Al-Risala · May 2002

I am a bearer cheque for you.

Al-Risala, May 2002, pp. 40–43

By Maulana Wahiduddin Khan

سات نومبر ۲۰۰۱ کو بھوپال سے دہلی کے لئے واپسی ہوئی۔ شہر سے روانہ ہو کر ایر پورٹ یہاں بہت سے لوگ اکٹھا ہو گئے۔ ایک اجتماع کی صورت بن گئی۔ جہاز کسی قدر لیٹ تھا۔ چنانچہ یہ غیر رسمی اجتماع دیر تک جاری رہا۔

یہاں ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ دنیا میں ہر چیز جو آدمی کو ملی ہوئی ہے وہ اس کے لئے ایک پرچہ امتحان ہے۔ یہی جاب (job) کا معاملہ بھی ہے۔ جاب بھی حقیقتہً ذریعہ رزق نہیں ہے بلکہ وہ ایک پرچہ امتحان ہے۔ میں نے کہا کہ اگر کوئی آدمی آپ کا جاب چھینے تو وہ صرف آپ کا ایک ٹیسٹ پیپر چھینے گا، وہ آپ کا فیوچر آپ سے چھین نہیں سکتا۔

بھوپال سے انڈین ایرلائنس کی فلائٹ کے ذریعہ دہلی واپس آیا۔ دوران پرواز ایک بار سنائی دیا کہ ایک مسافر خاتون پریشانی کے عالم میں چیخ رہی ہے۔ وہ انگریزی میں بار بار کہہ رہی تھی : O God, any doctor, help me, please. یہ سات نومبر ۲۰۰۱ء کا واقعہ ہے۔ قصہ یہ ہے کہ مذکورہ خاتون کا چھوٹا بچہ دوران پرواز اچانک بے ہوش ہو گیا۔ یہ دیکھ کر مذکورہ خاتون چلانے لگی۔ دوران پرواز جہاز کے اندر کچھ نہیں ہو سکتا

مگ جہاز کے کارکنوں نے خاتون سے کہا کہ آپ پریشان نہ ہوں، ایئرپورٹ پر پہنچتے ہی آپ کے لیے طبی انتظام کر دیا جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے دورانِ پرواز ہی ٹیلی فون کے ذریعہ ایئرپورٹ پر خبر کر جہاز جب دلی ایئرپورٹ پر اترا تو وہاں پہلے ہی سے ایک کار کھڑی ہوئی تھی۔ جہاز کے رُکتے ہی فوراً مذکورہ خاتون اور اُس کے بچہ کو اتار کر گاڑی میں بٹھایا گیا اور اس کو تیزی سے قریب کے اسپتال میں پہنچا دیا گیا— یہ اُس چیز کا کرشمہ تھا جس کو جدید کمیونیکیشن کہا جاتا ہے۔ سفر سے واپسی کے بعد بھوپال سے ڈاکٹر حمید اللہ ندوی کا خط مورخہ ۲۹ نومبر ۲۰۰۱ء ملا۔ کا کچھ حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔

اجتماع کے بہت خوشگوار نتائج پیدا ہوئے ان میں سے کچھ کو یہاں مختصراً لکھتا ہوں: جب رمضان آیا تو ہمارے نئے نو جوان ساتھی عابد خان، زاہد خان صاحبان جو ایک ٹی وی چینل سے جڑے ہوئے ہیں، ان لوگوں نے رمضان میں روزانہ میری تفسیر ریکارڈ کروا کر نشر کرنا شروع یہ بات پہلے سے ذہن میں تھی مگر مجھے زیادہ یقین نہیں تھا۔ آپ کی تشریف آوری سے کچھ دن پہلے اندور کے ایک جلسہ میں میری تقریر تھی۔ اتفاق سے اس میں ٹی وی چینل کے مسلمان مالک بھی شریک تھے تب بات اور زیادہ پختہ ہوگئی۔ یہ سلسلہ خدا نے بہت کامیاب کیا۔

