Al-Risala · April 2002

سوال و جواب

Al-Risala, April 2002

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے آپ کی کچھ تحریریں پڑھی ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ آپ اکثر صلح حدیبیہ کا ذکر کرتے صلح حدیبیہ تو قدیم زمانہ میں ایک خاص وقت کے لحاظ سے تھی۔ موجود زمانہ کے مسلمانوں کے لئے اس کی مناسبت (relevance) کیا ہے۔ اس کی وضاحت فرمائیں۔ (خالد انصاری، نئی دہلی) صلح حدیبیہ کوئی منفرد تاریخی واقعہ نہیں۔ وہ فطرت کا ایک عام اصول ہے۔ اس کا تعلق ہر زمانہ وہ فرد کی زندگی کے لئے بھی کارآمد ہے اور قوم کی زندگی کے لئے بھی۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں اکثر دو فریقوں کے درمیان نزاع قائم ہو جاتی ہے۔ بظاہر کسی حق یا کسی انصاف کے لیے ہوتی ہے۔ مگر زندگی کا قانون یہ ہے کہ آپ اپنا حق فریق ثانی سے نہیں لے سکتے۔ آپ کا مطلوب حق خود آپ کے تعمیری عمل کا نتیجہ ہوتا ہے، نہ کہ فریق ثانی سے ملا ہوا حدیبیہ پرنسپل یہ بتاتا ہے کہ جب کسی سے نزاع قائم ہو جائے تو نزاع کو حق یا انصاف کا سوال نہ بناؤ بلکہ اس کو امن کا سوال بناؤ۔ یعنی ہر قیمت پر جلد سے جلد نزاع کو ختم کر دو۔ نزاع کو ختم کرنے کا مطلب حالات کو نارمل بنانا ہے۔ نزاع کے وقت یہ ہوتا ہے کہ آپ کی ساری طاقت فریق ثانی سے لڑنے میں ضائع ہونے لگتی ہے۔ عین اسی وقت آپ کے لئے مواقع کار موجود ہوتے ہیں۔ مگر آپ ان مواقع کو استعمال نہیں کر پاتے۔ جب کہ کامیابی ہمیشہ مواقع کو استعمال کرنے سے ملتی ہے، نہ کہ حقوق کی لڑائی لڑنے سے۔

حدیبیہ پرنسپل ایک ابدی پرنسپل ہے۔ یہ ایک حکیمانہ تدبیر ہے۔ اس تدبیر کا خلاصہ یہ ہے کہ ٹکراؤ کو اوائڈ کرکے نارمل حالات پیدا کرو، تاکہ تمہیں موجودہ امکانات کو استعمال کرنے کا موقع مل جائے۔ نزاع کو غیر مشروط طور پر ختم کرنا بظاہر نقصان کا ایک معاملہ دکھائی دیتا ہے۔ مگر نقصان کوئی مطلق چیز نہیں، نقصان ایک تقابلی چیز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نزاع کو باقی رکھنے میں بھی نقصان ہے اور نزاع کو ختم کرنے میں بھی نقصان ۔ اب آپ کو یہ کرنا چاہئے کہ دونوں قسم کے نقصان کے درمیان

اگر آپ اس طرح موازنہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ نزاع کو باقی رکھنے میں زیادہ نقصان ہے اور نزاع کو ختم کرنے میں کم نقصان۔ ایسی حالت میں حدیبیہ پرنسپل کو اختیار کرنا گو یا زیادہ نقصان کے مقابلے میں کم نقصان کو اختیار کرنا ہے۔ اور بلا شبہہ دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ زیادہ نقصان والی صورت کو چھوڑ دیا جائے، اور کم نقصان والی صورت کو اختیار کر لیا جائے۔ مزید یہ کہ حدیبیہ اصول پر نزاع کو ختم کرنے والے لوگ اگر دانش مند ہوں تو یہ تدبیر ان کے لیے اس سے بھی زیادہ بڑے فائدہ کا باعث بن سکتی ہے۔ اور وہ ہے وقتی نقصان کو گوارا کر کے مستقبل کے عظیم تر فائدہ کو محفوظ کر لینا ۔

