Al-Risala · May 2002

There is no second chance.

Al-Risala, May 2002

By Maulana Wahiduddin Khan

مضمون نگار نے یہ بات سڑکوں کے سفر کے بارے میں لکھی تھی، مگر یہی بات وسیع تر معنوں میں زندگی کے سفر کے لئے بھی درست ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کو صرف ایک بار آنے کا موقع ملا آدمی خواہ اس موقع کو درست طور پر استعمال کر کے جنت میں داخلہ کا استحقاق حاصل کر لے یا وہ اپنے آپ کو ابدی طور پر نا کام بنالے۔

بھوپال ایر پورٹ پر ساڑھے تین بجے پہنچا، یہاں الرسالہ کے قارئین کی بڑی تعداد موجود

مسٹر الطاف صدیقی اور دوسرے بہت سے ساتھیوں کے علاوہ شہر کے ایک ممتاز صنعت کار مسٹر راجیند رسنگھ ، وغیرہ بھی ایئر پورٹ پر موجود تھے۔ ایئر پورٹ سے روانہ ہوئے تو ہمارا قافلہ دور تک ایک خوبصورت سڑک سے گزرتا رہا۔ یہ نو تعمیر سڑک گویا مستقبل کے ہندوستان کی علامت تھی ۔ ہم لوگ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی کے مکان پر پہنچے۔ یہاں بہت سے لوگ جمع ہو گئے، جن سے دیر تک باتیں

مسٹر راجیند رسنگھ اس دور کی ایک مثال ہیں جب کہ ہندوستان میں ہندو مسلم تفریق موجود نہ تھی۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ عزت و احترام سے رہتے تھے۔ مسٹر راجندر سنگھ نے بتایا کہ جب وہ تقریباً چھ سال کے تھے تو ان کے گھر پران کے کچھ رشتہ دار آئے۔ اس وقت ایک مسلمان (ڈاکٹر مقبول ) بھی وہاں موجود تھے۔ مسٹر راجیند رسنگھ نے ہندو روایت کے مطابق ، سب کے پاؤں چھوئے ، مگر انہوں نے مسلمان کا پاؤں نہیں چھوا۔ اس بنا پر ان کے والد صاحب نے انہیں ہلکے ہاتھ سے مارا اور کہا کہ یہ سب تمہارے بزرگ ہیں، اور تم کو سب کے پاؤں چھونا چاہئے ۔ اس کے بعد انہوں نے دوسروں کی طرح مسلمان کا بھی پاؤں چھوا۔

گفتگو کے دوران مسٹر الطاف احمد صدیقی نے کام کی اہمیت کو بتاتے ہوئے کہا کہ کام عبادت ہے (work is worship)۔ اس پر مسٹر راجیند رسنگھ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ہندوؤں کے لئے تو یہ مقولہ درست ہے، مگر کیا مسلمانوں کے لئے بھی ایسا ہی ہے ۔ میں نے کہا کہ ہاں ، صرف اس اضافہ کے ساتھ کہ انسان جو کام کرے وہ رضائے الہی کی نیت اور اس کے حکم کی پیروی میں کرے۔ شام کی اس مجلس میں ملاقات کے لئے جو لوگ آئے ان میں سے ایک انور حسین آزاد صاحب وہ ۱۹۹۱ سے الرسالہ کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ الرسالہ سے آپ نے اپنی ذات کے لئے کیا سیکھا؟ انہوں نے کہا کہ یہ سیکھا کہ مجھے زمین پر چلنا آگیا ۔ اب میں الرسالہ کی تعلیم کے مطابق صبر کے فارمولا کو استعمال کرتا ہوں، اور اللہ کے فضل سے مجھے کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ نے کہا کہ صبر کا فارمولا الرسالہ کا فارمولا نہیں ہے، وہ فطرت کا فارمولا ہے۔ اور فطرت کا فارمولا ایک

اٹل قانون ہے جس کو اختیار کئے بغیر چارہ نہیں۔ صبر کو اگر آپ اصول کے طور پر اختیار نہ کریں تو آپ کو منافقانہ طور پر اسے اختیار کرنا پڑے گا، کیوں کہ صبر کے بغیر آپ اس دنیا میں جی نہیں سکتے۔ آنے والوں میں اس علاقہ کے S.H.O مسٹر ڈنڈوتیا (9826088602) بھی تھے۔ سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ لوگوں کو عام طور پر پولیس سے شکایت ہوتی ہے، مگر مجھے پولیس سے کوئی شکایت نہیں۔ ان شکایتوں کو غلط فہمی کہنا زیادہ صحیح ہوگا ۔ میرے نزدیک پولیس کے لوگ بھی انسان ہیں ۔ ان کو بھی خدا نے پیدا کیا ہے۔ وہی انسانی فطرت ان کے اندر بھی ہے جو دوسرے انسانوں کے اندر ہے۔ اس سلسلہ میں میں نے اپنا ایک سبق آموز تجربہ بتایا۔

میں نے کہا کہ دہلی میں ایک بار ایک بڑے پولیس افسر مجھ سے ملنے کے لئے آئے۔ احترام کے ساتھ مجھ سے ملے، اور اپنا ٹیلی فون نمبر دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی میری کوئی ضرورت ہو تو مجھے اس نمبر پر یاد کر لیں ۔ اس ملاقات کے کچھ دنوں بعد میں نے اخلاقی طور پر انہیں ایک ٹیلی فون کیا۔ جب وہ لائن پر آئے تو خلاف عادت میری زبان سے یہ جملہ نکل گیا: میں آپ کا فرینڈ بول رہا ہوں۔ یہ الفاظ سنتے ہی وہ نہایت سخت اور درشت الفاظ میں بولنے لگے۔ میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ کے ساتھ ریسیور رکھ دیا۔

میرا مزاج اللہ کے فضل سے یہ ہے کہ انتہائی ناخوشگوار تجربہ بھی میری مثبت سوچ کو درہم برہم نہیں کرتا۔ چنانچہ میں نے غیر متاثر ذہن کے تحت اس عجیب واقعہ پر سوچنا شروع کیا۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ پولیس افسر کے مذکورہ غیر متوقع ردعمل کا غالباً سبب یہ ہے کہ انہیں مجرم قسم کے لوگ ٹیلی فون کرتے ہوں گے اور اپنے آپ کو فرینڈ بتا کر انہیں اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہوں گے۔ اس نتیجہ پر پہنچنے کے بعد میں نے انہیں دوبارہ ٹیلی فون کیا۔ اب میں نے فوراً ان کو اپنا نام بتا دیا۔ میرا نام سنتے ہی وہ نہایت احترام کے ساتھ بولنے لگے۔ انہوں نے ادب کے انداز میں کہا: مولانا صاحب، میں آپ کی کیا سیوا کر سکتا ہوں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان اسی طرح ایک انسان ہے جس طرح کوئی دوسرا شخص ہو سکتا ہے۔