تاثرات کا عالم یہ ہے کہ ہمارے مشرف حسین صاحب جو تاثر دینے میں بہت غیر جانبدار ہیں، انہوں نے کہا کہ اس سفر میں ایسا ہوا کہ مولانا صاحب نے گویا سردارانِ قریش کو دعوت پیش کر دی۔ الطاف صدیقی صاحب نے کہا کہ ہر سیکنڈ اور ہر منٹ فائدہ سے بھر پور تھا اور ہر طبقہ کے خواص نے اس بار مولانا سے جتنا فائدہ اٹھایا اتنا کبھی نہیں اٹھایا۔ ڈاکٹر گوتم نے کہا کہ مولانا نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ سارنگ جی کا آپ کے پروگرام کے بارے میں کہنا ہے کہ شہر کے ہر ورگ کا ر کریم اور آئیلیچول طبقہ بھوپال میں میرے سامنے کبھی اس طرح اکٹھا نہیں ہوا نہ اتنا زیادہ پربھاوت ہوا۔ محمد حسین صاحب شیلٹر (شاہجہاں باد) نے تو آپ کے سامنے ہی اپنا تأثر بیان کر دیا تھا کہ جن مخالفین کو ہم نے کھانے پر بلایا تھا وہ آئے ہی نہیں (جاء الحق و زھق الباطلکی سی کیفیت ہوگئی)۔ اشفاق مشہدی ندوی جو کہ

راشٹریہ سہارا اخبار کے نمائندہ ہیں وہ میرے گھر پر مبارکباد دینے آئے۔ انہوں نے کہا کہ اب میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ ’’مولانا‘‘ دعوت کا اسی طرح ماحول بناتے ہیں جس طرح کسان پہلے زمین پر محنت کرتا ہے پھر وہ بیج ڈالتا ہے۔ پھر اس حکمت کے ساتھ پوری فصل تیار ہو جاتی ہے۔ راجیند رسنگھ صاحب نے کہا کہ اس بار میںمولانا کا پورے طور پر مرید ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ میری رہائش گاہ پر جتنے لوگ آئے تھے سب متاثر ہوئے خاص طور پر کمشنر صاحب نے کہا کہ ایسے ہوتے ہیں صحیح سوچ بنانے والے۔ راجیند رسنگھ صاحب وہ باتیں بھی دہراتے ہیں جو آپ نے ان کے گھر کی خواتین سے کہی انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ بھی اسی اصلاحی انداز کو اختیار کیجئے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی جملہ میں آپ نے ایسی بات کہہ دی جو خواتین کو بہت زیادہ پر بھاو ت کرنے والی تھی۔ پریم نرائن گپتا جی نے کہا کہ مولانا نے بھوپال کو ایک پوتر ماحول میں نہلا دیا۔ جناب شکیل رضا صاحب کا تاثر بھی آپ کے سامنے ہے جنہوں نے دعوت کی تھی۔ عمران صاحب اس بار اور زیادہ متاثر ہوئے۔ یہ پروگرام ہم نے بہت زیادہ اندیشوں اور خطرات کے ماحول میں کیا تھا۔ ہم نے آپ کی آمد اور آپ کے پروگرام کے لئے کبھی اتنے اندیشے اور خطرے محسوس نہیں کئے جتنا کہ اس بار۔ واقعہ یہ ہے کہ مخالفین نے طے کر لیا تھا کہ وہ ضرور کوئی بڑی گڑبڑی پیدا کریں گے، مگر خدا نے وہ قدرت دکھائی کہ ألقى في قلوبهم الرعب کا معاملہ ہو گیا۔

