Al-Risala · January 2002

She has good reputation of punctuality.

Al-Risala, January 2002, pp. 14–25

By Maulana Wahiduddin Khan

جب وہ ہال میں داخل ہوئیں تو انہوں نے السلام علیکم کہا۔ وہ بات بات میں مسکراتی ایک موقع پر انہوں نے کہا:

My people are religious indeed. There is no doubt about it, but they are not fanatics. شیخ حسینہ کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ وہ ایک ذہین خاتون ہیں۔ مثلاً انہوں نے بتایا کہ جب میں ایک سرکاری دورہ پر دلّی گئی تو اس وقت انڈیا اور پاکستان کے درمیان سخت تناؤ کا ماحول اتفاق سے جس دن شیخ حسینہ دلّی پہنچیں اس دن یہاں تیز بارش ہو رہی تھی۔ کسی اخبار نویس نے پوچھا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان جو تناؤ چل رہا ہے اس میں آپ کا رول کیا ہے۔ نے بارش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میں یہاں بارش کے ساتھ آئی ہوں تاکہ تناؤ کی فضا کو کم کروں :

I have come here with rains to cool down tempers. شیخ حسینہ بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن کی صاحب زادی ہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، بنگلہ دیش بننے کے بعد ۱۹۷۵ میں شیخ مجیب الرحمن اور ان کے گھر والوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔ حسینہ صرف اس لیے قتل ہونے سے بچ گئیں کہ اس وقت وہ بنگلہ دیش سے باہر تھیں۔ حسینہ اپنے آپ کو بنگلہ دیش میں غیر محفوظ تصور کرتی ہیں۔ اس مسئلہ کا حل انہوں نے یہ نکالا ہے کہ انہوں نے بنگلہ دیش اسمبلی سے ایک ایسا قانون پاس کروایا ہے جس کے مطابق انہیں اپنے سیاسی عہدہ سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی ساری عمر خصوصی سیکورٹی حاصل رہے۔ میرے نزدیک یہ تحفظ سراسر ناکافی ہے۔ ان کے لیے اصل تحفظ کی بات یہ تھی کہ وہ شیخ مجیب الرحمن کے قاتلوں کو معاف کر دیں تاکہ ان کا جذبہ انتقام ٹھنڈا ہو جائے۔ مگر انہوں نے حکومت میں آنے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ شیخ مجیب الرحمن کے قاتلوں کے خلاف سرکاری اور عدالتی کارروائی شروع

ان کی یہی انتقامی پالیسی ان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اس دنیا میں انتقام کو بھلانا پڑتا ہے۔ اگر آپ انتقام لیں تو آپ کو جاننا چاہئے کہ انتقام کا بھی انتقام لیا جائے گا اور پھر یہ سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا۔

ایک صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم کو چاہئے کہ مذہبی فنڈ منٹلزم کا مقابلہ سیکولر دلائل ان کا خیال تھا کہ مذہبی دلائل سے مقابلہ کرنے کی صورت میں وہ زیادہ زور پکڑ جائیں میں نے کہا کہ آپ نے یہ بڑی عجیب بات کہی۔ ایسا طریقہ کبھی موثر نہیں ہوسکتا۔ جانتے ہیں کہ وہ لوگ جن کو آپ اسلامک فنڈ منٹلسٹ کہتے ہیں وہ اسلامی دلائل کی بنیاد پر کھڑے ان کے ذہن کو بدلنے کے لئے وہی دلائل درکار ہیں جن کو وہ اہمیت دیتے ہیں۔ کوئی اور دلائل خواہ وہ کتنے ہی زیادہ ہوں، ایسے لوگوں کو متاثر نہیں کرسکتے۔ مجلس میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تھوڑے سے استثناء کو چھوڑ کر پوری امت کا ذہن سیاسی ہوگیا ہے۔ سیاسی طرزِ فکر کے سوا کوئی اور طرز فکر لوگوں کو معلوم ہی نہیں۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی بڑی بڑی تحریکیں سراسر بے نتیجہ ثابت ہو رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاست زندگی کے سفر کا اختتام ہے، وہ زندگی کے سفر کا مسٹر حمزہ علوی نے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستانی تحریک کوئی اسلامی تحریک نہ تھی: Pakistan movement was not an Islamic movement. یہ ایک تعلیمی، اقتصادی اور سیاسی تحریک تھی۔ یہ مکمل طور پر ایک سیکولر تحریک تھی۔ مسٹر محمد علی جناح نے ۱۹۴۸ میں پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں سیکولر ڈیموکریسی کا اعلان کیا مگر بعد کو وہاں اسلام کا نعرہ لگنا شروع ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسلامی لوگ ابتداءٔ پاکستان تحریک کے مخالف تھے۔ مگر جب پاکستان بن گیا تو وہ انا کنا معكم (العنكبوت ۱۰) کا نعرہ لگاتے ہوئے اس کے قائد بننے کی کوشش کرنے لگے، اگر چہ وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔ بنگلہ دیش کی تقریبا بیس کروڑ کی آبادی میں ۸۰ فیصد سے زیادہ مسلمان ہیں۔