آپ ہر انسان کو انسان سمجھیے ۔ ہر انسان کے ساتھ انسان والا معاملہ کیجیے ۔ اور پھر آپ کو کسی سے کوئی شکایت نہ ہوگی ۔

۷ اکتوبر کی شام کو یہاں اچاریہ نریندر دیو لائبریری کے ہال میں ایک جلسہ ہوا۔ اس میں شہر کے تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے ۔ حاضرین کی تعداد ناظمین جلسہ کی توقع سے زیادہ تھی ۔ کرسیاں سب بھر گئیں ، اور درمیان میں مزید کرسیوں کا انتظام کرنا پڑا ۔

یہ جلسہ اسکول ٹوڈے میگزین کی طرف سے کیا گیا تھا۔ تقریر کا موضوع تھا : مذہب اور تعلیم ۔ میں نے تقریباً ایک گھنٹہ کی تقریر میں موضوع کی وضاحت کی۔ میں نے کہا کہ تعلیم کو عام طور پر جاب حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہ تعلیم کا ثانوی فائدہ ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد انسان کو باشعور اسی طرح مذہب محض رسمی اعمال کا نام نہیں، مذہب دراصل زندگی کی سائنس ہے۔ طرح مذہب اور تعلیم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ تعلیم آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ مذہب کو زیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھ سکے ، اور مذہب آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ سچی اسپرٹ کے ساتھ تعلیم یافتہ بنے۔

اخیر میں سوال و جواب کا وقفہ تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ آپ نے تعلیم کی اہمیت اجاگر کی ہے ، لیکن اگر تعلیم کا بھگوا کرن ہو تو آپ نئی نسل کو کیا مشورہ دیں گے ۔ میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر‘‘ کی بنیاد پر کوئی رائے نہیں دی جاتی ۔ ابھی تو ہمارے ملک میں بھگوا تعلیم رائج نہیں ہوئی ، اور میرے اندازے کے مطابق ، وہ کبھی رائج ہونے والی نہیں ۔ لیکن بالفرض اگر کبھی عملاً ایسا ہو تو اس وقت اس کا جواب دیا جا سکتا ہے۔ ابھی یہ سوال قبل از وقت ہے۔ انڈیا میں اصل مسئلہ امریکی کَرن کا ہے، نہ کہ بھگوا کرن کا ۔

ایک اور سوال یہ تھا کہ ورتمان میں راج نیتی میں دھرم کا جو مشرن کر کے راج نیتی کو دوشت کیا جا رہا ہے اس کے بارے میں کوئی اپائے بتائیے۔ اس کے جواب میں میں نے کہا کہ یہ بات غلط ہے کہ سیاست میں مذہب کو شامل کیا جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے اس کا جو نتیجہ نکلتا وہ یہ تھا کہ

بھرشٹا چار اس ملک سے ختم ہو جاتا جو چیز ہو رہی ہے وہ مذہب کو سیاست میں شامل کرنا نہیں ہے، بلکہ سیاسی مقاصد کے لئے مذہب کو استعمال کرنا ہے۔

جناب محمد انور جمال صاحب سے ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ کسی سوال کا جواب دیتے ہوئے صرف یہ نہیں دیکھنا ہے کہ آپ کے نزدیک اس کا جواب کیا ہے۔ بلکہ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آپ یہ دیکھیں کہ سننے والے پر اس کا اثر کیا پڑے گا۔ میں نے اس معاملہ کی ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہجرت کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر جب مکہ سے نکل کر مدینہ کے لئے روانہ ہوئے تو مشرکین نے اپنے آدمی دوڑائے کہ وہ آپ کو پکڑیں۔ اس سلسلہ میں ایک آدمی آپ دونوں کے قریب آگیا۔ وہ غالباً دونوں میں سے کسی کو پہچانتا نہ تھا۔ اس نے حضرت ابو بکر سے پوچھا کہ تمہارے ساتھ کون ہے۔ اس سوال کا صحیح جواب یہ تھا کہ محمد بن عبد اللہ۔ مگر حضرت ابو بکر نے یہ جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ رجل یہدینی (ایک شخص جو مجھ کو راستہ دکھاتا ہے)۔ الفاظ کو سن کر سائل نے یہ سمجھا کہ یہ راستہ دکھانے والا کوئی گائیڈ ہے اور وہ واپس چلا گیا۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ کلام کرتے ہوئے صرف یہ نہیں دیکھنا ہے کہ آپ کے اپنے نزدیک درست بات کیا ہے بلکہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ سننے والے پر اس کا کیا اثر پڑے گا۔ ۳ نومبر کی شام کو آچاریہ نریندر دیو لائبریری کے ہال میں جو پروگرام تھا، اس میں میرے علاوہ ایک ممتاز ہندو نے تقریر کی جو اعلیٰ حکومتی عہدوں پر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں اپنی ایک رائے بار بار پیش کر چکا ہوں لیکن اسے قبول نہیں کیا جاتا۔ اس کو میں اس مجمع میں پیش کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ ہندوستان کے فرقہ وارانہ مسائل کا حل یہ ہے کہ لوگ ''بہودھرمی‘‘ بن جائیں، یعنی بیک وقت کئی مذہب کو ماننے والے۔ وہ ایک ہی وقت میں کئی مذاہب کو تسلیم کریں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میرا ذاتی مسلک یہی ہے۔ میں نے مسجد میں نماز بھی پڑھی، گرجا گھر بھی جاتا ہوں اور مندر بھی۔ انہوں نے اپنے اس مسلک کو اپنی تقریر میں کھلے لفظوں میں بیان کیا۔

جلسہ کے حاضرین میں بیشتر تعداد مسلمانوں کی تھی۔ ایک مقامی بزرگ نے بتایا کہ جو مسلمان

اس جلسہ میں شریک تھے وہ بھوپال کے وہ لوگ تھے جن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ سب سے زیادہ دینی حمیت رکھنے والے لوگ ہیں۔ ان کی تاریخ یہ رہی ہے کہ وہ دین کے معاملہ میں کسی مخالفانہ بات کو بالکل برداشت نہیں کرتے بلکہ جراتمندی کے ساتھ فوراً اس کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کے اس جلسہ میں مذکورہ ہندو مقرر کی بظاہر’’ اشتعال انگیز بات‘‘ کو انہوں نے اس طرح اعتدال کے ساتھ سنا جیسے کہ وہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔ حتیٰ کہ مذکورہ ہندو مقرر کی بات پر صرف ایک شخص نے سوال کیا اور وہ ایک ہندو نوجوان تھا۔

