Al-Risala · April 2002

سلطانی ماڈل، دعوتی ماڈل

Al-Risala, April 2002

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ کے مسلمان ساری دنیا میں تباہی اور ذلت سے دوچار ہورہے ہیں۔ تباہی کی یہ مدت پوری انیسویں صدی اور بیسویں صدی تک پھیلی ہوئی ہے۔ سلطان ٹیپو سے لے کر یاسر عرفات تک دوسوسال سے تباہی کا سلسلہ جاری ہے اور ابھی تک بظاہر اس کے خاتمہ کے کوئی آثار نہیں۔ مسلمانوں کی اس تباہی کا سبب بے عملی نہیں ہے بلکہ وہ مکمل طور پر ہنگامہ خیز عمل کے درمیان یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ ان دوسوسالوں میں دنیا بھر کے مسلمانوں نے جان و مال کی جو قربانی دی ہے وہ مقدار کے اعتبار سے اسلام کی بقیہ پوری تاریخ کی قربانیوں سے بھی زیادہ ہے۔ کیا وجہ ہے کہ عمل اور قربانی کے مسلسل ہنگاموں کے باوجود مسلمان دورِ جدید میں عزت وغلبہ کا مقام حاصل نہ کرسکے۔ جب کہ قرآن وحدیث میں واضح یقین دہانیاں موجود ہیں کہ اہل ایمان کی کوششوں کو اللہ ضائع نہیں کرے گا، اُن کے حریفوں کے مقابلہ میں ضرور انہیں سرفرازی عطا فرمائے گا۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے اپنی کوششوں کے لیے غلط منہج انہوں نے اپنی کوششوں کو اُس مطلوب طریقہ پر جاری ہی نہیں کیا جس کو اختیار کر کے خدا کی نصرت حاصل کی جاسکتی ہے۔ اور یقیناً اس دنیا میں کامیابی اُس کے لیے ہے جس کو خدا اپنی نصرت اللہ کی نصرت کے بغیر یہاں کامیابی ممکن نہیں۔

اصل یہ ہے کہ خدا نے اپنی نصرت کا وعدہ اُن لوگوں سے کیا ہے جو اپنی کوششوں کے لیے پیغمبرانہ ماڈل کو اختیار کریں۔ یہ پیغمبرانہ ماڈل وہی ہے جس کو ہم نے دعوتی ماڈل کا نام دیا ہے۔ ایمان کی حقیقی کامیابی پیغمبر کے قائم کئے ہوئے اسی دعوتی ماڈل سے وابستہ ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما بعد کے دور میں مسلم سلاطین کے قائم کئے ہوئے سلطانی ماڈل سے اتنا متاثر تھے کہ انہوں نے اپنی تمام تحریکیں اسی سلطانی ماڈل پر چلا دیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام تباہیوں کا اصل سبب یہی انحراف ہے۔

مسلم رہنماؤں نے دیکھا کہ بعد کے زمانہ میں مسلم سلاطین مسلح فوجوں کو لے کر مختلف علاقوں میں گھس گئے۔ وہاں انہوں نے قائم شدہ حکومت کی فوجوں کو زیر کر کے اپنی حکومت قائم کر لی۔ سلطانی ماڈل اتنا زیادہ عام ہوا کہ بعد کے زمانہ میں لکھی جانے والی مسلم تاریخیں تقریباً سب کی سب سلطانی ماڈل پر ڈھال دی گئیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے ان تاریخی کتابوں کو پڑھا اور یہ سمجھ لیا کہ اسلامی تحریک کا ماڈل بس یہی سلطانی ماڈل ہے۔ انہوں نے شعوری یا غیر شعوری طور پر اسی سلطانی ماڈل کو معیاری ماڈل سمجھا اور مسلح جہاد کے نام پر اس کو ہر جگہ جاری کر دیا۔ یہی غلطی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی تباہی کا اصل سبب ہے۔

اسلامی عمل کا صحیح ماڈل وہ ہے جو پیغمبر اسلام ﷺ نیز دوسرے پیغمبروں کی مثال سے معلوم ہوتا یہ ماڈل دعوتی ماڈل ہے۔ دعوتی ماڈل سے مراد یہ ہے کہ اپنے عمل کی بنیاد اسلام کی نظریاتی اشاعت پر رکھی جائے۔ اُس کو مخاطب کے معیار فہم کے مطابق مدلّل کرتے ہوئے پیش کیا جائے۔ تشدد سے مکمل پرہیز کرتے ہوئے صرف پر امن ذرائع سے کام کو آگے بڑھایا جائے۔ فریق ثانی اگر زیادتی کرے تب بھی یک طرفہ صبر کرتے ہوئے پر امن اشاعتی مہم کو جاری رکھا جائے۔ ہر قیمت پر یہ کوشش کی جائے کہ داعی اور مدعو کے درمیان نفرت اور کشیدگی کا ماحول ہرگز قائم نہ ہونے پائے۔ معتدل ماحول ہمیشہ اسلام کے لیے مفید ہوتا ہے اور غیر معتدل ماحول ہمیشہ اسلام کے لئے غیر مفید۔ یہی دعوتی ماڈل ہے اور اسی طریقہ کو اختیار کر کے پیغمبر اسلام ﷺ نے خدا کے دین کو عزت اور غلبہ کے مقام تک پہنچایا۔ پیغمبرانہ ماڈل میں اصل عمل دعوت کے اصول پر جاری ہوتا ہے۔ وہ آغاز میں بھی دعوت ہے اور آخر میں بھی دعوت۔ بعض اوقات بطور استثناء محدود طور پر کسی سے دفاعی ٹکراؤ پیش آسکتا ہے، وہ بھی اس وقت جب کہ اعراض کی تمام کوششیں نا کام ہو گئی ہوں اور یک طرفہ جارحیت کی بنا پر اہل ایمان کو وقتی طور پر اپنے دفاع میں لڑنا پڑے۔ اس وقتی دفاع کے پہلے بھی دعوت ہے اور اس کے بعد بھی پیغمبرانہ ماڈل میں دعوت کی حیثیت اقدام کی ہے اور جنگ کی حیثیت محدود معنوں میں صرف وقتی دفاع کی۔

موجودہ زمانہ میں ساری دنیا میں نئے انقلابات ہوئے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں عالمی صورت حال مکمل طور پر بدل گئی ہے۔ ان تبدیلیوں نے مسلح جنگ کو بالکل غیر ضروری قرار دے دیا ہے۔ ممکن ہو گیا ہے کہ صرف دعوتی عمل کے ذریعہ وہ سب کچھ حاصل کر لیا جائے جو اسلام اور اہل اسلام کو عزت اور غلبہ کے مقام تک پہنچانے کے لیے درکار ہے۔

قدیم زمانہ میں اہل ایمان کو مذہبی جبر کے ماحول میں اپنا دعوتی کام کرنا پڑتا تھا، اب یہ دعوتی کام پوری طرح مذہبی آزادی کے ماحول میں کیا جاسکتا ہے۔ پہلے زمانہ میں حق کی پیغام رسانی کے لیے داعی کو پُر مشقت سفر کرنا پڑتا تھا، اب جدید کمیونیکیشن نے اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ خود دعوتی پیغام تیزی سے سفر کرکے دنیا بھر کے تمام لوگوں تک پہنچ سکے۔ قدیم زمانہ کے داعیوں کو مختلف قسم کے توہمات کا سامنا کرتے ہوئے حق کا پیغام پھیلانا پڑتا تھا، مگر اب سائنسی انقلاب نے توہمات کا تقریباً خاتمہ کر دیا ہے، اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ کھلی ذہنی فضا میں حق کے پیغام کو عام بنایا جاسکے۔ میں معیشت کا انحصار صرف زراعت پر تھا، اس لیے داعیوں کو بہت کم وسائل کے ساتھ اپنا مشن چلانا پڑتا تھا، اب صنعتی انقلاب کے بعد ساری دنیا میں اقتصادی انفجار (economic explosion) کا زمانہ آگیا ہے، اب وہ کام معاشی فراوانی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے جو پچھلے لوگوں کو صرف معاشی تنگی کے ساتھ کرنا پڑتا تھا، وغیرہ وغیرہ۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ جدید تبدیلیوں نے دعوتی ماڈل کی افادیت اور اہمیت کو بہت زیادہ بڑھا مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما صرف سلطانی ماڈل سے آشنا تھے، وہ دعوتی ماڈل کو یکسر فراموش کر چکے تھے۔ انہوں نے انتہائی بے دانشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری ملت کو سلطانی ماڈل کے طریقہ پر ڈال دیا، اور پھر ملت کو بھی تباہ کیا اور خود اپنے آپ کو بھی۔

Printed page