Al-Risala · July 2002

زاویۂ نظر کا فرق

Al-Risala, July 2002, pp. 56–57

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام ﷺ کے زمانہ میں پیش آنے والی ایک جنگ وہ ہے جس کو غزوۂ احد کہا جاتا ہے۔ اس جنگ میں مسلمانوں کو ابتدأء جیت ہوئی تھی مگر اس کے بعد اُن کی جیت شکست میں تبدیل ہوگئی۔ اس واقعہ پر قرآن میں اس طرح تبصرہ کیا گیا: اور اللہ نے تم سے اپنے وعدہ کو سچا کر دکھایا جب کہ تم اُن کو اللہ کے حکم سے قتل کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ جب تم کمزور پڑ گئے اور تم نے کام میں جھگڑا کیا اور تم نے نافرمانی کی جب کہ اللہ نے تم کو وہ چیز دکھادی جو کہ تم چاہتے تھے۔ تم میں سے بعض دنیا چاہتے تھے اور تم میں سے بعض آخرت چاہتے تھے۔ پھر اللہ نے تمہارا رُخ اُن سے پھیر دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے اور اللہ نے تم کو معاف کر دیا اور اللہ ایمان والوں کے حق میں بڑا فضل والا ہے۔ (آل عمران ۱۵۲) یہاں یہ سوال ہے کہ اس جنگ میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تھی، وہ زخم خوردہ تھے۔ مزید یہ کہ اُحد کی جنگ تمام تر مخالفینِ اسلام کی زیادتیوں کے نتیجہ میں پیش آئی تھی۔ وہ مخالفین کی جانب سے سراسر یک طرفہ حملہ کا معاملہ تھا۔ اس جنگ میں مسلمان مکمل طور پر بے قصور تھے اور مخالفین مکمل طور پر باقصور۔ اس کے باوجود ایسا کیوں ہوا کہ قرآن میں مخالفین کو بُرا بھلا کہنے کے بجائے صرف مسلمانوں کی اپنی کمزوریوں کی نشاندہی کا انداز اختیار کیا گیا۔

اس کا سبب زاویۂ نظر کا فرق ہے۔ اس طرح کے معاملہ میں کلام کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اُس کا منطقی تجزیہ کیا جائے۔ منطقی انصاف کی روشنی میں دیکھا جائے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط، کون ظالم ہے اور کون مظلوم۔ یہ طریقہ بظاہر منصفانہ معلوم ہوتا ہے مگر وہ سراسر بے فائدہ ہے۔ اس طرح کے

معاملہ میں اصل اہمیت منطقی انصاف بیان کرنے کی نہیں ہے بلکہ مسئلہ کے حل کی عملی تدبیر ڈھونڈھنے کی اس طرح کے معاملہ میں ہونے والے نقصان کی تلافی عملی تدبیر سے ہوسکتی ہے، نہ کہ منطقی تجزیہ سے۔ قرآن نے اُحد کی جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے یہی عملی طریقہ اختیار کیا ہے۔ آخرت کی عدالت میں بلاشبہ ظالموں کو اُن کا ظلم بتایا جائے گا اور اُس پر انہیں سزا دی جائے گی۔ مگر دنیا میں اس طرح کے موقع پر کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ معاملہ کا عملی حل دریافت کیا جائے تا کہ اُس کے ذریعہ اپنی شکست کو دوبارہ فتح میں تبدیل کیا جا سکے۔

Printed page