Al-Risala · April 2002

-(precisely 0.6 percent) ہے

Al-Risala, April 2002

By Maulana Wahiduddin Khan

اس قِسم کا فرق ہر ملک کے دستور میں اور ہر مذہبی کتاب میں پایا جاتا ہے۔ (New Testament) میں بہت سی پرامن تعلیمات ہیں۔ اِسی کے ساتھ مسیح کی زبان سے اس میں یہ قول بھی موجود ہے کہ میں صلح کروانے نہیں آیا ہوں بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں: I do not come to bring peace but a sword. اسی طرح بھگوت گیتامیں بہت سی اخلاق اور حکمت کی باتیں ہیں۔ مگراسی کے ساتھ گیتا میں یہ بھی موجود ہے کہ کرشن نے ارجن سے اصرار کے ساتھ کہا کہ اے ارجن، آگے بڑھ اور جنگ کر۔ ظاہر ہے کہ بائبل اور گیتا میں ان اقوال کی حیثیت استثناء کی ہے، نہ کہ عموم کی۔ اسلام کی امن پسندی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اسلام میں دشمن اور حملہ آور کے درمیان فرق کیا اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اگر کوئی گروہ یکطرفہ حملہ کے ذریعہ عملی طور پر جارحیت کی صورت پیدا کر دے تو اس وقت ایک ناگزیر برائی (necessary evil) کے طور پر دفاع کی ضرورت کے تحت جنگ کی قرآن میں ارشاد ہوا ہے: أُذِنَ لِلَّذِينَ يقاتلون بأنهم ظلموا (الحج ٣٩) یعنی جنگ کرنے کی اجازت دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ چھیڑ دی گئی ہے۔

مگر جہاں تک دشمن کا تعلق ہے، ان کے خلاف محض دشمنی کی بنا پر جنگی کارروائی کی اجازت اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت اہل اسلام کو ایک واضح ہدایت دیتی ہے: اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں۔ تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو، پھر تم دیکھو گے کہ تمہارے اور جس کے درمیان دشمنی تھی وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (فصلت ۳۴)۔

اس آیت میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کوئی شخص تم کو دشمن نظر آئے تو اس کو اپنا ابدی دشمن نہ سمجھ لو۔ دشمن انسان کے اندر تمہارا ایک دوست انسان چھپا ہوا ہے۔ اس دوست انسان کو دریافت کرو اور اس امکان (potential) کو واقعہ (actual) بناؤ، اس کے بعد تمہیں کسی سے دشمنی کی شکایت نہ ہوگی۔ اس معاملہ کی مزید وضاحت ایک روایت سے ہوتی ہے۔ اس روایت میں پیغمبر اسلام کی جنرل پالیسی کو بتاتے ہوئے آپ کی اہلیہ عائشہ نے کہا: ما خیر رسول الله صلى الله عليه وسلم بين

امرین إلا اختار أيسرهما (صحیح البخاری) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو امر میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب فرماتے تھے۔ یہ واضح ہے کہ طریقہ کار کی دو قسمیں ہیں۔ پر تشدد طریقہ کار (violent method) اور پرامن طریقہ کار (peaceful method)۔ اب دونوں کا تقابل کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کسی نزاعی معاملہ کے وقت پرتشدد طریقہ کار کو اپنانا مشکل انتخاب (harder option) ہے اور پرامن طریقہ کار کو اپنانا آسان انتخاب (easier option) ہے۔ اس کے مطابق، اسلام کی جنرل پالیسی یہ قرار پاتی ہے کہ جب بھی کسی فریق سے کوئی نزاع پیدا ہو تو اس سے مقابلہ کے لئے ہمیشہ پرامن طریقہ کار کا انتخاب کیا جائے، نہ کہ پرتشدد طریقہ کار۔ موجودہ زمانہ میں جب کہ آزادی کو انسان کا ایک ناقابل تنسیخ حق مان لیا گیا ہے تو اب صرف پرامن طریقہ کار ہی کا انتخاب کیا جائے گا۔ کیوں کہ وقت کے مسلمہ اصول کے مطابق، پرتشدد طریقہ کار کو اختیار کرنے میں تو یقیناً رکاوٹیں ہیں مگر پرامن طریقہ کار کو اختیار کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔

یہاں یہ اضافہ کرنا مناسب ہوگا کہ پیغمبر اسلام کے زمانہ میں محدود نوعیت کی جو چند لڑائیاں پیش آئیں ان میں دراصل زمانی عامل (age-factor) کام کر رہا تھا۔ یہ لڑائیاں ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں ہوئیں۔ یہ زمانہ مذہبی جبر اور مذہبی ایذارسانی (religious persecution) کا اس زمانہ میں موجودہ قسم کا مذہبی ٹالرنس نہیں پایا جاتا تھا۔ اس بنا پر توحید کے مخالفوں نے پیغمبر اسلام کے خلاف جارحانہ کارروائی کرکے آپ کو لڑنے پر مجبور کردیا۔ موجودہ زمانہ میں مذہبی آزادی ہر فرد اور ہر گروہ کا ایک مسلم حق بن چکی ہے۔ اس لئے موجودہ زمانہ میں مذہبی حقوق کے لئے جنگ کا کوئی سوال نہیں۔

اسلام میں امن کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ہر ناخوش گوار صورت حال کو برداشت کرتے ہوئے حالت امن کو برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ فریق مخالف کی ایذا رسانی پر صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کرنا اور اس کو ہر قیمت پر یک طرفہ تدبیر کے ذریعہ باقی رکھنا اسلام کا اہم اصول ہے۔ یہ حکم اس لئے دیا

گیا کیوں کہ اسلام کی تعمیری سرگرمیاں صرف پر امن اور معتدل ماحول ہی میں انجام دی جا سکتی ہیں۔ اس معاملہ میں صرف ایک استثناء ہے، اور وہ فریق ثانی کی طرف سے عملی جارحیت ہے۔ پیغمبر اسلام نے قدیم مکہ میں اپنے پیغمبرانہ مشن کا آغاز کیا۔ اس سلسلہ میں آپ تیرہ سال تک مکہ میں رہے۔ اس مدت میں مکہ کے مخالفین کی طرف سے بار بار زیادتیاں کی گئیں۔ مگر پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھیوں نے ان زیادتیوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کیا۔ اسی صبر و اعراض کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ پیغمبر اور آپ کے اصحاب نے جنگ سے بچنے کے لئے یہ کیا کہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے مکہ اور مدینہ کے درمیان تین سو میل کا فاصلہ ہے۔ مگر مکہ کے مخالفین نے خاموشی اختیار نہ کی بلکہ انہوں نے باقاعدہ طور پر مدینہ پر اقدامی حملے شروع کر دئے۔ ان حملوں کو سیرت کی کتابوں میں غزوہ کہا جاتا چھوٹے اور بڑے غزوات کی تعداد ۸۳ شمار کی گئی ہے۔ مگر پیغمبر اسلام اور مخالفین کے درمیان صرف تین بار باقاعدہ جنگ (fullfledged war) ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ۸۰ غزوات میں پیغمبر اسلام نے اعراض اور حسن تدبیر کے ذریعہ دونوں فریقوں کے درمیان عملی مقابلہ کو ٹال دیا۔ تین بار (بدر، احد، حنین) میں مجبورانہ حالات کی بنا پر آپ کو جنگی مقابلہ کرنا پڑا۔ جنگی مقابلہ سے اعراض کی اسی پالیسی کی ایک مثال وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے مخالفین کے درمیان جنگی صورت حال پیدا ہوگئی تو آپ نے یہ کوشش شروع کی کہ یک طرفہ تدبیر کے ذریعہ جنگی حالات کو ختم کر دیا جائے اور دونوں فریقوں کے درمیان پر امن فضا کو بحال کیا جائے۔

