Al-Risala · April 2002

جنگ اور امن اسلام میں

Al-Risala, April 2002

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام میں جنگ اور امن کی حیثیت کیا ہے، اس سوال کا جواب پانے کے لئے یہ دیکھنا چاہئے کہ اسلامی مشن کا نشانہ کیا ہے۔ جنگ اور امن دونوں مختلف طریق کار ہیں، وہ بذات خود مقصد نہیں ایسی حالت میں اگر اس کا تعین ہو جائے کہ اسلامی مشن کا نشانہ کیا ہے تو اس کے بعد اپنے آپ اس کا تعین ہو جائے گا کہ اسلام کا طریقہ جنگ کا طریقہ ہے یا امن کا طریقہ۔ قرآن میں اس سوال کا واضح جواب دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ کی ایک متعلق آیت یہ ہے۔ میں پیغمبر اسلام کو خطاب کرتے ہوئے ایک عمومی حکم ان الفاظ میں دیا گیا ہے: وجاھدھم به جهادًا كبيرًا (الفرقان (۵۲) یعنی اے محمد ، لوگوں کے ساتھ تم قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کرو۔ قرآن ایک کتاب ہے، وہ کوئی گن یا تلوار نہیں۔ ایسی حالت میں قرآن کے ذریعہ جہاد کا مطلب واضح طور پر پرامن جدوجہد (peaceful struggle) ہے، نہ کہ مسلح جدوجہد (armed struggle)۔ قرآن جب ایک نظریاتی کتاب ہے تو اس کے ذریعہ پرامن جدوجہد کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ لوگوں کے ذہنوں کو بدلا جائے۔ لوگوں کی سوچ کو قرآنی سوچ بنایا جائے۔ دوسرے لفظوں میں، قرآن کا مشن زمین پر قبضہ کرنا نہیں ہے بلکہ انسان کے ذہن پر قبضہ کرنا ہے۔ اسلام کا نشانہ ذہنی انقلاب ہے، نہ کہ لوگوں کو جسمانی اعتبار سے مغلوب کرنا۔

قرآن کا مطالعہ کیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ پیغمبر اسلام نے اپنے مشن کو کس طرح جاری کیا تو واضح ہوتا ہے کہ آپ نے اپنا پورا مشن جس نشانہ پر چلایا وہ یہی تھا کہ لوگوں کے دل و دماغ کو بدلا قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے اپنے پیغمبر پر اپنا کلام اس لئے اتارا تا کہ وہ لوگوں کو افکار کے اندھیرے سے نکال کر افکار کی روشنی میں لے آئے (الحدید (۹)۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کی اصلاح کے سلسلہ میں اصل اہمیت صرف ایک چیز کی ہے اور وہ اس کے دل کی اصلاح ہے (ألا وھی القلب ) انسان کے دل کو بدل دو اور پھر اس کی پوری زندگی

بدل جائے گی۔ پیغمبرِ اسلام کو مکہ میں جب پہلی وحی ملی تو اس وقت آپ نے وہاں کے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا کہ اے لوگو، میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ موت کے بعد آنے والے معاملہ کی تمہیں خبر دوں (أنا النذير العريان)۔ اسی طرح مدینہ میں جب آپ غالب حیثیت میں داخل ہوئے اس وقت بھی آپ نے وہاں کے لوگوں سے یہی کہا کہ اے لوگو، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ خواہ چھو ہارے کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو (اتقوا النار و لو بشق تمرة)۔

قرآن اور سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اسلام کا اصل نشانہ انسان کے ذہن کو بدلنا ہے۔ اسلامی مشن کا اول بھی ہے اور یہی اس کا آخر بھی۔ مگر دنیا میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور خود تخلیقی نقشہ کے مطابق، ہر ایک کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ اسی آزادی کی بنا پر ایسا ہوا کہ کچھ لوگ پیغمبر اسلام کے مخالف بن گئے۔ حتیٰ کہ کچھ لوگ اس آخری حد تک گئے کہ انہوں نے آپ کے مشن کو ختم کرنے کے لئے آپ کے خلاف جنگی کارروائی شروع کردی۔ یہی وہ مسئلہ تھا جس کی بنا پر پیغمبر اور آپ کے اصحاب کو اپنے دفاع میں وقتی طور پر ہتھیار اٹھانا پڑا۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام میں امن کی حیثیت عموم (rule) کی ہے اور جنگ کی حیثیت صرف ایک استثناء (exception) کی ۔ پیغمبرِ اسلام کی پیغمبرانہ عمر ۲۳ سال ہے۔ اس ۲۳ سال میں قرآن وقفہ وقفہ سے حسب حالات اترتا رہا۔ اس اعتبار سے اگر مدت کی تقسیم کی جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن کا ایک حصہ وہ ہے جو تقریباً ۲۰ سال کی مدت تک پھیلا ہوا ہے اور اس کا دوسرا حصہ وہ ہے جو مجموعی طور پر تقریباً تین سال پر ۲۰ سالہ مدت میں قرآن میں جو آیتیں اتریں وہ سب کی سب پر امن تعلیمات سے تعلق رکھتی تھیں، مثلاً عقیدہ، عبادت، اخلاق، انصاف، انسانیت، وغیرہ۔ جہاں تک جنگ کی آیتوں کا تعلق ہے، وہ صرف تین سال کی اس مدت میں اتاری گئیں جب کہ اہل اسلام کو عملاً مسلح جارحیت کا مسئلہ درپیش تھا۔ قرآن میں کل ۱۱۴ سورتیں ہیں۔ مجموعی طور پر قرآن میں کل آیتوں کی تعداد ۶۶۶۶ ہے۔ میں بمشکل چالیس آیتیں ایسی ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر جنگ (قتال) سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس تناسب کے اعتبار سے قرآن میں جنگ سے تعلق رکھنے والی آیتوں کی تعداد ایک فیصد سے بھی کم

Printed page