Al-Risala · May 2002

A religion that sanctions violence.

Al-Risala, May 2002

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے کہا کہ قرآن میں کل ۶۶۶۶ آیتیں ہیں، جب کہ قتال سے تعلق رکھنے والی آیتیں تقریباً چالیس ہیں۔ گویا ایک فیصد سے بھی کم۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ۶۶۰۰ سے زیادہ قرآنی آیتیں وہ ہیں جن میں سچائی، اخلاق، امانداری، عدل، انسانیت اور روحانیت جیسی اعلی قدروں کی تعلیم ہے۔ اور ایک فیصد سے بھی کم وہ آیتیں ہیں جن میں قتال کی بات کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ قتال کی یہ آیتیں دفاع

کے مسئلے سے تعلق رکھتی ہیں۔ اسلام میں صرف دفاعی جنگ ہے۔ جارحانہ جنگ یا'' مصلحانہ جنگ‘‘ اسلام میں نہیں۔ اسلام میں مصلحانہ دعوت ہے، نہ کہ مصلحانہ جنگ۔ اصلاح بلا شبہ اسلام میں مطلوب ہے مگر اسلام میں اصلاح کے لیے تبلیغ کا طریقہ ہے، نہ کہ جنگ کا طریقہ۔

بھوپال کے مسٹرونے ترپاٹھی (Tel.: 0755 766244) ایک فری لانس رہیں۔ نے ہسٹری میں اور جزلزم میں ایم اے کیا ہے۔ ۶ نومبر کی صبح کو وہ میری قیام گاہ پر آئے اور تفصیلی ذاتی مطالعہ اور تجربے سے لے کر اسلام اور مسلمانوں کے موجودہ مسائل تک انہوں نے مختلف سوالات کئے، جن کا میں نے اپنے انداز میں جواب دیا۔

ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ آج کل ہر آدمی آتنک واد (ٹیررزم) کا نام لیتا ہے۔ مگر ٹریرزم کیا ہے، اس کو شاید ابھی تک واضح انداز میں بتایا نہیں گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آتنک واد کے خلاف ساری کوششیں بے فائدہ ثابت ہو رہی ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ گن ورسس گن کا معاملہ ہے۔ اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ گن کو گن کے ذریعہ کچل دیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ گن ورسس آئیڈیالوجی کا آپ اس کو جوابی آئیڈیالوجی ہی سے کچل سکتے ہیں۔ گن اور بم آتنک واد کو ختم کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتے۔

میں نے کہا کہ اسلام کی روشنی میں، آتنک واد دراصل غیر حکومتی افراد یا تنظیموں کا ہتھیار اٹھانا اسلام کے مطابق، صرف قائم شدہ حکومت ہی کو اسلحہ کے استعمال کا حق ہے۔ غیر حکومتی اداروں کو کسی بھی عذر کی بنا پر ہتھیار کے استعمال کا حق حاصل نہیں۔ غیر حکومتی اداروں کو اپنے حق کے لئے پر امن طریق کار کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنی جدوجہد چلانا چاہئے۔

آتنک واد یہ ہے کہ غیر حکومتی تنظیمیں اپنے حقوق کے نام پر ہتھیار اٹھا لیں اور اس کو جہاد فی سبیل اللہ کا نام دے کر جائز ٹھہرائیں۔ ان لوگوں کو آتنک واد سے روکنے کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ ان کی سوچ کو بدلا جائے۔ انہیں یقین دلایا جائے کہ جہاد کا نام دینے سے آپ کی ملیٹنسی جائز نہیں ہو جاتی۔

۶ نومبر کی صبح کو گیارہ بجے عارف عزیز صاحب (۶۰ سال) میری قیام گاہ پر آئے۔ روزنامہ ’’ندیم‘‘ میں نمائندہ خصوصی ہیں۔ انہوں نے تفصیلی انٹرویو لیا۔ ان کے ایک سوال کے جواب میں میں نے یہ آیت پڑھی: و إن تصبرو ا وتتقو ا لا یضرکم کیدھم شيئا (آل عمران ۱۲۰) اس قرآنی اصول سے ثابت ہوتا ہے کہ آج ہم جس مسئلہ سے دوچار ہیں اس کا سبب سازش کی موجودگی نہیں بلکہ صبر وتقویٰ کی غیر موجودگی ہے۔