۱۳ ویں صدی میں پھیلا جب کہ اس علاقہ میں مسلم نواب کی حکومت تھی۔ اس بنا پر کچھ کٹر قسم کے لوگوں نے لکھا ہے کہ یہاں کے ہندو جبر کے ذریعہ مسلمان بنائے گئے۔ ایک بنگالی ہندو سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔

سوامی وویکا نند جو خود بھی ایک بنگالی ہندو تھے انہوں نے سختی کے ساتھ اس کی تردید کی انہوں نے لکھا ہے کہ ہندو سماج میں اونچ نیچ کا جو مسئلہ تھا اور ہندو زمیندار جس طرح کسانوں کا استحصال کر رہے تھے، وہ یہاں کے ہندوؤں کے لیے اسلام میں داخلے کا سبب بنا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ یہ کہنا لغو ہے کہ بنگال کے ہندوؤں نے جبری طور پر اسلام قبول کیا : It is nonsense to say that the Hindus (of Bengal) were converted to Islam by force. بنگلہ دیش ۱۹۷۱ء کے بعد بنا۔ اس کے بعد اس موضوع پر بہت سی کتابیں لکھی گئیں جن کے ٹائٹل اس قسم کے تھے، مثلاً : Dismemberment of Pakistan‘ اور ‘Partition after partition’ ایک ٹائٹل یہ تھا : پاکستان کٹ ٹو سائز ‘Pakistan cut to size‘۔ یہ ٹائٹل بہت با معنیٰ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بنگلہ دیش بننے سے پہلے پاکستان کا بظاہر جو بڑا سائز تھا وہ ایک مصنوعی سائز تھا۔ وہ گھٹ کر اپنے اصلی سائز پر آگیا۔

یہی حال ہر انسان کا ہے۔ ہر انسان اپنی بڑائی کے فرضی احساس میں جیتا ہے۔ اپنے آپ کو اپنی حقیقی حیثیت سے زیادہ سمجھے ہوئے ہوتا ہے۔ یہ صرف اللہ عزوجل پر ایمان ہے جو آدمی کے مصنوعی برتری کے احساس کو ختم کر سکتا ہے۔ مومن باللہ کی صحیح تعریف میرے نزدیک یہ ہے کہ اللہ کی برتری کے احساس نے اس کو انسان اصلی (man cut to size) بنا دیا ہو۔ کے مسلمانوں سے ملاقات کے دوران یہ اندازہ ہوا کہ بنگلہ دیش کے عوام کا کلچر مکمل طور پر پاکستان کے کلچر سے مختلف تھا۔ مثال کے طور پر بنگلہ دیش کے مسلمان بنگالی زبان بولتے ہیں اور پاکستانی اردو زبان بولتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے مسلمان ٹیگور کو اپنا ہیر و سمجھتے ہیں اور پاکستان کے لوگ اقبال

