کائنات کا ابتدائی دھماکہ
Al-Risala, April 2002
By Maulana Wahiduddin Khan
ربانی تعقل کی ایک مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۲۱ میں ایک کائناتی واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین بند تھے، پھر ہم نے ان کو کھول دیا۔ اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز کو بنایا۔ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے۔ اس آیت میں رتق اور فتق کا لفظ ہے۔ رتق کے معنی ہیں کسی مجموعہ کا مخلوط یا منظم ہونا۔ مراد کائنات کا اصل مادہ ہے جو ابتدائی وقت میں ایک منظم الاجزاء مجموعہ کی صورت میں تھا۔ ابتدائی مجموعہ میں دھماکہ ہوا جس کے بعد اس کے اجزاء وسیع خلا میں بکھر گئے اور پھر ایک لمبے عمل کے بعد موجودہ کائنات بنی۔ قرآن کی اس آیت کو قدیم مفسرین اس کے سادہ لفظی مفہوم کے اعتبار سے لیتے اپنے سادہ لفظی مفہوم کے اعتبار سے بھی یہ آیت اہلِ حق کے لئے عظیم ایمانی فائدے رکھتی ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں جو تحقیقات ہوئی ہیں ان سے قرآن کے اس مجمل بیان کی تفصیل سامنے آئی ہے جو گویا یقین اور معرفت کا نیا دروازہ کھولنے والی ہے۔
جدید فلکیاتی سائنس بتاتی ہے کہ تقریباً بیس بلین سال پہلے خلا میں ایک سپر ایٹم تھا۔ اچانک دھماکہ ہوا۔ اس کے بعد اس کے اجزاء وسیع خلا میں پھیل گئے اور آخر کار انہوں نے موجودہ کائنات کی صورت اختیار کی۔ اسی سے موجودہ تمام اجرام بنے جن میں سے ایک ہماری یہ زمین بھی ہے۔ دھماکہ (explosion) کی دو قسمیں ہیں —— منصو بند دھماکہ، اور منصوجو بہ کے بغیر خود بخود ہونے والا دھماکہ۔ تجربہ بتاتا ہے کہ دونوں قسم کے دھماکوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ بلا منصوبہ بہ دھماکے ہوتے ہیں وہ صرف تخریب کا سبب بنتے ہیں۔ مثلاً کسی بم یا بم کے ذخیرے کا اپنے آپ پھٹ
اس قسم کا دھماکہ ہمیشہ تخریبی نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ دوسرا دھماکہ وہ ہے جو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مثلاً پہاڑ کے درمیان سے سرنگ نکالنے کے لئے منصوبہ بند طور پر چٹانوں میں دھماکہ کرنا۔ اس دوسری قسم کا دھماکہ ہمیشہ مفید اور تعمیری نتیجہ پیدا کرتا ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے، کائنات کے آغاز میں، سائنس کی تحقیق کے مطابق، بگ بینگ (big bang) کی صورت میں جو دھماکہ ہوا، اس سے نہایت مفید اور بامعنیٰ نتائج پیدا ہوئے۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ یہ دھماکہ یقینی طور پر ایک منصوبہ بند دھماکہ تھا۔ ایک منصوبہ ساز ہستی نے اپنے متعین منصوبہ کے تحت اپنے نقشہ کے مطابق، بالقصد یہ دھماکہ کیا۔ چنانچہ اس سے عین وہی بامعنیٰ نتائج ظاہر ہوئے جو منصوبہ کے مطابق اس سے مطلوب تھے۔
