Al-Risala · July 2002

مشکل آسان ہوگئی

Al-Risala, July 2002, pp. 59–60

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دس ہزار سے زیادہ اصحاب کے ساتھ مکہ سے طائف جا رہے درمیان میں ایک پہاڑی راستہ آیا جو بظاہر کشادہ نہ تھا۔ آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ راستہ کیسا لوگوں نے راستہ کو اس کی حیثیت ظاہری (face value) پر لیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تنگ راستہ

بظاہر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ دس ہزار سے زیادہ آدمیوں کا یہ قافلہ اس تنگ راستہ سے گزر نہیں سکے گا۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، یہ ہمارے لیے ایک کشادہ راستہ ہے۔ اور پھر آپ نے یہ تدبیر بتائی کہ تم لوگ مجمع کی صورت میں اس راستے سے گزرنا چاہتے ہو اس لیے تم کو یہ راستہ تنگ دکھائی دیتا ہے۔ بیک وقت پورے مجمع کو اُس سے گزرنا ہو تو وہ ہمارے لیے تنگ ہی ثابت ہو گا۔ اب تم ایسا کرو کہ آگے پیچھے ہو کر قطار بنالو۔ چنانچہ لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ اب وہ آسانی کے ساتھ چلتے ہوئے اس راستہ سے گزر گئے۔ مجمع کی صورت میں جو راستہ تنگ دکھائی دے رہا تھا قطار کی صورت میں وہ ایک کشادہ راستہ بن گیا۔ یہ سوچ کا فرق ہے۔ اس دنیا میں سب کچھ سوچ پر منحصر ہے۔ غلط سوچ آسان کو مشکل بنا دیتی ہے اور صحیح سوچ مشکل کو آسان کر دیتی ہے۔ سوچ کے اس فرق کا تعلق زندگی کے چھوٹے معاملات سے بھی ہے اور بڑے معاملات سے بھی۔ اْس کا تعلق گھریلو مسائل سے بھی ہے اور قومی اور بین اقوامی مسائل سے بھی۔

Printed page