اس قرآنی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسائل پیدا کی صورت میں ان لوگوں کے خلاف شکایت واحتجاج کرنا جو بظاہر مسائل پیدا کرنے کے ذمے دار ہیں، یہ سراسر قرآنی تعلیم کے خلاف ہے۔ کا بتایا ہوا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہم خود اپنا جائزہ لیں۔ اور لوگوں کو یہ بتائیں کہ شکایت اور احتجاج میں مشغول ہونا اپنے نقصان میں مزید اضافہ کرنا ہے۔ اصل کام یہ ہے کہ اپنے اندر تقویٰ وصبر کی صفت پیدا یہی اس مسئلہ کا واحد حل ہے۔

ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ لمبے عرصے سے کچھ نا اہل مسلم رہنما مسلمانوں کو یہ کہہ کر ڈراتے تھے کہ ہندوستان میں کٹر وادی ہندو دوسرا اسپین بنانا چاہتے ہیں۔ کے بعد جب یہاں فرقہ وارانہ فسادات ہونے لگے تو ان لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ دیکھو ملک میں دوسرا اسپین بننے کا عمل شروع ہوگیا۔ اس وقت میں نے مسلمانوں کو بتایا کہ یہ بات سراسر بے بنیاد ۱۹۴۷ میں یہاں مسلمانوں کی تعداد چھ کروڑ تھی، اب یہاں مسلمانوں کی تعداد بھوپال کے دینک بھاسکر (۱۷ اکتوبر ۲۰۰۱ء) کے جائزہ کے مطابق ، ۲۲ کروڑ چونسٹھ لاکھ ہو چکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دوسرا اسپین بنانے کا منصوبہ یا تو تھا ہی نہیں یا وہ عملاً نا کام ہوگیا۔ ۶ نومبر کی دوپہر کو ہندی روزنامہ ’’دینک بھاسکر‘‘ (بھوپال) کے نمائندہ ویدورت گری میری قیام گاہ پر آئے ,0855 551601 :.Tel)۔ انہوں نے تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ نے کہا کہ میرا مشن یہ ہے کہ ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جوتناؤ ہے وہ ختم ہو۔ کی موجودگی میں کوئی بھی تعمیری کام نہیں ہوسکتا۔ ملک کی تعمیر یا ملک کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے

بہت سے تعمیری کام ضروری ہیں۔ اور تعمیری کام درست طور پر صرف اس وقت ہو سکتا ہے جب کہ ملک میں میل ملاپ اور باہمی خوشگواریکا ماحول پیدا ہو۔

میں نے کہا کہ میں نے غور کرنے کے بعد پایا کہ ہندوستان میں باہمی کشیدگی کا سب سے بڑا سبب جلوس ہیں۔ ہندو کلچر میں اور ہندو روایات میں جلوس کی بہت اہمیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوؤں کے مذہبی جلوس نکلتے رہتے ہیں۔ یہ جلوس سڑکوں سے گزرتے ہوئے کسی ایسے مقام پر پہنچتے ہیں جہاں مسلمانوں کی مسجد ہے۔ اب مسلمانوں کو محسوس ہوتا ہے کہ جلوس کے گانے اور باجے سے مسجد کا تقدس مجروح ہورہا ہے۔ جلوس کے نعرے مسلمانوں کو مشتعل کر دیتے ہیں۔ وہ جلوس والوں سے مانگ کرتے ہیں کہ اپنا روٹ بدلو۔ اور جب وہ روٹ نہیں بدلتے تو دونوں میں ٹکراؤ کی نوبت آجاتی ہے جس کا نام فرقہ وارانہ فساد ہے۔

میں نے مسلسل کوشش کے ذریعہ یہ فارمولا دیا کہ فساد کا روك اعراض ہے۔ یعنی جلوس کو نہ روکو، اور فساد بھی نہ ہوگا۔ اب مسلمانوں نے اس فارمولا کو اختیار کر لیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب ملک میں فرقہ وارانہ فساد تقریباً ختم ہو گیا ہے۔

