Al-Risala · January 2002

سجدہ قربت

Al-Risala, January 2002, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۹۶ میں ارشاد ہوا ہے: واسجد واقترب (العلق (۱۹) یعنی تم سجدہ کرو اور اللہ کے قریب ہو جاؤ۔ اس آیت کی وضاحت ایک حدیث سے ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أقرب ما يكون العبد من ربه و أحبه اليه ما كانت جبهته في الأرض ساجدا لله (مسلم کتاب الصلاۃ، النسائی کتاب المواقیت، الترمذی کتاب الدعوات، مسند احمد) یعنی بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب اور سب سے زیادہ محبوب اس وقت ہوتا ہے جب کہ اس کی پیشانی زمین پر ہو، اللہ کے لیے سجدہ کرتے ہوئے۔

سجدہ کیا ہے۔ سجدہ آدمی کی داخلی حالت کا ایک خارجی اظہار ہے۔ سجدہ اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ آدمی کے دل میں اپنے رب کی عظمت کا شدید احساس طاری ہوا۔ وہ اللہ کے کمال قدرت کے مقابلہ میں اپنے کمال عجز کو سوچ کر تڑپ اٹھا۔ اس کی یہ داخلی کیفیت جسمانی اعتبار سے اس حالت میں ڈھل گئی کہ وہ سجدہ کرتے ہوئے زمین پر گر پڑا جو کہ سر فگندی کی آخری اور انتہائی

سجدہ عجز انسانی کی تصویر ہے۔ سجدہ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے اپنے آپ کو آخری حد تک اللہ کے آگے ڈال دیا۔ اس نے اپنے پورے وجود کو اللہ کے حوالہ کر دیا۔ اس نے اپنے عجز اور اللہ کی قدرت کا آخری حد تک اعتراف کر لیا۔ جب کوئی انسان اپنے آپ کو ابدیت کے اس درجہ تک پہنچادے تو اس کے بعد بندہ اور خدا کے درمیان کوئی فاصلہ باقی نہیں رہتا۔ اس کے بعد اللہ اس کا ہو جاتا ہے اور وہ اللہ کا۔ سجدہ کا یہ فائدہ اس کے ظاہر کی بنا پر نہیں ہے بلکہ ساجد کی داخلی کیفیت کی بنا پر ہے۔ ظاہری صورت کی حیثیت علامت کی ہے۔ سجدہ ایک با معنی ربانی عمل ہے۔ حقیقی سجدہ وہ ہے جب کہ آدمی کے جسم کے ساتھ اس کا دل، اس کی روح اور اس کا دماغ بھی اللہ کے آگے گر پڑا ہو۔ جھکانے کے ساتھ اس نے اپنے پورے وجود کو اللہ کے آگے جھکا دیا ہو۔

Printed page