کو اپنا ہیرو سمجھتے ہیں ۔ بنگلہ دیش کی عورتیں بندی لگاتی ہیں اور پاکستان کی عورتیں اس کو ہندو علامت سمجھتی ہیں ۔ تقریباً ہر اعتبار سے دونوں کا کلچر الگ الگ تھا۔ ایسی حالت میں پاکستان اور بنگلہ دیش کو ملا کر ایک ملک بنانا عام حالت میں بھی سخت مشکل تھا اور دونوں کے درمیان ہزار میل کی دوری کی بنا پر وہ سرے سے ممکن ہی نہ تھا۔ اس قسم کے سیاسی عجوبہ کا تصور صرف کسی شاعر کے دماغ میں آسکتا تھا یا کسی انتہائی جذباتی لیڈر کے دماغ میں ۔

بنگلہ دیش کے جن لوگوں سے میری ملاقات ہوئی وہ تقریباً متفقہ طور پر یہ کہتے ہوئے ملے کہ ۱۹۷۱ کی جنگ میں پاکستان نے ہمارے اوپر بدترین ظلم کیا۔ ۳ ملین بنگالی مار ڈالے گئے ۔ ۲۰ ہزار ہندوستانی فوجی ہلاک ہو گئے ۔ معاشی نظام تباہ ہو گیا ، وغیرہ ۔ مگر پاکستان کے لوگوں سے بات کیجئے تو وہ اس سے مختلف تصویر پیش کریں گے ۔ وہ پاکستان کے کسی ظلم کا ذکر نہیں کریں گے ۔ اس کے بجائے وہ یہ بتائیں گے کہ بنگلہ دیش کے مسلمانوں نے پاکستان کے خلاف کیا کیا مخالفانہ کارروائیاں کیں اور کس طرح پاکستان کو نقصان پہنچایا۔

انسان کا یہ عام مزاج ہے کہ جب ایک گروہ کا دوسرے گروہ سے اختلاف ہو جائے تو دونوں ایک دوسرے کی صرف برائیاں بیان کرتے ہیں ، وہ ان کی اچھائیوں کا ذکر نہیں کرتے ۔ یہ برائیاں بھی یا تو فرضی ہوتی ہیں یا مبالغہ آمیز۔ اس بنا پر دونوں کا یہ حال ہوتا ہے کہ ہر ایک دونوں کی برائیوں سے آخری حد تک باخبر ہوتا ہے اور ہر ایک دونوں کی اچھائیوں سے آخری حد تک بے خبر ۔

ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ماضی کے دور میں یہود میں سے کچھ لوگوں کو خنزیر بنا دیا گیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے جسم کو انسانی جسم کے بجائے خنزیر کا جسم بنا دیا گیا۔ اس سے مراد دراصل صفات ہیں ۔ یعنی کردار کا بگڑ جانا۔ ستھری غذا کے بجائے گندی غذا ان کو موافق آنے لگے۔ مخلصانہ کردار کے بجائے منافقانہ کردار ان کو زیادہ محبوب ہو جائے ۔ با اصول زندگی کے بجائے مفاد پرستانہ زندگی ان کو زیادہ راس آنے

انسانی خیر خواہی کے بجائے انسانی عداوت ان کا نفسیاتی مزاج بن جائے ۔ بنگلہ دیش کے لوگ پر فخر طور پر آزاد بنگلہ دیش کا لفظ بولتے ہیں ۔ ۱۹۷۱ میں پاکستان سے الگ ہونے کے لئے جو جنگ لڑی گئی اس کو یہاں کے لوگ آزادی کی عظیم جنگ (Glorious war of independence) کہتے ہیں ۔ اس باہمی جنگ میں دونوں طرف کے تقریباً ۵ملین مسلمان ہلاک ہو گئے ۔