اس مقصد کے لئے آپ نے اپنے مخالفین سے صلح کی گفت و شنید شروع کی جو دو ہفتہ تک جاری یہ گفت و شنید مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر ہوئی اس لئے اس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ دراصل دونوں فریقوں کے درمیان ایک امن معاہدہ تھا۔ گفت و شنید کے دوران پیغمبر اسلام نے دیکھا کہ فریق ثانی اپنی ضد کو چھوڑنے پر تیار نہیں۔ چنانچہ آپ نے فریق مخالف کی یک طرفہ شرطوں کو مان کر ان سے امن کا معاہدہ کر لیا۔

اس معاہدہ کا مقصد یہ تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان تناؤ کو ختم کیا جائے اور نارمل فضا کو قائم کیا جائے تا کہ معتدل حالات میں دعوت و تعمیر کا وہ کام کیا جاسکے جو اصلاً اسلامی مشن کا مقصود تھا۔ چنانچہ حدیبیہ کا معاہدہ ہوتے ہی حالات معمول پر آگئے اور اسلام کی تمام تعمیری سرگرمیاں پوری طاقت کے ساتھ جاری ہو گئیں جس کا نتیجہ بالآخر یہ نکلا کہ اسلام پورے علاقہ میں پھیل گیا۔ یہاں یہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق، جنگ صرف باقاعدہ طور پر قائم شدہ حکومت کا کام ہے، وہ غیر حکومتی افراد یا اداروں کا کام نہیں۔ غیر حکومتی ادارے اگر کسی اصلاح کی ضرورت محسوس کریں تو وہ صرف امن کے دائرے میں رہ کر اپنی تحریک چلا سکتے ہیں، تشدد کی حد میں داخل ہونا ان کے لئے ہرگز جائز نہیں۔

اس سلسلہ میں دو باتیں بے حد اہم ہیں۔ ایک یہ کہ غیر حکومتی تنظیموں کے لئے کسی بھی عذر کی بنا پر مسلح تحریک چلانا جائز نہیں۔ دوسرے یہ کہ قائم شدہ حکومت کے لئے اگر چہ دفاعی جنگ حکماً جائز ہے مگر اس کے لئے بھی اعلان کی شرط ہے، اسلام میں بلا اعلان جنگ قطعاً جائز نہیں۔ ان دو شرطوں کو ملحوظ رکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ گوریلا وار اور پراکسی وار دونوں ہی اسلام میں ناجائز ہیں۔ گوریلا وار اس لئے کہ وہ غیر حکومتی تنظیموں کی طرف سے کی جاتی ہے اور پراکسی وار اس لئے کہ اس میں اگرچہ حکومت بھی شامل رہتی ہے مگر اس کی شمولیت بغیر اعلان کے ہوتی ہے۔ اور اعلان کے بغیر جنگ کا جواز اسلامی حکومت کے لئے بھی نہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: فانبذ اليهم على سواء (الانفال ۵۸)۔ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں لازماً دو افراد یا دو گروہوں کے درمیان نزاع کی صورت پیدا ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں اسلام کا حکم یہ ہے کہ نزاع کو متشددانہ ٹکراؤ تک نہ پہنچنے دیا اسی پالیسی کو قرآن میں صبر و اعراض کا نام دیا گیا ہے۔ قرآن میں ایک مستقل اصول کے طور پر فرمایا کہ الصلح خير (النساء ۱۲۸)۔ یعنی باہمی نزاع کے وقت صلح کر کے نزاع کو ختم کر دینا نتیجہ کے اعتبار سے زیادہ بہتر ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ صلح یا مصالحت کا طریقہ اختیار کرنے سے یہ موقع مل جاتا ہے کہ اپنی طاقت کو ٹکراؤ میں ضائع کرنے سے بچایا جائے اور ان کو پوری طرح تعمیری کاموں میں لگایا