اس میں ایک اور بڑا اہم فائدہ جو ہوا وہ بھی ذکر کروں گا۔ زینتھ ایجوکیشن اینڈ کیریئر ویلفیئر سوسائٹی کے لڑکے جیسا کہ پہلے میں نے ذکر کیا تھا، بھوپال کے نو جوانوں کے ایک بڑے طبقہ پر اثر رکھتے ہیں، وہ دوسال پہلے تک پر تشدد طریقہ کے قائل تھے۔ وہ میرے پاس اس نیت سے آئے کہ علماء ان کا ساتھ کیوں نہیں دیتے اور نہ ہی انہیں مطمئن کر پاتے ہیں۔ قریب چھ ماہ کی محنت کے بعد اللہ نے ان کو بدل دیا تھا۔ وہ مثبت طریقہ پر کام کرنے لگے۔ اور پھر پہلے میرے نام کے ساتھ میرے مضامین چھاپنے لگے ۔ جو میگزین (ہندی) وہ نکالتے ہیں اس میں صلاح کار کے طور پر میرا نام دے دیا اور آپ کے مضمون صرف ماخوذ لکھ کر (میری اجازت سے) چھاپنے کی جرات کر لی۔ اب آپ کے دورہ کے

بعد کیا ہوا، اب وہ ہوا جس کی امید نہیں کر سکتا تھا۔ وہ یہ کہ دعوت نامے میں انہوں نے دعاۃ کے نام کے ساتھ سوسائٹی کے نام میں اپنا نام شامل کروا دیا۔ آپ کی مخالفت پروگرام سے پہلے ۲۸ اکتوبر کو صوفیہ مسجد کے علاقہ میں تالاب کے کنارے محلہ کھانوں گا وسا میں ہوئی تب وہ اندور میں تھے۔ نے اندور سے ہی مجھے مطلع کیا کہ اس طرح کی مخالفانہ میٹنگ ہو رہی ہے۔ پھر آپ کی آمد کے ایک دن پہلے محلہ بدھوارہ میں میٹنگ ہوئی۔ وہ لوگ براہ راست سیدھے میٹنگ میں پہنچ گئے اور کہا کہ ہم ہیں مولا نا حمید اللہ اور مولا نا وحید الدین خاں کے ساتھ۔ سوچ لو کہ کیا تم کو گڑ بڑ کرنا ہے۔ اُدھر فیصلہ ہو جائے گا۔ وائس چانسلر مسٹر ہرش وردھن تیواری کی بات تو آپ نے سن لی۔ کہا تھا کہ جو کتا بیں آپ نے ان کو دیں اسے انہوں نے تین گھنٹے تک پڑھا اور اسلام کو سمجھ لیا۔ خاں اور زاہد خاں صاحبان نے بھی اس اجتماع سے بہت اچھا اثر قبول کیا۔ عورتوں کا جلسہ بہت زیادہ یہ جلسہ Women Islamic Studies Circle کی طرف سے تھا جس کی صدر میری اہلیہ اور ذمہ دار تینوں بیٹیاں اور خاص طور پر سیما، سعدیہ، صائمہ اور ان کی کچھ سہیلیاں ہیں۔ ایک رکن سہیلی کا نام بھی سیما ہے۔

خواتین کے جلسہ میں میرے مکان کے اوپر نیچے دونوں ہال اور سارے کمرے بھرے ہوئے لوگوں نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا کہ عورتوں نے کامل خاموشی کے ساتھ پوری تقریر سنی۔ تر عورتوں کا تاثر یہ تھا کہ دین کی باتیں اس طرح فطری انداز میں کوئی نہیں سمجھاتا۔ مولانا اختر قاسمی صاحب کی خوش دامن صاحبہ اپنے گھر پر جا کر روئیں کہ یہ باتیں ہیں عمل کرنے کی۔ اور آپ نے دیکھا کہ جلسے کے بعد سب عورتیں کتنی خاموشی کے ساتھ بغیر شور کے کس طرح باوقار طریقے سے گئیں ۔ آپ اندر کے کمرہ میں جہاں تشریف رکھتے تھے آپ نے کوئی شور کی آواز نہیں سنی۔ یہ سب اللہ کا فضل و کرم اور احسان ہے۔ (حمید اللہ ندوی)

Printed page