دو قسمی سوچ
Al-Risala, July 2002, pp. 57–58
By Maulana Wahiduddin Khan
سوچ کی ایک قسم وہ ہے جس کو نفسیات کی اصطلاح میں ثنائی یا دو قسمی سوچ (dichotomous thinking) کہا جاتا ہے۔ یعنی چیزوں کو بلیک اینڈ وائٹ میں تقسیم کر کے سوچنا۔ طریقہ اکثر اوقات ہلاکت کا باعث ہوتا ہے۔ آدمی کے پاس صرف دو معیار ہوتے ہیں، جب کہ وہاں تیسرا معیار بھی موجود ہوتا ہے۔ مگر آدمی اپنے مخصوص ذہن کی بنا پر دو صورتوں میں بندھار رہتا ہے۔ صورت سے بے خبری کی بنا پر اُس کو استعمال نہیں کر پاتا، جب کہ اسی تیسری صورت میں اس کی نجات چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ مثلاً ایک فرقہ کی طرف سے اس کا مذہبی جلوس نکلتا ہے۔ وہ نعرہ لگاتا ہوا دوسرے فرقہ کے محلے سے گزرتا ہے۔ محلے کے لوگ نعرہ کو اپنے خلاف سمجھ کر اُس پر مشتعل ہو جاتے ہیں۔ نتیجہ میں دونوں فرقوں کے درمیان ٹکراؤ ہو جاتا ہے جو جان اور مال کے بھیانک نقصان پر ختم ہوتا ہے۔ اس مثال پر غور کیجئے۔ محلہ کے لوگ اپنے مخصوص ذہن کی بنا پر معاملہ کو صرف دو رخ سے دیکھ قابل اعتراض نعرہ کو گوارا کرنا یا اس کو بند کرنا۔ چونکہ نعرہ کو گوارا کرنا اُنہیں بزدلی اور بے عزتی معلوم ہوتی ہے اور نعرہ کو بند کرنا اُنہیں ایک بہادرانہ فعل نظر آتا ہے۔ اس لیے وہ نعرہ کو بند کرنے کے لیے اقدام کرتے ہیں تا کہ اپنی مطلوب پسندیدہ چیز کو حاصل کر سکیں۔ مگر نعرہ کو برداشت نہ کرنے کا نتیجہ عملاً یہ نکلتا ہے کہ اُنہیں خونی فساد کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
اس تباہی کا سبب دو قسمی طرز فکر ہے۔ اگر محلے والے یہ جانیں کہ اُن کے لیے ایک تیسری ممکن
صورت بھی ہے، اور وہ ہے نعرہ کو نظر انداز کرنا۔ اگر یہ لوگ اس تیسری صورت پر عمل کریں تو صرف پانچ منٹ کے بعد وہ دیکھیں گے کہ نعرہ لگانے والے اپنے راستہ پر آگے جا چکے ہیں اور اُن کے اشتعال انگیز نعرے فضا میں اس طرح گم ہو چکے ہیں جیسے کہ اُن کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ دانش مند کی پہچان ایک مغربی رائٹر ولیم رالف انگ (William Ralph Inge) نے لکھا ہے کہ ــــــ دانش مند آدمی وہ ہے جو چیزوں کی اضافی حیثیت کو جانے:
A wise man is he who knows the relative value of things. چیزوں کی اضافی حیثیت کا مطلب سادہ طور پر یہ ہے کہ آدمی اپنے عمل کے نتیجہ کو جانے۔ کے نتیجہ سے بے خبری اگر نادانی کا ثبوت ہے تو عمل کے نتیجہ سے باخبر ہونا دانش مندی کا ثبوت۔ ایک شخص کے دوست نے اُس کو دھوکہ دے کر ایک لاکھ روپیہ غصب کر لیا۔ اب اُس آدمی کے اندر انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔ اُس نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے اس سابق دوست کو قتل کر ڈالے۔ آدمی کی ملاقات مجھ سے ہوئی تو میں نے کہا کہ انتقام لینے سے پہلے سوچ لیجیے کہ انتقام کا بھی انتقام لیا آپ اپنے سابق دوست کو قتل کریں گے تو اُس کے بیٹے دوبارہ آپ کو قتل کریں گے۔ طرح دونوں خاندانوں میں دشمنی اور انتقام کا ایک سلسلہ قائم ہو جائے گا۔ میں نے کہا کہ آپ کی ایک غلطی نے آپ کے دوست کو یہ موقع دیا کہ وہ آپ کے مال پر قبضہ اب آپ کے لیے صحیح بات یہ ہے کہ آپ اپنی غلطی کو مانیں اور آئندہ کے لیے اُس کی اصلاح انتقام لینا اپنی ایک غلطی کو مسلسل تباہی کی صورت دینا ہے۔ اور انتقام نہ لینا غلطی کو ابتدائی درجہ ہی میں روک دینا ہے۔ نادان آدمی صرف اپنے اقدام کو جانتا ہے اور دانش مند آدمی اسی کے ساتھ اپنے اقدام کے اضافی نتیجہ کو بھی۔