۶ نومبر کی دوپہر کو ہندی ماہنامہ شکر و ارتا (بھوپال) کے ایگزیکیٹیو ایڈیٹر مسٹر منوہر چورے آئے (554951 .Tel)۔ انہوں نے اپنے میگزین کے لئے تفصیلی انٹرویو لیا۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں لیڈر شپ ختم ہو گئی ہے۔ ایسا کیوں ہے اور اس کا علاج کیا ہے۔ نے کہا کہ مسلمانوں میں لیڈر شپ ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ بدل گئی ہے۔ یعنی پرانی لیڈر شپ کی جگہ نئی لیڈر شپ آگئی ہے۔

مزید وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس سے پہلے کچھ نااہل پولیٹکل لوگ ان کے لیڈر بنے ہوئے تھے۔ مسلمان اب ان لیڈروں کو چھوڑ چکے ہیں۔ اب پولیٹکل لیڈر کی جگہ نیچر لیڈر ان کا رہنما بن گیا ہے۔ پولیٹکل لیڈر ان کو بہکاتا تھا، نیچر لیڈر ان کو فطرت کے مطابق رہنمائی دے رہا ہے۔ اب مسلمانوں نے فطرت کی رہنمائی میں اپنا سفر شروع کر دیا ہے۔ انسان کی فطرت اپنے آپ ترقی

کرنا چاہتی ہے۔ اس کے اندر اپنے آپ یہ مزاج ہے کہ مواقع کو استعمال کر کے اپنا مقصد حاصل کرو۔ مسلمانوں کے نااہل لیڈر مسلمانوں کی اس فطرت کو دبائے ہوئے تھے۔ اب نااہل لیڈروں سے نجات پانے کے بعد ان کی فطرت جاگ اٹھی ہے اور ان کو حقیقت پسندانہ انداز میں رہنمائی دے رہی ہے۔ چنانچہ مسلمان آزادی کے بعد چالیس سال تک جو ترقی نہ کر سکے تھے وہ ترقی انہوں نے پچھلے پندرہ سالوں میں حاصل کرلی۔ تعلیم، اقتصادیات اور دوسرے تعمیری شعبوں میں وہ تیزی سے آگے بڑھ میں نے کہا کہ آج ہندوستان کا مسلمان ہر لحاظ سے ترقی کر رہا ہے۔ اس کا منظر آپ ہندوستان کے ہر شہر، ہر گاؤں میں دیکھ سکتے ہیں۔ بھوپال کو جن لوگوں نے ۱۹۴۷ کے وقت دیکھا تھا، ان سے پوچھئے، وہ بتائیں گے کہ ۱۹۴۷ کے مقابلہ میں آج بھوپال سوگنا ترقی کر چکا ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اصل یہ ہے کہ ۱۹۴۷ سے پہلے جب یہاں ریاست قائم تھی اس وقت یہاں مبنی بر زمین اقتصادیات کا دور تھا۔ زمین چونکہ حاكم ریاست کے قبضہ میں تھی، اس لئے تمام اقتصادی امکانات ایک شخص یا ایک خاندان کے پاس تھے۔ بقیہ لوگوں کے لئے صرف یہ صورت تھی کہ وہ ریاست کے ملازم بن جائیں، اور ملازمت میں کبھی بھی زیادہ ترقی ممکن نہیں۔ آزادی کے بعد سارے ملک کی طرح بھوپال میں بھی ایک نئی تبدیلی ہوئی۔ اب یہاں مبنی بر صنعت اقتصادیات کا دور آگیا۔ صنعتی دور حقیقتاً اقتصادی انفجار (economic explosion) کا زمانہ تھا۔ سابق نظام کے برعکس اب اقتصادی ترقی ہر ایک کے لئے اتنی ہی قابلِ حصول ہوگئی جتنی کہ پہلے وہ حاکم فیملی کے کسی فرد کے لئے قابلِ حصول ہوتی تھی۔ یہ ہے جدید بھوپال میں عمومی ترقی کا راز۔ ۶ نومبر کی شام کو ڈاکٹر حمید اللہ ندوی کی رہائش گاہ پر لوگ جمع ہو گئے ۔ یہاں لوگوں کے سامنے مختلف مسائل پر اظہار خیال جاری رہا۔

