Al-Risala · March 2002

Clash of Civilizations, by Samuel P Huntington

Al-Risala, March 2002, pp. 88–95

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کتاب کے مصنف نے بتایا ہے کہ کمیونزم کے زوال کے بعد اب مغرب کی مسیحی قوموں کا تصادم مسلم اقوام سے پیش آنے والا ہے۔ اس کے لئے زمین تیزی سے تیار ہو رہی ہے۔ گویا مغرب کی مسیحی قوموں کو ابھارا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں ایک مسلح تصادم کے لئے تیار رہیں۔ میں نے کہا کہ مسلح تصادم کی یہ بات مجھ کو محض ایک فرضی خطرہ معلوم ہوتی ہے۔ عمومی معنوں میں ایسا کوئی مسلح تصادم پیش آنے والا نہیں۔ البتہ دونوں کے درمیان ایک اور تصادم جاری ہے، یہ پرامن فکری تصادم ہے۔ یہ تصادم صدیوں سے جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔ مگر یہ کوئی بُرائی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی فکری تصادم تھا جس نے مغرب کی نشأۃ ثانیہ کو پیدا کیا۔ خیال ہے کہ یہ فکری تصادم آئندہ بھی انشاء اللہ کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرے گا۔ مثلاً اس کے نتیجہ میں مادیت کا زوال اور روحانی عہد کا آغاز، بے قید آزادی کے بجائے پابند آزادی کے تصور کا رواج، وغیرہ۔ مسٹر اندرے بائیکوف (Andrey Bykov) کا ایک تفصیلی پیپر کانفرنس کے شرکاء کو پڑھنے

کے لئے دیا گیا۔ اس میں بہت سی باتیں تھیں ۔ ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ انہوں نے مشہور مورخ آرنلڈ ٹوائن بی کے حوالہ سے کہا تھا کہ اس دنیا کے لئے فطرت کا ایک قانون یہ ہے کہ کسی سماج میں جو لوگ اقلیت میں ہوں وہ خود سماج کے داخلی میکانزم کے تحت تخلیقی اقلیت (creative minority) کی صورت اختیار کرتے چلے جائیں ۔ اور جو لوگ سماج میں اکثریت کی حیثیت رکھتے ہوں، وہ دھیرے دھیرے غیر تخلیقی اکثریت (uncreative majority) کی صورت اختیار کرلیں۔

یہ بات مسٹر اندرے بائیکوف (Andre Bykov) نے نہایت درست کہی۔ اکثریت کے بارے میں یہ بات بلاشبہ ایک حقیقت ہے۔ یہ فطرت کا ایک لازمی قانون ہے۔ قانون اقلیتی گروہ کے لئے بلاشبہ ایک بشارت کی حیثیت رکھتا ہے۔

مگر اس معاملہ میں فطرت کا قانون صرف پچاس فیصد کام کرتا ہے۔ بقیہ پچاس فیصد کام اقلیت کے رہنماؤں کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے موقع پر اگر اقلیت کے رہنما با شعور ہوں تو وہ یہ کریں گے کہ وہ فطرت کے اس قانون سے اقلیت کے لوگوں کو شعوری طور پر باخبر کرائیں گے۔ وہ بتائیں گے کہ اکثریت کی طرف سے تم کو جو دباؤ پیش آرہا ہے وہ ایک فطری چیلنج ہے جو عین تمہارے حق میں ہے۔ وہ تمہارے لئے ترقی کا زینہ ہے۔ اس کے برعکس اگر اقلیت کے رہنما بے شعور لوگ ہوں تو وہ اکثریت کے دباؤ کو ظلم اور سازش قرار دے کر فریاد کریں گے اور اقلیت کو منفی ذہن میں مبتلا کر دیں گے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فطرت کا قانون ، ہر رکاوٹ کے باوجود، آخر کار غالب آتا غیر دانش مند رہنما اپنی منفی باتوں سے صرف وقتی طور پر اقلیتی قافلہ کے سفر کو روک سکتے ہیں۔ آخر کار فطرت کا قانون بالا ثابت ہوتا ہے اور اقلیتی گروہ نام نہاد لیڈروں کو چھوڑ کر خود فطرت کی رہنمائی میں آگے بڑھتا ہے، یہاں تک کہ وہ کامیابی کی منزل تک پہنچ جاتا ہے۔

