Al-Risala · January 2002

Try, try, try again.

Al-Risala, January 2002, pp. 13–14

By Maulana Wahiduddin Khan

میری تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ فنڈ منٹلزم دراصل انتہا پسندی (extremism) کا دوسرا نام ہے جو بڑھ کر فنائٹسرم (fanaticism) کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ قرآن وحدیث میں اس کے لئے غلو اور تشدد کے الفاظ آئے ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: لا تغلوا فی دینکم (النساء۱۷۱) یعنی تم لوگ اپنے دین میں غلو نہ کرو۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ: ایاکم والغلو فی الذین فانما هلك من كان قبلكم بالغلو فی الدین (احمد، ابن ماجه، النسائی) یعنی تم لوگ دین میں غلو کرنے سے بہت زیادہ بچو، کیوں کہ پچھلی امتیں اس لئے ہلاک ہو گئیں کہ انہوں نے دین میں غلو کیا۔ اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تشددوا علی انفسكم فيشدد عليكم (ابوداؤد)

میں نے کہا کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ اس کی بنیاد اعتدال پسندی، رواداری، خیر خواہی اور انسانی رعایت پر قائم ہے۔ فنڈ منٹلزم اسلام کے پورے ڈھانچہ کو تباہ کر دینے والا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فنڈ منٹلسٹ نقطہ نظر کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں۔ میری یہ تقریر اگلے صفحات میں نقل کی جا رہی ہے۔

یکم جون کی شام کو ۸ بجے بنگلہ دیش کی خاتون پرائم منسٹر شیخ حسینہ کی سرکاری رہائش گاہ پر ان سے ملاقات ہوئی۔ کانفرنس کے تمام شرکاء ایک بڑے ہال میں لے جائے گئے اور سب سے اجتماعی ملاقات ہوئی۔ یہ بہت بڑی رہائش گاہ تھی۔ اس کے اندر دور تک کار کے ذریعہ چلتا رہا۔

ایک صاحب نے خاتون وزیر اعظم کے بارے میں کہا:

Printed page