چھوٹا شر
Al-Risala, July 2002, pp. 63–64
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت عمر فاروق کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے:۔ (لیس العاقل الذی يعرف الخير من الشر ولكنه الذى يعرف خير الشرين۔ (العبقريات الاسلامیہ، ۵۰۵) عقل مند وہ نہیں ہے جو یہ جانے کہ خیر کیا ہے اور شر کیا ہے، بلکہ عقل مند وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر میں سے کون سا شر بہتر ہے۔ حضرت عمر فاروق کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی آدمی کے پاس صرف دو فہرست ہو، ایک اُن چیزوں کی فہرست جو خیر ہیں، اور دوسری اُن چیزوں کی فہرست جو شر ہیں، ایسا آدمی عالم تو ہوسکتا ہے مگر وہ عاقل نہیں ہوسکتا۔ عاقل یا دانش مند ہونے کے لیے آدمی کو ایک اور چیز سے واقفیت ہونی چاہئے، اور وہ خیر الشرین ہے، یعنی دو شر میں سے۔ یہ جاننا کہ دو شر میں سے کون سا شر نسبتاً کم نقصان والا ہے، یا چھوٹی برائی (lesser evil) کی حیثیت رکھتا ہے۔
مثلاً آپ کے گھر کے سامنے کچھ لوگ قابلِ اعتراض نعرے لگارہے ہوں تو ایک شر اُن کی یہ نعرہ بازی ہے۔ دوسرا امکانی شر یہ ہے کہ اگر آپ انہیں روکیں یا اُن سے نزاع کریں تو وہ مزید مشتعل ہو کر فساد برپا کریں گے اور جان و مال کا نقصان پہنچائیں گے۔ اب عقل مند آدمی وہ ہے جو ٹھنڈے ذہن سے سوچ کر یہ سمجھے کہ دونوں قسم کے شر میں سے کون سا شر بڑا ہے اور کون سا شر چھوٹا ۔ اور پھر وہ چھوٹے شر کو برداشت کرلے تا کہ اُس کو بڑا شر برداشت نہ کرنا پڑے۔
عام آدمی معاملات میں صرف دو چیزوں کو جانتا ہے__ خیر کے پہلو کو اور شر کے پہلو کو۔
دانش مند آدمی وہ ہے جو شر کو دو قسموں میں تقسیم کر سکے، اور پھر دونوں میں سے جو شر مقابلہ خیر یا بالفاظ دیگر، کم ضرر رساں ہو اُس کو گوارا کرلے تا کہ وہ زیادہ بڑے شر سے بچ سکے۔