اسلام کے مطابق، جنت اس کو ملے گی جو خدا کی شریعت پر عمل کرتا ہو ۔ مگر یہ نظریہ ایک محدود نظریہ معلوم ہوتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ جو خدا کی شریعت کی بات نہیں کرتے مگر وہ ایک با اخلاق زندگی گزارتے ہیں۔ وہ جھوٹ نہیں بولتے، وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے ، وہ دوسروں کی خدمت کرتے ہیں، وغیرہ۔ اس قسم کے بہت سے اچھے لوگ ہیں۔ آخر وہ خدا کی جنت سے محروم کیوں رہیں گے ۔ یہ بات کچھ سمجھ میں نہیں آتی ۔ (رجت ملہوترا، نئی دہلی)

یہ صحیح ہے کہ غیر خدا ترس لوگوں میں بھی بظاہر کچھ اخلاقی خوبیاں نظر آتی ہیں۔ کے ساتھ دیکھیے تو یہ صحیح معنوں میں اخلاق نہیں ہوتا۔ زیادہ درست طور پر اس کو سماجی برتاؤ (social manners) کہا جا سکتا ہے۔ کوئی آدمی اس قسم کی اخلاقی روش اس لئے اختیار کرتا ہے تا کہ سماج میں اس کو اچھا سمجھا جائے۔ یہ خود پرستی کی ایک صورت ہوتی ہے، نہ کہ حقیقتاً خدا پرستی کی صورت۔ اس سماجی اخلاق کی اصلیت اس وقت کھل جاتی ہے جب کہ کوئی حقیقی جانچ کا موقع آجائے، جب آدمی کو اپنا کوئی بڑا مفاد خطرہ میں جاتا ہوا نظر آئے، جب کسی اخلاقی تقاضہ کو پورا کرنے کے لئے اس کو اپنی انا کو قربان کر دینا پڑے۔ اس قسم کا اخلاق ذاتی انٹرسٹ کے تابع ہوتا ہے، وہ مستقل اصول

کے تابع نہیں ہوتا۔ کثرت سے اس کی مثالیں موجود ہیں کہ اچھے لوگ بھی اس وقت بدل گئے جب کہ انہیں کسی کڑی اخلاقی جانچ سے گزرنا پڑا ۔ ایسے موقع پر یہ بظاہر با اخلاق لوگ اچانک بے اخلاق بن

حقیقت یہ ہے کہ خدا سے ڈرنے والا انسان ہی ہر حال میں اخلاقی اصول پر قائم رہ سکتا ہے۔ خدا کے سامنے حساب دینے کا اندیشہ خود انٹرسٹ کے تصور کو بدل دیتا ہے۔ اب انسان کا انٹرسٹ یہ بن جاتا ہے کہ وہ خدا کے سامنے اچھا انسان ٹھہرے، نہ یہ کہ دنیا کی زندگی میں وہ لوگوں کو ایک اچھا انسان دکھائی دے۔

خدا کے وجود کو ماننا بظاہر ایک معقول بات معلوم ہوتی ہے۔ لیکن ایک سوال یہ ہے کہ اگر اس دنیا کا ایک خدا ہے تو یہاں اتنی زیادہ مصیبتیں (sufferings) کیوں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے انسان طرح طرح کی تکلیفوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ اگر خدا ہی خالق ہے اور وہ خیر مطلق کی حیثیت رکھتا ہے تو دنیا میں پائی جانے والی مصیبتوں کی توجیہ کیا ہوگی۔ (پریا ملک ، نئی دہلی) یہ سوال بہت پرانا ہے۔ فلاسفہ اس کو برائی یا خرابی کا مسئلہ (problem of evil) کہتے ہیں۔ جو لوگ خدا کے وجود کو نہیں مانتے، ان کا خیال یہ ہے کہ ان کے نظریہ کے حق میں سب سے بڑی دلیل مگر یہ ایک مغالطہ ہے جو سطحی مطالعہ کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے، اس کی کوئی گہری بنیاد نہیں۔ اس سوال کو وسیع تر تناظر میں دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ ہماری دنیا کے دو حصے ہیں۔ دنیا جو مجموعی دنیا کا بہت چھوٹا حصہ ہے۔ دوسرے، وسیع خلا میں پھیلی ہوئی کائنات، یہ بقیہ کائنات اتنی زیادہ وسیع ہے کہ انسانی دنیا کمیت کے اعتبار سے اس کے مقابلہ میں کوئی نسبت نہیں رکھتی۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ دونوں دنیا ئیں بنیادی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ آخری حد تک ایک معیاری کائنات ہے۔ اس میں کسی بھی قسم کی خرابی یا نقص