ایک صاحب نے اپنے پیپر میں یہ بات کہی کہ ہم کو ایک ایسی سوسائٹی کی ضرورت ہے جس میں مکمل ہارمنی ہو۔ جس کے اندر مختلف گروہوں کے لوگ مل جل کر رہ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سوشل ہارمنی کا ماڈل ہم کو گلوبل ڈائیلاگ کے ذریعہ مقرر کرنا ہوگا۔ میں نے کہا کہ یہ بات بجائے خود

درست ہے کہ سوشل ہارمنی کے بغیر مجموعی ترقی نہیں ہوسکتی۔ مگر سوشل ہارمنی کا ماڈل ہمیں ڈسکسن کے ذریعہ طے کرنا نہیں ہے، وہ بروقت ہی فطرت کے اندر موجود ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اس کو دریافت کر کے اپنی زندگی میں اسے استعمال کریں جس طرح ہم فطرت کے فزیکل قوانین کو دریافت کرکے ان کو اپنی ٹیکنالوجی میں استعمال کر رہے ہیں:

It is a fact that we need a value-based society rather than a society based on material values. But at the same time we had an acceptable model which may serve as a point of reference for all. And I think that the Nature provides us that kind of model. We need an understanding rather than a dialogue. ایک صاحب نے اپنے مقالہ میں کہا کہ موجودہ زمانہ کو اسپیشلا ئزیشن کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ اس قسم کی تعلیم نے نئے نئے مسئلے پیدا کئے ہیں۔ موجودہ نظام تعلیم سے ایسے نوجوان تیار ہو کر نکل رہے ہیں جو جامع قسم کی معلومات نہیں رکھتے، خاص طور پر انسانیات کے بارے میں۔ ان کا حال یہ ہے کہ وہ کم سے کم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جانتے ہیں:

They do not receive suffciently comprehensive knowledge, particularly in the humanities. They are learning more and more about less and less. یہ بات بجائے خود درست ہے۔ مگر یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اصل یہ ہے کہ جدید صنعتی تمدن کو چلانے کے لئے جو افراد درکار ہیں ان میں اسی قسم کی صلاحیتیں مطلوب ہیں۔ یہ جدید تمدن کی ایک اگرچہ یہ بھی صحیح ہے کہ اس قسم کے جزئی متخصص ٹیکنکل کاموں کے لئے مفید ہو سکتے ہیں مگر وہ انسانی علوم کی ترقی میں مددگار نہیں ۔ اس معاملہ میں ہمارے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ دونوں میں سے کسی ایک میں ترقی اور دوسرے میں قناعت کا طریقہ اختیار کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ صورت حال کنزیومرزم کی پیداوار ہے، وہ انسان کی کسی واقعی ضرورت کی پیداوار نہیں۔ مثلاً سڑک پر سفر کرنے کے لئے ماروتی جیسی کار کافی ہے۔ پھر (Ferrari) جیسی انتہائی قیمتی کار کیوں بنائی جائے۔

ایک پروفیسر صاحب نے اپنی تقریر میں اخلاقی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سفر کر کے مختلف یونیورسٹیوں کے ذمہ داروں سے ملاقات کی، مگر مجھ کو کہیں سے حوصلہ بخش جواب نہیں انہوں نے کہا کہ مجھے بتایا گیا کہ پیشہ ورانہ کورس اب اخلاقیات کی تعلیم نہیں دیتے۔ وہ صرف یہ سکھاتے ہیں کہ قانون کے تصادم سے کس طرح بچا جائے۔ اخلاقیات کو بطور مضمون کہیں پڑھایا نہیں جاتا: Iwas told that professional development courses do not teach ethics now. They only teach how to avoid conflict with law. Ethics as such is not taught at all. میں نے کہا کہ انسانی زندگی میں اخلاق کی اہمیت بلا شبہ مسلم ہے۔ مگر موجودہ سوسائٹی میں ہم اخلاقی قدروں کو صرف اس طرح زندہ نہیں کر سکتے کہ سیکولر تعلیم کے موجودہ نظام میں اخلاق کے موضوع پر بھی ایک کتاب شامل کر دیں۔ اس قسم کی کوشش ہاتھی کی دم میں پتنگ باندھنا ہے۔ اس سے زیادہ سنگین ہے کہ تعلیمی نصاب میں جزئی ترمیم کر کے اس کو حاصل کیا جا سکے۔ ایک صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہر آدمی کو داخلی ترقی کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم بہت سی تاریخی مثالوں میں دیکھ سکتے ہیں کہ اس قسم کی روحانی ترقی صرف اس انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے جس نے یہ جان لیا ہو کہ اس کا ہر لمحہ شاید آخری لمحہ ہو: Every person needs inner growth. We can see from many historical examples that such a concerted spiritual growth can come to a person only once he has realised that each and every moment may be his last. مذکورہ مقرر نے یہ بات بظاہر دنیوی معنوں میں کہی تھی مگر یہ بات مزید اضافہ کے ساتھ آخرت کے معنی میں درست ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موت اور آخرت کا تصور روحانی ارتقاء کے لیے سب سے زیادہ مؤثر حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موت اور آخرت کا عقیدہ آدمی کو ہر لمحہ اس اندیشہ میں مبتلا رکھتا ہے کہ کب اس دنیا میں اس کا خاتمہ ہو جائے اور عمل کا موقع اس سے

