Fighting terrorism, Israel style.
Al-Risala, May 2002, pp. 37–40
By Maulana Wahiduddin Khan
اس میں بتایا گیا تھا کہ دہشت گردی سے مقابلہ کا ایک طریقہ وہ ہے جو اسرائیل نے اختیار کیا ہے، یعنی دہشت گردی کے جواب میں دہشت گردی۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ آپ ایک مضمون لکھئے جس کا عنوان ہو__ دہشت گردی کا مقابلہ اسلام کے انداز میں: Fighting terrorism, Islam style. آپ اس مضمون میں بتائیے کہ اسلام کا طریقہ دہشت گردی کے بم کو ڈیفیوز کرنے کا ہے، نہ کہ بم کے اوپر بم مارنے کا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں یہی حکیمانہ طریقہ اختیار فرمایا۔ بھوپال کے قیام کے دوران وہاں تقریباً دس پروگرام ہوئے۔ ایک پروگرام میں میں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عام
خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عام پالیسی یہ تھی کہ جب دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہو تو آپ کا طریقہ اختیار آیسر (easier option) کا ہوتا تھا، نہ کہ اختیار أعسر (harder option) کا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان جہاں جہاں جہاد کے نام سے متشددانہ لڑائی چھیڑے ہوئے ہیں، ہر جگہ ان کے لیے پرامن طریقہ کار کا انتخاب ممکن تھا۔ انہوں نے ہر جگہ پر تشدد طریقہ کار کا انتخاب کیا جو سراسر سنت نبوی کے خلاف تھا۔ اسی لیے ان کے حصہ میں تباہی کے سوا اور کچھ نہ آیا۔
میں نے کہا کہ بیسویں صدی میں گاندھی اور نیلسن منڈیلا نے اسلام کا طریقہ (اختیار آیسر) اپنا کر شاندار کامیابی حاصل کی۔ عین اُسی وقت اس کے برعکس طور پر مسلمانوں نے یہ کیا کہ اسلام کے طریقہ کے خلاف (اختیار أعسر) کو اپنا کر اپنے آپ کو تباہی میں ڈال دیا۔
بھوپال کے دوران قیام میں جو پروگرام ہوئے وہ برابر میڈیا میں آتے رہے۔ بھی اور ٹیلی ویژن میں بھی۔ مثلاً دینک نئی دنیا (۶ نومبر ۲۰۰۱) میں ایک تقریر کی رپورٹنگ چھپی۔ اس کا عنوان یہ تھا ــــــــ سچائی کی تلاش کے لیے کوشش کرتے رہنا ہی جہاد ہے: سچائی کی تلاش کے لیے کوشش کرتے رہنا ہی جہاد ہے ۔
اسی طرح دینک بھاسکر کے شمارہ (۴ نومبر ۲۰۰۱) میں ایک پروگرام کی رپورٹ چھپی۔ عنوان یہ تھا ــــــــ اسلام لڑائی کا مذہب نہیں:
اسلام لڑائی کا مذہب نہیں ۔
بھوپال میں میں ۳ نومبر کو پہنچا تھا۔ ۷ نومبر کو وہاں سے واپسی ہوئی۔ اس دوران بار بار شہر کے مختلف حصوں میں جانے کا موقع ملا۔ ان مشاہدات اور تجربات سے اندازہ ہوا کہ نوابی دور کے مقابلہ میں آج یہاں کے مسلمان ہر اعتبار سے کئی گنا زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔ اس ترقی کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ یہاں کے مسلمانوں کے سینے میں شکر کا چشمہ رواں ہو، مگر اپنے تجربہ کے مطابق، میں نے یہاں کے کسی مسلمان کو شکر خداوندی کے جذبہ سے سرشار نہیں پایا۔
ریاست کے دور میں نواب کی تعمیر کی ہوئی تاج المساجد کی قدیم تصویر آج بھی موجود ہے۔
تصویر میں یہ مسجد ایک کھنڈر کی مانند نظر آتی ہے مگر آج یہ تاج المساجد ایک عظیم کامپلیکس کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ہر مسجد اور ہر مدرسہ اور ہر مسلم ادارہ پہلے کے مقابلہ میں بہت زیادہ ترقی کر چکا ہے۔ آج یہاں کے مسلمانوں کے پاس اتنی زیادہ کاریں ہیں جن کا تصور بھی ۱۹۴۷ میں نہیں کیا جاسکتا تھا۔ سر وسوں اور تجارتوں میں مسلمان پہلے کے مقابلہ میں نمایاں حد تک زیادہ جگہ حاصل کر چکے ہیں۔ مسلم اجتماع میں میں نے کہا کہ کیا آپ میں سے کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ آپ کا خاندان ۱۹۴۷ میں جہاں تھا اب وہ اس سے پیچھے چلا گیا ہے۔ مگر کوئی ایک شخص بھی یہ کہنے کے لئے تیار نہیں ہوا۔ احساس ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں ساری دنیا میں جو چیز مفقود ہے وہ شکر کا جذبہ ہے۔ آدمی کا سینہ فرضی شکایتوں سے بھرا ہوا ہے۔ کسی مسلمان کے سینے میں شکر کا دریا بہتا ہوا نظر نہیں آتا، جب کہ شکر سب سے بڑی عبادت ہے۔
۷ نومبر کو جب میں واپسی کے لئے روانہ ہوا تو میری قیام گاہ (مکان ڈاکٹر حمید اللہ ندوی) پر کچھ خواتین اکٹھا ہو گئیں۔ ان سے خطاب کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ سب کو میری ایک نصیحت وہ یہ کہ آپ لوگ بے شکایت زندگی گزاریں ۔ میں نے کہا کہ زندگی نام ہے، شکایتوں کے درمیان شکایت سے خالی ہو کر رہنا۔
میں نے کہا کہ موجودہ دنیا کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں بار بار ایک کو دوسرے سے شکایتیں پیدا ہوں ۔ شکایت خدا کے تخلیقی نقشہ کا ایک حصہ ہے۔ ایسا اس لیے کیا گیا ہے تاکہ آپ کا امتحان لیا جائے ۔ جب بھی آپ کو کسی سے شکایت پیدا ہو تو اُس کو انسان سے نہ جوڑیئے بلکہ یہ سمجھ لیجئے کہ وہ امتحان کا ایک پرچہ ہے جو براہ راست اللہ کی طرف سے آپ کے پاس آیا ہے۔ اس جانچ میں کامیاب ہونے کا واحد راز یہ ہے کہ آپ شکایت کو بے شکایت میں تبدیل کر دیں۔ شکایت کو شکایت کے طور پر لینا امتحان میں ناکام ہونے کا ثبوت ہے اور شکایت کو بے شکایت بنا دینا امتحان میں کامیابی کا ثبوت۔ واپسی کے وقت میں بھوپال ائیر پورٹ پر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا۔ ائیر پورٹ کے ایک کارکن مسٹر عبد الغفور خاں (548121 Tel) میرے پاس آئے۔ انہوں نے کہا
کہ آج کے اخبار میں آپ کے بھوپال کے پروگرام کی رپورٹ چھپی ہے۔ میں نے اس تصویر رپورٹ کو پڑھا ہے۔ اس سے میں نے آپ کو پہچانا۔ اس کے بعد انہوں نے بھوپال سے چھپنے والے اُس ہندی اخبار کی مذکورہ کاپی دی اور کہا کہ میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائیے ۔ میں نے کہا کہ آپ کا شکریہ ، کوئی ضرورت ہوئی تو انشاء اللہ آپ کو زحمت دی جائے گی ۔
میں اپنے ساتھیوں سے کچھ دینی باتیں کر رہا تھا۔ ایک سردار جی ہمارے پاس آئے اور کھڑے ہو کر میری باتیں سننے لگے۔ انہوں نے کہا کہ آپ مجھ کو خدا کے ایک سچے بندے دکھائی دیتے ہیں ۔ میں آپ کی باتوں سے بہت پر بھاو ت ہوا ہوں۔ اس کے بعد انہوں نے اپنا کارڈ دیا۔ وہ بھوپال میں ان کا نام مسٹر ترن سنگھ نام دھاری (465511-0755 .Tel) ہے۔ انہوں نے اپنا کارڈ دیتے ہوئے کہا: