ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا
Al-Risala, May 2002
By Maulana Wahiduddin Khan
۵ نومبر کی صبح کو قیام گاہ پر بہت سے لوگ اکٹھا ہو گئے۔ ان سے مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی جناب محمد عمران بھوپال کے ایک تاجر ہیں ان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ صحیح تفکیر کا راز یہ ہے کہ آپ ذہنی انتشار اور سوال کے فرق کو جانیں۔
You have to differentiate between question and confusion. میں نے کہا کہ میرے تجربے کے مطابق ، بیشتر تعلیم یافتہ لوگ شاید اس فرق کو نہیں سمجھتے۔ ساری زندگی ایسے سوالوں کے حل میں گزار دیتے ہیں جو دراصل سوال ہی نہیں۔ وہ صرف ذہنی انتشار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اپنی اس غلطی کی بنا پر وہ سچائی کی دریافت سے محروم رہتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں ہماری عمر اتنی مختصر ہے کہ ہم اس ذہنی تعیش کا تحمل نہیں کر سکتے۔
میں نے کہا کہ سوال اور ذہنی انتشار میں فرق یہ ہے کہ حقیقی سوال اپنی ذہنی محدودیت کے اعتراف کے ساتھ کیا جاتا ہے اور ذہنی انتشار یہ ہے کہ آدمی اپنی محدودیت سے بے خبر رہ کر ایسے سوالوں کے حل میں الجھ جائے جس کی آخری حقیقت تک پہنچنا انسان کے لئے اس دنیا میں ممکن ہی حقیقی یقین کی بنیاد اپنی محدودیت کا اعتراف ہے۔ اس کے مقابلہ میں ذہنی انتشار یہ ہے کہ آدمی اپنی محدودیت سے بے خبر بنا ہوا ہو۔
۵ نومبر ۲۰۰۱ء کو گیارہ بجے بھوپال کے ایک ادارہ کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کا نام "شوبھم وکلانگ سماج سیوا سمیتی" ہے۔ یہ ادارہ معذور بچوں کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ اس وقت یہاں مختلف مذاہب کے ۷۵ بچے اور بچیاں موجود ہیں۔ یہاں ان کو تعلیم دلائی جاتی ہے اور انہیں مختلف قسم کے ہنر سکھائے جاتے ہیں تا کہ وہ خود کفیل ہو کر سماج میں معمول کی زندگی گزار سکیں۔ یہ ادارہ 1980 سے قائم
وہ پہلے کرایہ کی عمارت میں تھا۔ اب وہ ایک خوبصورت ذاتی بلڈنگ میں قائم ہے۔ اب تک بہت سے بچے اور بچیاں اس ادارہ میں تعلیم و تربیت پا کر کامیابی کے ساتھ خود کفیل زندگی گزار رہے ہیں۔ بچوں اور اساتذہ کے سامنے میری ایک تقریر ہوئی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ معذور بچوں کے لئے قرآن میں محروم“ (الذاریات، المعارج) کا لفظ آیا ہے۔ یہ معذور بچے اللہ کے خاص بندے ہیں۔ وہ گویا دنیا میں اللہ کے سفیر ہیں۔ وہ واقعہ کی زبان میں کہہ رہے ہیں کہ اے لوگو، میری طرح تم بھی معذور ہو سکتے ہو۔ تم کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے تم کو معذور نہیں بنایا۔ اس شکر کی ایک عملی صورت یہ ہے کہ تم ان معذور بچوں کی مدد کر کے ان کی معذوری کی تلافی کرو۔ دوسری بات میں نے یہ کہی کہ معذوری سادہ طور پر صرف محرومی نہیں بلکہ وہ ایک ایڈوانٹیج ہے۔ معذوری آدمی کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ بے فائدہ مشغولیتوں سے بچ کر اپنے آپ کو صرف کارآمد قسم کی مشغولیت میں لگائے۔ وکلانگ سماج سیوا سمیتی کے ایک طالب علم آنندی سنگھ راجپوت ہیں۔ ان کی عمر ۲۲ سال ہے۔ وہ ہائی اسکول پاس کر چکے ہیں۔ وہ ایک ٹانگ سے معذور ہیں اور لاٹھی کے سہارے چلتے ہیں۔ نے اسی حالت میں محنت کر کے ہائی اسکول پاس کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ہر وقت ہر چیلنج کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہتا ہوں۔ میں کسی سے اپنے کو کم نہیں سمجھتا۔ وہ ایک پاؤں سے معذور ہونے کے باوجود نہایت مصروف زندگی گزارتے ہیں۔
۵ نومبر کو دوپہر کا کھانا جناب محمد حسین صاحب کے یہاں تھا۔ انہوں نے کافی لوگوں کو کھانے پر مدعو کیا تھا۔ صاحب خانہ نے کہا کہ میں نے خاص طور پر ایسے لوگوں کو بھی مدعو کیا تھا جو اکثر آپ کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہاں تقریباً ۱۵ منٹ تک لوگوں کو خطاب کرنے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی نے بعد میں بتایا کہ وہاں آنے والے کئی نوجوانوں سے ان کی گفتگو ہوئی۔ ان نوجوانوں نے کہا کہ یہاں آنے سے پہلے تک ہم مولانا اور الرسالہ کے مخالف تھے۔ ان کے بارے میں ہم منفی رائے رکھتے مگر آج تھوڑے وقت میں انہوں نے جو بات کہی اس نے ہماری سوچ کو بدل دیا اور ہمارے اختلاف کو ختم کر دیا۔ ان میں سے ایک نوجوان جو مقامی طور پر ایک ٹی وی چینل چلاتے ہیں انہوں نے
