No money, no toilette.
Al-Risala, March 2002, pp. 79–84
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایک انوکھا تجربہ تھا۔ اگر کوئی شخص اس ایک تجربہ کو لے کر اسی کی بنیاد پر عمومی رائے قائم کرنے لگے تو وہ کہے گا کہ سوئسٹر لینڈ کے لوگ بہت خود غرض اور حریص ہوتے ہیں۔ ان کے اندر انسانی ہمدردی کا جذبہ نہیں۔ مگر اس کے بعد بہت سے اس سے مختلف تجربے پیش آئے جن سے اندازہ ہوا کہ مذکورہ ریسٹورنٹ کا واقعہ سوئسٹر لینڈ کے لوگوں کے اخلاق کو سمجھنے کے لئے کوئی نمائندہ واقعہ وہ صرف ایک استثنائی واقعہ ہے۔ یہاں کے لوگ عام طور پر با اخلاق اور ہمدرد نظر آئے۔ یافتہ طبقہ کی ایک خاص کمزوری وہ ہے جس کو جزلائزیشن کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ اکثر کسی ایک واقعہ کو لے کر اس کو عمومی حیثیت دے دیتے ہیں اور سارے ملک اور ساری قوم کے بارے میں کہہ دیتے ہیں کہ وہ ایسے اور ایسے لوگ ہیں۔
یہاں ایک مسیحی پادری سے گفتگو ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں میں کس اختلاف کو آپ زیادہ بنیادی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسیح کو ہم بھی مانتے ہیں، مسلمان بھی مانتے مگر ہم مسیح کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور مسلمان مسیح کو خدا کا پیغمبر کہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ خدا کا بیٹا کہنے پر آپ لوگوں کو کیوں اتنا اصرار ہے جب کہ خود انجیل سے یہ بات واضح طور پر ثابت نہیں ہوتی۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، انجیل میں مسیح کو ایک جگہ خدا کا بیٹا (Son of God) کہا گیا ہے مگر اسی انجیل میں دوسری جگہ مسیح کو یوسف کا بیٹا (Son of Joseph) کہا گیا ہے۔ اسی طرح بائیبیل میں عام انسان کے لئے بھی خدا کے بیٹے کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسیح کو لفظی معنوں
میں ابن خدا ماننے کا عقیدہ خود مقدس انجیل میں بھی ثابت شدہ نہیں ہے۔
ایسا محسوس ہوا کہ وہ اس سوال پر اپنے آپ کو دفاعی پوزیشن میں پاتے ہیں۔ انہوں نے انجیل سے مسیح کو خدا کا بیٹا ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی البتہ وہ چرچ کا حوالہ دیتے رہے۔ جیسا کہ ظاہر ہے، وہ میرے سوال کے جواب کے لئے کافی نہ تھا۔
ان کو میں نے بتایا کہ میں نے کرسچینٹی اینڈ اسلام کے عنوان پر چھ صفحہ کا ایک مضمون لکھا ہے جو حسب ذیل کتاب میں شائع ہو چکا ہے:
Pilgrims to the light (2000)
ڈاکٹر چندر مظفر (ملیشیا) سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وہ ملیشیا کے اسلام پسند قائد انور ابراہیم کی اسلامی پارٹی کے ایک لیڈر ہیں۔ انور ابراہیم کی قید کے بعد ان کی بیگم آج کل ان کی پارٹی کی چیر مین ہیں اور ڈاکٹر چندر مظفر اس کے ڈپٹی چیر مین ہیں۔ وہ اردو یا عربی نہیں جانتے اس لئے ان سے گفتگو انگریزی میں ہوئی۔
میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں اسلامی قانون کے نفاذ کے نام سے جو تحریکیں اٹھیں وہ سب کی سب اپنے طریق کار کے اعتبار سے غیر اسلامی تحریکیں تھیں۔ یہ تحریکیں اس نعرے پر اٹھائی گئیں کہ اقتدار پر قبضہ کر کے پورے اسلامی قانون کا نفاذ کیا جائے ۔ مختلف آیات اور احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے کہا کہ اسلام میں تدرجی نفاذ کا طریقہ ہے نہ کہ فوری نفاذ کا طریقہ۔ انہوں نے کہا کہ آپ جن واقعات کی مثال دے رہے ہیں وہ اس وقت کی مثال ہے جب کہ پورا قرآن نہیں اترا تھا۔ اب جب کہ پورا قرآن اتر چکا ہے اور مکمل قرآن ہمارے پاس موجود ہے تو اب ہمیں بیک وقت پورا قرآن نافذ کرنا ہوگا۔ میں نے کہا کہ یہ بات صحیح نہیں۔ اس لئے کہ احکام کی تعمیل کا تعلق خود احکام کی فہرست سے نہیں ہے بلکہ تعمیل کرنے والے کی اپنی عملی استطاعت سے ہے (لا يكلف الله نفسًا الا وسعها ، البقره (٢٨٦)۔ معاشرہ کے اندر جیسی استطاعت ہوگی اسی کے مطابق، احکام کا نفاذ کیا جائے گا۔ اور جن احکام کے نفاذ کی استطاعت بر وقت نہ ہو ان کے بارے
میں تعلیم و تربیت سے آغاز کیا جائے گا، نہ کہ عملی نفاذ سے۔ انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا۔ ۲۹ جولائی کی صبح کو خاموش پر پر (silent prayer) کا پروگرام تھا۔ لوگ ایک کمرے میں اکٹھا ہوئے اور دوزانو ہو کر اور آنکھیں بند کر کے خاموش بیٹھ گئے۔ آدھ گھنٹہ تک وہ اسی حال میں رہے۔ ایک اپنے مذہب کے مطابق ، پریئر کرتا رہا۔ آدھ گھنٹہ پورا ہونے پر ایک ہلکی گھنٹی بجائی گئی اس کے بعد سب لوگ اٹھے اور خاموشی کے ساتھ باہر چلے گئے۔
خاموشی کی اہمیت ہر مذہب میں تسلیم کی گئی ہے۔ ایک بار میری ملاقات ایک نوجوان سے وہ جاپان میں مقیم تھا اور خاموشی (silence) پر ریسرچ کر رہا تھا۔ میں نے اس کو ایک حدیث رسول سنائی جس کے الفاظ یہ ہیں : من صمت نجا (الترمذی، احمد) جو چپ رہا اس نے نجات وہ نوجوان بہت خوش ہوا اور فوراً اس حدیث کو اپنی ڈائری میں لکھ لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں روایات میں آیا ہے : کان طويل الصمت قليل الضحك (مسند احمد)۔ آپ دیر تک چپ رہا کرتے تھے۔ چپ رہنا ذکر و فکر کی علامت ہے۔ رہنا کوئی سلبی فعل نہیں بلکہ وہ ایجابی فعل ہے۔ چپ رہنا مکمل معنوں میں ایک ذہنی عمل ہے البتہ جس آدمی کا ذہن جتنا زیادہ بیدار ہو گا اتناہی زیادہ اس کا چپ رہنا با معنی ہوگا۔ ۲۹ جولائی کی صبح ہوئی تو حسب معمول میں نماز فجر کے بعد ٹہلنے لگا اور باہر کی دنیا کو دیکھنے لگا۔ ہی مجھے محسوس ہوا کہ اس بظاہر خوبصورت دنیا میں جو کش مجھے پہلے دن نظر آئی تھی وہ اب پانچ دن گزارنے کے بعد محسوس نہیں ہو رہی ہے۔ مجھے رسول اللہ ﷺ کا یہ قول یاد آیا : اللهم لا عيش الا عيش الآخرة (البخاری مسلم، الترمذی، ابن ماجه، مسند احمد) اے اللہ آخرت کے عیش کے سوا کوئی عیش نہیں۔ میں نے سوچا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ دنیا ہمارے لئے پر مسرت جگہ نہیں بنتی۔ جب کہ مذکورہ حدیث کے مطابق، آخرت والی جنت ایک مکمل مسرت کی جگہ ہوئی ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کسی ایک چیز سے زیادہ دیر تک خوش نہیں رہ سکتا ۔ انسان اپنے مزاج کے اعتبار سے ہر روز نیا سامان مسرت پانا چاہتا ہے۔ یہ نیا پن صرف لامحدود جنت میں ممکن ہو گا۔ موجودہ محدود دنیا میں لا محدود