اسی مصلحت کی بنا پر پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تتمنوا لقاء العدو واسئلوا الله العافية (البخاری) یعنی تم لوگ دشمن سے مُڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے امن مانگو۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: کُلَّمَا اَوقَدُوا نَارًا لِلۡحَرۡبِ اطفاهَا الله (المائدہ ۶۴) یعنی جب کبھی وہ لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں تو اللہ اس کو بجھا دیتا ہے۔ اس قرآنی آیت سے جنگ اور امن کے بارے میں اسلام کی اصل روح معلوم ہوتی ہے۔ یہ کہ موجودہ دنیا میں مختلف اسباب سے لوگ بار بار جنگ پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ یہ دنیا کے مخصوص نظام کا تقاضا ہے جو مسابقت (competition) کے اصول پر بنایا گیا ہے۔ مگر اہل اسلام کا کام یہ ہے کہ دوسرے لوگ جب جنگ کی آگ بھڑکائیں تو وہ یکطرفہ تدبیر کے ذریعہ اس آگ کو ٹھنڈا کر دیں۔ اہل اسلام کا طریقہ جنگ نہیں ہے بلکہ اعراضِ جنگ ہے۔ انہیں ایک طرف یہ کرنا ہے کہ جنگ کی حد تک جائے بغیر اپنے مفادات کا تحفظ کریں۔ دوسری طرف ان کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ امن کے وہ دنیا میں امن کے تاجر ہوں، نہ کہ جنگ کے تاجر۔

اسلام کی یہی اسپرٹ ہے جس کی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبرِ اسلام کو جب مدینہ میں اقتدار ملاتو آپ نے ایسا نہیں کیا کہ لوگوں کو اپنا ماتحت بنانے کے لئے ان سے جنگ چھیڑ دیں۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ عرب میں پھیلے ہوئے قبائل سے گفت و شنید کر کے ان سے معاہدے کئے ۔ آپ نے پورے عرب میں پھیلے ہوئے قبائل کو معاہدات کے ایک شیرازہ امن میں باندھ دیا۔ اسلام کی تعلیم کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اسلام ان اسباب کی جڑ کاٹ دینا چاہتا ہے جو جنگ کی طرف لے جانے والے ہیں۔ جنگ کرنے والا جنگ کیوں کرتا ہے۔ اس کے دو بنیادی ایک ہے دشمن کو ختم کرنے کی کوشش کرنا۔ اور دوسرا سبب ہے سیاسی طاقت کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ ان دونوں مقاصد کے لئے اسلام میں جنگ کا کوئی جواز موجود نہیں۔ جہاں تک دشمن کا معاملہ ہے، اس معاملہ میں جیسا کہ عرض کیا گیا، قرآن کی ایک آیت ابدی رہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں۔

میں وہ کرو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (فصلت ۳۴)۔

اس سے معلوم ہوا کہ دشمن کے مقابلہ میں اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اس کی دشمنی کو ختم کیا جائے، نہ کہ خود دشمن کو۔ اس کے مطابق، کوئی دشمن حقیقی دشمن نں ہوتا۔ ہر دشمن انسان کے اندر بالقوۃ طور پر ایک دوست انسان چھپا ہوا ہے۔ اس لئے اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ یک طرفہ حسن سلوک کے ذریعہ اس چھپے ہوئے انسان تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ وہ حسن سلوک کے ذریعہ اپنے دشمن کو اپنا دوست بنالیں۔ قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں دشمن اور حملہ آور کے درمیان فرق کیا گیا دشمن کے بارے میں یہ حکم ہے کہ اس سے نفرت کا معاملہ نہ کیا جائے بلکہ حسن تدبیر کے ذریعہ اس کو اپنا دوست بنانے کی کوشش کی جائے۔ البتہ اگر کسی کی طرف سے یک طرفہ طور پر حملہ کر دیا جائے تو ایسے حملہ آور کے مقابلہ میں دفاع کے طور پر جنگ کرنا جائز ہے۔ یہ حکم قرآن کی جن آیتوں سے معلوم ہوتا ہے ان میں سے ایک آیت یہ ہے: وقاتلوا في سبيل الله الذين يقاتلونكم ولا تعتدوا (البقرہ ۱۹۲) یعنی اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں، اور زیادتی نہ کرو۔ اس طرح کی آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ کی اجازت صرف اس وقت ہے جب کہ کوئی فریق یک طرفہ طور پر اہل اسلام کے خلاف جارحانہ حملہ کر دے۔ اس قسم کی عملی جارحیت کے بغیر اسلام میں جنگ کی اجازت نہیں۔

