دوگونہ غلطی
Al-Risala, April 2002
By Maulana Wahiduddin Khan
جدید دور میں سلطانی ماڈل تباہ کن حد تک غیر مفید بن چکا تھا۔ مگر دو سو سال کا ناکام تجربہ بھی نااہل مسلم رہنماؤں کی بے خبری کو توڑنے والا ثابت نہ ہوسکا۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کو مکمل
طور پر کھونے کے باوجود اکیسویں صدی میں بھی وہ سلطانی دور کے اس فرسودہ ماڈل ہی کو بظاہر معیاری ماڈل سمجھ رہے ہیں۔
دور جدید میں ناکام سلطانی ماڈل کو دہرانے کی دو قسمیں ہیں۔ اس کی پہلی قسم ہے، حکمراں کے ذریعہ سلطانی ماڈل کو اپنانا اور اُس کی دوسری قسم ہے، غیر حکومتی افراد یا جماعتوں کے ذریعہ اس ماڈل پر عمل کرنا۔
سلطان ٹیپو پہلی قسم کی ایک مثال ہیں جنہوں نے حکمران کی سطح پر اُسے ناکام طور پر دہرایا۔ قدیم سلطانی ماڈل سے باہر آکر معاملہ کو سمجھ نہ سکے۔ ۱۷۹۹ء میں وہ انگریزوں کے خلاف ایک ناعاقبت اندیشانہ جنگ لڑ کر ہلاک ہو گئے۔ موجودہ زمانہ میں عراق کے صدر صدام حسین کی زندگی بھی اسی سلطانی ماڈل کو اختیار کرنے کی ایک ناکام مثال ہے۔
اس کے بعد اس سلطانی ماڈل کے نام پر تجربہ کی دوسری قسم شروع ہوتی ہے۔ یہ دوسری قسم وہ ہے جب کہ غیر حکومتی تنظیموں نے اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف لڑائی شروع کردی۔ دوسری قسم کی اس لڑائی کا غالباً پہلا واقعہ وہ ہے جو ۱۸۳۱ء میں پیش آیا۔ جب کہ مولا نا سید احمد بریلوی اور اُن کے ساتھیوں کا قافلہ مہاراجہ رنجیت سے لڑ کر بالا کوٹ میں تباہ ہو گیا۔
اس کے بعد ۱۸۵۷ء میں اس نوعیت کا دوسرا بڑا واقعہ وہ ہوا جب کہ علماء ہند کی جماعت نے انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد شروع کیا۔ اس کے بعد غیر حکومتی تنظیموں کے ذریعہ سلطانی ماڈل کے ناکام تجربہ کا ایک طویل سلسلہ قائم ہو گیا جو تادم تحریر جاری ہے۔ فلسطین، کشمیر، بوسنیا، چیچنیا، فلپائن، اراکان اور دوسرے بہت سے مقامات پر جہاد کے نام پر جو تباہ کن مسلح ٹکراؤ ہورہا ہے وہ سب اسی دوسرے قسم کے تجربہ کی مثالیں ہیں۔
سلطانی ماڈل کے تجربہ کی دوسری قسم جو غیر حکومتی تنظیموں کے ذریعہ گوریلا وار، پراکسی وار، وغیرہ کی صورت میں شروع ہوئی، وہ پہلی قسم سے بھی زیادہ مہلک تھی ۔ اس میں بیک وقت دو غلطیاں شامل ہو گئیں __ دعوتی دور میں سلطانی ماڈل کے طریقے کو اختیار کرنے کی خلاف زمانہ کوشش، دوسری اس
سے زیادہ سنگین بات یہ کہ یہ طریقہ شرعی اعتبار سے سراسر غلط تھا۔
کیوں کہ ثابت شدہ طور پر مسلح جنگ صرف قائم شدہ حکومت کا حق ہے، غیر حکومتی تنظیموں کے لئے یہ جائز ہی نہیں کہ وہ کسی کو دشمن بتا کر اُس کے خلاف مسلح ٹکراؤ شروع کر دیں۔ پہلی قسَم میں سلطانی ماڈل کا تجربہ اگر صرف نادانی تھا تو دوسری قسَم میں سلطانی ماڈل کا تجربہ نادانی کے ساتھ شریعت سے انحراف کے ہم معنی بن گیا۔
یہی وہ دو گونہ غلطی ہے جس نے موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں کے مسلّح جہاد کو سراسر نا کام اس کا سبب کسی غیر قوم کی سازش نہیں جیسا کہ اکثر علماء اور دانشور بے دلیل طور پر اعلان کرتے
سلطانی ماڈل ہر اعتبار سے دعوتی ماڈل سے مختلف ہے۔ دعوتی ماڈل مکمل طور پر اسلام کے موافق مزاج بناتا ہے۔ اس کے برعکس سلطانی ماڈل ایسا مزاج بناتا ہے جو ہر پہلو سے اسلامی تقاضوں کے بالکل خلاف ہو۔