ایک مقرر نے شوماخر کی کتاب ”چھوٹا خوبصورت ہے“ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک مشرقی

مثل ہے کہ ایک گرتے ہوئے درخت کی آواز ہمیشہ اگتے ہوئے جنگل سے زیادہ ہوتی ہے۔ لوگوں کو بہت زیادہ متوجہ نہیں کرتی :

This idea was expressed long ago by E. F. Schumacher in his book Small is Beautiful. A falling tree is always louder than a growing forest. Steady development does not attract great attention. یہ بات درست ہے۔ عام طور پر لوگوں کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ وہ ظاہر کے اعتبار سے اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی کوششیں ہمیشہ زیادہ بڑا نتیجہ پیدا کرتی ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ لوگ پرشور واقعات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ یہ مزاج ماضی میں بھی تھا اور آج بھی یہی مزاج لوگوں میں

ایک صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ کسی سماج میں امن صرف اسی وقت ممکن ہے جب کہ لوگوں کے دلوں میں بھی امن قائم ہو چکا ہو :

Peace in society is possible only if peace reigns in the hearts of men. یہ بات بلاشبہ درست ہے۔ امن کے نام پر سیاسی ہنگامہ یا امن کے نام پر نظام کی توڑ پھوڑ سے کبھی امن قائم نہیں ہو سکتا۔ امن قائم کرنے کی جدوجہد کا آغاز فرد سے ہوتا ہے، نہ کہ خارجی

اسی طرح ایک صاحب نے کہا کہ مادی ذرائع محدود (limited) ہیں اور ان میں محدود ترقی ہی اس کے مقابلہ میں ہمارے روحانی ذرائع (spiritual resources) لامحدود ہیں۔ روحانیت کے میدان میں ترقی کی کوئی حد بندی نہیں۔

یہ بات بالکل درست ہے اور کہنے میں بھی بہت اچھی معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ ساری تاریخ میں بہت کم لوگ ایسے گزرے ہیں جو روحانیت کے میدان میں لامحدود ترقی کے امکانات کو حاصل کرنے کی کوشش کریں، اور اس سے بھی کم وہ لوگ ہیں جنہوں نے فی الواقع اس امکان کو اپنے حق میں واقعہ بنایا ہو۔

ایک صاحب نے اپنے مقالہ میں وائلنس پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ صدیوں سے لوگ انگنت لڑائیوں کو جھیل رہے ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ خدا کیوں اس میں مداخلت نہیں کرتا اور لوگوں کی ہلاکت کو نہیں روکتا۔ میرے نزدیک اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ خدا مرکز میں ہے، اور لڑائیاں بیرونی سطح پر ہورہی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم بیرونی سطح سے مرکز کی طرف منتقل ہوں۔ ہمارا نشانہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم با اقتدار اشخاص کی ایک جماعت بنائیں جو اس سے اوپر ہوں کہ کوئی انہیں استعمال کرسکے: For centuries people suffering from countless wars have asked why God does not intervene and stop the killing of fellow men. The answer is, in my view, simple: God is at the centre, the wars take place at the periphery. It is time that we returned from the periphery to the centre. Our goal must be to create a community of sovereign personalities, who are above manipulation. یہ بات صحیح نہیں۔ دنیا میں لڑائیوں کا سلسلہ اس لئے نہیں ہے کہ خدا انسانی دنیا سے دور کسی اندرونی مرکز میں ہے۔ اصل یہ ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ خدا کے علم اور قدرت کے تحت ہو رہا ہے۔ نے امتحانی منصوبہ کے تحت لوگوں کو ایک مدت تک کے لئے آزادی دے دی ہے۔ جنگ اسی آزادی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے۔ موجودہ حالات کسی با اقتدار جماعت کے روکنے سے ختم نہ ہوں گے ۔ صرف اس وقت ختم ہوں گے جب کہ خدا کی مقرر کی ہوئی امتحانی مدت کا خاتمہ ہو جائے۔ ایک پروفیسر نے اپنی تقریر میں کہا کہ موجودہ زمانہ میں چرچ سخت دفاعی پوزیشن میں ہیں۔ ان کی مدد کی ضرورت ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ خود اپنے مذہب کے بارے میں لوگوں کی معلومات بہت کم ہیں۔ یہ نظریہ پھیلا دیا گیا ہے کہ چرچ جن باتوں کی تبلیغ کرتے ہیں وہ آج کے حالات کے

اس معاملہ کی وضاحت کے لئے انہوں نے صرف ایک مثال دی، اور وہ اسقاط (abortion) میں نے کہا کہ یہ مثال زیادہ متعلق مثال نہیں۔ مذہب کا دور جدید سے متعلق یا غیر متعلق ہونا، اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ مذہب کی بنیادی تعلیمات کس حد تک زمانہ حال سے متعلق یا غیر متعلق ہیں۔

جہاں تک اسقاط جیسے معاملہ کا تعلق ہے، اس سے مذہب کی دوامی قدر و قیمت کی تردید نہیں ہوتی۔ اسقاط کو درست سمجھنا ایک عملی انحراف کا مسئلہ ہے۔ مذہب کی صداقت کو جانچنے کا معیار کسی سماج کا عملی اس کا معیار صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے سائنٹفک تحقیق کے ذریعہ کوئی واقعی طور پر ثابت کوئی بھی تیسری چیز مذہب کی صداقت کو مشتبہ نہیں کرتی۔

ایک صاحب نے اپنی گفتگو میں آرچ بشپ ڈاکٹر ڈسمانڈ ایم ٹوٹو(Dr. Desmond M Tutu) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہودیت اور مسیحیت اور اسلام کے درمیان جو مذہبی اختلافات ہیں، ان پر ڈائیلاگ جاری رکھنا بہت اچھا ہے۔ مگر ان اختلافات کا مستقل حل یہ ہے کہ تینوں مذاہب باہمی رواداری(mutual tolerance) کے اصول کو اختیار کر لیں۔

میرے نزدیک یہ بات بالکل درست ہے اور مذہبی اختلافات کا یہی قابلِ عمل حل ہے۔ ڈائیلاگ کا طریقہ ہماری معلومات میں اضافہ کر سکتا ہے اس لیے اُس کو جاری رہنا چاہئے۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ڈائیلاگ کے ذریعہ مذاہب کا کوئی ایک یونیورسل ورزن تیار نہیں کیا جا سکتا۔ مذاہب کے لوگوں کے درمیان جب بھی ہم آہنگی کا ماحول قائم ہوگا تو وہ باہمی عزت اور باہمی رواداری کے ذریعہ قائم ہوگا۔

ایک مقرر نے اپنی تقریر میں پروفیسر ونڈل بری(Wendell Berry) کا حوالہ دیا۔ نے بتایا کہ پروفیسر موصوف نے مذہب اور کلچر کے اختلافات کے مسئلہ کو حل کرنے کا طریقہ یہ بتایا ہے کہ علمی مباحثہ کے بجائے دل جوئی کا انداز اختیار کیا جائے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ میں نے اپنے لمبے سفر حیات میں یہ اہم بات دریافت کی ہے کہ ذہنی ڈائیلاگ کے مقابلہ میں قلبی ڈائیلاگ زیادہ

An important conclusion of my year-long journey is that a dialouge of the heart is much more effective than a dialogue of the mind. یہ بات بظاہر خوب صورت معلوم ہوتی ہے۔ مگر وہ زیادہ با معنی نہیں ۔ یہ صحیح ہے کہ "قلبی ڈائیلاگ" سے بھیڑ اکٹھا ہوتی ہے۔ مگر بھیڑ اکٹھا کرنے سے کیا فائدہ جب کہ اصل بات ہی مبہم

ہوکر رہ جائے ۔ میرے نزدیک زیادہ درست بات یہ ہے کہ لوگوں کے اندر غیر ضروری حساسیت کو ختم لوگوں کے اندر یہ مزاج بنایا جائے کہ وہ مذہبی اختلافات پر اسی طرح کھلی بحث کر سکیں جس طرح سائنس کے شعبوں میں کھلی بحث کی جاتی ہے۔ یہاں لوگ اختلاف اور اتفاق سے قطع نظر صرف یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ امر واقعہ کیا ہے ۔ میرے نزدیک صحیح بات یہ ہے کہ سائنٹفک ڈسکشن کا یہی مزاج اہل مذاہب کے درمیان بھی پیدا کیا جائے۔

Printed page