Al-Risala · July 2002

تحمل کی طاقت

Al-Risala, July 2002, pp. 64–67

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک شہر کے دو آدمیوں میں اَن بن تھی۔ ایک دن ایسا ہوا کہ دونوں کی ملاقات ایک سڑک پر مسٹر الف دیکھتے ہی مسٹر ب پر برس اُٹھے۔ اُن کے پاس جتنے سخت الفاظ تھے وہ سب اُنہوں نے مسٹر ب پر خرچ کر ڈالے۔ مسٹر ب خاموش ہو کر اُن کی بات سنتے رہے۔ مسٹر الف دیر تک بولنے کے بعد جب چُپ ہوئے تو مسٹر ب نے کسی ردِّ عمل کے بغیر بالکل نارمل انداز میں مسٹر الف سے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ تھک گئے ہیں، آئیے ریستوراں میں چل کر چائے پیئیں۔ اس کے بعد دونوں قریب کے چائے خانہ میں گئے۔ چائے پیتے پیتے مسٹر الف کا غصہ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ آخر میں مسٹر الف نے مسٹر ب سے معافی مانگی اور یہ وعدہ کیا کہ آئندہ وہ کبھی کسی کے ساتھ ایسا نہیں کریں گے۔ جب کوئی شخص اشتعال انگیز بات کرے تو عام طور پر سننے والا غصہ ہو جاتا ہے۔ وہ جوابی اشتعال کے ذریعہ اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر یہ طریقہ آگ کو آگ کے ذریعہ بجھانے کے ہم معنی صحیح طریقہ یہ ہے کہ آگ کو پانی کے ذریعہ بجھایا جائے ۔ غُصہ کا جواب ضبطِ تحمل کے ذریعہ دینے کی کوشش کی جائے۔ تحمل صرف ایک اخلاقی صفت نہیں، اس سے بڑھ کر تحمل ایک طاقت اور تدبیر ہے۔ اشتعال کے جواب میں جب آپ غصہ ہو جائیں تو آپ اپنی سب سے بڑی صلاحیت، یعنی عقل کو کھو آپ اس قابل نہیں رہتے کہ آپ اپنی عقل کو استعمال کر کے گہرائی کے ساتھ معاملہ کو سمجھیں اور زیادہ کار گر انداز میں اپنا دفاع کریں۔ غضب ناک آدمی صرف منفی ردِّ عمل کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔ کے برعکس جو آدمی غصہ دلانے کے باوجود غصہ نہ ہو وہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ غصہ کے جواب میں مثبت عمل کا ثبوت دے سکے، اور مثبت عمل بلا شبہ منفی عمل کے مقابلہ میں ہزار گنا زیادہ مؤثر اور کامیاب ہے۔ موجودہ زمانہ کا شاید سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آج کسی بھی انسان کو ذہنی سکون حاصل نہیں۔

تقریباً ہر آدمی ذہنی تناؤ اور فکری الجھن میں مبتلا ہے۔ خواہ وہ امیر ہو یا غریب، خواہ وہ سامان والا ہو یا بے سرو سامان والا۔ پچھلے سال بنگلور کے ایک کمپیوٹر انجینئر کو اس کی ایک ایجاد پر امریکہ کی طرف سے 750 ملین ڈالر اچانک مل گئے۔ مگر اس غیر معمولی دولت نے اس کو ذہنی پریشانی میں مبتلا کر دیا۔ یہاں تک کہ صرف ایک سال کے اندر اس کا یہ حال ہوا کہ اس کی نیند ختم ہو گئی اور رات کے وقت وہ نیند کی گولیاں کھا کر سونے لگا۔ موجودہ دنیا کے بیشتر لوگوں کا حال کم و بیش یہی ہے، خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے ۔ اس مسئلہ کا عام طور پر حل بتایا جاتا ہے۔ ایک یہ کہ زیادہ سے زیادہ دولت کماؤ تا کہ زیادہ سے زیادہ راحت کے سامان حاصل کر سکو۔ مگر تجربہ واضح طور پر اس کی تردید کرتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے بے شمار دولت کمائی اور راحت اور آرام کے تمام سامان اپنے پاس اکٹھا کر لئے۔ مگر ان سب کے باوجود وہ سکون اور چین سے محروم رہے یہاں تک کہ وہ مر کر اس دنیا سے چلے گئے۔ اصل یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے معیار پسند (perfectionist) ہے۔ موجودہ دنیا ہر اعتبار سے غیر معیاری (imperfect) ہے۔ اس صورت حال نے انسان اور موجودہ دنیا کے درمیان ایک تضاد پیدا کر دیا ہے۔ اسی تضاد کا یہ نتیجہ ہے کہ کوئی انسان ہر قسم کے دنیوی سامان کو حاصل کرنے کے باوجود مطمئن نہیں ہوتا۔ دنیا کی ہر چیز اس کو اپنے ذہنی معیار سے کم تر معلوم ہوتی اس لئے وہ ان کو پا کر بھی مطمئن نہیں ہوتا۔ بظاہر راحت کے سامان کے درمیان بھی وہ ہمیشہ ایک قسم کے غیر شعوری عدم اطمینان میں مبتلا رہتا ہے۔ فطرت کا یہ قانون ثابت کرتا ہے کہ دنیوی راحت کے سامانوں میں ذہنی سکون تلاش کرنا ایک ایسا بے سود عمل ہے جو کبھی کارآمد بننے والا ہی نہیں۔ دوسرا حل وہ ہے جو خاص طور سے یوگا کے مبلغین کی طرف سے بتایا جاتا ہے۔ لوگوں نے ملک کے اندر اور ملک کے باہر بہت سے میڈیٹیشن سینٹر قائم کئے ہیں۔ یہاں دھیان اور میڈیٹیشن کے ذریعہ لوگوں کو ذہنی سکون کی تربیت دی جاتی ہے۔ اُن کا طریقہ یہ ہے کہ مخصوص مراقبہ کے ذریعہ انسانی ذہن میں سوچ کے عمل کو معطل کر دیا جائے تاکہ وہ پریشانی کو شعوری طور پر محسوس کرنے کے قابل ہی نہ رہے۔ مگر اس قسم کا ذہنی سکون حقیقتاً ذہنی تخدیر (mental anesthesia)

کے ہم معنی ہے۔ یہ انسان کی اعلیٰ فکری صلاحیت کو کند کرکے اس کو بے حس حیوان کی سطح پر پہنچا دیتا اس قسم کا ذہنی سکون، اگر بالفرض حاصل بھی ہو جائے تب بھی وہ یقینی طور پر غیر مطلوب چیز ہے۔ کیوں کہ جو چیز انسان کی اعلیٰ فکری صلاحیت کو دبا دے وہ گویا انسان کو کو ما (coma) کی حالت میں ایسا ذہنی سکون انسانی موت ہے، نہ کہ انسانی زندگی۔

میڈیٹیشن (meditation) کا طریقہ فطرت کے نظام کی تردید ہے فطرت نے انسان کو جو سب سے اعلیٰ چیز دی ہے وہ اس کا دماغ (mind) ہے فطرت کے نقشے کے مطابق، دماغ کے لئے پریشانیوں کا پیش آنا کوئی برائی کی بات نہیں ۔ یہ دراصل زحمت میں رحمت (blessing in disguise) ہے۔ نے انسان کی ذہنی ترقی کے لئے شاک ٹریٹمنٹ کا طریقہ رکھا ہے۔ ایسی حالت میں شاک ٹریٹمنٹ کے عمل کو ختم کرنا انسان کے لیے اُس کی ذہنی ترقی کے دروازہ کو بند کرنا ہے۔ اس اعتبار سے یہ طریقہ فطرت کے نظام کے خلاف ہے اور جو چیز فطرت کے نظام کے خلاف ہو وہ اپنے آپ قابل رد ہو جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذہنی پریشانی (mental tension) کے مسئلہ کا حل ذہنی پریشانی کو ختم کرنا نہیں ہے بلکہ اس کو مینیج (manage) کرنا ہے۔ فکری تدبیر کے ذریعہ اس کو اس طرح غیر مؤثر کر دینا ہے کہ وہ عملاً تو انسان کے لئے پیش آئے مگر وہ انسان کے ذہنی سکون کو برہم (disturb) نہ کر سکے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے ایک مثال لیجئے ۔ دہلی میں ایک ۳۰ سالہ نوجوان ہیں جو ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں مینیجر ہیں۔ ان کو وہاں ۷۵ ہزار روپیہ مہینہ ملتا ہے اور دوسری سہولتیں حاصل ہیں۔ چونکہ ان کمپنیوں میں ہائر اینڈ فائُر کا اصول ہے، اس لئے وہ ہمیشہ ذہنی پریشانی میں مبتلا رہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ کو ہمیشہ سروس سے محرومی کا اندیشہ (fear of loosing job) ستاتا رہتا ہے، نہ دن کو سکون رہتا ہے اور نہ رات کو۔ میں نے انہیں سمجھایا اور کہا کہ میں آپ کو ایک فارمولا دیتا ہوں، اگر آپ اس کو پکڑ لیں تو آپ کا ذہنی سکون کبھی برہم ہونے والا نہیں ـــــ ایک شخص آپ کا روزگار چھین سکتا ہے مگر وہ کبھی آپ کی قسمت کو آپ سے چھین نہیں سکتا :

One can take away your job. But no one has the power to take away your destiny.

مذکورہ نوجوان نے اس فارمولا کو پکڑ لیا۔ کچھ دنوں کے بعد وہ دوبارہ ملے اور انہوں نے کہا کہ اب مجھے پوری طرح ذہنی سکون حاصل ہو گیا ہے۔ اب میں اطمینان کے ساتھ سوتا ہوں اور اطمینان کے ساتھ دن گزارتا ہوں۔ اسی طرح ہر آدمی اپنی ذہنی پریشانی کو پہنچ کر کے اس کو ڈیفیوز کر سکتا ہے۔ ذہنی پریشانیوں کے باوجود ذہنی سکون کی زندگی حاصل کر سکتا ہے، بغیر اس کے کہ وہ اپنی اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں سے محروم ہوا ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان کا دماغ اتھاہ صلاحیتوں کا خزانہ ہے۔ تمام ذہنی پریشانیوں کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال نہ کر سکنا۔ اسی طرح تمام ذہنی پریشانیوں کا حل بھی صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بروقت استعمال کر لینا ۔ ایک بڑے شہر کے ایک تاجر ہیں۔ انہوں نے ایک سامان (production) تیار کیا۔ انہوں نے پچاس لاکھ روپے لگا دیئے ۔ سامان جب تیار ہوا تو اس کے بعد اچانک مارکیٹ میں اس کی مانگ ختم ہوگئی۔ مجبوراً انہیں اپنے سامان کو گودام میں رکھ دینا پڑا۔ اس حادثہ کا اُن پر اتنا زیادہ اثر ہوا کہ وہ بیمار پڑ گئے ۔ ان کا بلڈ پریشر بڑھ گیا۔ راتوں کی نیند غائب ہو گئی۔ وہ اعصابی کمزوری کا شکار ہو گئے۔ اُن سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں سمجھایا۔ میں نے کہا کہ آپ اس معاملہ کو صرف حال (present) کے اعتبار سے دیکھتے ہیں۔ آپ اپنی اس سوچ کو بدل لیجے اور معاملہ کو مستقبل (future) کے اعتبار سے دیکھنا شروع کر دیجئے ۔ آپ سادہ طور پر صرف اتنا کیجئے کہ اس معاملہ کو انتظار (wait and see) کے خانہ میں ڈال دیجئے ۔ انہوں نے میری نصیحت پکڑ لی۔ اس کے تقریباً دو سال بعد اُن کا خط آیا جس میں انہوں نے خوشی کے ساتھ لکھا تھا کہ میرا تمام سامان نفع کے ساتھ فروخت ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز کا انحصار سوچنے کے طریقہ پر ہے۔ اگر آپ ایک طریقہ سے سوچیں تو آپ کا ذہن ایک ڈھنگ کا بنے گا اور اگر آپ دوسرے طریقہ سے سوچیں تو آپ کا ذہن دوسرے ڈھنگ پر کام کرنے لگے گا۔ اس طرح ہر مایوسی کو اعتماد میں بدلا جا سکتا ہے اور ہر پست ہمتی کو بلند ہمتی میں۔

Printed page