مثال کے طور پر سورج کے گرد زمین کی گردش کو دیکھیے۔ یہ گردش بیک وقت دو انداز سے جاری ایک ، خود اپنے محور(axis)پر ۔ اور دوسرے ، سورج کے گرد بیضوی شکل میں اپنے مدار(orbit)پر۔ زمین کی یہ دوطرفہ گردش اتنی زیادہ صحت کے ساتھ مسلسل ہو رہی ہے کہ کروڑوں سال کے اندر بھی اس میں کوئی فرق نہیں آتا۔ زمین گویا ایک بہت بڑا ہوائی جہاز ہے جو دوطرفہ اصول پر مسلسل گردش مگر ہم نہایت سکون کے ساتھ اس کے اوپر زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر ہوائی جہاز کی مانند اس میں شور اور جنبش ہونے لگے تو زمین کے اوپر ہمارا رہنا محال ہو جائے۔

کچھ انتہا پسند منکرین خدا نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مادی دنیا نقص سے خالی نہیں۔ مثلاً ان کے نزدیک ، زمین کی کشش غیر متناسب طور پر زیادہ ہے۔ اس کی وجہ سے چند کلو کے وزن کی چیز ہاتھ میں لے کر چلنا بھی سخت مشکل ہو جاتا ہے۔ مگر یہ نقص کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ توازن کا مسئلہ ہے۔ زمین میں کشش اگر کم ہو جائے تو بے شمار نا قابل حل مسئلے پیدا ہو جائیں گے۔ مثلاً انسان کا زمین پر ہموار انداز میں چلنا ممکن نہ رہے گا، زمین پر مکانات کھڑے کرنا سخت دشوار ہو جائے گا، وغیرہ۔ مادی کائنات انسان کے مقابلہ میں نا قابل قیاس حد تک بڑی ہے۔ اس کے مقابلہ میں انسانی دنیا اتنی زیادہ چھوٹی ہے کہ بقیہ کائنات سے اس کو کوئی نسبت نہیں۔ اب جب کہ ایسا ہے کہ خرابی کا مسئلہ صرف انسان کی محدود دنیا کے ایک چھوٹے سے حصہ میں ہے، اور وسیع کائنات خرابی سے مکمل طور پر پاک ہے تو یہ ماننا ہوگا کہ خرابی کا مسئلہ عموم میں استثناء کا مسئلہ ہے۔ اور جب ایسا ہے تو استثناء کی توجیہہ عموم کی روشنی میں کی جائے گی ، نہ کہ عموم کی توجیہہ استثناء کی روشنی میں کی جانے لگے۔ اس فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ انسانی زندگی میں خرابی کا مسئلہ آزادی کے غلط استعمال کی بنا پر پیدا ہوا ہے ، نہ کہ تخلیق میں کسی نقص کی بنا پر۔ اگر وہ تخلیق میں نقص کی بنا پر ہوتا تو اس کی مثالیں وسیع کائنات میں ہر طرف موجود ہوتیں ، نہ کہ وسیع کائنات کے صرف ایک بے حد چھوٹے

اصل یہ ہے کہ خالق نے اپنے تخلیقی نقشہ کے مطابق ، وسیع کائنات کو جبری نظام

(determinism) کے تحت براہِ راست اپنے کنٹرول میں رکھا ہے۔ اس لئے وہ کسی تبدیلی کے بغیر ایک مقرر حالت پر قائم رہتی ہے۔ اس کے برعکس انسان کو امتحان کی مصلحت کے تحت آزادی دی گئی اسی فرق نے مذکورہ بالا مسئلہ پیدا کیا ہے۔ انسان اپنی آزادی کا بار بار غلط استعمال کرتا ہے۔ غلط استعمال نے وہ مسائل پیدا کئے ہیں جن کو خرابی کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔ انسان اگر اپنی آزادی کا غلط استعمال نہ کرے تو انسانی دنیا بھی اسی طرح بے نقص دنیا بن جائے گی جس طرح بقیہ کائنات بے نقص دنیا بنی ہوئی ہے۔

ایک صاحب نے لاہور کے ماہنامہ اشراق کے شمارہ ستمبر ۲۰۰۱ میں شائع شدہ مضمون (مولانا وحید الدین کا اسلوب تنقید) کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اس شائع شدہ مضمون کا ایک حصہ یہ ہے: " آج اس خطے کا کون سا مسلمان ایسا ہے جو شاہ ولی اللہ، شیخ احمد سرہندی، سید احمد شہید، مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا شبلی نعمانی، علامہ محمد اقبال، مولانا مودودی، ٹیپو سلطان، محمد علی جناح جیسی تمام شخصیات یا ان میں سے بہت سے لوگوں سے تعلق خاطر نہیں رکھتا یا ان کی فکر اور اخلاص کا مداح جب آپ ان سب پر ایسے اسلوب میں تنقید کریں گے جن سے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچے تو پھر یہ لوگ آپ کے مخاطب کیسے بن سکتے ہیں۔

یہ واقعہ ہے کہ مولانا وحید الدین نے اپنے تنقیدی اسلوب کی بنا پر مسلمانوں کے قریبأتمام قابلِ ذکر طبقات میں اپنے لیے ایک ناپسندیدہ فضا پیدا کر دی ہے۔ چنانچہ ان کے قلم سے نکلنے والی بہت سی مثبت اور قابلِ قدر باتیں بھی ان حلقوں میں نہیں پہنچ پاتیں اور یوں خود مولانا وحید الدین کا اپنا اسلوب تحریر ان کی دعوت کے فروغ کے راستے میں رکاوٹ بن گیا ہے۔ اگر ہم مولانا وحید الدین کی ایسی تحریروں کے اقتباسات نقل کریں تو یہ مضمون غیر معمولی طور پر طویل ہو جائے گا...... صرف ایک اقتباس یہاں درج کیا جا رہا ہے جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان کا قلم زورِ تنقید کے کیا نمونے پیش کرتا حضرت عبد اللہ ابن زبیر نے یزید بن معاویہ کے عہد میں جو طرزِ عمل اختیار کیا، وہ مولانا کے تصور

دین کے مطابق، چونکہ درست نہیں تھا، اس لیے دیکھیے کہ وہ ان کا اور ان کی والدہ کا ذکر کیسے کرتے ہیں: ”میں اپنے قریبی رشتہ داروں میں سے ایک سے زیادہ ایسے افراد کو جانتا ہوں جو کم عمری میں ماں کی سرپرستی سے محروم ہو گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی پوری زندگی بربادی کا نشان بن گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ماں کے روپ میں عورت کا رول انسانی زندگی میں بہت زیادہ ہے۔ عبداللہ بن زبیر کی ماں (اسما) نے ان کو ایک بڑے اقدام پر ابھارا۔ چنانچہ ایک شخص جو اقدام کا ارادہ چھوڑ چکا تھا، وہ دوبارہ اقدام کے لیے آمادہ ہو گیا۔ شہنشاہ اکبر کی ماں (مریم مکانی) نے اکبر کو ملا عبد النبی کے خلاف کارروائی سے چنانچہ اکبران کے خلاف سخت کارروائی سے باز رہا، وغیرہ وغیرہ۔

راقم الحروف اگر بچپن میں ماں سے محروم ہو جاتا یا اگر مجھ کو ایسی ماں ملتی جو مجھے اپنے ’’دشمنوں‘‘ کے خلاف لڑنے جھگڑنے پر اکساتی رہتی تو یقینی طور پر میری زندگی کا رخ دوسرا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے ایسے انجام سے بچایا اور مجھ کو اپنی ایک صداقت کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ مولانا وحید الدین کے نزدیک صحابہ پر تنقید کرنا جائز نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ عبد اللہ ابن زبیر پر تنقید نہیں؟ کیا یہ حضرت اسما بنت ابی بکر پر تنقید نہیں ......؟ ہم اس بات سے صرف نظر کرتے ہیں کہ مولانا وحید الدین خاں کی رائے میں صحت کا امکان کتنا ہے، ہم صرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت اسما کا ذکر اس اسلوب میں اور اس تقابل کے ساتھ، کیا تنقید کا کوئی قابلِ تحسین اسلوب ہے؟ (ایک قاری الرسالہ، لاہور)

پاکستانی ماہنامہ کے مذکورہ مضمون میں جو بات کہی گئی ہے وہ بلا شبہ غیر علمی بھی ہے اور غیر ذمہ دارانہ یہ اعتراض راقم الحروف کی کتاب (خاتون اسلام) کے ایک باب سے لیا گیا ہے۔ کوئی بھی شخص اس باب کو غیر جانبدارانہ انداز سے پڑھے تو یقیناً وہ جان لے گا کہ اس باب کا موضوع صحابہ یا صحابیہ کی روش پر تبصرہ نہیں ہے، جس کی ایک مثال ’’خلافت و ملوکیت‘‘ نامی کتاب ہے۔ میری کتاب کا موضوع اس کے برعکس صرف ایک مغربی پروپیگنڈہ کا جواب ہے۔ میں نے اس کتاب میں یہ بتانے کی

کوشش کی ہے کہ اسلامی نقطہ نظر سے خانہ نشین عورت بھی بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکتی ہے۔ جس کو مغربی لوگ صرف غیر خانہ نشین عورتوں کے لیے ممکن سمجھتے ہیں۔ اس نکتہ کو ثابت کرنے کے لیے میں نے کتاب میں تین خواتین کی مثالیں دی ہیں__ حضرت اسماء، مریم زمانی، زیب النساء۔ میری کتاب کی مذکورہ عبارت میں نعوذ باللہ کسی صحابی یا صحابیہ پر تنقید ہرگز نہیں ہے طورپر نہ ہوسکتی اس میں سادہ طور پر، تین خواتین کا، خاتون کی حیثیت سے رول بتایا گیا ہے۔ عبارت کے مدعا کے مطابق، اس مثال میں مذکورہ خاتون کا صحابیہ ہونا ایک اتفاقی امر ہے۔

بلاغت کا مسلم اصول ہے کہ تمثیل کے طریقہ میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ پیش نظر مثال کا متعلق پہلو ہی مقصود ہوتا ہے۔ اور اس کے علاوہ دیگر پہلو وہاں غیر متعلق قرار پاتے ہیں۔ In employing the method of anology, it should always be possible to show that the resemblances noted bear relevance on the point to be established whereas the differences are irrelevant. (1/337)

مذکورہ تنقید میں دو واضح غلطیاں کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ ناقد نے اس علمی نکتہ کو ملحوظ نہیں رکھا کہ اس مثال میں حضرت اسماء کا نام صحابیہ کی حیثیت سے مراد نہیں ہے بلکہ دوسری دو خواتین کی طرح، ان کا نام بھی یہاں ایک خانہ نشین خاتون کی حیثیت سے مراد ہے۔ دوسری بات یہ کہ میری کتاب میں ان خواتین کا نام تنقید کے مقصد سے نہیں لایا گیا ہے بلکہ ان کے تعریفی کارنامہ کی حیثیت سے لایا گیا ہے۔ مذکورہ ناقد نے اپنے ایک ذہنی تخیل کو شامل کر کے غیر ضروری طور پر اس کو قابل اعتراض بنانے کی کوشش اور اس طرح انہوں نے ایک تعریفی حوالہ کو خلاف واقعہ اور تنقیدی حوالہ بنا دیا ہے۔ ہندوستان کی کئی یونیورسٹیوں میں اور باہر کی کچھ یونیورسٹیوں میں بھی اسلامک اسٹڈیز کے نام سے شعبے قائم ہیں۔ ہمارے مدارس میں بھی اسلام کے مطالعہ کا انتظام ہے۔ یہ دونوں ایک ہیں یا ان میں کوئی فرق ہے۔ سیکولر یونیورسٹیوں میں اور دینی مدارس میں اس اعتبار سے اگر کوئی فرق ہے تو وہ کیا (ندیم احمد سنابلی، دہلی)

سیکولر یونیورسٹیوں میں اسلام کے مطالعہ کا تصور اس سے مختلف ہے جو ہمارے دینی مدارس میں پایا جاتا ہے۔ دینی مدارس میں اسلام کا مطالعہ ایک مقدس الہامی مذہب کے طور پر کیا جاتا ہے۔ جب کہ سیکولر یونیورسٹی میں اسلام یا کسی اور مذہب کا مطالعہ صرف اس لیے کیا جاتا ہے کہ وہ ایک تاریخی ظاہر ہ یا ایک تاریخی واقعہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اصحاب مدارس کے مطالعہ کا طریقہ داخلی (subjective) ہے، اور اصحاب یونیورسٹی کا طریقہ خارجی (objective) ہے۔ اس کو ایک عملی مثال سے سمجھئے۔ مثلاً اسلام کے دور اول میں حسین ابن علی اور یزید ابن معاویہ کی فوجوں کے درمیان مسلح ٹکراؤ ہوا۔ یزید ابن معاویہ کی فوج نے حسین ابن علی کو شہید کر دیا۔ اس واقعہ کو اہل مدرسہ اس نظر سے دیکھیں گے کہ حسین ابن علی پیغمبر اسلام کے نواسے تھے اور پھر اسی جذباتی وابستگی کے تحت اپنی رائے قائم کریں گے۔ اس کے برعکس سیکولر ذہن کے لوگ اس کو سادہ طور پر صرف ایک تاریخی واقعہ کی حیثیت سے لیں گے اور بے لاگ خارجی معلومات کی روشنی میں اس کا اندازہ (assessment)

اس فرق کا نتیجہ یہ ہوگا کہ صاحب مدرسہ سارے معاملہ کو حسین کی معصومیت اور یزید کے ظلم کے نقطۂ نظر سے دیکھیں گے۔ اس کے برعکس یونیورسٹی کے لوگ خالص خارجی حقائق کی روشنی میں اس پر رائے قائم کریں گے۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اہل مدرسہ یہ کہیں گے کہ ’’یزید پلید کی فوجوں نے نواسۂ رسول کو مظلومانہ طور پر شہید کیا‘‘ اس کے برعکس دوسرا فریق یہ کہے گا کہ حسین ابن علی کے اقدام کی حیثیت دمشق کی خلافت کے نزدیک بغاوت کی تھی، اس لئے خلافت دمشق کی فوجوں نے حسین ابن علی کے خلاف جو اقدام کیا وہ وہی تھا جو ہر قائم شدہ حکومت کرتی ہے۔

اسلام چونکہ ایک دین فطرت ہے۔ اور رب العزت نے اس کو انسان کی طبیعت کے عین مطابق بنایا ہے۔ یہ دین باقی ماندہ ادیان پر غالب ہے۔ آپ متشددانہ طرز عمل کے خلاف ہیں۔

حالت میں چوری کرنے والے یا شراب پینے والے کو شرعی سزا کیسے دی جائے گی۔ (محمد ادریس ٹاک، كشمير، پن 303 (192)

اسلام لالہ دیہہ کا خط نہیں مگر اس کا مطالب نہیں ہے اسلام بلاشبہ دین فطرت ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب ہے کہ دوسرے ادیانِ خلافِ فطرت تھے۔ اصل یہ ہے کہ اللہ کا بھیجا ہوا دین فطرت کے مطابق ہی تھا مگر بعد کی تحریفات نے اس کو بدل دیا۔ اور دوسرے آسمانی مذاہب میں جو فرق ہے وہ افضل اور غیر افضل کا نہیں ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ پچھلے آسمانی مذاہب تبدیلیوں کی بنا پر غیر مستند ہو گئے۔ جبکہ اسلام آج بھی اپنی ابتدائی حالت پر باقی ہے۔ مجرم کو شرعی سزا دینا عوام کا کام نہیں۔ یہ ایک قائم شدہ حکومت کا کام ہے جو حالات پر مکمل کنٹرول رکھتی ہو۔ عوام کے لیے پر امن تبلیغ و اصلاح ہے، نہ کہ شرعی قوانین کو طاقت کے ذریعہ نافذ کرنا۔ ات پ پتہ نہیں ہے کہ

