با مقصد انسان کا کردار
Al-Risala, June 2002, pp. 9–11
By Maulana Wahiduddin Khan
صہیب بن سنان الرومی ان اصحاب رسول میں سے ہیں جنہوں نے دور اول میں اسلام اُن کی پیدائش موصل میں ہوئی۔ انہوں نے مدینہ میں ۳۸ھ میں وفات پائی۔ وفات اُن کی عمر تقریبا ستّر سال تھی۔ اُن سے تین سو سات حدیثیں مروی ہیں۔ اُن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أنا سابق العرب، وصہیب سابق الروم۔ صہیب رومی کا تذکرہ تاریخ اسلام کی اکثر کتابوں میں آیا ہے۔ مثلاً طبقات ابن سعد، تاریخ ابن عسا کر، وغیرہ ۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صہیب رومی ایک اونچے خاندان کے فرد تھے۔ مکہ میں تجارت کرنے لگے۔ انہوں نے تجارت میں کافی دولت کمائی (كان صہیب قد ربح مالا وفيرا من تجارته)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ سے مدینہ کے لیے ہجرت فرمائی تو صہیب رومی نے بھی ہجرت کا فیصلہ کیا۔ روایات بتاتی ہیں کہ اُن کی ہجرت کی خبر لوگوں کو ہو گئی۔ چنانچہ قریش کے کچھ نوجوان اُن کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا کہ تم نے اپنا یہ مال مکہ میں حاصل کیا ہے۔ اس کو لے کر ہم تم کو مدینہ نہیں جانے دیں گے۔ صہیب رومی نے کہا کہ اگر میں تم کو اپنا مال دے دوں تو کیا تم مجھ کو جانے دو گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ اس کے بعد صہیب رومی نے اپنا سارا مال اُن کے حوالہ کر دیا (فجعل لهم ماله أجمع)
اپنا مال قریش کے حوالہ کر کے صہیب رومی مدینہ کے لیے روانہ ہوئے۔ وہ مدینہ پہنچے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور آپ کو مکہ کا پورا واقعہ بتایا۔ اُس کو سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یا أبا يحيى ربح البيع (اے ابو یحییٰ، تمہاری تجارت کامیاب رہی) ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: ربح صہیب ربح صہیب صہیب کی تجارت کامیاب رہی، صہیب کی تجارت کامیاب رہی)۔ البدایة والنہایة لابن کثیر، الجزء الثالث، صفحه ۱۷۳ - ۱۷۴۔
حضرت صہیب رومی کا یہ واقعہ جس کی تصدیق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی، بے حد اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ با مقصد انسان کا کردار کیا ہونا چاہئے۔ اس کا کردار یہ ہونا چاہئے کہ وہ اپنے مقصد کے علاوہ ہر دوسری چیز کو ثانوی (سیکنڈری) درجہ پر رکھے ۔ وہ اپنے مقصد کو بچانے کی خاطر ہر دوسری چیز کی قربانی دینے کے لیے تیار رہے۔
مذکورہ واقعہ پر غور کیجئے۔ حضرت صہیب رومی کے سامنے ایک صورت یہ تھی کہ وہ یہ سوچیں کہ یہ مال میں نے اپنی محنت سے کمایا ہے۔ وہ میرا ایک جائز حق ہے۔ مجھے اپنے حق سے محرومی کو قبول نہیں مجھے ہر حال میں اپنے مال کو اپنے قبضہ میں رکھنا چاہئے، خواہ اُس کے لیے مجھے ظالموں سے لڑائی لڑنی پڑے۔ دوسری صورت یہ تھی کہ وہ یہ سوچیں کہ مدینہ دعوتِ اسلامی کا مرکز بن رہا ہے۔ وہاں پہنچ کر مجھے اس دعوتی مہم میں شریک ہونا ہے۔ اسلام کے اس قافلہ کے ساتھ مل کر مجھے چاہئے کہ میں اس تاریخی مہم کو اُس کی تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کروں۔
صہیب رومی نے محسوس کیا کہ یہ کم بہتر اور زیادہ بہتر کے درمیان انتخاب کا معاملہ ہے۔ میں مال کے لیے ٹکراؤ کروں تو یہ کوئی عقل مندی نہ ہوگی۔ یہ مال کی خاطر مقصد کو قربان کرنے کے ہم چنانچہ انہوں نے مقصد کو بچانے کی خاطر مال کو قربان کر دیا اور اُس سے دست بردار ہو کر مدینہ چلے گئے۔
اس طرح کے معاملات میں سوچنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے منطقی انصاف کا طریقہ، اور دوسرا ہے عملی حل کا طریقہ۔ منطقی انصاف کا مطلب یہ ہے کہ خالص فنی اعتبار سے صحیح اور غلط کو معلوم کیا جائے، جیسا کہ قانونی عدالت میں ہوتا ہے۔ اور دوسرا ہے عملی حل (practical solution)۔ عملی حل کا مطلب یہ ہے کہ قانونی اعتبار سے صحیح اور غلط کی بحث میں نہ پڑا جائے بلکہ یہ دیکھا جائے کہ عملی حالات کے اعتبار سے مسئلہ کا مثبت حل کیا ہے۔ پہلا طریقہ عام انسان کا طریقہ ہے اور دوسرا طریقہ با مقصد انسان کا طریقہ۔
عام انسان کو صرف یہ معلوم رہتا ہے کہ قانون کے مطابق اُس کا حق کیا ہے۔ اس کے برعکس
با مقصد انسان قانونی حق اور منطقی انصاف سے بلند ہو کر یہ سوچتا ہے کہ میرے لیے اپنے مقصد اعلیٰ کو حاصل کرنے کا مفید طریقہ کیا ہے۔ سوچ میں اس فرق کی بنا پر، عام انسان لوگوں کے ساتھ زراور زمین کا جھگڑا کرتا رہتا ہے، کیونکہ اس کے سوا اُس کا اور کوئی نشانہ حیات نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس با مقصد انسان کا نظریہ، حضرت مسیح کے الفاظ میں یہ ہوتا ہے کہ، کوئی تمہارا کرتا لینا چاہے تو اُس کو اپنا پھٹہ بھی یعنی دنیوی چیزوں کے معاملہ میں نزاع پیدا ہو تو فوراً ایک طرفہ قربانی کے ذریعہ اُس نزاع کو ختم کر دو، تا کہ مقصد کی طرف تمہارا سفر کسی خلل کے بغیر مسلسل طور پر جاری رہے۔ اس طرح کے نزاعی معاملات میں عام انسان کا قول یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنا حق کیوں چھوڑیں ، ہم انصاف سے دست بردار کیوں ہوں۔ مگر با مقصد انسان کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ دنیوی حق کو لینے کی کوشش میں وہ ربانی حق سے محروم ہو جائے گا۔ دنیوی انصاف کو حاصل کرنے کی لڑائی میں وہ آخرت کے انصاف کی میزان میں اپنے آپ کو بے قیمت کر لے گا۔ سوچنے کا یہی فرق دونوں کے عمل میں فرق پیدا کر دیتا ہے۔ ایک، دنیا کی خاطر آخرت کو گنوا دیتا ہے، اور دوسرا، آخرت کی خاطر دنیا کو۔