یہ میرے نزدیک مسلمانوں میں ایک خوشگوار تبدیلی کی علامت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آج کے مسلمانوں میں وہ صحت مند تبدیلی آ چکی ہے جو قانون فطرت کے تحت موجودہ دنیا میں ترقی کے لئے ضروری ہے۔ یعنی ناخوشگوار بات کو بھی معتدل انداز میں سننا، خلاف مزاج معاملہ میں بھی ضبط و تحمل کا رویہ اختیار کرنا۔

مولانا محمد صدیق قاسمی سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ اکثر لوگوں کی نا کامی کا سبب صرف ایک ہوتا ہے، اور وہ عدم قناعت ہے۔ زندگی میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی اپنے حالات کے اعتبار سے ممکن دائرہ میں اپنے عمل کا آغاز کرے، اور آج جو کچھ اس کو مل رہا ہے اس پر راضی رہتے ہوئے مزید کے لئے مستقبل کا انتظار کرے۔ مگر اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس قناعت کو اختیار نہیں مستقبل میں ملنے والی چیز کو حال میں پانے کے لئے وہ ایک ایسی چھلانگ لگا دیتے ہیں جو آخرکار انہیں مایوسی اور نا کامی کے سوا کہیں اور پہنچانے والی نہیں۔

ہندی روزنامہ دینک بھاسکر (۴ نومبر ۲۰۰۱ء) میں کل شام کی تقریر کی رپورٹنگ ہوئی۔ رپورٹ اطمینان بخش تھی۔ وہ تقریباً بالکل صحیح تھی جو عام اخباری مزاج کے خلاف ہے۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ کوئی اخبار خواہ وہ اردو کا ہو یا ہندی کا یا انگریزی کا، اپنی پالیسی کے اعتبار سے متعصب یا غیر متعصب نہیں ہوتا۔ اصل چیز جو اخباروں کی رپورٹنگ میں فرق پیدا کرتی ہے وہ اس کا اسٹاف ہے۔ اگر اخبار میں زیادہ تعلیم یافتہ لوگ ہوں تو اس کی رپورٹنگ درست ہوگی اور اگر کم تعلیم یافتہ لوگ ہوں تو

اس کی رپورٹنگ ناقص ہو جائے گی ۔

مسٹر راجیند رسنگھ بھوپال کے ایک صنعتکار ہیں۔ انہوں نے بھوپال میں زندگی کا آغاز اس طرح کیا کہ انہوں نے بھوپال کی سڑکوں پر تھری وہی لر چلایا تاکہ وہ اپنی تعلیم کے اخراجات حاصل اس طرح انہوں نے ذاتی محنت سے سول انجینئرنگ کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے وہ موجودہ ترقی تک پہنچے۔ انہوں نے اپنی بزنس کا اصول یہ بتایا: دوسروں سے کم قیمت مگر دوسروں سے بہتر کوالٹی۔

مسٹر راجیند رسنگھ نے ایک ملاقات میں کہا کہ اگر آج کے مسلمانوں کا ذہنی کینواس (canvas) بڑا ہو جائے تو کوئی ان کی ترقی کو روک نہیں سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کل کے مسلمانوں کا مزاج یہ ہے کہ تھوڑی معلومات کے باوجود وہ اسلام کی بات کرتے ہوئے مدعیانہ انداز میں بولنے لگتے ہیں۔ وہ اپنے خیال میں اتنا گم رہتے ہیں کہ ان کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ سننے والے پر ان کے اس انداز کا الٹا اثر پڑے گا۔

میرے نزدیک یہ بات بالکل درست ہے۔ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے۔ وہ اپنے ماننے والوں کے اندر آفاقی ذہن بناتا ہے۔ مگر آج کل کے مسلمان اپنی زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر تنگ نظری کا شکار ہو گئے ہیں۔ وہ خود اپنی بنائی ہوئی دنیا میں جیتے ہیں۔ انہیں اپنے سے باہر کی دنیا کی کوئی خبر مسلمانوں کا یہی مزاج ، موجودہ زمانہ میں اسلام کی بدنامی کا سبب ہے، نہ کہ اسلام کی اصولی اسلام کے اشاعتی سیلاب کو جس چیز نے روک دیا ہے وہ مسلمانوں کا یہی غیر آفاقی مزاج موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی تحریروں اور تقریروں سے ایسا اندازہ ہوتا ہے کہ صرف ان کی اپنی کمیونٹی ہی ان کا کُنسرن (concern) ہے۔ وسیع تر انسانیت ان کا کُنسرن ہی نہیں۔ مولانا محمد مسیح عالم جامعی بھوپال کی ایک مسجد کے امام ہیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے ایک مضمون کا حوالہ دیا جس میں میری طرف یہ رائے منسوب کی گئی ہے کہ مسلمان بابری مسجد سے دستبردار ہو جائیں ۔ میں نے کہا کہ استغفر اللہ، میں نے کبھی بھی مسجد سے دستبرداری کی بات نہیں کی۔

ہوش و حواس کے ساتھ میں ایسا کہہ سکتا ہوں۔ میں نے جو بات کہی تھی وہ مسلمانوں کے طریقہ کار سے دستبرداری کی ہے، نہ کہ مسجد سے دستبرداری کی۔ میں نے ۶ دسمبر سے پہلے بھی یہی کہا تھا اور اب بھی یہی کہتا ہوں کہ مسلمان بابری مسجد کے مسئلہ کو پرامن دائرہ میں حل کریں۔ وہ اس مسئلہ پر مظاہرہ کا انداز اختیار نہ کریں جو فریق ثانی میں اشتعال پیدا کر کے مسئلہ کو مزید پے چیدہ کرنے کا سبب بنتا ہے۔ مولا نا محمد مسیح عالم نے میری بات کو سن کر کہا کہ ہندوستان میں جمہوریت کا نظام ہے اور جب تک جمہوری طریقہ پر اس کا مظاہرہ نہ کیا جائے، ایوان بالا تک وہ بات نہیں پہنچتی۔ اس لئے موجودہ زمانہ میں مظاہروں کا طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ میں نے کہا کہ جو لوگ مظاہرہ کے طریقہ کو درست سمجھتے ہیں وہ اس پر عمل کرنے کے لئے آزاد ہیں۔ مگر کسی کو بھی اس کی آزادی نہیں کہ وہ میرے اوپر جھوٹا یعنی میں طریقہ کار کو چھوڑنے کی بات کروں اور وہ یہ مشہور کرے کہ میں خود مسجد کو چھوڑنے کی بات کر رہا ہوں۔

