Al-Risala · July 2002

سیکینڈ چانس

Al-Risala, July 2002, pp. 58–59

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک شخص ایک کمپنی میں مینیجر تھا۔ کمپنی کے مالک سے اس مینیجر کا جھگڑا ہو گیا۔ یہ جھگڑا بڑھتا

اس جھگڑے نے مینیجر کو سخت ذہنی انتشار میں مبتلا کر دیا۔ یہاں تک کہ وہ سوچنے لگا کہ وہ خودکشی مسئلے کو ختم کرنے کے بجائے اُس نے یہ طے کیا کہ وہ خود اپنا خاتمہ کرلے اور اس طرح وہ اس مسئلے سے نجات حاصل کرے۔

مجھ سے ملاقات ہوئی تو میں نے اُن سے کہا کہ آپ خودکشی کیوں کرنا چاہتے ہیں۔ لیے زندگی کے راستے کھلے ہوئے ہیں۔ پھر موت کا راستہ اختیار کرنے کی کیا ضرورت۔ میں نے کہا کہ آپ نے بظاہر صرف فرسٹ چانس کو کھویا ہے، سیکنڈ چانس پھر بھی آپ کے لیے موجود ہے۔ ایسا کیجیے کہ اپنی جگہ بدل لیجیے۔ آپ کسی دوسرے شہر میں چلے جائیے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اپنی صلاحیت کی بنا پر دوسرے شہر میں اپنے لیے اچھے مواقع پالیں گے۔ یہ مشورہ دینے کے بعد میں نے اُن کی ڈائری میں یہ الفاظ لکھے: ’’باغ کا مالی کبھی باغ کے ایک پودے کو اپنی جگہ سے اُکھاڑتا ہے، صرف اس لیے تا کہ وہ اُس کو دوسری زیادہ بہتر جگہ پر نصب کرے۔ انہوں نے میرا مشورہ مان لیا اور کمپنی سے استعفا دے کر ایک اور شہر میں چلے گئے۔ وہ کاروبار کر رہے ہیں۔ پہلے کے مقابلہ میں اب وہ معاشی اعتبار سے بہت زیادہ بہتر ہیں۔ ہر آدمی کی زندگی میں وہ وقت آتا ہے جب کہ وہ کسی محرومی کا تجربہ کرتا ہے۔ جو لوگ محرومی کو صرف ایک محرومی سمجھیں وہ نئی کوشش کے ذریعہ اپنے آپ کو دوبارہ کامیاب کر لیتے ہیں۔ اور جو لوگ محرومی کو مستقل نا کامی سمجھ لیں وہ پست ہمت ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اُن کے اندر دوبارہ کوئی نیا عمل کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔ یہ دونوں حالتیں آدمی کی اپنی سوچ پر منحصر ہیں۔ ایک قسم کی سوچ آدمی کو ناکام بنا دیتی ہے اور دوسری قسم کی سوچ اُس کو کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔

Printed page