مسرت ممکن نہیں۔ اس لئے یہاں انسان مسلسل طور پر خوش بھی نہیں رہ سکتا۔
30 جولائی کو صبح ہوئی اور سورج نکلا تو اس کو دیکھ کر ایک بات میرے ذہن میں آئی۔ سوچا کہ اس واقعہ کو ساری دنیا میں ’سورج نکلا اور سورج ڈوبا‘ کے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ صرف ایک ادبی اسلوب ہے۔ حقیقی اعتبار سے کہنا ہو تو یہ کہا جائے گا کہ میرا نھطہ ارضی سورج کے سامنے آیا یا میرا نھطہ ارضی سورج سے اوجھل ہو گیا۔ مگر کسی بھی زبان میں طلوع و غروب کے واقعہ کو اس طرح بیان نہیں کیا جاتا۔ اور اگر کوئی حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلوع و غروب کو اس انداز میں بیان کرے تو کلام کا ادبی حسن ختم ہو جائے گا۔ وہ ایک خشک اور غیر دلچسپ بیان ہو کر رہ جائے گا۔ انسانی کلام میں ہر آدمی جانتا ہے کہ اس طرح کی چیزوں میں ہمیشہ مروجہ اندازِ کلام کا اعتبار کیا جائے گا، نہ کہ حقیقی اعتبار سے امرِ واقعہ کا۔ مگر جب معاملہ مقدس کتاب کا ہو تو ہر آدمی اس کو لفظی اعتبار سے لے لیتا ہے، نہ کہ اسلوب کے اعتبار سے۔
مثال کے طور پر مسیحی لٹریچر میں حضرت عیسیٰ کے لئے ابن اللہ کا لفظ آیا ہے۔ یہ لفظ یقینی طور پر عبد اللہ کے معنی میں ہے۔ مگر مسیحی حضرات نے اس کو ٹھیک لفظی معنی میں ابن اللہ کو حقیقی کے مفہوم میں لے لیا اور حضرت مسیح کے دین میں ایک زبردست گمراہی داخل کر دی۔ یہی معاملہ ہر مذہب کی مقدس کتاب میں ہوا ہے۔ یہی غلطی خود مسلمانوں نے بھی کی۔ قرآن میں قلب کا لفظ سوچنے اور غور کرنے کے حوالے سے آیا ہے۔ مثلاً لہم قلوب لا يفقهون بها (الاعراف، ۱۷۹) اس بنا پر بہت سے لوگوں نے سمجھ لیا کہ قلب فکر و تدبر کا مرکز ہے۔ مگر اس قسم کی تفسیر درست نہیں۔ قرآن میں یہ اسلوب انسانی کلام کی رعایت سے ہے۔ چونکہ تمام انسانی زبانوں میں قلب کا استعمال اسی انداز میں ہو رہا تھا اس لئے قرآن میں بھی اسی اسلوب کو اختیار کیا گیا ورنہ امر واقعہ یہ ہے کہ قلب دوران خون کا مرکز ہے اور دماغ فکر و تدبر کا مرکز۔
میں اپنی عادت کے مطابق، صبح کو اول وقت ناشتہ کرتا ہوں ۔ چنانچہ آج بھی میں صبح ے بجے نیچے ڈائننگ ہال میں گیا۔ ناشتہ سے واپسی میں حسب معمول میں لفٹ کو چھوڑ کر زینہ سے اوپر چڑھ رہا
دوسری طرف سے برطانیہ کے بشپ سائمن آ رہے تھے۔ میں اپنے خیالات میں گم تھا کہ انہوں نے گڈ مارننگ کہا۔ ان کی آواز پر میں اپنے خیال کی دنیا سے نکلا اور میں نے بھی گڈ مارننگ کہا۔ وقت میرے دماغ میں ایک خیال گونج رہا تھا جس کو میں نے ان سے ان الفاظ میں کہا: One who lives in his own greatness, cannot experience the greatness of God. God lives where modesty is. Modesty is the only meeting point of man and God. Arrogance is not the meeting point. ایک اور پہلو سامنے آیا تو میں نے ان سے کہا کہ آپ کی انگریزی بہت اچھی ہے، میں انگریزی زبان میں آپ کا شاگرد ہوں:
Your English is very good. I am your disciple in English language. اس کے بعد انہوں نے فوراً کہا:
You are far ahead in spirituality. And I am your disciple in spirituality. ۳۰ جولائی کی صبح کو ہم لوگ ہوٹل سے سوئٹزرلینڈ کے شہر ژُگ (Zug) گئے ۔ ژُگ ایک قدیم یہاں ۶۰۰ سال پرانی ایک بڑی عمارت ہے جو شاہی دور میں تعمیر ہوئی تھی۔ اس کے ہال میں کانفرنس کا آخری اجلاس ہوا۔ اس میں ژُگ شہر کے کچھ اعلیٰ ذمہ دار بھی شریک تھے۔ یہاں کچھ ابتدائی تقریبات ہوئیں ۔ اس کے بعد کانفرنس کی طرف سے بشپ سائمن نے ایک مختصر ڈیکلیریشن پڑھ کر اس کے بعد میرا تیار کیا ہوا تین صفحہ کا ڈاکومنٹ (document) پڑھ کر سنایا گیا۔ یہ گویا مختصر ڈیکلیریشن کی تفصیل تھی۔
کانفرنس میں یہ طے ہوا تھا کہ اس کا آخری اجلاس سوئٹزرلینڈ کے تاریخی شہر ژُگ میں ہوگا جہاں ایک مختصر اور متفقہ ڈیکلیریشن پیش کیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ ایک کسی قدر تفصیلی ڈاکومنٹ جاری کیا جائے گا اور اس ڈاکومنٹ کو مختلف زبانوں میں ترجمہ کر کے پوری دنیا میں پھیلایا جائے اس تشریحی ڈاکومنٹ کو تیار کرنے کے لئے کانفرنس کے پروفیسر صاحبان کے تین گروپ بنائے ایک روسیوں کا، دوسرا مغربی ملکوں کا اور تیسرا ایشیائی ملکوں کا۔ اور یہ کہا گیا کہ ان تینوں میں
سے جو سب سے بہتر سمجھا جائے گا اس کی اشاعت کی جائے گی ۔ تینوں گروپ نے اپنے اپنے ڈاکومنٹ تیار کئے ۔
کانفرنس کے آرگنائز راندرے بائی کاف کو ان تینوں میں سے کوئی بھی پسند نہیں آیا۔ کی رات کو اندرے بائی کاف میرے کمرے میں آئے۔ وہ کافی اداس معلوم ہوتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ پروفیسر صاحبان کے گروپ نے تین ڈاکومنٹ بنائے ہیں۔ مگر تینوں مجھے پسند نہیں آ رہے ہیں۔ کے اجلاس میں ہمیں ایک منظور شدہ ڈاکومنٹ کا نفرنس میں پیش کرنا ہے۔ مگر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کل کے دن میں کیا چیز پیش کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک ایسا ڈاکومنٹ چاہتے ہیں جو روحانی انداز میں لکھا گیا ہو، جو لاکھوں لوگوں کے دلوں کو متاثر کرے۔
I want a document which can move the heart of the millions. انہوں نے کہا کہ میں نے یہاں کے بڑے چرچ میں جاکر دعا کی ہے اور میرا دل کہتا ہے کہ آپ وہ ڈاکومنٹ تیار کر سکتے ہیں جو کہ ہم چاہتے ہیں۔ چنانچہ رات کو کئی گھنٹہ محنت کر کے میں نے یہ ڈاکومنٹ تیار کیا اور صبح اس کو کمپیوٹر پر ٹائپ کروایا۔ اجلاس شروع ہونے سے کچھ پہلے یہ ڈاکومنٹ میں نے اندرے بیکا ف کے حوالے کر دیا۔ وہ اس کو پڑھ کر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ میں ایسا ہی ڈاکومنٹ انہوں نے پروفیسروں کے تیار کئے ہوئے بقیہ تینوں ڈاکومنٹ کو رد کر دیا اور میرے ڈاکومنٹ کو منظوری دے دی۔ جب یہ ڈاکومنٹ کا نفرنس میں پڑھ کر سنایا گیا تو تمام لوگوں نے اس کو بہت پسند ایک پروفیسر نے اس کو ونڈرفل بتایا۔ ایک مغربی پروفیسر نے کہا: