بھوپال کا سفر
Al-Risala, May 2002
By Maulana Wahiduddin Khan
مدھیہ پردیش الرسالة اکیڈمی کی دعوت پر بھوپال کا سفر ہوا۔ ۳ نومبر ۲۰۰۱ کو انڈین ایرلائنز کی فلائٹ نمبر 7134 کے ذریعہ دہلی سے بھوپال پہنچا۔ اور سات نومبر کو بھوپال سے دوبارہ انڈین ایرلائنز کے ذریعہ دہلی کے لیے واپسی ہوئی۔ اس سفر کی مختصر روداد یہاں درج کی جاتی ہے۔ اس سفر کا پہلا قابلِ ذکر تجربہ وہ ہے جو دہلی ایرپورٹ پر پیش آیا۔ میں نے اپنا ٹکٹ کاؤنٹر پر دیا تو پیچھے بیٹھی ہوئی خاتون نے اس کو دیکھنے کے بعد کہا کہ اس ٹکٹ پر آپ کو مزید رقم ادا کرنا ہے، ایک طرف کے سفر کے لئے ۱۹۰ روپے اور دونوں طرف کے سفر کے لئے ۳۸۰ روپے۔ یہ اضافہ یکم نومبر سے کیا گیا ہے۔
یہ میرے لئے ایک عجیب صورت حال تھی، کیوں کہ میں سفر میں عام طور پر اپنے ساتھ رقم نہیں میں نے کہا کہ میرے پاس رقم موجود نہیں ہے، پھر مجھے کیا کرنا چاہئے۔ خاتون نے مجھے ڈیوٹی آفیسر کے پاس بھیج دیا۔ وہاں مسٹر کے۔ سی گاندھی موجود تھے جو دہلی ایرپورٹ پر شفٹ مینیجر ہیں۔ سے میں نے اپنا مسئلہ بتاتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے بورڈنگ کارڈ ایشو کردیں۔ واپسی میں بھوپال ایرپورٹ پر میں مطلوب رقم جمع کر دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی پراویژن موجود نہیں اس لئے ہم مجبور ہیں کہ ہم آپ سے یہیں رقم وصول کریں۔
میں نے پریشانی کے انداز میں اپنے بیگ کے کاغذات کو الٹ پلٹ کر دیکھا تو اس میں ۱۵۰ روپے رکھے ہوئے مل گئے۔ میں نے مسٹر گاندھی سے کہا کہ میرے پاس اس وقت صرف ۱۵۰ روپے انہوں نے جواب دیا کہ کوئی حرج نہیں، اور پھر انہوں نے اپنی طرف سے چالیس روپے شامل کر کے ۱۹۰ روپے کی رسید بنائی اور میرا بورڈنگ کارڈ مجھے دے دیا۔ میں نے کہا کہ آپ اپنا پورا پتہ بتا دیں تاکہ یہ رقم میں آپ کو پہنچا دوں۔ مگر اصرار کے باوجود انہوں نے اپنا پتہ نہیں بتایا۔ دہلی واپسی کے بعد میں نے یہ رقم ونگ کمانڈر یوسف خان صاحب کے ذریعہ انہیں پہنچادی۔
اس مزید رقم کا راز یہ تھا کہ انڈیا کی دونوں ایر لائنز کے پاس جو ہوائی جہاز ہیں وہ زیادہ تر (lease) پر ہیں۔ 11 ستمبر ۲۰۰۱ کو امریکہ میں چار ہوائی جہازوں کو ہائی جیک کر کے جو ٹکرایا گیا، یہ اضافہ اس کے بہت سے منفی نتائج میں سے ایک نتیجہ ہے۔ اس حادثہ کے بعد مالک کمپنیوں نے انشورنس کی رقم بہت زیادہ بڑھا دی تا کہ متوقع نقصان کی تلافی کی جاسکے۔ اب انڈین ایر لائنز نیز ایرا انڈیا کے لئے اس کے سوا کوئی صورت نہ تھی کہ وہ انشورنس کے نام پر کرایہ میں اضافہ کریں۔ بے شمار مسائل میں سے ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے جو ۱۱ ستمبر کے نا عاقبت اندیشانہ فعل کے بعد پیش آیا۔ انسانی تاریخ میں غالباً یہ پہلا واقعہ تھا کہ کوئی ایک حادثہ ایسا ہو جس کے اثرات کسی نہ کسی طرح دنیا کے تمام انسانوں تک پہنچ جائیں۔
سنن ابی داؤد (کتاب الفتن) اور مسند احمد میں یہ روایت آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آخری زمانہ میں جو فتنے اٹھیں گے ان میں سے ایک فتنہ دُھَیما ہوگا جو اس وقت کے کسی بھی شخص کو نہیں چھوڑے گا مگر یہ کہ اس کو اس کا ایک تھپڑ لگ جائے (ثم فتنة الدهيما لا تدع احدا من هذه الامة الا لطمته لطمةً ) ۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ فتنہ دھیما سے مراد یہی موجودہ فتنہ ہے یا مستقبل میں آنے والا کوئی دوسرا فتنہ۔
انڈین ایر لائنز کی فلائٹ میگزین سواگت (نومبر ۲۰۰۱) کا شمارہ راستہ میں دیکھا۔ ایک مضمون کا عنوان تھا ــــــــ "دوسرا چانس نہیں"۔