اس معاملہ کی ایک مثال کشمیر اور پاکستان کا مسئلہ ہے۔ پاکستان کا تصور مکمل طور پر سلطانی طرزِ فکر کا نتیجہ تھا۔ پاکستانی لیڈروں کے ذہن میں اگر دعوتی ماڈل ہوتا تو وہ ہرگز جغرافی تقسیم کی بات نہ کرتے ۔ ایسی صورت میں وہ اس کو خدا کی ایک رحمت سمجھتے کہ متحد ہندوستان کی صورت میں ان کو گویا ایک پورا بڑا اعظم میدان کار کے طور پر مل رہا ہے۔ ان کے ذہن میں ماضی کا سلطانی ماڈل بسا سلطانی ماڈل میں سارا فوکس صرف سیاسی اقتدار پر ہوتا ہے، مواقع دعوت یا مواقع کار کی سلطانی ماڈل میں کوئی اہمیت ہی نہیں۔ اس بے شعوری کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے تقسیم کی تحریک چلا کر سارے برصغیر ہند میں نفرت (بالفاظ دیگر، مخالف دعوت ) کا جنگل اگا دیا۔ سارے دعوتی امکانات مسدود ہو کر رہ گئے۔
اس غیر اسلامی اور غیر حکیمانہ سیاست کا دوسرا دور ۱۹۴۷ء سے شروع ہوتا ہے۔ ۱۹۴۷ء کو جب یہ علاقہ انگریزی اقتدار سے آزاد ہوا تو یہاں دو بڑے ریاستی مسئلے تھے۔ ایک حیدر آباد
کا اور دوسرا کشمیر کا۔ ریاست حیدرآباد میں ہندو اکثریت تھی مگر حکمران مسلمان تھا۔ اس کے برعکس ریاست کشمیر میں مسلم اکثریت تھی مگر حکمران ہندو تھا۔ اب یہ سوال تھا کہ ان دونوں ریاستوں کا سیاسی مستقبل کیا ہو۔ حیدر آباد کے نواب نے اپنا رسمی الحاق پاکستان سے کر لیا اس کے برعکس کشمیر کے راجہ نے ہندوستان کے ساتھ الحاق کے کاغذات پر دستخط کر دئے۔
اس نزاع کو ختم کرنے کے لیے نئی دہلی کی لیڈر شپ نے ایک حقیقت پسندانہ پیشکش کی۔ نے پاکستانی لیڈروں سے کہا کہ تم حیدر آباد سے اپنا دعویٰ واپس لے لو اور ہم کشمیر سے اپنا دعویٰ واپس اس طرح یہ نزاع ختم ہو جائے گی اور دونوں ملک معتدل انداز میں ترقی کے راستہ پر اپنا سفر شروع کر دیں گے۔
ہندوستانی لیڈروں کی اس پیش کش کی تائید میں قرآن میں یہ واضح ہدایت موجود تھی : وإن جنحوا للسلم فاجنح لھا (الأنفال ٦١) یعنی اگر فریق ثانی صلح کی پیش کش کرے تو تم فوراً اس پیشکش کو قبول کر لو۔ مگر پاکستان کے لیڈر جو سلطانی ماڈل سے مسحور کن حد تک متاثر ہونے کی وجہ سے حاکمانہ نفسیات کا شکار تھے، وہ اس قیمتی پیشکش کو قبول نہ کر سکے۔ اس کے بعد جو بے پناہ تباہی آئی وہ ہر ایک کے لیے ایک معلوم واقعہ ہے۔
کشمیر کے بارے میں پاکستانی لیڈروں کی یہ نا قابل فہم نادانی تاریخی ریکارڈ سے ثابت ہے۔ اس معاملہ کو حسب ذیل کتابوں میں تفصیل کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے:
1. Looking Back, by Mehrchand Mahajan. 2. Witness to an Era, by Frank Morris. 3. Emergence of Pakistan, by Chaudhary Mohd. Ali. 4. The Nation that Lost Its Soul, by Sardar Shaukat Hayat Khan پاکستانی لیڈروں کی سلطانی نفسیات اس میں رکاوٹ بن گئی کہ وہ کشمیر کے مسئلہ کو میز کی گفت وشنید کے ذریعہ حل کر سکیں ۔ اس کے بعد انہوں نے شدید تر غلطی یہ کی کہ وہ فوجی طاقت کو استعمال کر کے اس مسئلہ کے حل کا خواب دیکھنے لگے۔ پہلے انہوں نے براہ راست مسلح اقدام کے ذریعہ ہندوستان سے فوجی ٹکراؤ کیا۔ مگر اس اقدام میں انہیں مکمل ناکامی ہوئی۔ اُن کی سلطانی نفسیات اب
