Al-Risala · July 2002

غلط سوچ کا نقصان

Al-Risala, July 2002, pp. 60–62

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۹۳۰ء میں الٰہ آباد میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس ہوا۔ علامہ اقبال اس وقت لاہور میں وہ الٰہ آباد آئے اور اس اجلاس کی صدارت کی۔ اقبال نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ غیر منقسم ہندوستان میں مسلمان اپنی شناخت کو محفوظ نہ رکھ سکیں گے اس لیے ہندوستان جب آزاد ہو تو یہاں کے مسلم اکثریتی علاقہ میں ان کا علیحدہ مسلم لینڈ بنایا جائے۔ یہ تجویز بعد کو پاکستان کے نام سے مسلمانوں میں مقبول یہاں تک کہ ۱۹۴۷ء میں برصغیر ہند سے الگ ایک مسلم علاقہ پاکستان کے نام سے وجود میں آگیا۔ علیحدہ مسلم خطہ کا یہ تصور دوسرے مسلم مفکرین نے بھی اختیار کر لیا۔ اور اس تصور پر مبنی بہت سی تحریکیں دنیا کے مختلف حصوں میں وجود میں آگئیں۔ ان تحریکوں کو ایک لفظ میں پاکستانائزیشن (Pakistanization) کہا جا سکتا ہے۔

اس کے بعد یہ ہوا کہ جس ملک میں بھی کوئی ایسا سرحدی خطہ تھا جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی وہاں پاکستانائزیشن کی یہ تحریک شدّت کے ساتھ ابھر آئی۔ ہر جگہ ایسے لیڈر پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی

پر جوش تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ مسلمانوں میں علیحدگی پر مبنی جذباتی سیاست کو فروغ دیا۔ سلسلہ میں مثال کے طور پر برما، فلپائن، ابی سینیا، چین، یوگوسلاویا، وغیرہ کا نام لیا جاسکتا ہے۔ یہ علاقائی مسلم لیڈر اپنے پاکستانائزیشن کے خیالی تصور میں دیوانگی کی حد تک پر جوش تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی تفریقی سیاست کو پر امن طریقہ کار تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس کو مسلح جدوجہد(armed struggle) کے دائرہ کی خونیں حد تک پہنچادیا۔ پاکستانائزیشن کی یہ پر تشدد تحریکیں ہر جگہ ناکامی سے دوچار ہوئیں۔ اس نے مسلمانوں کے مسائل میں اضافہ کے سوا کچھ اور کارنامہ انجام نہیں دیا۔ پاکستانائزیشن کی یہ تباہ کن تحریک کیوں کر ساری مسلم دنیا میں مقبول ہوگئی۔ اس کا سبب اس دور کے مسلم رہنماؤں کی ایک خلاف زمانہ سوچ(anachronistic thinking) تھی۔ وہ زمانہ کی نئی تبدیلیوں کو سمجھ نہ سکے۔ ایک ایسے دور میں جب کہ ساری دنیا ایک ہو کر گلوبلائزیشن(Globalisation) کے دور میں داخل ہو رہی تھی، عین اسی زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے زمانہ سے اپنی بے خبری کے نتیجہ میں پاکستانائزیشن کی صورت میں برعکس تحریکیں چلا دیں۔ یہ تحریکیں زمانی چٹان سے ٹکرانے کے ہم معنی اس لئے اس قسم کی تحریکوں کا وہی منفی انجام ہوا جو اول دن سے ان کے لئے مقدر تھا۔ جدید زمانی تبدیلیوں نے پچھلے ہر دور سے زیادہ باہمی اختلاط(interaction) کی اہمیت بڑھا مگر مسلم لیڈر انتہائی نادانی کے ساتھ اس کے سراسر برعکس اپنی تحریکیں چلا رہے تھے۔ تجربات آخری طور پر ثابت کر چکے تھے کہ ترقی کا لازمی ذریعہ چیلینج اور مسابقت(competition) ہے، مگر یہ مسلم لیڈر نہایت سرگرمی کے ساتھ مسلمانوں کے لیے ایک ایسی دنیا بنانے میں مشغول تھے جہاں ان کے لیے نہ چیلینج ہواور نہ مسابقت کا ماحول۔ جدید تبدیلیوں نے ترقی کے جو اعلیٰ مواقع کھولے تھے ان سے یہ ثابت ہو رہا تھا کہ وسیع مشترک عمل سے ہی بڑی ترقیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ مگر یہ مسلم لیڈر مسلمانوں کے لیے ایسا سیاسی جزیرہ بنانے کو اپنا کارنامہ سمجھ رہے تھے جہاں وہ مشترک کثیر بین اقوامی تعاون سے محروم ہوگئے ہوں۔

جدید کمیونی کیشن نے جغرافی علیٰحدگی کے تصور کو سراسر غیر ضروری قرار دے دیا تھا۔ مگر یہ مسلم

لیڈر اس تبدیلی سے بے خبر ہو کر مضحکہ خیز حد تک بے فائدہ تحریکوں میں اپنا وقت اور مال ضائع کرتے زمانہ نے آزادی اور جمہوریت کی صورت میں ایک عظیم امکان کھولا تھا جو شخصی حکومت کے بجائے عمومی اشتراک طاقت (power sharing) کے اصول قائم تھا۔ مگر ان مسلم لیڈروں نے نہ اس امکان کو سمجھا اور نہ وہ اس کو استعمال کرنے میں کامیاب ہو سکے۔

جدید تبدیلیوں نے ایک نیا موافق امکان کھولا تھا جس کو اداراتی دور (age of institutions) کہا جا سکتا ہے۔ قدیم شاہی زمانہ کے برعکس، اب حکومت صرف ایک منتظمہ (administration) کے محدود سیاسی دائرہ میں سمٹ آئی تھی۔ اس کے سوا ہزاروں نئے شعبے ایسے پیدا ہو گئے تھے جن میں ادارے (institutions) قائم کر کے حکومتی رتبہ سے بھی بڑا رتبہ حاصل کیا جاسکتا تھا، مثلاً تعلیم، اقتصادیات، میڈیا وغیرہ وغیرہ۔ مگر یہ مسلم لیڈر شعوری طور پر اس جدید امکان سے باخبر ہی نہ تھے پھر وہ اس کو استعمال کس طرح کرتے۔

Printed page