ایک مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان بہت سے اسلامی احکام کو بھول گئے ہیں۔ انہی میں سے ایک تالیف قلب ہے۔ تالیف قلب کی اتنی اہمیت ہے کہ اس کو اموال زکوٰۃ کے آٹھ حصوں میں سے ایک حصہ قرار دیا گیا۔ تالیف قلب کا تعلق صرف مال سے نہیں ہے

بلکہ اخلاق اور برتاؤ جیسی چیزوں سے بھی۔

بھوپال میں جن لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں ان میں سے دونوں جوان یہ تھے ـــ زاہد محمد خاں اور عابد محمد خاں۔ یہ لوگ زینتھ ایجوکیشن اینڈ کیریر پرموشن سوسائٹی چلاتے ہیں اور اس کے علاوہ ایک میگزین نکالتے ہیں جس کا نام ’’صالح‘‘ ہے۔ یہ دونوں سنجیدہ اور صالح نوجوان ہیں اور ملت کے لئے کام کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ یہ لوگ میری مجلسوں میں برابر آتے رہے۔ ان دونوں نوجوانوں کی ایک صفت مجھے بہت پسند آئی۔ وہ خاموشی کے ساتھ میری باتوں کو سنتے تھے۔ وہ نہ سوال کرتے تھے، اور نہ کسی بات پر حجت کرتے تھے۔ میں نے کہا کہ ہماری قوم کے اندر اگر صرف ایک صفت آجائے، وہ زندگی کے اس راز کو سمجھ لیں کہ نہ بولنے کا نام بھی بولنا ہے اور نہ کرنے کا نام بھی کرنا ہے تو ہماری ملت کے مسائل پچاس فیصد اپنے آپ حل ہوجائیں۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ سب سے زیادہ نقصان ملت کو ان لوگوں نے پہنچایا ہے جو نہ بولنے کے وقت بولے اور نہ کرنے کے وقت کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ ۷ نومبر کی صبح برادرم محمد محفوظ فلاحی (پیدائش ۱۹۶۲) سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک ذہین اور فعّال نو جوان ہیں۔ وہ جامعۃ الحکمت کے بانی بھی ہیں اور اس کے استاذ بھی۔ ان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ حکمت کی تعریف بتائیے۔ انہوں نے کہا کہ زندگی گذارنے کا دانشمندانہ طریقہ، اسی کا نام حکمت ہے۔

میں نے کہا کہ آپ نے حکمت کی صحیح تعریف کی۔ پھر میں نے اس پر اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ علم کے دو پہلو ہیں۔ اس کا ایک پہلو معلومات ہے اور اس کا دوسرا پہلو وہی ہے جس کو آپ نے دانش کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ معلومات سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کو ہر آدمی سادہ کوشش کے ذریعہ جان لیتا مگر دانش سے مراد وہ چیز ہے جس کو جاننے کے لئے خصوصی محنت کرنی پڑتی ہے۔ حیثیت اگر خام مال کی ہے تو دانش کی حیثیت تیار شدہ سامان کی۔

میں نے کہا کہ ظاہری سطح پر جو چیزیں ہوتی ہیں ان کو جاننے کا نام معلومات ہے۔ مثلاً آج کل اخبارات معلومات کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ ہر آدمی اخبارات یا میڈیا کے ذریعہ دنیا کے بارے میں

