Al-Risala · June 2002

کام کا صحیح طریقہ

Al-Risala, June 2002, pp. 12–15

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کار کیا تھا ، اس سوال کا جواب حضرت عائشہ کی ایک روایت میں ملتا ہے: ما خير النبی صلی اللہ علیہ وسلم بین أمرين إلا اختار ايسرهما۔ (صحیح البخاری ، کتاب الحدود ، باب اقامة الحدود)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو امر میں سے ایک امر کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب فرماتے تھے۔ حدیث میں أیسر کا لفظ ہے۔ اس کی تشریح شارحین حدیث نے عام طور پر اسہل کے لفظ سے کی ہے (فتح الباری ۶ / ۶۶۵) یعنی زیادہ سہل۔ مگر اسهل (سہل تر) کے لفظ سے اُس کی اصل حقیقت واضح نہیں ہوتی۔ پیغمبر اسلام اور دوسرے تمام پیغمبر، قرآن کے بیان کے مطابق، اولو العزم پیغمبر (الاحقاف ۳۵) تھے۔ کوئی پیغمبر کبھی سہل پسند نہیں ہوتا۔ سہل پسندی پیغمبر کے مزاج کے خلاف ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس حدیث میں أیسر کا لفظ زیادہ قابل عمل کے معنی میں ہے، نہ کہ سادہ طور پر محض سہل کے

حضرت عائشہ کی اس روایت کا مفہوم اگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی سیرت کی روشنی میں متعین کیا جائے تو اس سے پوری حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔ اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو اس روایت میں أیسر سے مراد قابل حصول نقشہ کار (available framework) ہے۔ ہر صورت حال میں دو عملی طریقہ ممکن ہوتا ہے۔ ایک وہ طریقہ جو بروقت موجود نقشہ ہی میں قابل عمل ہو۔ اور دوسرا طریقہ وہ جس کا تقاضا یہ ہو کہ پہلے موجود نقشہ کو بدلا جائے ، اُس کے بعد ہی اپنا مطلوب عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اُس نقشہ کار میں اپنا عمل جاری کیا جو بروقت آپ کے لیے ممکن اور قابل حصول تھا۔ اس پیغمبرانہ طریقہ کار کی ایک مثال یہ ہے کہ قدیم مکہ میں آپ کو دین توحید کی تبلیغ کا کام کرنا تھا۔ اب اس کی دو صورتیں تھیں۔ ایک یہ کہ کعبہ کے موجود اجتماع گاہ کو استعمال کیا جائے جہاں بتوں کی پوجا کے لیے لوگ پہلے سے اکٹھا ہوا کرتے تھے۔ دوسرے یہ کہ آپ اس سے

الگ اپنا کوئی نیا مقام بنائیں، دوسرا اور نیا اجتماع گاہ بنانا اس وقت سخت مشکل کام تھا۔ برعکس کعبہ کا صحن یک بنے بنائے اجتماع گاہ کی صورت میں موجود تھا۔ پیغمبر اسلام نے بتوں کی موجودگی کے ناپسندیدہ پہلو کو وقتی طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اس موجود نقشہ کار کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور وہاں اپنے دعوتی خطاب کا مستقل سلسلہ شروع کر دیا۔

کام کا یہی وہ عملی طریقہ ہے جس کو مذکورہ حدیث میں اختیارِ ایسر کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں قابل حصول نقشہ کار (available framework) سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے اس پیغمبرانہ حکمت کو نہیں سمجھا۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ وہ ایسر اور اعسر میں فرق نہ کر سکے۔ اُن کے لیے قابل حصول نقشہ کار موجود تھا مگر اپنی بے خبری کی بنا پر وہ نا قابل حصول نقشہ کار میں اپنی عملی سرگرمیاں دکھاتے رہے۔ قانونِ فطرت کے مطابق، اس کا نتیجہ صرف ایک طرفہ تباہی ہو سکتا تھا اور وہی اُن کے حصہ میں پیش آیا۔

برصغیر ہند میں اس کی ایک مثال انگریزوں کے خلاف علماء ہند کی پر تشدد تحریک ہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ علماء کی یہ پُر تشدد تحریک ساٹھ سالہ قربانیوں کے باوجود اپنے مقصد میں ناکام اس کے برعکس مہاتما گاندھی کی انہی انگریزوں کے خلاف پر امن تحریک صرف پچیس سال میں اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب ہوگئی۔ اس فرق کا واحد سبب یہ تھا کہ مہاتما گاندھی کی پر امن جد و جہد قابل حصول نقشہ کار کے دائرہ میں تھی، جب کہ علماء ہند کی پرتشدد جد و جہد نا قابلِ حصول نقشہ کار کے دائرہ میں۔

اس معاملہ کی دوسری مثال الاخوان المسلمون کی تحریک ہے۔ انہوں نے مصر میں شاہ فاروق (وفات ١٩٦٥) اور صدر جمال عبدالناصر (وفات ۱۹۷۰) کو مغرب نواز اور اسلام دشمن قرار دے کر اُن کے خلاف پرتشدد تحریک چلائی۔ مگر غیر معمولی قربانیوں کے باوجود اخوانیوں کے حصہ میں کچھ بھی البتہ مصر ایک تباہ شدہ ملک ہو کر رہ گیا۔ مزید یہ کہ اسی اخوانی فکر کے لوگ اپنے ملک میں سیاسی دارو گیر سے بھاگ کر بڑی تعداد میں امریکہ گئے۔ اب وہ وہاں مختلف قسم کے اسلامی ادارے

