لائن آف ایکشن کا مسئلہ
Al-Risala, June 2002, pp. 6–8
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۹۴۷ میں جب ہندوستان آزاد ہوا تو اس کے بعد تمام مسلمانوں کے سامنے یہ سوال تھا کہ نئے ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے لائن آف ایکشن کیا ہے۔ اس وقت سے لے کر اب تک اس موضوع پر ہزاروں تحریریں سامنے آئیں اور ہزاروں جلسے کئے گئے۔ مگر آج بھی لوگ یہی پوچھتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے راہ عمل یا لائن آف ایکشن کیا ہونا چاہئے۔ میرے نزدیک یہ مسئلہ لائن آف ایکشن کی غیر موجودگی کا نہیں ہے بلکہ لائن آف ایکشن کے موجود ہوتے ہوئے اس کو عملاً قبول نہ کرنے کا ہے۔ مسلمانوں کے سامنے بار بار مختلف جماعتوں اور رہنماؤں کی طرف سے اپنے اپنے انداز میں اس سوال کا جواب دیا گیا ہے مگر آج تک کسی بھی جواب کو مسلمانوں میں عمومی قبولیت کا درجہ حاصل نہ ہوسکا۔
مولانا ابوالکلام آزاد نے ۱۹۳۸ میں لکھنو میں مشہور مسلم کنونشن کیا۔ اس موقع پر مولانا آزاد نے جو تقریر کی تھی وہ آج بھی چھپی ہوئی موجود ہے۔ اپنی اس تقریر میں انہوں نے مسلمانان ہند کے سامنے یہ لائحہ عمل پیش کیا کہ وہ مسلم لیگ کو توڑ دیں اور نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کرلیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ہندوستان کے مسلمان فرقہ وارانہ بنیاد پر اپنی ملی پالیسی نہ بنائیں بلکہ اپنی پالیسی مشترک قومی بنیاد پر بنائیں۔ نمائندگی کے اعتبار سے لکھنو کا یہ آل انڈیا مسلم کنونشن نہایت مگر اس کے بعد ایسا نہیں ہوا کہ مسلمان مولانا آزاد کے مشورہ کو اپنی ملی پالیسی کے طور پر ان کی ولولہ انگیز تقریر فضا میں تحلیل ہو کر رہ گئی۔
اسی طرح نہایت دھوم کے ساتھ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (۱۹۶۴) بنی۔ ملک کے تقریباً تمام مسلم رہنما اس کے پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو گئے۔ مگر اس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے متفقہ طور پر ایک مسلم منشور تیار کر کے شائع کیا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان کے مسلمان اس ملک میں خیر امت کا کردار ادا کریں۔ مگر اس عنوان پر مسلمان عملاً متحرک نہ ہو سکے۔
تک کہ خود مسلم مجلس مشاورت بے اثر ہو کر رہ گئی۔
یہی معاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (۱۹۷۲) کا ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے بانی قائدین کے زمانہ میں متفقہ طور پر تعمیر ملت اور اصلاح معاشرہ کی تجویز پاس کی۔ اس پر کافی حد تک وہ کام بھی ہوا جس کو پیپر ورک کہا جاتا ہے۔ مگر یہ لائحہ عمل بھی مسلمانوں کے درمیان عملی قبولیت حاصل نہ کر سکا۔ اس طرح کچھ مسلم قائدین نے نہایت دھوم کے ساتھ وہ تحریک شروع کی جو پیام انسانیت (۱۹۵۱) کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان خود انسانی اقدار کو اپنائیں اور برادران وطن کو انسانی اقدار کی پیروی کی دعوت دیں۔ مگر جلسوں کی وقتی دھوم دھام کے علاوہ اس کا بھی کوئی عملی نتیجہ نہیں نکلا۔ انسانی اقدار کی پیروی کی فضا نہ مسلمانوں میں قائم ہوسکی اور نہ غیر مسلموں میں۔ اسی طرح ۱۹۹۰ء میں بابری مسجد کے نام پر جلسہ اور جلوس اور ریلی کے زبردست ہنگامے شروع یہ سلسلہ پورے ملک میں جاری ہو گیا۔ اس تحریک کے مسلم لیڈروں نے یہ نعرہ دیا کہ مسلمان لاکھوں کی تعداد میں مارچ کرکے اجودھیا پہنچیں اور حملہ آوروں کے مقابلہ میں بابری مسجد کی حفاظت مگر اس مقصد کے لئے نہ چھوٹا مارچ ہوا اور نہ بڑا مارچ۔ یہاں تک کہ حملہ آور کسی مزاحمت کے بغیر ۶ دسمبر ۱۹۹۲ء کو اجودھیا میں داخل ہوگئے۔ انہوں نے بابری مسجد کے ڈھانچہ کو توڑ کر اس کی جگہ ایک عارضی رام مندر تعمیر کر دیا۔
اسی طرح کچھ ممتاز مسلم لیڈروں نے یہ لائحہ عمل دیا کہ مسلمان اس ملک میں باعزت زندگی اس طرح حاصل کر سکتے ہیں کہ وہ اپنی ووٹ کی طاقت کو اینٹی مسلم پارٹیوں کو ہرانے کے لئے استعمال انہوں نے مسلمانوں کو ایک اردو شاعر کا یہ شعر سنایا :
حفاظت پھول کی ممکن نہیں ہے اگر کانٹوں میں ہو خوئے حریری ہر بار جب اسمبلی اور پارلیمنٹ کا الیکشن ہوتا ہے تو وہ وقت آتا ہے جب کہ مسلمان اس لائحہ عمل کو اختیار کرکے مفروضہ اینٹی مسلم پارٹیوں کو ہرائیں اور مفروضہ پرو مسلم پارٹیوں کو جتائیں۔ بار صرف یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا ووٹ اپنے اتحاد کی بنا پر منتشر ہو جاتا ہے۔ مذکورہ سیاسی مقصد
حاصل کرنے کے بجائے مسلمان صرف یہ کرتے ہیں کہ وہ ہر الیکشن کے موقع پر تقسیم ہو کر ووٹ کی طاقت کو ضائع کر دیتے ہیں۔ الیکشن ان کے ووٹوں کا ایک سیاسی قبرستان بن کر رہ جاتا ہے۔ (واضح ہو کہ پارلیمنٹ کی تقریبا سوسٹوں پر مسلم ووٹر فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں) یہی معاملہ جمعیۃ علماء ہند کا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے تقریباً ہر موقع پر یہ لائحہ عمل پیش کیا ہے کہ مسلمان ایسا طریق کار نہ اختیار کریں جس میں ہندو اور مسلم کے درمیان ٹکراؤ کی فضا بنے۔ بجائے وہ خاموش تدبیر اور تعمیری اسلوب کو اختیار کرتے ہوئے اپنا مسئلہ حل کریں۔ مگر ہر بار یہی ہوا ہے کہ مسلمان جمعیۃ علماء ہند کے بتائے ہوئے اس لائحہ عمل کو اختیار نہیں کر پاتے۔ گویا لائحہ عمل موجود ہے مگر لائحہ عمل کی قبولیت اور پیروی موجود نہیں۔
اس فہرست میں کسی قدر فرق کے ساتھ خود الرسالہ مشن کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے۔ الرسالہ مشن کے تحت مسلمانوں کے سامنے نہایت واضح اور مدلل انداز میں ۱۹۷۶ سے یہ لائحہ عمل پیش کیا جا رہا ہے کہ مسلمان کا اصلی اور ابدی مشن دعوت ہے۔ اس ملک میں مسلمان اور برادران وطن کا تعلق داعی اور مدعو کا تعلق ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اللہ کی طرف سے مقرر کئے ہوئے اپنے اس فریضہ کو پہچانیں ۔ وہ دعوت کے آداب اور دعوت کی حکمتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس ملک میں دین حق کی پرامن پیغام رسانی کا کام انجام دیں۔ مگر ربع صدی سے زیادہ مدت تک مسلسل جدوجہد کے باوجود ابھی تک مسلمانوں کی صرف ایک محدود تعداد ہی نے اس راہ عمل کو عملاً اختیار کیا ہے۔ یہ طویل تجربہ بتاتا ہے کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ راہ عمل کی غیر موجودگی نہیں ہے بلکہ جذبہ قبولیت کی غیر موجودگی ہے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کے درمیان حقیقی کام کا آغاز صرف یہ نہیں ہو سکتا کہ تقریر یا تحریر کی صورت میں ایک راہ عمل یا لائن آف ایکشن کا اعلان کر دیا جائے۔ حالات میں اس کے لیے شعوری تعمیر اور ذہنی بیداری کی ایک مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہے۔ شعوری اعتبار سے لوگوں میں مادہ قبولیت پیدا کیجئے، اس کے بعد ہی راہ عمل کے اعلان کا کوئی مفید عملی نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے، اس کے بغیر ہرگز نہیں۔