ایک صاحب ملاقات کے لئے تشریف لائے۔ ان کا تعارف کراتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ مولا نا نور الہدیٰ قاسمی ہیں۔ وہ جامعہ اسلامیہ عربیہ کے استاذ ہیں اور آپ کے ناقد بھی ہیں۔ کہا کہ عربی مقولہ ہے کہ: ”من هو ناصحك خير لك ممن هو مادحك‘‘ جو شخص تم کو نصیحت کرنے والا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہاری تعریف کرنے والا ہے۔ میں نے کہا کہ تنقید اور تنقیص میں فرق ہے۔ تنقید ایک صحت مند عمل ہے۔ اس کے برعکس تنقیص ایک گناہ ہے۔ تنقید نام ہے علمی تجزیہ کا، جب کہ تنقیص عیب جوئی اور الزام تراشی کا نام ہے۔

مولا نا نور الہدیٰ صاحب نے فرمایا کہ آپ کی تحریروں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آپ جہاد بمعنی قتال کو ضروری نہیں سمجھتے، حالانکہ جہاد مسلمانوں کے لئے فرض ہے۔ خاص طور پر افغانستان جیسے ملکوں میں۔

میں نے کہا کہ جہاد بلاشبہ ایک شرعی حکم ہے۔ مگر جہاد فرض مطلق نہیں۔ تمام علماء کے نزدیک جہاد بمعنی قتال حسن لغیر ہ ہے، وہ حسن لذاتہ نہیں ۔ جہاد کا عمل شروع کرنے سے پہلے یہ دیکھا جائے گا

کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ اگر جہاد کے عمل کا نتیجہ الٹی صورت میں نکلے تو حکماً فرض ہونے کے باوجود عملاً جہاد نہیں کیا جائے گا۔

مثال کے طور پر مکی دور میں مسلمانوں پر جو حالات تھے وہ افغانستان سے بھی زیادہ سخت تھے۔ چنانچہ جب بیعت عقبہ ثانیہ ہوئی تو اس وقت کے مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ سے قریش کے خلاف جنگ کی اجازت طلب کی۔ مگر آپ نے اس کی اجازت نہ دی اور فرمایا: انی لم أومر بالقتال۔ اسلام میں جہاد ایک اعلیٰ عمل ہے۔ مگر جہاد برائے مقصد ہے، جہاد برائے جہاد نہیں۔ کے طور پر افغانستان میں جب روسیوں سے جنگ ختم ہوگئی اور روسی فوج افغانستان سے واپس چلی گئی تو اس کے بعد افغانی مسلمانوں کو وہی کرنا چاہئے تھا جو دورِ اول کے مسلمانوں نے مدینہ میں کیا۔ ایک فریق کو سیاسی عہدہ دے کر دوسرے فریق کا پیچھے ہٹ جانا۔ اس وقت مدینہ میں دو گروہ تھے ـــــــــ مہاجرین اور انصار۔ ابتداء دونوں گروہ خلافت کے دعوے دار تھے۔ مگر جب انہیں بتایا گیا کہ خلافت کا نظام صرف اس وقت قائم ہوتا ہے جب کہ ایک فریق دوسرے فریق کے حق میں دستبردار ہوجائے۔ جیسا کہ معلوم ہے، انصار کا پہلے یہ کہنا تھا کہ: منا امیر و منکم امیر۔ مگر عملی حقائق کی بنا پر وہ ’’الأئمة من قريش‘‘ کے فارمولا پر راضی ہوگئے۔ انصار کے لیڈر سعد بن عبادہ نے یہ قربانی دی کہ وہ مدینہ چھوڑ کر شام چلے گئے اور وہاں دس سال تک رہ کر وہیں وفات پاگئے۔ ان کی اس سیاسی ہجرت کا سبب یہ تھا کہ اگر وہ مدینہ میں مقیم رہتے تو وہ ’’اپوزیشن‘‘ کی علامت بنے رہتے اور خلافت کا استحکام مشکل میں نے کہا کہ جہاد فی سبیل اللہ، حدیث کے الفاظ میں اہل فراست کا کام ہے، وہ اہل جذبات کا کام نہیں۔

جمال صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ زندگی نام ہے معیار سے کم (less than ideal) پر راضی ہونے کا۔ اکثر ناکامیاں، خواہ فرد کی ہوں یا قوم کی، اس لئے پیش آتی ہیں کہ لوگ اپنے ذہن میں جو خیالی معیار بنا لیتے ہیں اس سے کم پر وہ راضی نہیں ہوتے۔ جب کہ موجودہ دنیا میں معیار کا حصول ممکن ہی نہیں۔ اس لئے ایسے لوگوں کے لئے کامیابی کا حصول بھی ممکن نہیں ہوتا۔

سعودی عرب میں اس وقت جو نظام ہے وہ معروف اصطلاح کے مطابق، ملوکیت کا نظام یہ نظام یقینی طور پر خلافت کے معیاری نظام سے کمتر ہے۔ مگر سعودی عرب کے مسلمان اور دنیا بھر کے مسلمان اس نظام پر راضی ہوگئے ۔ اس کا یہ نتیجہ ہے کہ سعودی عرب موجودہ زمانہ میں اسلام اور مسلمانوں کے لئے زبردست فائدہ کا سبب بن گیا۔ موجودہ زمانہ میں جب صنعتی دور آیا تو مسلمان معاشی اعتبار سے ساری دنیا میں پچھڑ گئے ۔ کیوں کہ مخصوص اسباب سے وہ صنعتی دور میں داخل نہ ایسی حالت میں سعودی عرب کا مستحکم نظام مسلمانوں کی اس عالمی پسماندگی کی تلافی بن گیا۔ اگر سعودی عرب میں مستحکم نظام نہ ہوتا تو اس کا وہی انجام ہوتا جو تیل کی بے پناہ دولت کے باوجود لیبیا اور نائجیریا اور عراق جیسے ملکوں کا ہوا۔