واقفیت حاصل کرتا ہے۔ اس سے تمام لوگوں کے اندر اخباری ذہن بن گیا ہے۔ اخباروں میں جو رپورٹیں آتی ہیں اسی کو وہ جانتے ہیں اور اسی سے وہ اپنی رائے بناتے ہیں۔ یہ میرے نزدیک ایک خطرناک حالت ہے۔ اس لئے کہ اخبار یا میڈیا کی حیثیت انڈسٹری کی ان کا مقصد نیوز کو فروخت کرنا ہے۔ ایسی حالت میں وہ انہی خبروں کو سامنے لاتے ہیں جو زیادہ سے زیادہ قابلِ فروخت ہوں۔ اور عام انسانی مزاج یہ ہے کہ اس کو سنسنی خیز باتوں سے زیادہ دلچسپی وہ اچھی خبروں سے کم دلچسپی لیتے ہیں اور بری خبروں کو زیادہ شوق کے ساتھ سنتے اور پڑھتے عوام کے اس مزاج نے اخبار اور میڈیا کو بری خبروں کی اشاعت کی ایجنسی بنا دیا ہے۔ اس سلسلہ میں میں نے اپنا ایک دلچسپ تجربہ بیان کیا۔ میں اکثر بی بی سی لندن کی ہندی سروس کو سنتا ہوں۔ وہ اپنی خبروں کے اخیر میں اپنے سامعین کے منتخب خطوط پڑھ کر سناتے ہیں۔ دن انہوں نے ایک خط پڑھ کر سنایا۔ یہ خط ماریشش کے ایک ہندو نے لکھا تھا۔ اس نے شکایت کرتے ہوئے لکھا تھا کہ آپ ہندی بولنے والے علاقے کی خبریں نشر کرتے ہیں مگر آپ کے ہندی پروگرام میں ماریشش کی کوئی خبر نہیں ہوتی حالانکہ یہاں ہندی بولنے والے لوگ بہت ہیں۔ بی بی سی کے اناؤنسر نے خط کو سنانے کے بعد کہا کہ ہم تو بری خبروں کو جمع کر کے آپ تک پہنچاتے ہیں۔ ماریشش میں سب اچھی خبریں ہوتی ہیں اور میڈیا کے اصول کے مطابق ، اچھی خبر کوئی خبر نہیں : Good News is not news. میں نے کہا کہ موجودہ مسلم دنیا میں ہمارے جو قائدین ہیں وہ میڈیا کی خبروں کی بنیاد پر اٹھے میرے علم کے مطابق ، کوئی بھی مسلم قائد نہیں جو قرآن کی دی ہوئی بڑی خبر (النبأ العظیم ) کی بنیاد پر اٹھا ہو۔ ایسی حالت میں آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ہماری مسلم قیادتیں کس قدر بے حقیقت ہیں۔ میڈیا کی دی ہوئی بری خبروں کو لے کر لیڈری کر رہے ہیں جو صرف ایک فیصد خبر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ننانوے فیصد خبریں اچھی ہیں مگر وہ میڈیا میں نہیں آئیں ، اس لئے وہ لیڈری کا اشو بھی نہیں بنتیں۔ یہی وہ صورتِ حال ہے جس نے پوری دنیا میں ــــ انڈیا سے لے کر عرب تک ہر مسلمان کو

منفی سوچ میں مبتلا کر دیا ہے۔ اور منفی سوچ سے زیادہ مہلک کوئی چیز کسی فرد یا قوم کے لئے نہیں۔ محمد محفوظ فلاحی صاحب نے کہا کہ آپ کی کتابوں کو پڑھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ امت میں کام کا موجودہ نہج زیادہ تر جذباتی سوچ پر چل رہا ہے۔ آپ کے نزدیک امت کے احیاء کا نہج اس سے مختلف ایک اور انداز میں ہونا چاہئے۔

اس مسئلہ پر کلام کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مطالعہ اور تفکیر کے دو طریقے ہیں۔ الف سے آغاز اور دوسرا ہے یاء سے آغاز۔ اس فرق کو نہ جاننے کی وجہ سے اکثر لوگ یاء سے اپنے ذہنی سفر کا آغاز کر دیتے ہیں، اور وہ پھر بھٹکاؤ کے سوا اور کہیں نہیں پہنچتے۔ میں نے کہا کہ خواہ عبادت کو سمجھنے کا معاملہ ہو یا سیاست کو سمجھنے کا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے قرآن کا مطالعہ کیا جائے۔ قرآن کا مطالعہ کر کے اصولی احکام کو متعین کیا جائے۔ اس کے بعد حدیث کا مطالعہ کرکے ان اصولوں کی مزید مستند تفصیل متعین کی جائے۔ اس کے بعد سیرت کا مطالعہ کر کے مستند عملی نظیر معلوم کی جائے۔ اس طرح ان تینوں قسم کے مطالعہ کے ذریعہ اسلام کا بنیادی معیار مقرر کیا جائے اور پھر اس معیار کی روشنی میں بعد کی اسلامی تاریخ کو سمجھا جائے مگر اکثر لوگ یہ غلطی کرتے ہیں کہ وہ بعد کے نظائر کو لے کر اسلام کی تصویر بنانے لگتے ہیں۔ معکوس طریقۂ مطالعہ کبھی درست نتیجہ تک پہنچانے والا نہیں ہو سکتا۔

