ربانی تعقل
Al-Risala, April 2002
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں بنیادی طور پر دو قسم کی تعلیمات ہیں۔ ایک وہ جن کو احکام کہا جاتا ہے۔ وہ جو تفکر اور تد سے تعلق رکھتی ہیں۔ اول الذکر کی حیثیت اگر عملی ہے تو ثانی الذکر کی حیثیت فکری۔ قرآن میں دونوں ہی قسم کی تعلیمات اجمالی انداز میں آئی ہیں۔ یہ کام علماء اسلام کا ہے کہ وہ قرآن وحدیث کی رہنمائی میں اس اجمال کی تفصیل کریں۔ جہاں تک احکام کا تعلق ہے، اُن کی تفصیل اور تدوین فقہ کی صورت میں کی گئی ہے۔ یہ کام بہت بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ اس کو بنیادی طور پر ایک کامیاب کوشش کہا جا سکتا ہے۔ جہاں تک تفکر اور تدبر والے حصہ کا تعلق ہے، اُؔن کے سلسلہ میں بھی پچھلے ہزار سال کے دوران مقدار کے اعتبار سے کافی کام ہوا ہے۔ مگر وہ بڑی حد تک غیر اطمینان بخش یہ کہنا غالباً درست ہوگا کہ اس پہلو سے جو لٹریچر تیار ہوا ہے وہ زمانی افکار سے اتنا زیادہ متاثر ہے کہ قرآن کی حقیقی روح اُس میں اوجھل ہوگئی ہے۔
اس موضوع پر کام کرنے والوں کا پہلا گروہ وہ ہے جن کو متکلمین کہا جاتا ہے۔ یہ گروہ ابتداءً عباسی خلافت کے زمانہ میں پیدا ہوا۔ اس گروہ کے مشہور ناموں میں سے الفارابی (وفات ۹۵۰ء)، ابنِ رشد (وفات ۱۱۹۸ء) الرازی (وفات ۱۲۱۰ء)، وغیرہ ہیں۔ متکلمین کے اس گروہ نے قرآنی تفکر اور تدبر کے اظہار کے لئے جس فکری ماڈل کو اپنایا، وہ یونانی فلسفہ کا ماڈل تھا۔ یہ فلسفہ قیاسی تمنطق کے اصول پر قائم تھا۔ اس لیے وہ بذات خود ایک غیر حقیقی ماڈل تھا۔ اس ماڈل پر قرآن کے فکری اجمال کی جو تفصیل کی گئی وہ بڑی حد تک من منطق تزندق کی مصداق تھی۔ اس پورے مجموعے پر فارسی شاعر کا یہ شعر صادق آتا ہے: فلسفی بر سرِ حقیقت نتوانست کشود گشت رازِ دگر آں راز که افشا می کرد اس سلسلہ کا دوسرا گروہ وہ ہے جس نے وحدتِ وجود کے تصور پر قرآنی عقلیت کو واضح کرنا اس کو ایک لفظ میں وحدانی تعقل کہا جا سکتا ہے۔ اس طبقہ کی چند مشہور کتابیں یہ ہیں۔ کی کتاب الفتوحات المکیہ، مولانا روم کی مثنوی، علامہ اقبال کی تشکیل جدید الہیات اسلامیہ (Reconstruction of Religious Thought in Islam)-
یہ طریقہ جس کو ہم نے وحدانی تعقل کا نام دیا ہے، وہ اول الذکر یونانی تعقل سے بھی زیادہ غلط اوّل الذکر کو اگر عقلی چستاں کہا جائے تو یہ دوسرا طریقہ کھلی ہوئی ذہنی گمراہی تھا۔ اس طریقہ میں توحید کے عقیدہ کو وحدت وجود (Monism) کے تصور پر ڈھال دیا گیا۔ جب کہ اسلام میں توحید کا عقیدہ وحدتِ خدا (monotheism) کے اصول پر قائم ہے۔ وحدت وجود کا نظریہ سراسر ضلالت ہے اور وحدتِ خدا کا نظریہ سراسر ہدایت۔
موجودہ زمانہ میں مسلم اہل قلم کا ایک اور گروہ پیدا ہوا جس نے اسلامی عقلیت کو سیاسی تعقل کے ہم معنی بنا دیا۔ اس گروہ نے اسلام کی تعلیمات کو سیاسی اصطلاحوں میں بیان کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے لا الہ الا اللہ کو لا حاکم الا اللہ کے ہم معنی قرار دیا۔ اس گروہ میں مصر کے سید قطب اور پاکستان کے سید ابو الاعلیٰ مودودی، وغیرہ شامل ہیں۔
سیاسی تعقل کا یہ طریقہ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلامی تعقل کی تصغیر تھا۔ اس تشریح میں عقیدۂ اسلامی کی آفاقی وسعت سیاست کے محدود دائرہ میں سمٹ کر رہ گئی۔ اسلامی تعقل کی اس سیاسی تشریح کے نتیجہ میں ایک اور ہلاکت خیز انجام سامنے آیا۔ جو لوگ اس تشریح سے متاثر ہوئے انہیں کرنے کا کام صرف یہ نظر آیا کہ وہ وقت کے سیاسی ڈھانچہ کو توڑیں اور اس کی جگہ اپنے مزعومہ نقشہ کے مطابق، نیا اس طرح اس سیاسی تشریح نے مسلم دنیا میں اُس تخریبی سیاست کو مزید شدت کے ساتھ جنم دیا جس کا ایک نمونہ کمیونزم کو ماننے والوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔
قرآن کے مطابق، تفکر اور تدبر کی تشریح کا صحیح طریقہ وہ ہے جس کور بانی تعقل کہا جا سکتا ہے۔ یعنی قرآن کے اشارات کو رہنما بنا کر تخلیق خداوندی کا مطالعہ کرنا اور حقائق فطرت کی روشنی میں اُن کی تشریح و تفصیل کرنا۔ مطالعہ کا یہی اسلوب حقیقی اسلوب ہے۔ اس سے وہ اہل ایمان پیدا ہوتے ہیں جو معرفتِ الہی اور خشیتِ ربانی کی نعمت سے سرشار ہوں۔ قرآن کی سورہ آل عمران کے آخری رکوع میں یہی حقیقت بیان ہوئی ہے۔ قرآن کے دوسرے مقامات پر بھی اس حقیقت کی طرف بار بار اشارہ کیا اس سلسلہ کی دو قرآنی آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی پھر ہم نے اُس سے مختلف رنگوں کے پھل پیدا کر دیئے۔ اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ
مختلف رنگوں کے ٹکڑے ہیں اور گہرے سیاہ بھی۔ اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی مختلف رنگ کے ہیں۔ اللہ سے اُس کے بندوں میں سے صرف وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ بے شک اللہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے (فاطر ۲۷-۲۸)
ربانی تعقل کی تشریح کے لئے موجودہ زمانہ میں نئے وسیع امکانات کھل گئے ہیں۔ جدید سائنس کی تحقیقات نے موجودہ زمانہ میں فطرت کی جن چھپی ہوئی حقیقتوں کو دریافت کیا ہے وہ گویا اسی ربانی تعقل کی ربانی تعقل کے ان جدید امکانات کو پیشگی طور پر قرآن میں بتا دیا گیا تھا۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک متعلق آیت کا ترجمہ یہ ہے: ہم عنقریب اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود اُن کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ اُن پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے (حم السجدہ آیت نمبر ۵۳)۔ احمد اور الترمذی نے حضرت انس بن مالک کے حوالہ سے ایک حدیث نقل کی ہے۔ مطابق، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مثل امتی مثل المطر ، لا يُدرى اوله خير أم آخره (مشکوٰة المصابیح ۳/ ۱۷۷۳)۔ یعنی میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے۔ نہیں معلوم کہ اس کا اوّل بہتر ہو گا یا اُس کا آخر۔
بارش جب ہوتی ہے تو اُس کے ابتدائی دور میں بھی انسان کو بہت سی برکتیں حاصل ہوتی ہیں۔ مگر بعد کے مرحلہ میں جب بارش سے سیراب ہو کر زمین سبزہ اور درخت اُگاتی ہے تو اس دوسرے مرحلہ میں اُس کی برکتیں اور زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ اب فصل اور پھول اور پھل، وغیرہ پیدا ہوتے ہیں جو انسان کے لئے بے پناہ خیر و برکت کا ذریعہ ہیں۔
یہی معاملہ دین محمدی کا ہے۔ دین محمدی کا ظہور ہوا تو اُس وقت دنیا اپنے روایتی دور میں تھی۔ اِس دور میں بھی اِس دین کے پیروؤں کو اُس سے بے پایاں فائدے حاصل ہوئے۔ بعد کے زمانہ میں جب کہ دنیا سائنسی دور میں داخل ہوگی تو اُس وقت بھی اِس دین کے پیروؤں کو نئے امکانات کے اعتبار سے عظیم فائدے حاصل ہوں گے۔ دین کی علمی و فکری عظمت از سرِ نو نئی شان کے ساتھ لوگوں کے ذہنوں پر قائم ہو جائے گی۔ اس حدیث میں امت کے دورِ آخر میں جس عظیم خیر کی پیشین گوئی کی گئی ہے اُس سے مراد غالباً وہی سائنسی حقیقتیں ہیں جنہوں نے نئے وسیع تر انداز میں اس امکان کا دروازہ
کھول دیا کہ انسان اُن کو استعمال کر کے یقین کے اعلیٰ درجات حاصل کرے۔ اور اسلام کی صداقت کو نئے دلائل و براہین کے ذریعہ لوگوں کے اوپر ثابت شدہ بنائے۔