۴ نومبر کی صبح کو ساڑھے دس بجے اردو اکیڈمی کے ہال میں ایک پروگرام تھا۔ اس کا عنوان تھا: اسلام میں امن کی آئیڈیالوجی۔ اس موضوع پر میں نے ایک مختصر تقریر کی۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں میں نے بتایا کہ اسلام کی اصل پالیسی امن کی پالیسی ہے۔ اسلام میں جنگ صرف دفاع کے لئے جائز ہے اور وہ بھی اس وقت جب کہ جنگ سے اعراض کی تمام کوششیں ناکام ہوگئی ہوں۔ جلسہ کے آغاز میں اس قرآنی آیت کی تلاوت کی گئی تھی: لا تستوى الحسنة ولا السيئة ادفع بالتي هي أحسن فاذا الذى بينك وبينه عداوة كأنه ولى حميم (حم السجدہ) اس آیت کی روشنی میں میں نے کہا کہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں دشمن اور حملہ آور میں فرق کیا گیا ہے۔ جہاں تک حملہ آور کا تعلق ہے، قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ وقاتلوا في سبيل الله الذين يقاتلونكم (البقرہ ۱۹۰) مگر دشمن کے معاملہ میں جو حکم ہے وہ اس سے مختلف ہے۔ اس کے مطابق، مسلمان ایسا نہیں کر سکتے کہ وہ کسی کو دشمن بتا کر اس کے خلاف جنگ چھیڑ دیں۔ آپ کے نزدیک کوئی فرد یا گروہ دشمن ہے تب بھی اس کے مقابلہ میں پر امن نصیحت کا طریقہ اختیار کرنا ہوگا، نہ کہ پُر تشدد کارروائی کا۔ ایک صاحب نے ایک گفتگو کے دوران کہا کہ مسلمان کبھی دہشت گرد نہیں ہوسکتا۔ یہ کہہ کر انہوں نے قرآن وحدیث کے حوالے بیان کرنا شروع کئے۔ مسلمان کیا ہے، اس کو بتانے کے لئے

انہوں نے قرآن کی آیتیں پیش کیں۔ اس کے برعکس دوسری قوموں کو بتانے کے لئے انہوں نے ان کے عمل کا نمونہ پیش کیا۔ یہ ایک غیر منصفانہ تقابل تھا۔ اس میں عمل کا تقابل آئیڈیل سے کیا گیا تھا۔ تقابل یہ ہے کہ یا تو دونوں کے عمل کو لیا جائے یا دونوں کے نظریات کو۔

انہوں نے پر جوش طور پر کہا کہ مسلمان ایک پر امن امت ہیں۔ البتہ ان کے خلاف دہشت گردی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تم جیو اور ہمیں بھی جینے دو۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم خود تو جیو اور ہمیں ہلاک کرو۔ میرے نزدیک یہ صرف ایک جوشیلا بیان ہے۔ موجودہ صورت حال کے مطابق، یہ کہنا درست ہوگا کہ تم کو ہمیں مارنے کی ضرورت نہیں بلکہ ہم تو خود کشی کر کے اپنے آپ کو خود ہی ہلاک کر رہے ہیں۔

۴ نومبر کی شام کو مسٹر راجیندر سنگھ کی رہائش گاہ پر ایک خصوصی اجتماع ہوا۔ اس اجتماع میں شہر کے اعلیٰ طبقہ کے لوگ شریک تھے۔ اس میں زیادہ تر ہندو حضرات تھے۔ لوگوں کی فرمائش پر پہلے میں نے ایک مختصر تقریر کی اور اس کے بعد سوال و جواب کی صورت میں یہ مجلس دیر تک چلتی رہی۔ میں نے اپنی تمہیدی تقریر میں جو باتیں کہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ اپنے مطالعہ و تجربہ سے میں نے زندگی کا ایک سادہ فارمولا بنایا ہے۔ وہ یہ کہ ــــ اپنے آپ کو جانو، اور پھر تم تمام دنیا کو جان لو گے۔ Discover yourself and you will be able to discover the whole world. یہاں لوگوں نے جو سوالات کئے ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ امریکہ اور افغانستان کے جھگڑے میں ہندستانی مسلمانوں کی پالیسی کیا ہونا چاہئے ۔ میں نے کہا کہ اس طرح کے معاملہ میں ہندستانی مسلمانوں کی پالیسی وہی ہوگی جو ہماری نیشنل پالیسی ہے۔ اگر کسی مسلمان کی رائے نیشنل پالیسی سے الگ ہو تو اس کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ اپنے اختلاف کو لے کر عوامی سیاست چلائے۔ کو صرف یہ حق ہے کہ وہ ان لوگوں سے ملے جو نیشنل پالیسی بناتے ہیں، اور ان کے سامنے اپنی رائے کا اظہار کرے ۔ اختلافی رائے کو لے کر ہنگامہ آرائی کرنا نہ شرعی اعتبار سے درست ہے اور نہ عقلی اعتبار سے۔ ایک ہندو تاجر نے یہ سوال کیا کہ میں مرغی فارم چلاتا ہوں، مرغیوں کا معاملہ یہ ہے کہ ایک عمر

کے بعد وہ نا کارہ ہو جاتی ہیں۔ ایسی مرغیوں کو ہم بازار میں بیچ دیتے ہیں۔ حالانکہ ہم کو یہ پتہ ہوتا ہے کہ ان مرغیوں کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ میں نے کہا کہ میں خود طبعی طور پر ایک ویجیٹیرین ہوں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم فطرت کی جس دنیا میں رہتے ہیں وہ ویجیٹیریان نہیں۔ میں ویجیٹیریان ہوتے ہوئے پانی اور ہوا اور سبزی ، غرض ہر چیز کے ساتھ بے شمار زندگیوں کو اپنے اندر داخل کرتا رہتا ہوں۔ کہا کہ اس دنیا میں آپ اپنی پسند کے مطابق نہیں رہ سکتے۔ یہاں آپ کے لئے پسند اور ناپسند کا چوائس نہیں ہے بلکہ قابل عمل اور ناقابل عمل کے درمیان چوائس ہے۔ اس لئے میں کہوں گا کہ آپ ناکارہ مرغیوں کو مارکیٹ میں بیچ دیں۔ کیوں کہ اس کے سوا کوئی اور قابل عمل صورت آپ کے لئے ممکن نہیں۔ میں نے کہا کہ مہاتما گاندھی پورے معنوں میں اہنساوادی تھے۔ ان کے آشرم میں ایک گائے زخمی ہو گئی۔ علاج کے باوجود وہ اچھی نہ ہوسکی۔ یہاں تک کہ زندگی اس کے لئے ایک مستقل مصیبت بن مہاتما گاندھی سے لوگوں نے اس کے بارے میں رائے پوچھی تو انہوں نے کہا کہ اس کو گولی مار کر ہلاک کر دو کیوں کہ اس کو زندہ رکھنا اس کو زیادہ بڑی مصیبت کے لئے چھوڑنا ہے۔ جناب الطاف احمد صدیقی صاحب (۷۰ سال) جو ہم سب لوگوں کے لئے بڑے بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ ۱۹۶۰ء سے پان کھانے کے عادی تھے۔ وہ رات دن میں تقریباً چوبیس پان پان کا ڈبہ ہمیشہ ان کے ہاتھ میں رہتا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر اجازت دیں تو میں آپ سے ایک گذارش کروں اور وہ یہ کہ آپ پان کھانا چھوڑ دیں۔ انہوں نے کہا کہ دھیرے دھیرے چھوڑ دوں گا۔ میں نے کہا کہ عادت یا تو فوراً چھوڑی جاتی ہے یا وہ کبھی نہیں چھوٹتی۔ اس لئے آپ اس انگریزی مقولہ پر عمل کیجئے ۔