پاکستان کے لیڈروں نے ہندوؤں سے آزادی کی جنگ لڑ کر پاکستان بنوایا۔ پاکستان بن چکا تو خود پاکستانی مسلمان ، اس کے دونوں حصوں میں باہمی اقتدار کی جنگ لڑنے میں مشغول ہو گئے ۔ موجودہ زمانہ کے اسلام پسند مسلمان ہر جگہ اسلامی حکومت قائم کرنے کے لئے جہاد چھیڑے ہوئے ہیں ۔ اس معاملہ میں وہ ’حبک الشی یعمی و یصم‘ کا مصداق بن چکے ہیں ۔ مذکورہ قسم کے واقعہ سے انہوں نے یہ سبق نہیں لیا کہ سیاسی تحریک ، خواہ وہ اسلام کے نام پر چلائی جائے اس کا انجام ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے وہ اغیار سے آزادی کے نام پر لڑی جاتی ہے اور جب یہ پہلا مرحلہ ختم ہوتا ہے تو وہ اقتدار کے لئے باہمی جنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔ اسلامک آرگنائزیشن (OIC) کی طرف سے ڈھا کہ میں ایک اسلامی یونیورسٹی قائم کی یہاں اسلام کو بطور تاریخ نہیں بلکہ بطور دینیات ( تھیالوجی) پڑھایا جاتا تھا ۔ مگر جلد ہی یہ یونیورسٹی پولیٹکل اسلام کی سرگرمیوں کا مرکز بن گئی ۔ اس کے بعد جنرل ضیاء الرحمن کے زمانہ میں یہاں کے سیکولر طبقہ نے اس کو ڈھا کہ سے ہٹا کر دو سو کلومیٹر دور کشتیا میں منتقل کرا دیا۔ اس کے بعد یہاں کے اسلام پسند لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ یہ سیکولر مسلمان اسلام دشمن ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس میں زیادہ غلطی یہاں کے اسلام پسند طبقہ کی ہے۔ یہ لوگ اپنے کو اسلام پسند کہتے ہیں مگر حقیقت میں وہ سیاست پسند لوگ ہیں ۔ وہ اسلام کے نام پر اپنی سیاست چلاتے ہیں ۔ اپنے اسی سیاسی مزاج کی بنا پر یہ لوگ ہر مسلم ملک میں سیاسی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہیں اور ہر مسلم ملک میں صرف مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ دوسری طرف سیکولر طبقہ یہ سمجھنے

لگا ہے کہ اسلام ہر ترقی کا مخالف ہے۔ مگر سیکولر طبقہ حقیقتہً کچھ مسلمانوں کی تعبیر دین کا مخالف ہے، وہ خود اسلام کا مخالف نہیں۔

سیاسی اپوزیشن کا طریقہ کوئی مثبت نتیجہ پیدا نہیں کرتا۔ وہ صرف منفی نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ سمجھتا ہوں کہ اسلام کی تاریخ کے آغاز ہی میں حالات نے اس معاملہ کی ایک انتہائی مثال قائم کر دی تھی ۔ یہ امام حسین کی مثال تھی۔ امام حسین کا واقعہ گویا اس بات کی ایک انتہائی مثال ہے کہ قائم شدہ حکومت کے خلاف اپوزیشن کی سیاست ملت کے لئے کیا معنیٰ رکھتی ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ مسلمان لیڈروں نے کبھی اس مثال سے سبق نہیں لیا۔ موجودہ زمانہ کے سیاست پسند مسلمانوں نے تو حسین کی مثال ہی کو اعلیٰ نمونہ قرار دے کر اس کی تقلید میں ساری دنیا میں سیاسی ہنگامہ آرائی کو تحریک اسلامی اور دعوت اسلامی کا نام دے دیا ہے۔

ڈھا کہ اور اسی طرح کی دوسری بڑی بڑی کانفرنسوں میں شرکت کے بعد میرا مشترک تاثر یہ ہے کہ تقریباً ہر وہ کانفرنس جس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو بلایا جاتا ہے وہ زیادہ تر ایک ہی نوعیت کی ہوتی ہے۔

یہ لوگ اس طرح بولتے ہیں جیسے کہ وہ بس اپنی انگریزی دانی کا مظاہرہ کرنے کے لئے بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی مقرر اپنی تقریر میں کوئی واضح اور متعین پیغام دے سکے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مقصد اپنی انگریزی دانی کا مظاہرہ کرنا ہے، نہ کہ کوئی متعین بات کہنا۔ پاکستان سے چودہ آدمیوں کا وفد اس کانفرنس میں شرکت کے لیے آیا تھا۔ سے میں نے کہا کہ انڈیا اور پاکستان میں نیوکلیئر ہتھیاروں کی ریس چل رہی ہے۔ کیا آپ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ ایٹم بم بنایا تو جا سکتا ہے مگر وہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ جاپان اس کے استعمال کا اول و آخر میدان تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں تو یہ حالت ہے کہ میاں نواز شریف کی حکومت کے زمانہ میں ہمارے پاکستانی اخباروں میں ایسے ایڈیٹوریل شائع ہوئے جن کا عنوان یہ تھا میاں صاحب بٹن دبادیں، اللہ خیر کرے گا۔

