۔ ایک سوال یہ تھا کہ ہندوؤں میں آخری سچائی کے بارے میں دو نظریے پائے جاتے ہیں ۔ ایک دوئیت واد اور دوسرا ادویت واد۔ میں نے کہا کہ آپ نے ہندو فکر کا کافی مطالعہ کیا ہے۔ یہ بتائیے کہ ہندوؤں میں کیوں ادویت واد پھیلا اور دوئیت واد زیادہ نہ پھیل سکا جس کو مادھو چاریہ نے طاقت ور انداز میں پیش کیا تھا۔ انہوں نے ایک لمحہ سوچ کر کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ انسان بھگوان سے ایک ہونا چاہتے ہیں۔
ان کا مطلب یہ تھا کہ دوئیت واد کے تصور میں انسان الگ رہتا ہے اور خدا الگ ۔ ہوتا ہے اور دوسرا خالق ۔ مگر ادویت واد میں یہ دوئی یا علیحدگی نہیں۔ یہ نظریہ آدمی کو یہ تسکین دیتا ہے کہ میں خدا میں ہوں اور خدا مجھ میں ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام میں اس کے بجائے یہ تصور ہے کہ خدا ہمارے خدا ہمارے وجود کا حصہ نہیں ، مگر وہ ہر لمحہ ہمارے قریب ہے، وہ ہماری پکار کو سنتا ہے اور ہماری مدد کرتا ہے۔
سوئٹزر لینڈ کے سفر میں مختلف حلقے کے مذہبی اور غیر مذہبی لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ملاقاتوں کے دوران اندازہ ہوا کہ بعض بنیادی سوالات ہیں جن کے بارے میں لوگوں کے ذہن بہت زیادہ غلط فکری میں مبتلا ہیں۔ ان امور کو واضح کرنے کے لئے ایک کتاب انگریزی زبان میں تیار کرنا اس کتاب کے کچھ ابواب یہ ہو سکتے ہیں:
مذہبی ہم آہنگی کا فارمولا یہ نہیں ہے کہ ”ہر مذہب سچا ہے“ بلکہ یہ ہے کہ ہر مذہب قابل
امن برائے امن ہوتا ہے، امن برائے انصاف نہیں ہوتا۔
مسائل سے لڑنے کا نام پالیکس نہیں۔ مواقع کو استعمال کرنے کا نام پالیکس ہے۔ ملیشیا کے بارے میں کچھ باتیں معلوم ہوئیں جو میرے جیسے آدمی کے لئے افسوسناک تھیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، وہاں کافی ترقی ہو رہی تھی۔ اس کے بعد وہاں اسلام پسند طبقہ ابھرا۔ اس نے ہر جگہ حتی کہ تعلیم گاہوں میں بھی حکومت مخالف سرگرمیاں شروع کردیں۔ اس کے بعد حکومت نے یہ قانون بنا دیا کہ کالج اور یونیورسٹی میں سیاسی سرگرمی غیر قانونی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ لوگ اپنی سروس کو بچانے کے لئے منافق بن گئے ۔ دل میں حکومت کے مخالف اور زبان سے حکومت کے دوسرے لوگ وہ تھے جو اپنے مزاج کے مطابق، منافقت اختیار نہیں کرسکتے تھے چنانچہ انہوں نے اپنی مخالفانہ سیاست کا سلسلہ جاری رکھا جس کو وہ بطور خود اسلامی سیاست سمجھتے تھے۔ حکومت کے عتاب کی زد میں آئے اور مایوسی کا شکار ہوکر رہ گئے ۔ اس طرح کے معاملہ میں نام نہاد مسلم پریس ملیشیا کی موجودہ سیکولر حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے مگر میرے نزدیک اس کی اصل ذمہ داری نام نہاد اسلام پسندوں پر ہے۔ ان لوگوں کا سب سے پہلا کام ملیشیا کی مسلمانوں کی تعلیم و تربیت تھا نہ کہ حکومت کو بدلنا۔ اسی غلط پالیسی کا وہ نتیجہ ہے جو پچھلے سالوں میں ملیشیا کے اندر پیش آیا۔ سوئٹزر لینڈ کی اس کانفرنس میں مختلف ملکوں کے پروفیسر اور اسکالر بلائے گئے تھے۔ ”مولوی“ یا اسلامک اسکالر تھا جو اس کانفرنس میں بلایا گیا۔ کانفرنس کے آرگنائزر آندرے بائیکوف
(Andrey Bykov) تھے جنہوں نے اپنے ذاتی خرچ سے سوئٹر لینڈ کی اس کانفرنس کا انعقاد کیا تھا۔ وہ اس سلسلہ میں امریکہ گئے۔ وہاں ان کی ملاقات لاس اینجلس میں ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی (ڈائریکٹر اسلامک سوسائٹی آرنج کاؤنٹی) سے ہوئی۔ مسٹر اندر نے ان سے کہا کہ ہم سوئٹر لینڈ میں ایک کانفرنس کرنے جا رہے ہیں۔ اس کے لئے ہمیں ایک اسلام اسکالر کا نام بتائیے۔ صدیقی کی تجویز کے مطابق، انہوں نے مجھے اس کانفرنس میں بلایا۔ مسٹر آندر کے روایت کے مطابق، ڈاکٹر صدیقی نے اس کے لئے میرا نام تجویز کرتے ہوئے ان سے کہا:
He is the best man for the purpose you are seeking for. مسز اینا بائیکوف (Anne Bykov) ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ روسی خاتون ہیں۔ وہ بھی اس کانفرنس میں شریک تھیں ۔ ایک گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا خطرہ ایٹمی ہتھیار ہے ایٹمی ہتھیاروں کا سب سے زیادہ ذخیرہ دو ملکوں کے پاس ہے، امریکہ اور روس۔ دونوں ملک ایٹمی ہتھیاروں کا خاتمہ (nuclear disarmament) کی بات کرتے ہیں۔ مگر عملاً ابھی تک ایسا نہ ہوسکا۔ اس کا سبب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ دونوں ملک یہ چاہتے ہیں کہ یہ کام دوطرفہ بنیاد (bilateral basis) پر ہو یعنی دونوں ملک بیک وقت اپنے اپنے ہتھیاروں کو
میں نے کہا کہ ایسا ہونا ممکن نہیں۔ قابل عمل بات صرف یہ ہے کہ اس کام کو یک طرفہ بنیاد (unilateral basis) پر کیا جائے۔ میں نے کہا کہ اگر مجھ کو مشورہ دینا ہو تو میں کہوں گا کہ روس یکطرفہ طور پر اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو تباہ کردے۔ روسی کہیں گے کہ اس طرح تو ہم اپنے ایٹمی پاور ہونے کی حیثیت کو ختم کردیں گے۔ مگر یہ ایک فرضی اندیشہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ روس اگر اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو یکطرفہ طور پر ختم کردے تو وہ امریکہ سے ایٹمی ہتھیار کی سیاست چلانے کا جواز چھین لے مزید یہ کہ اس طرح روس کو مارل سپر پاور کی حیثیت حاصل ہو جائے گی جو بلاشبہ دوسری تمام طاقتوں سے زیادہ بڑی طاقت ہے۔ مذکورہ روسی خاتون نے میرے اس نقطہ نظر سے اتفاق کیا۔
۲۵ جولائی کو زیورک سے کنڈرسنگ کا سفر کرتے ہوئے درمیان میں ہم لوگ ایک ریسٹورنٹ پر ٹھہرے تھے۔ ہمارے ایک ساتھی نے بتایا کہ میں ریسٹورنٹ کے ٹائلٹ میں جانے لگا تو ایک خاتون نے مجھے روکا۔ اس نے کہا کہ اس ٹائلٹ کو ایک بار استعمال کرنے کی قیمت ایک فرانک ہے۔ آپ فرانک ادا کیجئے پھر ٹوائلٹ جایئے۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو اس وقت آپ کو ادا کرنے کے لئے کوئی سکہ نہیں۔ اس نے کہا کہ سکہ نہیں تو ٹوائلٹ بھی نہیں :