ایک قدیم خط محترمہ صدیقہ آپا السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ کا خط ملا۔ میری لڑکی بنت الاسلام کا انتقال میری زندگی کا پہلا واقعہ ہے جب کہ میں نے موت کے منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ سانس اکھڑنا، آنکھ پتھرا جانا اور عالم نزع کی ہچکیاں یہ سب میرے لئے ابھی تک صرف الفاظ تھے جو میں نے کتابوں میں پڑھے تھے یا زبانوں سے سنے تھے۔ اس مرتبہ بنت الاسلام کی موت میں ان الفاظ کو میں نے حقیقت بنتے ہوئے دیکھا۔ جب آخر وقت ہوا تو پہلے اس کی آنکھیں اوپر کو چڑھ گئیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک شخص آخرت کی طرف جاتے ہوئے پیچھے مڑ کر دنیا کو دیکھ رہا ہے۔ پھر اکھڑی اکھڑی سانسیں آنے لگیں جو اس بات کی علامت تھی کہ جسم کا نظام اپنی صحیح حالت میں باقی نہیں رہا۔ اسی کے ساتھ اس کا بولنا بند ہوگیا۔ آخر میں ہچکی کی سی کیفیت پیدا بالکل ایسے ہی جیسے کوئی چراغ بجھنے کے وقت بھڑکنے لگتا ہے۔ یہ کیفیات چند گھنٹے تک باقی بالاخر 19 ستمبر کو صبح آٹھ بجے ڈاکٹر کے کمرے میں اس کا انتقال ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ جس وقت میرے ساتھی محمد عبدالحئی صاحب اس کو کپڑے میں لپیٹ کر ڈاکٹر کے کمرے سے نکلے اور ہم رکشے میں بیٹھ کر گھر کی طرف روانہ ہوئے تو مجھے ایسا محسوس ہوا گویا دنیا کی بساط لپیٹ دی گئی ہے اور فرشتے تمام انسانی روحوں کو لے کر خدا کے دربار کی طرف چلے جارہے ہیں۔ میری آنکھوں میں بے اختیار آنسو آگئے اور میں نے کہا خدا یا، میرے لئے بھی یہی دن آنے والا ہے۔ اس دن سے پہلے تو مجھے بخش دے ورنہ میرا کوئی انجام نہیں ہوسکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ آدمی اگر نصیحت لینا چاہے تو صرف موت کا واقعہ اس کی آنکھ کھولنے کے لئے موت بچے کو بھی آتی ہے اور بڑے کو بھی۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ موت کا کوئی وقت وہ عمر کے کسی بھی حصے میں آسکتی ہے۔ روس کے وزیراعظم سٹالن اور امریکہ کے وزیر خارجہ ڈلیز بیمار ہو کر مرے اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی بیوی ایک سفر میں رات کو سوئی تو نیند ہی میں اس کا خاتمہ

اس سے معلوم ہوا کہ موت کبھی خبر دار کر کے آتی ہے اور کبھی اچانک آ جاتی ہے۔ اس کی زد سے نہ امیر بچ سکتا ہے اور نہ غریب اور نہ کسی قسم کا علاج اسے روک سکتا ہے۔ یہ حقیقت اگر آدمی کے سامنے ہو تو دنیا کے تمام ہنگامے اسے بے معنی نظر آنے لگتے ہیں۔ دنیا میں عزت اور خوش حالی حاصل کرنے کے لئے انسانوں کی تمام دوڑ بالکل احمقانہ حرکت معلوم ہوتی ہے۔ کسی مسافر کی ٹرین سامنے کھڑی ہو اور وہ اس میں سوار ہونے کے بجائے پلیٹ فارم کی بینچ پر جگہ حاصل کرنے کے لئے کش مکش شروع کردے تو ہر آدمی اس کو بے وقوف کہے گا۔ مگر آج ساری دنیا اسی نادانی میں مبتلا ہے۔ ہر روز لاکھوں آدمی مر کر ہم کو یہ بتاتے ہیں کہ تمہاری زندگی آخرت کا ایک سفر ہے اس کے لئے تیاری کرلو۔ دنیا کی دلچسپیوں میں اور دنیا میں عزت ڈھونڈنے میں اتنا گم ہے، وہ دنیوی مسائل میں اس قدر الجھا ہوا ہے کہ اسے کچھ احساس نہیں رہتا۔ اسی حال میں آدمی زندگی گزارتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اسے موت آتی ہے تو اچانک اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو ایک گڑھے میں لا کر گرا دیا ہے۔ ، رام پور ، ۳۰ ستمبر ۱۹۶۱ء ٹاپ چپ چپی سیت ہے ؟

دعاگو وحید الدین احقر ارم مسٹر حسن احمد خاں ( مقیم بمبئی ) کر یہ یارہ ماہ کا ذریعہ حاصل ہوا۔

؀ اس و ع ت ( ب ہ ) م ک ا ن س ی ن ء ا م د ی ہ ( ہ و ی ہ )

Printed page