میں نے کہا کہ یہ تو دیوانگی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے تو کچھ صحابی نے کہا کہ مشرکین کے خلاف ہم کو قتال کی اجازت دیجئے، ، تو آپ نے فرمایا کہ اصبروا فانی لم اومر بالقتال ۔ میں نے کہا کہ جو لوگ یہ نہ جانیں کہ ایٹم بم ایک بوم رینگ کھیل ہے ان کو چاہئے کہ وہ چپ رہیں ، نہ کہ اس قسم کا بے معنی کلام کریں۔

۲ جون کی دوپہر کو بنگلہ دیش کے مشہور اسلام پسند لیڈر پروفیسر غلام اعظم سے ان کے مکان پر ملاقات ہوئی۔ پروفیسر غلام اعظم (پیدائش ۱۹۲۲) نے پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کیا وہ طالب علمی کے زمانہ سے سیاست میں شریک ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ۱۹۴۶ میں جب انڈیا میں الیکشن ہوا اور کانگریس اور مسلم لیگ کا مقابلہ ہوا تو پاکستان کے نام پر ووٹ دینے والے مسلمان سب سے زیادہ موجودہ بنگلہ دیش میں تھے۔ اس کے بعد موجودہ انڈیا میں، اور سب سے کم موجودہ پاکستان میں۔

میں نے کہا کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ بعد کو تینوں حصوں کے مسلمانوں کا حال کچھ اور بنگلہ دیش کی قوم پرست لیڈر شپ کے تحت اس ملک نے سیکولرزم کو اختیار کر لیا حتی کہ اس کا اسلامی دستور بدل دیا گیا۔ اسی طرح انڈیا کے مسلمان آج سیکولر دستور کے تحت زندگی گزار رہے اسی طرح پاکستان میں بھی اکثریت سیکولر مسلمانوں کی ہے۔ ۱۹۷۲ کے بعد پاکستان کی اسلام پسند پارٹیوں نے چھ بار الیکشن میں حصہ لیا اور ہر بار وہ لوگ سیکولر پارٹیوں کے مقابلہ میں ان اسلام پسندوں کو پاکستان کا تین فیصد سے زیادہ ووٹ نہ مل سکا۔ پروفیسر غلام اعظم خاں بنگلہ دیش کی مشہور شخصیت ہیں۔ وہ یہاں کی اسلامی تحریک کے سب سے بڑے لیڈر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ وہ ڈھا کہ میں رہتے ہیں۔ ۲ جون کی صبح کو ان کی رہائش گاہ پر ان سے گفتگو ہوئی۔ وہ بہت خوش ہوئے اور اپنی زندگی کے بہت سے

پروفیسر غلام اعظم صاحب مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے بہت قریب رہے ہیں۔

میں نے پوچھا کہ مولانا مودودی کی کوئی خاص صفت بتائیے ۔ انہوں نے ایک بات یہ بتائی کہ مولانا مودودی ہمیشہ مجلس شوریٰ میں یہ کوشش کرتے تھے کہ مجلس شوریٰ میں ہر بات اتفاق رائے کے ساتھ طے کی جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ حدیث میں آیا ہے کہ ان امتی لا تجتمع علی ضلالۃ ( ابن ماجہ ، الفتن ) یعنی میری امت کبھی گمراہی پر مجتمع نہیں ہوگی ۔ چنانچہ وہ کہتے تھے کہ مجلس شوریٰ میں اتفاق رائے سے کسی بات کا طے ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ حق ہے ۔ میں نے کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے مگر اس کی یہ تشریح بالکل غلط ہے ۔ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ کسی جماعت کے افراد کسی بات پر اتفاق رائے کر لیں تو اس سے یہ ثابت ہوگا کہ یہ بات حق ہے ۔ اس کے بجائے حدیث کا مطلب یہ ہے کہ امت محمدی پر ایسا وقت کبھی نہیں آئے گا جب کہ امت کے سارے افراد گمراہی پر متحد ہو جائیں اور کوئی شخص حق کا اعلان کرنے والا باقی نہ رہے ۔

پروفیسر غلام اعظم صاحب نے کہا کہ میں تھنکر مودودی کے مقابلہ میں آرگنائزر مودودی کو زیادہ بڑا سمجھتا ہوں ۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں واقعات کی گواہی آپ کی تائید نہیں کرتی ۔ نے کہا کہ اس پہلو سے مولانا مودودی کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ ان کے تمام بڑے بڑے رفقاء نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا ۔ مثلاً مولانا ابوالحسن علی ندوی، مولانا منظور نعمانی، مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا عبد الغفار حسن، مولانا عبد الرحيم اشرف ، ڈاکٹر اسرار احمد ، مولانا سلطان احمد، مولانا کوثر نیازی، وغیرہ۔ پھر کیسے آپ یہ کہتے ہیں کہ وہ ایک کامیاب آرگنائزر تھے ۔ میں نے کہا کہ کامیاب آرگنائزر وہ ہے جو اپنے رفقاء کو اختلاف کے باوجود اپنے ساتھ متحد رکھ سکے۔ ہندوستان میں گاندھی نے کیا۔ پروفیسر غلام اعظم صاحب میرے اس سوال کا کوئی واضح جواب نہ

۲ جون کو جب کہ میں ڈھا کہ میں تھا، نیپال سے اندوہناک قتل کی خبر آئی ۔ نیپال کے بیشتر خاندان کو اچانک محل کے اندر قتل کر دیا گیا ۔ ڈھا کہ کے انگریزی اخبار

The Independent کی دوسری سرخی یہ تھی:

Palace massacre in Nepal, Crown Prince kills King Birendra, Queen Aishwarya, 11 family members. اس حادثہ میں شاہ بریندرا اور کوین ایشوریہ سمیت ۱۳ آدمی کو اچانک گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ یہ حادثہ غالباً گدی کے جھگڑے کے نتیجہ میں پیش آیا۔ جب سے دنیا میں بادشاہت قائم ہے ہمیشہ گدی کے نام پر قتل و تشدد کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ سیاسی قتل کے اس سلسلہ کو صرف جدید جمہوریت نے ختم کیا۔ جمہوری نظام نے اس کو ممکن بنایا سیاسی گدی الیکشن کے ذریعہ ایک سے دوسرے کو منتقل ہو جائے، جب کہ اس سے پہلے وہ صرف موت یا قتل کے ذریعہ ہی منتقل ہو مثال کے طور پر اورنگ زیب مغل گدی پر قبضہ کرنا چاہتا تھا مگر اس سیاسی تبدیلی کے لیے اس کے پاس کوئی پر امن طریقہ نہ تھا، چنانچہ اس نے تلوار کی طاقت کے ذریعہ اس مقصد کو

ڈھاکہ کہ ائر پورٹ پر ایک ہفتہ وار نیوز لیٹر (Holiday Aviator) پڑھنے کو ملا۔ مئی ۲۰۰۱ کا شمارہ تھا۔ اس کی ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ دبئی اور حیدر آباد کے درمیان إمارات (Emirates) کی طرف سے ایک براہ راست نئی ہوائی سروس شروع کی گئی ہے۔ یہ سروس حیدر آباد اور دبئی کے درمیان نان اسٹاپ سروس ہوگی اور وہ ہفتہ میں تین بار مسافروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جائے گی۔ میں نے اس خبر کو پڑھا تو میں نے سوچا کہ جس نوابی دور کے خاتمہ پر مسلمان عرصہ تک فریاد کرتے رہے اس دور میں صرف سالانہ بحری سفر ممکن تھا اور وہ بھی حج کی عبادت کے اب اسی حیدر آباد میں ہفتہ میں تین بار عالمی اقتصادی سفر ممکن ہو گیا ہے۔ یہ اہل حیدر آباد کے لئے ایک عظیم نعمت ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں ان کے شکایتی مزاج کی بنا پر شکر کا جذبہ مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔ چنانچہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کو جدید تبدیلیوں کی خبر ہی نہیں۔ اور ان مفید تبدیلیوں پر سینہ میں شکر کا چشمہ جاری ہو نا تو اتنا نایاب ہے کہ آج شاید کوئی بھی مسلمان نہیں جو اس عظیم روحانی کیفیت کا تجربہ کرے۔