کہا کہ رمضان کے پورے مہینہ میں وہ الرسالہ سے اقتباس لے کر اس کو ٹی وی کے ذریعہ لوگوں تک
آج شام کو تین بجے ڈاکٹر حمید اللہ ندوی کی رہائش گاہ پر خواتین کا جلسہ ہوا۔ کافی خواتین اس میں شریک ہوئیں۔ ان کے گھر کے نیچے کا حصہ اوپر اوپر کا حصہ دونوں بھر گیا۔ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ نیچے اور دونوں جگہ آواز پہنچانے کا انتظام کیا گیا تھا۔
تقریر سے پہلے قرآن کی تلاوت کی گئی۔ اس میں یہ آیت تھی ۔ '' والذین آمنوا اشد حبا لله (البقرہ ١٦٥) میں نے اس آیت کو لے کر تقریر شروع کی۔ میں نے کہا کہ اس کے مطابق ، حب شدید صرف ایک اللہ سے ہونا چاہئے۔ میں نے کہا کہ اگر آپ اپنی سب سے قیمتی چیز'' محبت‘‘ اللہ کو نہ دیں تو اللہ اپنی قیمتی چیز'' جنت‘‘ آپ کو کیوں دے گا۔ اگر آپ کو اپنے ایمان کا اندازہ کرنا ہو تو اس کا معیار یہ ہے کہ آپ یہ دیکھیں کہ آپ کے دل میں سب سے زیادہ محبت کس کے لئے ہے، اللہ کے لئے یا کسی اور اگر سب سے زیادہ محبت بیٹے یا بیٹی یا کسی اور چیز کے لئے ہے تو سمجھ لیجئے کہ اس آیت کے مطابق، آپ کا ایمان مطلوب معیار پر پورا نہیں اترتا۔
اس کے بعد میں نے کچھ احادیث کی روشنی میں بتایا کہ آپ کو کس اخلاق اور کردار کے ساتھ دنیا میں رہنا چاہئے، گھر کے اندر بھی اور گھر کے باہر بھی۔
میں نے کہا کہ مشہور سنگر محمد رفیع کا ایک گانا ہے جو سارے ماں باپ کو بہت پسند آتا ہے۔ گانے کو سن کر لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ اس گانے میں ایک باپ اپنی بیٹی کو شادی کے بعد رخصت کرتا ہے۔ اس وقت وہ اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے اپنی بیٹی سے یہ کہتا ہے : بابل کی دعائیں لیتی جا، جا تجھ کو سکھی سنسار ملے میکے کی کبھی نہ یاد آئے سسرال میں اتنا پیار ملے عام طور پر ماں اور باپ اس کو بہت پسند کرتے ہیں۔ مگر میں اس شعر کو غیر فطری سمجھتا ہوں۔ ہر ماں باپ کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ اپنی بیٹی کو جو پیار انہوں نے اپنے گھر میں دیا ہے وہی پیار اسے غیر کے
گھر میں بھی ملے، یہ فطرت کے خلاف ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ خود یہی ماں باپ دوسرے گھر کی بیٹی کو وہ پیار نہیں دیتے جو اسے اپنے گھر میں شادی سے پہلے ملا ہوا تھا۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ماں باپ اپنی بیٹی کو یہ سکھائیں کہ اپنے میکے میں جو محبت تم کو ملی تھی وہ خونی رشتے کی بنا پر اپنے آپ ملی تھی۔ سسرال میں یہ محبت تم کو اپنے حسن عمل کی بنا پر ملے گی۔ شدہ لڑکی اس فرق کو سمجھ لے اس کو اپنے سسرال سے کبھی شکایت نہیں ہوسکتی۔ ۵ نومبر کی شام کو ”ہندی بھون‘‘ میں اس سفر کا سب سے بڑا اجتماع ہوا۔ شہر کے تعلیم یافتہ ہندو اور مسلمان بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ یہاں تقریر کا عنوان تھا’’ جہاد، ایک پری چرچا‘‘۔ پہلے ایک مقرر نے اپنی تقریر میں یہ کہا کہ قرآن میں بہت سی آیتوں میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ کافروں سے اس تقریر نے وہاں کے ماحول میں ایک زبردست تجسس کی فضا قائم کردی۔ اور امریکہ کے حالیہ واقعات کے نتیجہ میں جہاد مسلسل طور پر نیوز میں آگیا ہے۔ اس طرح جہاد کا موضوع گویا وقت کا ایک برنگ آشوب بن گیا۔
اس طرح کے ماحول میں جہاد کے موضوع پر یہ تقریر ہوئی۔ اللہ کی توفیق سے میں نے خالص قرآن وسنت کی روشنی میں جہاد کی تشریح کی۔ ایک بات میں نے یہ کہی کہ کچھ لوگ قرآن کی چند آیتوں کو لے کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ قرآن جنگ وجدال کی کتاب ہے۔ مثال کے طور پر لندن کے اخبار ٹائمس نے اسلام کے بارے میں اپنے ایک مضمون کا عنوان ان الفاظ میں قائم کیا— ایک مذہب جو تشدد کو جائز قرار دیتا ہے۔