There is no better time to start than this very minute. میں نے کہا کہ پان کھانے میں کوئی ثواب نہیں ہے۔ مگر پان چھوڑنا آپ کے لئے بہت بڑا انہوں نے کہا کہ وہ کیسے؟

میں نے کہا کہ قرآن میں مال کے اسراف سے منع کیا گیا ہے اور اسراف یہ ہے کہ غیر ضروری

میں اپنا مال خرچ کیا جائے ۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ: من حسن اسلام المرء ترکه مالا یعنیہ “(آدمی کے اچھے مسلمان ہونے کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ بے فائدہ چیزوں کو چھوڑ دے ) ایسی حالت میں اگر آپ خدا اور رسول کے حکم کی تعمیل میں پان کو چھوڑ دیں تو بلا شبہ وہ آپ کے لئے ثواب بن جائے گا۔ جب کہ پان کھانا صرف ایک غیر ضروری عادت ہے اور غیر ضروری عادت پر ثواب ملنے کا کوئی سوال نہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ انہوں نے اس مشورہ کو مان لیا، اور اس مجلس میں پان کو چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا۔ اور اپنا پان کا ڈبہ میرے حوالے کر دیا۔ اللہ تعالی انہیں اس فیصلہ پر ثابت قدم رکھے۔ ۴ نومبر کی شام کو کھانے کا دستر خوان بچھایا گیا تو میں نے ایک صاحب سے کہا کہ دیکھئے دستر خوان پر کھانے کے کتنے آئٹم ہیں۔ انہوں نے فوراً جواب دیا کہ دو، پھر کچھ دیر بعد جواب دیا کہ تین، اور پھر آخر میں کہا کہ چھ۔ میں نے کہا کہ بولنے کا آغاز چپ رہنا ہے۔ پہلے چپ رہ کر سوچئے اور اس کے بعد بولیے۔ ایک مجلس میں میں نے کہا کہ روایتوں میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فلاں فلاں کھانا پسند تھا۔ اس سلسلہ میں میرے ذہن میں عرصہ سے یہ سوال تھا کہ ان روایتوں میں ہر اس کھانے کا ذکر ہے جو اس زمانہ میں مدینہ میں رائج تھے۔ پھر جب رسول اللہ کو ہر کھانا پسند تھا تو وہ کون سا کھانا ہے جو آپ کو پسند نہ تھا۔ پسند ایک انتخابی پسند کا نام ہے۔ جب ہر موجود چیز کے بارے میں پسند کی روایت ہو تو وہ انتخابی پسند نہیں بنتی۔

یہ سوال عرصہ سے میرے ذہن میں تھا۔ پھر میرے ساتھ ایک تجربہ گزرا۔ اس تجربہ کے بعد ان روایات کا مفہوم میری سمجھ میں آیا۔ عرصہ ہوا میں ایک مرتبہ راجستھان کے ’میرات‘ گیا۔ مسلمانوں کی ایک آبادی تھی۔ وہ لوگ نہ صرف جاہل تھے بلکہ کلچر کے اعتبار سے نہایت پسماندہ تھے۔ میرے ساتھ دو اور عالم تھے۔ ہم لوگ وہاں پہنچے تو مغرب کا وقت ہو چکا تھا۔ تلاش کے بعد وہ آدمی ملا جس کے یہاں ہم لوگ مہمان بننے والے تھے۔ وہ ہم لوگوں کو ایک گھر کی چھت پر بٹھا کر چلا گیا۔ لوگوں نے مغرب کی نماز پڑھی اور چھت پر بیٹھ گئے۔ میرے ساتھیوں کا خیال تھا کہ وہ آدمی چائے لینے کے لئے گیا ہے۔ مگر کافی دیر ہوگئی وہ چائے لے کر نہ آیا۔ یہاں تک کہ عشاء کا وقت ہو گیا اور ہم لوگوں

نے عشاء کی نماز پڑھی۔ مگر اب بھی آدمی کا پتہ نہ تھا۔ کافی دیر کے بعد وہ ہمارا کھانا لے کر آیا۔ صرف دو چیزوں پر مشتمل تھا ــــــــ ارہر کی سادہ دال اور گُلگلہ۔ یہ عجیب و غریب کھانا دیکھ کر میرے دونوں ساتھی غصہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ بندہ خدا اتنی دیر کے بعد کھانا لایا ہے اور وہ بھی ارہر کی دال اور گُلگلہ جن کا ایک دوسرے کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں۔ اس وقت میری فطرت نے رہنمائی کی اور میں اچانک خوب تعریف کر کے اس کو کھانے لگا۔ میری زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے ۔ یہ بہترین کھانا اس سے اچھا کوئی کھانا نہیں۔ یہ گویا فطرت کی زبان سے میرے سوال کا جواب تھا۔ کے بعد میں نے سمجھا کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس وقت مدینہ میں کھانے کی چیزوں کی شدید قلت تھی۔ خاص طور پر مہاجرین کو اکثر بھوکا رہنا پڑتا تھا۔ اب یہ ہوتا تھا کہ کسی انصاری کو معلوم ہوا کہ لوگ بھوکے ہیں۔ وہ رسول اللہ کے پاس آتا۔ آپ کو اور کچھ دوسرے صحابہ کو لے کر اپنے گھر جاتا تاکہ ان کو کھانا کھلائے۔ وہاں گھر میں اکثر صرف ایک یا دو سادہ آئٹم ہوتا تھا۔ وہ انصاری شرمندگی کے ساتھ اپنا سادہ کھانا اندر سے لے کر آتا اور رسول اللہ کے سامنے رکھ دیتا۔ اب رسول اللہ ﷺ تعریف کر کے اس کو کھانا شروع کر دیتے ۔ یہ حقیقتاً کھانے کی تعریف نہ ہوتی تھی بلکہ وہ صاحب خانہ کی شرمندگی کو دور کرنے کا ایک انداز تھا۔ یہ دراصل ایک اخلاقی کلمہ ہوتا تھا، نہ کہ تعریف طعام کا کلمہ۔ راز کو نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگوں نے اس کو پسندیدہ کھانے کے ساتھ جوڑ دیا اور خود اپنے غیر مطلوب شوق طعام کے لئے اس کو ایک شرعی جواز بنا لیا۔