۲ جون کی شام کو الحاج سید ابو الحسین صاحب (ممبر بنگلہ دیش پارلیمنٹ) نے کانفرنس کے تمام شرکاء کو ڈنر دیا۔ اس موقع پر ہر ایک کو ڈھا کہ کی جامدانی ساڑی بطور تحفہ پیش کی گئی۔ موقع پر لمبا کلچرل پروگرام ہوا۔ اس میں بنگلہ دیشی خواتین نے حصہ لیا جس میں زیادہ تر مسلم مجھے کلچرل پروگرام سے کوئی دلچسپی نہیں تا ہم اس کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوا کہ بنگلہ دیش کے مسلمانوں کا کلچر بڑی حد تک وہی ہے جو مغربی بنگال کے ہندوؤں کا کلچر ہے۔ اس موقع پر رابندر ناتھ ٹیگور کے کئی گانے سنائے گئے، جب کہ پاکستان کے اقبال کا کسی نے نام نہیں لیا۔ سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان اور مشرقی پاکستان میں کلچر کا کتنا زیادہ فرق ہے۔ بنگلہ دیش میں تبلیغی جماعت کا کافی کام ہو رہا ہے۔ تبلیغ کے ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ تبلیغی جماعت ایک اچھا کام کر رہی ہے مگر یہی کافی نہیں۔ مثال کے طور پر ۱۹۷۱ میں جب پاکستانی اور بنگلہ دیشی مسلمانوں کے درمیان مارکاٹ شروع ہوئی تو تبلیغ کے لوگ بھی اس میں شریک تھے۔ حالانکہ اس قسم کا باہمی قتل بیک وقت حرام بھی ہے اور نتیجہ کے اعتبار سے غیر مفید بھی۔ مگر تبلیغی جماعت کے افراد کو چونکہ صرف فضائل اور کہانیوں کی بنیاد پر کھڑا کیا گیا تھا، ان کے اندر کوئی وسیع تر سوچ پیدا نہیں کی گئی تھی اس لئے وہ اس معاملہ کو اسلامی نقطہ نظر سے سمجھ نہ سکے اور عام سیاسی رو کا شکار ہو گئے۔

میں نے کہا کہ فضائل کی داستانوں کی بنیاد پر کسی قوم کو اٹھانا روٹین کے حالات میں مفید ہو سکتا ہے۔ مگر زندگی میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ غیر معمولی واقعات پیش آتے ہیں۔ اس لئے لوگوں کے اندر یہ سوچ بھی ہونی چاہئے کہ وہ ان غیر متوقع حالات (eventualities) کا سامنا کرنے کے لئے بھی فکری طور پر تیار رہیں۔ یہی حادثہ ان دوسری تحریکوں کے ساتھ بھی پیش آیا جو جذباتیت یا خوش اعتقادی کی بنیاد پر اٹھائی گئیں۔ ان کے سامنے بھی جب غیر متوقع حالات پیش آئے تو وہ فکری اعتبار سے تیار نہ ہونے کی بنا پر حالات کا شکار ہو کر رہ گئیں۔ مشرقی بنگال (موجودہ بنگلہ دیش) کا علاقہ وہ علاقہ ہے جہاں صدیوں سے صوفیاء کا کام