ایک گفتگو کے دوران ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کو امریکہ میں جہاز کو بلڈنگ سے ٹکرانے کا جو واقعہ ہوا اس کے نتیجہ میں ساری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیل گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ذمہ داری امریکی ٹی وی سی این این پر ہے۔ کیوں کہ یہ سی این این ہی تھا جس نے نیویارک کے ایک مقامی حادثہ کو ٹی وی کے ذریعہ ساری دنیا میں ایک ایک گھر میں پہنچا دیا۔

میں نے کہا کہ یہ اپنی ذمہ داری کو دوسرے کے اوپر ڈالنا ہے۔ یہ ایک قسم کی بددیانتی میں نے کہا کہ سی این این کوئی خبر بنانے کی فیکٹری نہیں ہے، وہ وقوع میں آنے

والی خبروں کو نشر کرنے کا ایک نظام ہے۔ آپ جب ایک خبر کی تخلیق کریں گے تو سی این این ضرور اس کو لے کیوں کہ اسی پر اس کی انڈسٹری کا انحصار ہے۔ سی این این کا مقصد خبر کورپورٹ کرنا ہے۔ ایک خبر کو وجود میں لائیں گے تو سی این این ضرور اس کو لے کر اس کی رپورٹ کرے گا تا کہ وہ اپنی انڈسٹری کو چلا سکے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ سی این این ایسا نہ کرے تو آپ خود اپنے آپ کو ایسی خبر کی تخلیق سے روکیں ۔ موجودہ قسم کی شکایت کا کوئی فائدہ نہیں۔

ایک مسلم نوجوان نے کہا کہ میں آپ کا الرسالہ پڑھتا ہوں مگر آپ کی ایک بات میری سمجھ میں آپ ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ جہاد سے پہلے تیاری ضروری ہے۔ آپ یہ بتائیے کہ اسلام کے دور اول میں جو غزوۂ بدر ہوا اس کے لئے مسلمانوں نے کیا تیاری کی تھی۔ دشمنوں کے مقابلہ میں یہ غزوہ گویا بلا تیاری کے ہوا۔

میں نے کہا کہ آپ نے برعکس بات کہی۔ غزوۂ بدر تو سپر تیاری کے بعد ہوا تھا۔ اس سلسلہ میں سورہ آل عمران اور سورہ انفال کی متعلق آیتوں کا مطالعہ کیجئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب یہ خبر پہنچی کہ مشرکین کی فوج مدینہ کی طرف بڑھ رہی ہے، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مقابلہ کے لئے نکلنے کا ارادہ فرمایا۔ مگر ساز وسامان کی کمی کی بنا پر مسلمانوں کی ایک جماعت راضی نہ تھی۔ حتی کہ قرآن کے مطابق، انہوں نے رسول اللہ سے اس معاملہ میں جدال کیا۔ تھے کہ موجودہ حالت میں مشرک فوج سے لڑنے کے لئے نکلنا موت کے لئے نکلنا ہے۔ پھر اللہ نے وحی کے ذریعہ فرمایا کہ تم لوگ مقابلہ کے لیے نکلو۔ ہم اس مہم میں تمہاری مدد کے لئے بڑی تعداد میں فرشتے لگاتار بھیجیں گے۔

اس سے معلوم ہوا کہ بدر کی لڑائی معروف خیال کے مطابق، تین سو تیرہ کی تعداد نے نہیں لڑی بلکہ ان کے ساتھ بڑی تعداد میں فرشتوں کا لشکر بھی مدد کے طور پر شامل تھا۔ فرشتوں کی یہی مدد ہے جس نے بدر کی جنگ میں کامیابی کو یقینی بنا دیا۔ موجودہ زمانہ میں جو مسلمان کمتر تیاری کے ذریعہ طاقت ور قوموں سے جنگ چھیڑے ہوئے ہیں ان کے لئے اس قسم کی کوئی خدائی بشارت موجود نہیں، اس لئے

