ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا
Al-Risala, January 2002, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
بنگلہ دیش کے ایک اسلام پسند لیڈر حج کرنے گئے۔ وہاں انہوں نے اخبار عرب نیوز کو انٹرویو دیا جو اس کے ۱۳ مارچ ۲۰۰۱ کے شمارہ میں اس عنوان کے تحت چھپا ہے: بنگلہ دیش کی حسینہ حکومت اسلام دشمنی پر تلی ہوئی ہے اس انٹرویو کے چند جملے یہ تھے ــــ یہ حکومت بنگلہ دیش سے اسلام اور مسلمانوں کے نام ونشان کو مٹانے پر تلی ہوئی ہے۔ در حقیقت بنگلہ دیش میں فی الوقت اسلام خطرہ میں ہے۔ تہیہ کئے ہوئے ہیں کہ ہم اپنے جہاد کو اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک کہ ہمیں شہادت یا قیادت نصیب نہ ہو جائے ۔
اس قسم کی باتوں کا تعلق اسلام سے نہیں ہے بلکہ لیڈری سے ہے۔ اس لئے کہ کوئی بھی شخص بنگلہ دیش جا کر دیکھ سکتا ہے کہ اسلام کو مٹانے کی بات لغویت کی حد تک بے بنیاد ہے۔ تک شہادت اور قیادت کی بات کے غیر اسلامی ہونے کا سوال ہے تو اس کو غلط ثابت کرنے کے