Armed struggle by non-governmental organisations
Al-Risala, June 2002, pp. 16–23
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام آزادی کا حق تسلیم کرتا ہے۔ اسلامی تعلیم کے مطابق ، قومی یا سیاسی مقصد کے لیے پرامن تحریک چلانے کا حق کسی بھی شخص یا جماعت کو حاصل ہے۔ یہ حق اُس کو اس وقت تک حاصل رہے گا جب تک وہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر جارحیت کا ارتکاب نہ کرے۔ اسلام میں ہتھیار کا استعمال یا کسی حقیقی ضرورت کے تحت مسلح عمل کا حق صرف باقاعدہ طور پر قائم شدہ حکومت کو حاصل ہے۔ غیر حکومتی تنظیمیں (NGOs) کو کسی بھی عذر کی بنا پر ہتھیار اٹھانے کا حق حاصل نہیں (اس اسلامی حکم کی تفصیل میری کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے)۔
مجرم کو سزا دینا، حملہ آور کے مقابلہ میں دفاع کرنا، اس طرح کے امور جو بین اقوامی اصول کے مطابق ، کسی قائم شدہ حکومت کو مسلح کارروائی کا حق دیتے ہیں۔ یہی خود اسلام کا اصول بھی ہے۔ اصول کی روشنی میں ٹیررزم کی تعریف یہ ہے کہ — ٹیر رزم اُس مسلح کارروائی کا نام ہے جو کسی غیر حکومتی تنظیم نے کی ہو۔ یہ غیر حکومتی تنظیم خواہ کوئی بھی عذر پیش کرے مگر وہ ہر حال میں نا قابل قبول ہوگا۔ غیر حکومتی تنظیم اگر یہ محسوس کرتی ہے کہ ملک میں کوئی بے انصافی ہوئی ہے یا حقوق کی پامالی کا واقعہ پیش آیا ہے تو اُس کو صرف یہ حق ہے کہ وہ پر امن جد و جہد کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنی کوشش کو جاری وہ کسی بھی حال میں اور کسی بھی عذر کی بنا پر تشدد کا طریقہ نہ اختیار کرے۔
لڑ رہے ہیں وہ ملک اور مال کے لئے ہے۔ ملک اور مال کے لئے جو جنگ لڑی جائے وہ ہرگز جہاد فی سبیل اللہ نہیں ہو سکتی۔
دوسری بات یہ ہے کہ جہاد (بمعنی قتال) صرف ایک قائم شدہ ریاست کا فعل ہے نہ کہ عام موجودہ جنگ کی صورت یہ ہے کہ اس کو عام افراد چھیڑے ہوئے ہیں۔ جب کہ عام افراد کو اسلامی نقطۂ نظر سے یہ حق ہی حاصل نہیں۔ عام افراد اگر جنگ چھیڑیں تو یہ ان کے لئے ایک فعل حرام کا
ایک قائم شدہ ریاست جارحیت کی صورت میں دفاعی جنگ لڑ سکتی ہے مگر ایسی دفاعی جنگ بھی اس وقت اسلامی جنگ ہوگی جب کہ وہ کھلے اعلان کے ساتھ لڑی جائے۔ اعلان کے بغیر کسی کے خلاف پراکسی وار چھیڑنا اور اس کو جھوٹ کے بل پر چلانا اسلام میں ہرگز جائز نہیں۔ اسلام میں حقوق کی دو قسمیں کی گئی ہیں ـــــ حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ حقوق اللہ سے مراد وہ ذمہ داریاں ہیں جو خدا کی نسبت سے بندے پر عائد ہوتی ہیں۔ اگر کوئی بندہ حقوق اللہ کے معاملہ میں کوتاہی کرے تو اس کی تلافی کے لئے معافی مانگنا ہی کافی ہو جاتا ہے۔
مگر حقوق العباد کا معاملہ بے حد سنگین ہے۔ حقوق العباد میں غلطی کرنے کا معاملہ انسانوں سے جو آدمی انسان کے معاملہ میں کوئی جرم کرے تو صرف خدا سے معافی مانگنا اس کی تلافی کے لئے کافی نہیں ہوتا۔ خدا سے معافی مانگنے کے ساتھ اس کے اوپر لازم ہے کہ وہ متعلق لوگوں سے بھی معافی مانگے اور اس نقصان کی تلافی کرے جو اس نے انہیں پہنچایا ہے۔
ہائی جیکنگ کا تعلق بلا شبہ حقوق العباد سے ہے۔ یہ انسان کے مقابلہ میں ظلم کی حیثیت رکھتا ایسی حالت میں ہائی جیکروں پر لازم ہے کہ وہ ستم زدہ انسانوں سے باقاعدہ طور پر اس کی تلافی ورنہ وہ خدا کے نزدیک نا قابلِ معافی مجرم قرار پائیں گے، خواہ وہ بظاہر نماز روزہ کیوں نہ ادا کر رہے ہوں۔