بھی حقیقت پسندی کا راستہ اختیار نہیں کرسکتی تھی۔ چنانچہ انہوں نے کشمیر میں ہندوستان کے خلاف وہ خفیہ جنگ شروع کردی جس کو پراکسی وار (proxy war) کہا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ پراکسی وار نہ صرف پاکستان اور کشمیر دونوں کی تباہی کا ذریعہ تھی بلکہ وہ اسلامی شریعت کے اعتبار سے یقینی طور پر ناجائز بھی کیوں کہ اسلام میں کسی کے خلاف جنگ چھیڑنے کے لیے اعلان ضروری ہے: فانبذ اليهم علی سواء (الأنفال ٥٨)۔
ہندوستان کے خلاف اس غیر اسلامی اور غیر دانش مندانہ جنگ کو درست ٹھہرانے کے لیے پاکستان نے دوسری بہت سی شدید تر غلطیاں کیں۔ مثلاً پاکستان نے اپنی خارجہ سیاست اور اپنے میڈیا کو مکمل طور پر ہندوستان کو بدنام کرنے اور اُس کے خلاف نفرت پھیلانے کا کارخانہ بنا دیا۔ گوریلا وار یا پراکسی وار میں پوری طرح شامل ہونے کے باوجود وہ مسلسل طور پر اس قول زور کا سہارا لیتا رہا کہ اس جنگجوئی سے ہمارا کوئی عملی تعلق نہیں۔ حالانکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ کشمیریوں کی جنگجوئی پوری طرح پاکستان کی مدد سے جاری ہے۔ اسی طرح ظاہری طور پر اپنے آپ کو پرامن قوم بتانے کے لیے پاکستانی لیڈروں نے بار بار امن کے معاہدہ پر دستخط کئے ــــــــ معاہدہ تاشقند (۱۹۶۵) معاہدۂ شملہ (۱۹۷۲) معاہدۂ لاہور (۱۹۹۸)۔
اس قسم کے تمام معاہدے اور اعلانات بھی پاکستانی لیڈروں کے غیر دعوتی ذہن کا شکار ہوتے کاغذ کے اوپر انہوں نے بار بار یہ لکھا کہ کشمیر کے مسئلہ کو جنگ کے بجائے پُر امن گفت و شنید کے ذریعہ حل کیا جائے۔ مگر یہ معاہدے غالباً دنیا کو دکھانے کے لیے تھے۔ کیوں کہ انہوں نے کسی بھی معاہدہ کے بعد اپنی خفیہ جنگی کارروائی کو بند نہیں کیا۔ حالانکہ قرآن کے مطابق، معاہدہ کی لفظی اور معنوی پابندی اہل اسلام کے لیے ضروری ہے: و أوفوا بالعهد إنّ العهد كان مسئولا (الإسراء ٣٤) پاکستان کے لیڈر اگر اپنے سلطانی ماڈل سے باہر آئیں اور دعوتی ماڈل کو بنیاد بنا کر سوچیں تو انہیں معلوم ہوگا کہ اُن کے لیے قرآن میں واضح رہنمائی موجود ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ دنیا میں بہر حال ہر فرد اور قوم کو مصیبت کا تجربہ ہوتا ہے۔ یہاں انسان کھوتا بھی ہے اور پاتا بھی ہے۔
دونوں قسم کے تجربے امتحان کے لئے ہیں۔ ایسی حالت میں انسان کو کیا کرنا چاہئے اس کا جواب قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: لکیلا تأسوا علی مافاتکم ولا تفرحوا بما اٰ ٰتکم (الحديد ۲۳) قرآن کی اس آیت میں پاکستانی لیڈروں کے لیے یہ رہنمائی ہے کہ کشمیر کو وہ اُسی طرح اختیارانِ طور پر کھوئے ہوئے خانہ میں ڈال دیں، جس طرح وہ ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان کو مجبورانہ طور پر کھوئے ہوئے خانہ میں ڈال چکے ہیں۔ کشمیر میں وہ اپنی موجودہ مایوسانہ سیاست کو ختم کر دیں۔ میں یہ کہ وہ کشمیر کے معاملہ میں صورت موجودہ (status quo) کو مان کر ہندستان سے معتدل تعلقات قائم کر لیں اور منفی سیاست کا طریقہ چھوڑ کر مثبت سیاست کا طریقہ اختیار کریں۔ اس طرح ان کی ترقی کا وہ دروازہ کھل جائے گا جو آدھی صدی سے بھی زیادہ مدت سے اُن کے اوپر بند پڑا ہوا ہے۔ ایکسویں صدی میں پہنچ کر اب آخری وقت آ گیا ہے کہ تمام مسلم رہنما تو بہ کے شرعی اُصول پر عمل کریں ۔ وہ اپنی دو سو سالہ غلطی کا کھلے طور پر اعتراف کریں۔ اور دعوتی ماڈل کے اصول پر اپنے اسلامی عمل کی از سر نو منصوبہ بندی کریں۔ اس اعتراف اور تصحیح عمل سے کم کوئی چیز موجودہ تباہ کن صورت حال کو بدلنے والی نہیں۔