ہوتا رہا ہے۔ ۱۹۷۱ تک یہ کہا جاتا تھا کہ تبلیغی جماعت کا سب سے بڑا عالمی اجتماع بنگلہ دیش میں اور جب وہاں اجتماعی دعا ہوتی ہے تو اس میں شرکت کے لئے اتنے زیادہ آدمی آتے ہیں کہ شہر خالی ہو جاتا ہے۔ مگر اسی بنگلہ دیش میں ۱۹۷۱ میں مسلمانوں کی باہمی جنگ اتنے بڑے پیمانہ پر ہوئی کہ شاید پوری مسلم تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں۔

کچھ لوگوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مسلمانوں کا باہم ایک دوسرے کا قتل کرنا اسلام میں سراسر حرام ہے۔ اس کو قرآن میں جہنمی فعل کہا گیا ہے۔ پھر طویل دینی سرگرمیوں کے باوجود اس سر زمین میں اتنا بڑا غیر اسلامی واقعہ کیوں ہوا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ صوفیاء کی تحریک اور تبلیغی تحریک دونوں ہی برکت اور فضائل اور مقدس کہانیوں کی بنیاد پر چلائی گئیں ۔ دونوں میں سے کوئی بھی دینی بیداری اور شعوری انقلاب کی بنیاد پر نہیں چلائی گئی۔ لوگ برکت اور فضائل کے تصور کے تحت بظاہر دیندار تو بن گئے مگر ان کی حقیقی سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ یہی خاص وجہ ہے جس کی بنا پر اس دینی سر زمین میں ۱۹۷۱ کا المیہ پیش آیا۔ اصل یہ ہے کہ کوئی حقیقی اسلامی تحریک فکری انقلاب کی بنیاد پر چلتی ہے، نہ کہ برکت اور فضیلت کی

۱۹۷۱ میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان جو خونی جنگ ہوئی اور جس کے بعد مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بنا اس پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ بنگلہ دیش میں چھپنے والی کتابوں کو پڑھئے تو معلوم ہوگا کہ اس خونی واقعہ کا سبب پاکستان کا ظلم تھا۔ اس کے برعکس پاکستان میں چھپنے والی کتابیں بتاتی ہیں کہ اس کے پیچھے بنگلہ دیش کے ہندو تھے۔ ان ہندوؤں نے سازش کے ذریعہ بنگلہ دیش کو پاکستان سے الگ کروایا۔

میں نے کچھ لوگوں سے کہا کہ یہ دونوں ہی توجیہیں سطحی ہیں۔ اس معاملہ کا اصل ذمہ دار اگر کوئی ہے تو وہ دونوں ملکوں کے مسلم لیڈر ہیں۔ ۱۹۴۷ سے پہلے جب پاکستان کی تحریک چل رہی تھی تو بنگلہ دیش کے لیڈروں بشمول شیخ مجیب الرحمن نے اس تحریک میں نہایت جوش کے ساتھ

اب سوال یہ ہے کہ یہ بنگالی لیڈر اگر مستقبل سے اتنا زیادہ بے خبر تھے تو ان کے لئے سیاست میں حصہ لینا ہی جائز نہ تھا کیوں کہ لیڈر صرف اس شخص کو بننا چاہئے جس کے اندر مستقبل بینی کی صفت ہو۔

یہی معاملہ پاکستان کا ہے۔ اس تحریک کے مفکر اعظم اور قائدِ اعظم کے بیانات کے مطابق، غیر منقسم ہندوستان میں مسلمانوں کو ہندوؤں سے خطرہ تھا۔ اس لئے انہوں نے پاکستان بنوایا تا کہ مسلمان اپنے لئے ایک محفوظ علاقہ حاصل کر لیں۔ اب اگر پاکستان بننے کے باوجود ہندوؤں کا خطرہ مزید اضافہ کے ساتھ باقی ہے تو ہندوؤں کو الزام دینے سے پہلے مفکرِ اعظم اور قائدِ اعظم کی فکری نااہلی کا اعتراف کیا جائے۔ اور یہ مانا جائے کہ یہ لوگ خواہ، جس صلاحیت کے بھی مالک ہوں، مگر وہ بصیرت (vision) سے یقینی طور پر خالی تھے۔ ایسی حالت میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ کسی اردو شاعر کے اس مصرعہ کو دہرایا جائے کہ:

Printed page