موجودہ عدم تیاری کی حالت میں ان کے لئے لڑنا بھی جائز نہیں۔

میرا یہ جواب دو اور دو چار کی طرح واضح تھا، مگر مذکورہ مسلم نوجوان نے سننے کے بعد آخر میں کہا کہ دعا کیجئے میرا یہ خلجان رفع ہو جائے۔ میں نے کہا کہ اتنی واضح دلیل سامنے آنے کے بعد آپ کے لئے اعتراف ہے، نہ کہ رفع خلجان کی۔

ڈاکٹر حمید اللہ ندوی (ریڈر شعبہ عربی، بھوپال یونیورسٹی) کا مکان جہاں میں ٹھہرا تھا، وہ صرف ایک مکان نہیں بلکہ وہ ایک پیغام بھی ہے۔ یہ ایک خوبصورت نو تعمیر مکان ہے۔ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی نے یہاں ایک پلاٹ خریدا اور کسی صاحب سے اس کا ایک نقشہ بنوایا۔ اس نقشہ کو انہوں نے مشورہ کے لئے مسٹر راجیند رسنگھ کو دکھایا۔ وہ سول انجینئر بھی ہیں اور یہاں کے ایک ممتاز صنعت کار مسٹر راجیند رسنگھ نے کہا کہ کیا یہ آپ کے مکان کا نقشہ ہے۔ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی نے کہا کہ مسٹر راجیند رسنگھ نے کہا کہ پھر آپ کو اس کے لئے سوچنے کی ضرورت نہیں۔ اب یہ میرا کام ہے اور میں ہی اس کو انجام دوں گا۔

مسٹر راجیند رسنگھ نے اس کے بعد نیا بہتر نقشہ بنایا اور پھر اپنے آدمیوں کو تعمیر کے کام پر لگا دیا۔ انتہائی مصروفیت کے باوجود وہ خود اس کی نگرانی کرنے لگے۔ انہوں نے اپنے ماربل کے ساتھ اس کے لئے بھی ماربل منگوایا۔ انہوں نے نہ صرف اپنا پورا ہنر مکان کی تعمیر میں لگایا بلکہ اپنا پیسہ بھی اس میں خرچ کسی بھی قسم کے معاوضہ کے بغیر انہوں نے یہ کام اس طرح کیا جیسے کہ وہ ان کا اپنا کام ہو۔ تک کہ انہوں نے چھوٹے سے پلاٹ میں خوبصورت دو منزلہ مکان تیار کر دیا۔ یہ سارا کام انہوں نے اس قدر بے لوثی کے ساتھ کیا کہ لفظی طور پر بھی انہوں نے کبھی اس کا اظہار کرنا پسند نہیں کیا۔ اس کو دیکھ کر میں نے کہا کہ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی اگر کسی معیاری مسلم ملک میں ہوتے اور کوئی مسلم ماہر تعمیر بلا معاوضہ ان کی مدد کرنا چاہتا تو اس سے زیادہ وہ اور کیا کر سکتا تھا۔ یہ ہے کہ ہندوستان انسانوں کا ایک ملک تھا مگر کچھ نا اہل لیڈروں نے اس کو غلط طور پر مسلم دشمنوں کا ملک سمجھ لیا۔ یہی وہ غلطی ہے جس نے ان بھیا نک نتائج کی صورت اختیار کی جس کی