اس جدید تشریح کے مطابق، مذکورہ آیت کے یہ الفاظ کہ کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا (أو لَمْ يَرَ الذين كفروا) نہایت با معنیٰ ہو جاتے ہیں۔ کائنات کا یہ ثابت شدہ آغاز خالص علم انسانی کی سطح پر اس حقیقت کو ثابت کر رہا ہے کہ اس کا ئنات کا ایک خالق ہے۔ اس نے انتہائی بامعنیٰ منصوبہ کے تحت اس کائنات کو بنایا ہے۔ اس حقیقت کے ثابت ہونے کے بعد یہ بات اپنے آپ ثابت ہو جاتی ہے کہ انسان اور کائنات کی تخلیق بے مقصد نہیں ہو سکتی۔ جیسا کہ قرآن میں دوسری جگہ فرمایا: ربنا ما خلقت هذا باطلاً (آل عمران (۱۹۱) ۔ اس کھلی حقیقت کے باوجود جو لوگ کائنات کی معنویت کا انکار کریں ان کے لئے اپنے اس انکار کی کوئی بھی معقول وجہ موجود نہیں۔
ربانی تعقل کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ سائنس کے تمام مضامین قرآن میں موجود ہیں، یا یہ کہ ساری کی ساری سائنس خود قرآن سے اخذ کی گئی ہے۔ اس قسم کی باتیں اسلام اور سائنس دونوں سے بے خبری کا نتیجہ ہیں۔ اس قسم کی بات اصلاً قرآن کی تفسیر نہیں ہے بلکہ وہ قرآن کے حوالہ سے اپنے قومی فخر کو ثابت کرنے کی ایک بے فائدہ کوشش ہے۔ اس سے زیادہ اس کی کوئی اور حیثیت نہیں۔ ربانی تعقل کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے وہ بیانات جن کے بارے میں جدید سائنسی تحقیقات کے ذریعہ نئی حقیقتیں دریافت ہوئی ہیں، ان کی روشنی میں قرآن کے اشارات کو تفصیلی انداز میں بیان کرنا۔ چیز ہے جس کی بابت حدیث میں آیا ہے کہ: لا تنقضی عجائبہ۔ یعنی قرآن کے عجائب (wonders) کبھی
ختم نہ ہوں گے۔ اس حدیث میں مستقبل کے بارے میں جو پیشین گوئی کی گئی ہے ان میں سے ایک یقینی طور پر یہ بھی ہے کہ بعد کے زمانہ میں دریافت ہونے والے سائنسی حقائق قرآن کی معنویت کو مزید نمایاں کریں گے۔ اس طرح قرآن کے کمالات کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا، یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ زوجین کی مثال قرآن کی سورہ نمبر ۵۱ میں ارشاد ہوا ہے:۔ ومن كل شئ خلقنا زوجين لعلكم تذكرون (الذاریات ۴۹) یعنی ہم نے ہر چیز کو جوڑا بنایا تا کہ تم نصیحت حاصل کرو۔ قرآن کی اس آیت میں موجودہ دنیا کے ایک ظاہر ہ کا ذکر کر کے انسان کو متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ اس پر سوچے اور اس سے نصیحت حاصل کرے۔ اس ظاہر ہ کی طرف قرآن میں زوجین کے لفظ سے اشارہ کیا گیا ہے۔ اس آیت میں زوجین کی تفسیر پچھلے مفسرین نے مختلف انداز سے کی ہے۔ ان تفسیروں میں بہر حال نصیحت کا سامان ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں جو تحقیقات ہوئی ہیں ان کا اضافہ کرتے ہوئے اس آیت کا مطالعہ کیا جائے تو اس سے نیا یقین حاصل ہوتا ہے۔ اور یہ آیت، قرآن کے الفاظ میں، ایمان کے ساتھ ایمان میں اضافہ (الفتح ۴) کا سبب بن جاتی ہے۔
جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ زوجین کا اصول جو انسانوں میں ہے وہی دنیا کی ہر چیز میں پایا جاتا ہے۔ ہر چیز اپنے زوج کے بغیر نامکمل ہے، وہ اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب کہ اس کے زوج کے ساتھ اس کو شامل کیا جائے— مادی ایٹم میں منفی ذرہ (negative particle) کے ساتھ مثبت ذرہ (positive particle) کا ہونا۔ اسی طرح نباتات میں بھی زوجین یا نر اور مادہ کا اصول ہے۔ میں سے ایک کو میل فلاور (staminate flower) کہا جاتا ہے۔ اور دوسرے کو فیمیل فلاور اسی طرح حیوانات میں بھی جوڑے ہیں۔ ان میں سے نر کو ہی میل (he-male) اور مادہ کو شی میل(she-male) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح انسانوں میں بھی جوڑے ہیں جن کو ہم عورت اور مرد کے نام سے جانتے ہیں۔
زوجین کے اس عمومی اصول کو لے کر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس عموم میں ایک استثناء ہے، اور وہ ہماری انسانی دنیا ہے۔ انسانی دنیا اپنے سارے ہنگاموں کے باوجود ایک نامکمل دنیا ہے۔
کی تکمیل کے لئے اس کا ایک جوڑاا (زوج) درکار ہے۔ مگر یہ جوڑ اموجودہ دنیا میں ملتا ہوا نظر نہیں آتا۔ تجربہ بتاتا ہے کہ موجودہ انسانی دنیا ایک مبنی بر مفاد دنیا ہے۔ یہاں سارے انسانی تعلقات مفاد کے اصول پر قائم ہیں۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک با اصول معیاری دنیا (ideal world) چاہتا ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں وسائل کی محدودیت اور انسان کی آزادی جیسے مختلف اسباب ہیں جو فیصلہ کن طور پر اس میں رکاوٹ ہیں کہ یہاں وہ معیاری دنیا بن سکے جو انسان اپنے فطری تقاضے کے تحت چاہتا ہے۔
اس کمی کا تقاضا ہے کہ موجودہ دنیا کا ایک جوڑا (زوج) ہو جو اس کی کمی کو پورا کر کے اس کی تکمیل موجودہ دنیا مبنی بر مفاد دنیا ہے۔ اب اس کا جوڑا (زوج) ایک ایسی دنیا ہے جو مبنی بر اقدار (value based) دنیا ہو۔ ایسی ایک دنیا ہی موجودہ دنیا کی کمی کی تلافی کر کے اس کی تکمیل کر سکتی ہے۔ اسی تعمیلی دنیا کا نام آخرت ہے۔ آخرت میں خدا نے جنت کی جو دنیا بنائی ہے وہ ہر قسم کی کمیوں اور محدودیتوں سے پاک ہے۔ وہ خوف اور حزن سے مکمل طور سے خالی ہے۔ وہاں وہ تمام اسباب کامل طور پر موجود ہیں جو انسان کو یہ موقع دیں کہ وہ بھر پور آسودگی (complete fulfillment) کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ موجودہ دنیا میں ہر چیز کا جوڑا ہونا اور صرف ایک چیز کا جوڑ نہ ہونا اس بات کا قرینہ ہے کہ یقینی طور پر اس کا بھی ایک جوڑا موجودہے۔ بقیہ چیزوں کے جوڑے کو موجودہ دکھائی دینے والی دنیا میں رکھ دیا گیا ہے مگر امتحان کی مصلحت کی بنا پر انسانی دنیا کے اس جوڑے کو نہ دکھائی دینے والی دنیا میں رکھا گیا ہے۔ مرنے کے بعد تمام انسان اسی اگلی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ اور وہاں وہ اس جوڑے کو عملی طور پر پا لیتے ہیں۔ ربانی تعقل کا موضوع ایک بے حد وسیع موضوع ہے۔ اس کے مختلف پہلو ہیں۔ چند مثالیں صرف موضوع کی وضاحت کے طور پر درج کی گئی ہیں۔ ربانی تعقل کے موضوع پر راقم الحروف نے اپنی دوسری کتابوں میں اس کے دیگر پہلوؤں کی وضاحت کی کوشش کی ہے۔ موضوع کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