مولانا شمس الدّین ندوی نے مجلس میں ایک سوال کیا کہ احادیث میں آتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی شکم سیر ہو کر کھانا نہیں کھایا۔ اس کا مطلب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ جہاں تک میرا خیال ہے، عام طور پر اس کے دو اسباب ہوتے تھے۔ ایک یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معمولاً کم کھانا پسند کرتے تھے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ پیٹ کے تین حصے کرو۔ ایک حصہ کھانے کے لئے، ایک حصہ پانی کے لئے اور ایک حصہ خالی۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ مدینہ میں ہجرت کے بعد آبادی میں اچانک اضافہ ہو گیا تھا۔ اس کے نتیجہ میں کھانے کی چیزوں کی قلت ہو گئی

اس بنا پر وہاں کی آبادی کے لئے عمومی طور پر قلتِ خوراک کا مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ طرح رسول اللہ اور مہاجرین بھی اس مسئلہ سے دوچار ہوئے۔

مولانا اختر قاسمی نے فرمایا کہ الرسالہ کا یہ پیغام ہے کہ مسلمانوں کے اندر داعیانہ ذہن پیدا ہو۔ اب ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہندوستان کی مسلم جماعتوں کے ذمہ دار بھی الرسالہ کی زبان ہی میں بات کرنے لگے ہیں۔ جب صورت حال یہ ہے تو کیوں نہ ہم دعوت کے عنوان پر کوئی مشترک لائحہ عمل تیار کریں اور اس کی پہل کیوں نہ اسلامی مرکز کی جانب سے ہو۔

میں نے کہا کہ یہ تجویز بظاہر اچھی ہے۔ مگر موجودہ حالات میں وہ قابل عمل نہیں۔ میں وہ عملی صلاحیت موجود نہیں جو متحدہ عمل کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ملک کے تمام دینی مدارس کا مقصد ایک ہے مگر بار بار کی کوشش کے باوجود ان کے درمیان متحدہ لائحہ عمل تیار نہ یہی انجام آپ کی تجویز کردہ کوشش کا بھی ہوگا۔

میں نے اپنا ایک ذاتی تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد میں ملک کے مختلف دینی مدارس کے ذمہ داروں کا ایک مشاورتی اجتماع ہوا۔ میں بھی اس میں شریک تھا۔ وہاں یہ تجویز پیش کی گئی کہ تمام مدارس کے درمیان اتحاد کی فضا قائم کی جائے۔ مثلاً نصابِ تعلیم میں یکسانیت تاکہ اسکول کالجوں کی طرح مدارس کے طلبہ بھی ایک مدرسہ کو چھوڑ کر دوسرے مدرسہ میں بآسانی داخلہ لے سکیں۔ تنخواہوں کے درمیان یکسانیت ہو۔ مالیات کی فراہمی کا مشترک بورڈ ہو۔ مختلف مدارس کے درمیان وفاقی تنظیم ہو، وغیرہ۔ مگر دو دن کی بحث کے باوجود ان تجویزوں پر اتفاق نہ ہوسکا۔ آخر میں مجھے بولنے کا موقع دیا گیا۔ جب میں کھڑا ہوا تو میرا حال یہ تھا کہ میرا دل تڑپ رہا تھا اور میری آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے۔ میں نے کہا کہ لوگوں کے درمیان اتفاق نہ ہونا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ لوگوں کے سینوں میں اللہ کا خوف نہیں۔ پھر میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہو کہ یہاں لوگوں کے درمیان اچانک ایک کالا سانپ نکل آئے تو ہر شخص متفق ہو کر یہ کہے گا کہ سانپ سے بچو، سانپ سے بچو۔ میں نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا کہ شدت

خوفِ رایوں کے تعدد کو ختم کر دیتا ہے۔ اگر لوگوں کے اندر اللہ کا خوف ہوتا تو یقیناً رایوں کا اختلاف اپنے آپ ختم ہو جاتا جس طرح کوئی بڑا دنیوی خطرہ دیکھ کر رایوں کا اختلاف ختم ہو جاتا ہے۔ حالت میں اتحاد کی کوشش کا آغاز اتحاد کانفرنس کے ذریعے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے ضرورت ہے کہ لوگوں کے اندر سب سے پہلے اللہ کا خوف اور آخرت کی پکڑ کا احساس پیدا کیا جائے۔ اس کے بعد ہی کوئی حقیقی اتحاد وجود میں آ سکتا ہے۔

مولانا اختر قاسمی نے پوچھا کہ فتویٰ کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں طرح طرح کے فتوے جاری کئے جاتے ہیں جن میں لوگوں کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ایسا کریں، ایسا نہ کریں۔ ایسے فتوے کس حد تک درست ہیں۔

میں نے کہا کہ فتویٰ کا مطلب رائے(opinion)ہے۔ فتویٰ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص ایک عالم کے پاس آیا۔ اس نے عالم کے سامنے اپنا ایک مسئلہ بیان کیا۔ اور اس مسئلہ کے بارے میں شریعت کا حکم جاننا چاہا۔ اس طرح کے سوال پر اپنے علم کے مطابق، شرعی حکم بتانا یہ فتویٰ ہے۔ مگر ہمارے یہاں فتویٰ کی ایک اور قسم رائج ہو گئی ہے جو یقینی طور پر غیر شرعی ہے۔ وہ یہ کہ کوئی مفتی یا مفتیوں کا کوئی بورڈ بطور خود یہ فتویٰ جاری کرتا ہے کہ جس کی داڑھی ایک مشت سے چھوٹی ہو اس کے پیچھے لوگوں کے لئے نماز پڑھنا جائز نہیں۔ فلاں ملک اسلام دشمن ہے اس کی مصنوعات کو خریدنا جائز نہیں، وغیرہ۔ یہ دوسری قسم کا فتویٰ حقیقتاً فتویٰ نہیں، وہ یکطرفہ طور پر ہدایت جاری کرنا ہے اور اس قسم کی ہدایت جاری کرنے کا اختیار ایک قائم شدہ حکومت کو ہے، نہ کہ کسی مفتی کو۔ صحابہ اور تابعین کی مثال بتاتی ہے کہ وہ حاکمانہ ہدایت کبھی جاری نہیں کرتے تھے۔ بجائے وہ دعوت و تبلیغ کا کام کرتے تھے۔ مثلاً اگر لوگ داڑھی کی سنت میں غفلت برت رہے ہوں تو صحابہ و تابعین کی سنت کے مطابق، ایسے لوگوں کے درمیان دعوت و تبلیغ کا کام کرنا چاہئے، نہ کہ بائیکاٹ کا فتویٰ صادر کرنا۔ مزید یہ کہ باعتبار نتیجہ اس قسم کا فتویٰ سراسر لا حاصل ہے۔ انسان کی اصلاح قلب و ذہن کے بدلنے سے ہوتی ہے، نہ کہ فتاویٰ جاری کرنے سے۔ خود ہندوستان کی مثال بتاتی ہے