شکایت مسلمان ۱۱۹۷ سے لے کر اب تک کر رہے ہیں۔

بھوپال کی ایک مسجد میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ فجر کی نماز ادا کی۔ دوسری رکعت کے آخر میں امام صاحب نے قنوت نازلہ پڑھی۔ اس میں’’کفار‘‘کے لئے بد دعا تھی۔ وہ بد دعا کے کلمات کہتے ہوئے یہاں پہنچے:اللہم دمر دیارہم، اللهم أهلكهم كما أهلكت عاداً وثموداً۔ یہ عربی الفاظ سن کر میں تھر ا اٹھا۔ میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ اس لیے کہ اس قسم کی دعا کرنے کے نہایت ہولناک تقاضے ہیں۔ اس قسم کی دعا کا وقت وہ ہے جب کہ اہل ایمان اتمام حجت کے بعد کفارومشرکین کی بستیوں سے ہجرت کر کے باہر چلے گئے ہوں۔ میں نے سوچا کہ مسلمانوں کے اصاغروا کا بر لمبی مدت سے اپنی مسجدوں میں اس قسم کی بد دعائیں کر رہے ہیں۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ ان کی یہ بد دعا قبول نہیں ہوئی۔ اگر یہ بد دعا قبول ہو جاتی تو تد میر اور ہلاک کا عذاب آنے کی صورت میں خود بد دعا کرنے والے مسلمان بھی ہلاکت کا نشانہ بن جاتے۔ کیوں کہ وہ خود بھی انہی بستیوں میں مخلوط طور پر آباد ہیں۔

ایک صاحب نے کہا کہ میں نے الرساله والوں اور غیر الرسالہ والوں کے درمیان ایک عجیب فرق پایا ہے۔ الرسالہ کے قارئین دوسروں کے بارے میں ہمیشہ مثبت باتیں کرتے ہیں۔ برعکس جو لوگ الرسالہ کے قاری نہیں ہیں وہ دوسروں کے بارے میں ہمیشہ منفی باتیں کرتے ہیں۔

میں نے کہا کہ اس معاملہ کو آپ ایک مثال سے سمجھیے۔ ایک لڑکی جب اپنے میکے میں ہو جہاں صرف اس کا باپ، اس کی ماں، اس کا بھائی اور اس کی بہن ہو، ایسی حالت میں اگر آپ لڑکی سے گھر کی کوئی برائی کریں تو وہ فوراً اس کا دفاع کرے گی۔ وہ کہے گی کہ ہمارے گھر میں سب ٹھیک ہے، یہاں شکایت کی کوئی بات نہیں۔ مگر یہی لڑکی جب شادی ہونے کے بعد اپنے سسرال میں جاتی ہے اور وہاں ساس اور بہو کا جھگڑا پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس لڑکی سے سسرال کی کوئی شکایت کیجیے تو فوراً وہ اس کو درست مان لے گی۔

میں نے کہا کہ اس مثال سے آپ دونوں کے درمیان فرق کے معاملہ کو سمجھ سکتے ہیں۔ کے علاوہ مسلمانوں کے جو پرچے نکلتے ہیں، خواہ وہ ہندوستان کے ہوں یا ہندوستان کے باہر کے، خواہ وہ اردو کے پرچے ہوں یا اردو کے علاوہ دوسری زبانوں کے مسلم پرچے، تمام پرچوں کا یہ حال ہے کہ وہ غیر مسلم قوموں کی شکایت سے بھرے رہتے ہیں۔ جو عورت یا مرد ان پرچوں کو پڑھتے ہیں ان کا ذہن وہی بنتا ہے جو ایک خاتون کا ذہن سسرال کے ماحول میں بنتا ہے۔ الرسالہ کا معاملہ اللہ کے فضل سے اس سے مختلف ہے۔ الرسالہ اپنے قارئین میں مثبت سوچ پیدا کرتا ہے۔ وہ واقعات میں نفرت کے بجائے محبت کے پہلو ابھارتا ہے۔ الرسالہ کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ لوگ اپنی قوم اور غیر قوم کی نظر سے دیکھنے کے بجائے تمام لوگوں کو انسان کی نظر سے دیکھیں۔ اس بنا پر الرسالہ کے قاری کے اندر وہ مزاج بنتا ہے جو ایک خاتون کے اندر اس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ اپنے میکے میں اپنے خونی رشتوں کے

بھوپال سے انگریزی زبان میں ایک ماہانہ میگزین نکلتا ہے۔ اس کا نام ایوریسیا ٹائمس (Eurasia Times) ہے۔ ایک صاحب نے اس کا شمارہ (نومبر ٢٠٠١) دیا۔ اس شمارہ میں ایک مضمون کا عنوان یہ تھا__ دہشت گردی کا مقابلہ اسرائیل کے انداز میں:

Printed page