بڑے پیمانہ پر چلارہے ہیں۔ اور پُر فخر طور پر وہاں اپنے کارنامے بیان کرتے ہیں۔ الاخوان المسلمون مصر میں کیوں ناکام رہے اور امریکہ میں خود اپنے دعویٰ کے مطابق، وہ کیوں کامیاب ہیں۔ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ انہوں نے مصر میں پُرتشد دنقشہ کار کے مطابق کام کرنا چاہا جو وہاں اُن کے لیے قابل حصول ہی نہ تھا۔ اس کے برعکس امریکہ میں وہ پُر امن طریق کار کے مطابق کام کر رہے ہیں جو وہاں کے حالات میں اُن کے لیے پوری طرح قابل حصول ہے۔ تاہم الاخوان المسلمون کو نہ مصر میں اُن کے کام پر کوئی کریڈٹ دیا جا سکتا ہے اور نہ امریکہ میں اُن کے کام پر۔ مصر میں اُن کا کام صرف سیاسی نادانی کے خانہ میں لکھا جائے گا۔ اور امریکہ میں وہ اپنے کام پر دوہرا معیار (ڈبل اسٹینڈرڈ) اختیار کرنے والے قرار پائیں گے، الاّ یہ کہ وہ کھلے لفظوں میں یہ اعلان کریں کہ مصر میں اُن کی پالیسی سراسر غلطی اور نادانی کی پالیسی تھی۔ اعتراف کے بعد غلطی ایک نیکی بن جاتی ہے اور اعتراف کے بغیر غلطی صرف غلطی رہتی ہے۔

جماعت اسلامی کا معاملہ بھی اسی کی ایک مثال ہے۔ جماعت اسلامی اور اُس کے بانی نے پاکستان میں زبردست سیاسی ہنگامہ برپا کیا۔ اُن کا کہنا یہ تھا کہ پاکستان میں وہاں کے سیکولر حکمرانوں نے سیکولر نظام قائم کر رکھا ہے۔ جب تک اس سیکولر نظام کو توڑا نہ جائے یہاں کوئی قابلِ ذکر اسلامی کام کرنا ممکن نہیں۔ جماعت اسلامی اور اُس کے بانی کی ٹکراؤ کی اس سیاست کا کوئی مثبت نتیجہ پاکستان کو بلکہ برعکس طور پر پاکستان ایک تباہ شدہ ملک بن کر رہ گیا۔

اب اسی جماعت اسلامی کی فکر کو ماننے والے لوگ نہایت اطمینان کے ساتھ انڈیا کے سیکولر نظام کے تحت کام کر رہے ہیں۔ وہ پُر فخر طور پر یہاں اپنے اسلامی کارنامے بیان کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی کا معاملہ بھی وہی ہے جو الاخوان المسلمون کا معاملہ ہے۔ جماعت اسلامی کے لوگوں نے پاکستان میں جو کچھ کیا اُس پر انہیں صرف سیاسی نادانی کا کریڈٹ دیا جائے گا۔ اسی طرح انڈیا کی جماعت اسلامی کے لوگ انڈیا میں اپنے اعلان کے مطابق، جو کارنامے انجام دے رہے ہیں اُس پر بھی وہ کوئی کریڈٹ نہیں پا سکتے۔ الاّ یہ کہ وہ کھلے طور پر یہ اعلان کریں کہ اُن کے بانی کا نظریہ سیکولرزم یا

سیکولر نظام کے بارے میں سراسر غلط تھا اور زمانہ سے بے خبری پر مبنی تھا۔ اس کھلے اعلان کے بغیر یقینی طور پر وہ کسی مثبت انعام کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ غلطی کے اعلان کے بغیر انڈیا میں اُن کی پالیسی دوہرا معیار (ڈبل اسٹینڈرڈ) کی پالیسی قرار پائے گی۔ اور غلطی کے اعتراف کے بعد اُن کی یہ پالیسی موجب ثواب تو بہ کی حیثیت اختیار کر لے گی۔

قابل حصول نقشہ کار (available framework) کی جو بات یہاں لکھی گئی، وہ فرد اور جماعت دونوں کے لیے یکساں طور پر نہایت اہم ہے۔ حدیث کی زبان میں وہ اختیارِ ایسر کی پالیسی ہے، اور فطرت کی زبان میں وہ حقیقت پسندی کی پالیسی ۔ یہی موجودہ دنیا میں کامیابی کا واحد طریقہ اس طریقہ کو اختیار کئے بغیر اس دنیا میں نہ کوئی فرد کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل کر سکتا ہے اور نہ کوئی یہ ایک ایسا اٹل قانون ہے جس میں کسی کے لیے بھی کوئی استثناء نہیں۔ الرساله ہندی اب جنوری ۲۰۰۲ سے ممبئی سے مستقل شائع ہو رہا ہے۔ سے گزارش ہے کہ الرساله ہندی کا سالانہ زر تعاون بذریعہ M.O./DD/Cheque الرسالہ ہندی کے نام (غیر مقامی چیک کے لئے 50 روپئے مزید) مندرجہ ذیل پتہ پر

سالانه :-/110 روپے E-4, Marian House, 29th, Road, T.P.S. III Opp. Waterfield Road, Bandra (W), Mumbai- 400 050 Tel.: 834 1654/834 6079/821 8609 Fax: 823 6323.

Printed page