کہ اہل بدعت کے خلاف لمبی مدت تک فتاویٰ جاری کرنے کے باوجود کوئی مسلمان بدعت سے تائب نہیں ہوا، مگر تبلیغی جماعت کی دعوتی کوششوں سے بہت سے بدعتی اپنے فعل سے تائب ہو گئے۔ وجہ یہ ہے کہ تبلیغی جماعت والوں نے فتویٰ کے بجائے نصیحت و تربیت کا انداز اختیار کیا۔ اس کے نتیجہ میں لوگوں کے دل بدلے اور وہ بدعات سے تائب ہو گئے۔

مولانا محمد صدیق قاسمی نے بتایا کہ ان کی ملاقات بھوپال کے ایک عالم سے ہوئی۔ دوران انہوں نے الرسالہ اور صاحب الرسالہ کے خلاف سخت رائے کا اظہار کیا۔ انہوں نے صاحب الرسالہ کے بارے میں کہا کہ انہوں نے امت کے سواد اعظم سے الگ اپنا ایک تصور دین بنایا ہے۔ دین میں اس قسم کی انفرادیت بلا شبہ گمراہی ہے۔

مولانا صدیق قاسمی نے یہ سن کر نہایت نرم انداز میں ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے الرسالہ کے کچھ شمارے پڑھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ پھر مزید سوال وجواب کے بعد معلوم ہوا کہ انہوں نے ادھر ادھر کی باتیں سن کر یا اردو کے بعض اخبارات میں تنقیدی مضامین پڑھ کر یہ رائے بنائی ہے۔ مولانا صدیق قاسمی نے ان سے کہا کہ کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے کا یہ انداز سراسر اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ آپ متعین ومحدود انداز میں بتائیں کہ الرسالہ میں کون سی بات قرآن وسنت کے خلاف وہ کوئی ایک بھی متعین ومحدود مثال نہ دے سکے۔

موجودہ زمانہ کے لوگوں میں یہ عام مزاج بن گیا ہے کہ وہ کسی کے خلاف رائے زنی کے لئے صرف یہ کافی سمجھتے ہیں کہ اس کے بارے میں کچھ مخالفانہ الفاظ بول دیں۔ وہ تنقید اور تنقیص کا فرق نہیں سمجھتے، وہ الزام اور استدلال کے درمیان فرق کو نہیں جانتے۔ یہ بلاشبہ تمام برائیوں سے زیادہ بڑی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آج کے لوگ زوال کے کس درجہ تک پہنچ چکے ہیں۔ ساتھ اعتراف کسی شخص کے زندہ ہونے کی پہچان ہے۔ اسی طرح بے دلیل انکار کسی شخص کے مردہ ہونے کی سب سے بڑی پہچان ہے۔

۵ نومبر ۲۰۰۱ء کو صبح کی نماز میں ہمارے امام صاحب نے سورہ ’’البینہ‘‘ کی تلاوت کی ۔

میں انہوں نے قرآن کی یہ آیت پڑھی ”وما تفرق الذین اوتوا الکتاب الا من بعد ما جاءتهم البينة (اور اہل کتاب متفرق نہیں ہوئے مگر بعد اس کے کہ جب ان کے پاس کھلی دلیل آگئی)۔ اس آیت کو سن کر میں نے سوچا کہ تفرق کو بتانے کے لئے قرآن میں یہ خاص انداز کیوں اختیار کیا گیا۔ اس پر غور کرتے ہوئے سمجھ میں آیا کہ بینہ کے ظہور کا فطری نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ لوگوں کا تفرق ختم ہوجائے۔ وہ متحد ہوکر ثابت شدہ حق کے گرد اکٹھا ہو جائیں۔ مگر جو چیز ہوئی وہ بالکل اس کے برعکس تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ بینہ (ثابت شدہ حق) کا ظہور ایک ایسی چیز ہے جو اہل کتاب، بالفاظ دیگر، حق پرستی کے مدعیوں کے لئے ایک فیصلہ کن آزمائش بن جاتا ہے۔ اس کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ سچے حق پرست یہ کہہ کر اس کے ساتھ جڑ جاتے ہیں کہ یہ تو وہی چیز ہے جس کا ہم پہلے سے انتظار کر رہے تھے۔ اس کے برعکس جھوٹے مدعیوں کے لئے وہ انہیں ایکسپوز (expose) کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے آنچ سونے کو سونا ثابت کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے اور جو غیر سونا ہے وہ غیر سونا ثابت ہوکر رہ جاتا ہے۔

جناب انور حسین آزاد (۵۲ سال) سے ۵ اکتوبر کی صبح کو ملاقات ہوئی۔ وہ ۱۹۹۱ سے الرسالہ پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے میں صرف جذباتی انداز میں سوچنا جانتا تھا۔ کے مطالعہ نے مجھے سوچنے کا صحیح طریقہ بتایا۔ اس وقت میرے سامنے آج کا ہندی اخبار دینک بھاسکر اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ہندی اخبارات پہلے سادہ زبان میں نکلتے تھے جو گویا ہندی اسکرپٹ میں اردو ہوتی تھی۔ مگر آج وہ شدھ ہندی زبان میں نکلتے ہیں۔ اس تبدیلی کا راز یہ ہے کہ ہمارے درمیان ایسے مسلم مقرر پیدا ہوئے جو پرجوش انداز میں لاؤڈ اسپیکر پر چیختے تھے اور ہندوؤں کو خطاب کرتے ہوئے کہتے تھے کہ تم کو کچھ نہیں آتا تھا ہم نے تم کو مہذب بنایا، ہم نے تم کو آزادی کا لفظ دیا، ہم سے تم نے انقلاب کا لفظ پایا، ہم سے تم نے زندہ باد مردہ باد کہنا سیکھا، وغیرہ۔ مسلم مقررین کی اس طرح کی تقریروں کا ردعمل ہونا بالکل فطری تھا۔ چنانچہ ردعمل کے طور پر ہندی

اخبارات کی زبان دھیرے دھیرے بدل گئی۔ پہلے اگر حالات نے اس کا اردو کرن کیا تھا تو اب ضد کی نفسیات کے تحت اس کا سنسکرت کرن ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں ہمارے اوپر ایک اردو شاعر کا شعر صادق آتا ہے:

Printed page