جنگ اور امن کے معاملہ میں اسلام کا جو بنیادی اصول ہے وہ قرآن کے ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے: فما استقاموا لكم فاستقيموا لهم (التوبہ ۷) یعنی پس جب تک وہ تم سے سیدھے رہیں تم بھی ان سے سیدھے ہی رہو۔ اس قرآنی حکم سے معلوم ہوتا ہے کہ قوموں کے درمیان باہمی تعلقات کا اصول یہ ہے کہ اگر دوسرا فریق امن پر قائم ہو تو اہل اسلام کو بھی لازماً امن کی روش اختیار کرنی ہوگی۔ اہل اسلام ایسا نہیں کر سکتے کہ فریق ثانی کی پرامن روش کے باوجود کوئی عذر لے کر اس کے خلاف جنگی کارروائی کرنے لگیں۔ اس معاملہ میں عملی جارحیت کے سوا کوئی بھی دوسرا عذر قابل قبول نہیں۔

جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ۵۷۰ء میں مکہ میں ہوئی ۔ میں آپ کو نبوت ملی۔ اس کے بعد آپ ۲۳ سال تک پیغمبر کی حیثیت سے دنیا میں رہے۔ اس ۲۳ سالہ مدت کے ابتدائی ۱۳ سال آپ نے مکہ میں گزارے اور بعد کے ۱۰ سال مدینہ میں ۔ قرآن کی کچھ سورتیں مکی دور میں نازل ہوئیں اور کچھ سورتیں مدنی دور میں ۔ اس پیغمبرانہ مدت میں آپ نے کیا۔ آپ نے لوگوں کو اقرأ باسم ربک الذی خلق (العلق) اور اس قسم کی دوسری غیر حربی آپ لوگوں سے یہ کہتے رہے کہ ایھا الناس قولوا لا اله الا الله تفلحوا۔ آپ نے لوگوں کو دعا اور عبادت کے طریقے بتائے۔ لوگوں کو اخلاق اور انسانیت کی تعلیم لوگوں کو بتایا کہ دوسرے لوگ جب تم کو ستائیں تب بھی تم صبر و اعراض کے ساتھ زندگی گزارو۔ آپ نے قرآن کو ایک اصلاحی کتاب اور ایک دعوتی کتاب کے طور پر لوگوں کے درمیان عام کیا۔ آپ نے یہ نمونہ قائم کیا کہ دار الندوہ (مکہ کی پارلیمنٹ ) میں اپنی سیٹ حاصل کرنے کے بجائے جنت میں اپنی سیٹ حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ آپ نے لوگوں کو اپنے عمل سے یہ سبق دیا کہ کعبہ جیسی مقدس عمارت میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے ہوں تب بھی ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کئے بغیر تم اپنا مشن پر امن طور پر شروع کر سکتے ہو۔ آپ نے یہ نمونہ قائم کیا کہ کس طرح یہ ممکن ہے کہ آدمی اشتعال انگیز حالات کے درمیان اپنے آپ کو لوگوں کے خلاف نفرت سے بچائے اور پر امن رہ کر لوگوں کی خیر خواہی کا کام انجام دے، وغیرہ۔

پیغمبر اسلام نے اپنی زندگی میں اس قسم کے جو غیر متشددانہ کام کئے وہ سب بلاشبہ عظیم اسلامی بلکہ یہی نبوت کا اصل مشن ہے۔ اور جہاں تک جنگ کا تعلق ہے وہ صرف ایک استثنائی ضرورت ہے، اسی لئے فقہاء نے جنگ کو حسن لغیر ہ بتایا ہے۔

Not for the sake of Islam, but due to some practical reasons.

Printed page