Al-Risala · July 2002

آئیڈیل یا پریکٹیکل

Al-Risala, July 2002, pp. 68–73

By Maulana Wahiduddin Khan

اکثر لوگ صرف اس لیے نقصان اٹھاتے ہیں کہ وہ آئیڈیل اور پریکٹیکل میں فرق نہیں کرتے۔ وہ چیزوں کو آئیڈیل کے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں اور جب وہ اُن کے آئیڈیل پر پورا نہیں اُترتا تو وہ اُن کو رد کر دیتے ہیں۔ مگر یہ سراسر نادانی کی بات ہے۔ موجودہ دنیا میں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو آئیڈیل بیشتر حالات میں اس دنیا میں پریکٹیکل پر راضی ہونا پڑتا ہے۔ یہ کوئی کم ہمتی کی بات نہیں، یہ فطرت کا قانون ہے اور اس دنیا میں فطرت کے قانون کو قبول کرنا پڑتا ہے، نہ کہ اُس سے ٹکرانا۔ اصول انفرادی زندگی کے لیے بھی کارآمد ہے اور اجتماعی زندگی کے لیے بھی۔

اس معاملہ کی ایک مثال یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں جو نئے انقلابی تصورات دنیا میں رائج ہوئے اُن میں سے ایک وہ تھا جس کو سیکولرزم (secularism) کہا جاتا ہے۔ یہ نیا سیاسی نظریہ جب دنیا میں آیا تو موجودہ زمانہ کے اسلام پسند رہنماؤں نے اُس کو رد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیکولرزم اسلام کے خلاف ہے، بلکہ وہ اسلام سے اصولی بغاوت ہے۔ اپنے اس ذہن کی بنا پر انہوں نے سیکولرزم کا ترجمہ لادینیت کیا۔ حالانکہ یہ ترجمہ ہرگز درست نہیں۔

موجودہ زمانہ میں مسلم ملکوں میں ہر جگہ مغربی طرز پر تعلیم پائے ہوئے لوگ حکومت کر رہے وہ سیکولر نظام حکومت کے حامی تھے۔ اس بنا پر تمام اسلام پسندوں نے اُن کے خلاف نظری اور عملی جنگ چھیڑ دی۔ ہر مسلم ملک کے مسلمان سیکولر طبقہ اور اسلام پسند طبقہ میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کے خلاف لڑنے لگے۔ اس بے فائدہ جنگ میں مسلمانوں کو اتنا زیادہ نقصان پہنچا جو پوری مسلم تاریخ میں شاید مسلمانوں کو نہیں پہنچا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ سیکولرزم کوئی مذہبی عقیدہ نہیں۔ سیکولرزم کا مطلب لامذہبیت نہیں بلکہ مذہب کے بارے میں غیر جانبدارانہ پالیسی اختیار کرنا ہے۔ یہ ایک عملی تدبیر ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مذہبی نزاع سے بچتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی امور میں مشترک بنیاد پر ملک کا نظام چلایا جائے۔ یہ سیکولرزم اسلام اور اہل اسلام کے حق میں انتہائی مفید تھا۔ وہ لوگوں کو یہ موقع دے رہا تھا کہ

مسلم اور غیر مسلم دونوں قسم کے ملکوں میں یکساں طور پر اسلام کے مقاصد کے لیے عمل کیا جاسکے۔ مدارس و مساجد کی تنظیم، تعمیری اداروں کا قیام، تعلیم و تربیت، دعوت و تبلیغ، اس قسم کے تمام شعبے مکمل طور پر اہل اسلام کے لیے کھلے ہوئے تھے۔ وہ اُن کو استعمال کرکے ہر ملک میں اسلام کا ایمپائر بنا سکتے یہ ایمپائر اگر چہ غیر سیاسی ہوتا مگر وہ بالواسطہ انداز میں سیاسی نظام پر بھی اثر انداز ہو سکتا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما سیکولرزم کو آئیڈیل کے معیار پر جانچ کر اُس کے دشمن بنے حالانکہ اگر وہ عملی (پریکٹیکل) بنیاد پر اُس کو دیکھتے تو وہ اُس کو خدا کی ایک نعمت سمجھتے اور ایک عظیم موقع کی حیثیت سے اُس کو استعمال کرتے۔

اس معاملہ کا ایک اور اس سے بھی زیادہ بڑا نقصان ہے۔ سیکولرزم کو لادینی اور طاغوتی نظریہ قرار دے کر اُس سے لڑنا سراسر غیر حقیقت پسندانہ تھا۔ وہ فطرت کے نظام کے خلاف تھا۔ وہ پریکٹیکل بنیاد پر چلنے والی دنیا میں آئیڈیل بنیاد پر زندگی گزارنے کا غیر عملی پروگرام تھا۔ اس لیے وہ فطری طور پر نا کام ہو گیا۔ اب یہی لوگ عملاً ساری دنیا میں عین اُسی سیکولر نظام کے تحت پُرسکون زندگی گزار رہے ہیں جس کو انہوں نے اس سے پہلے غیر اسلامی قرار دے کر رد کر دیا تھا اور اس کے تحت زندگی گزارنے کو ناجائز بتایا تھا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جس سیکولرزم کو وہ اصولی طور پر اختیار نہ کر سکے تھے اُس کو انہوں نے منافقانہ طور پر اختیار کر لیا۔ دو عملی کی یہ روش بلاشبہ تمام برائیوں میں سب سے زیادہ بڑی برائی ہے۔ مقصد کی حفاظت قرآن کی سورہ نمبر ۲۲ میں ارشاد ہوا ہے: اور ہم نے ہر امت کے لیے ایک طریقہ مقرر کیا کہ وہ اس کی پیروی کرتے تھے۔ پس وہ اس معاملہ میں تم سے نزاع نہ کریں۔ اور تم اپنے رب کی طرف یقیناً تم سیدھے راستہ پر ہو۔

وہ تم سے نزاع نہ کریں، کا مطلب یہ ہے کہ تم اُن کو نزاع کا موقع نہ دو۔ فریق ثانی سے نزاع میں پڑنے کی قیمت یہ ہے کہ دعوت کا موضوع بدل جائے۔ اس کے برعکس نزاع سے اعراض کا یہ فائدہ ہے کہ دعوت کا اصل نکتہ دونوں کے درمیان زیر بحث رہے۔ داعی کے مفاد میں یہ ہے کہ امر رب دونوں

فریقوں کے درمیان مکالمہ (dialogue) کا موضوع ہو، نہ کہ امر غیر رب۔ باہمی مکالمہ کو اصل نکتہ سے ہٹنے نہ دینا داعی کے مفاد میں ہے اس لیے داعی کو یہ قیمت دینا ہے کہ وہ یک طرفہ اعراض کے ذریعہ اس موافق صورت حال کو برقرار رکھے۔

مولانا محمد الیاس صاحب (بانی تبلیغی جماعت) اپنی تحریک کے ابتدائی زمانہ میں میوات گئے۔ ایک دیہاتی اپنے کھیت کے کنارے کھڑا ہوا تھا۔ مولانا نے اُس سے کلمہ پڑھنے کے لیے کہا۔ اس قسم کی بات سے مانوس نہ تھا۔ وہ غصہ ہو گیا اور مولانا کو دھکیل دیا۔ مولانا زمین پر گرپڑے۔ بعد مولانا خاموشی کے ساتھ دوبارہ اُٹھے اور کسی بھی شکایت کے بغیر انہوں نے دیہاتی سے کہا کہ میں بھی کلمہ پڑھتا ہوں اور تم بھی اُس کو دہراؤ۔

مولانا محمد الیاس صاحب کی یہ مثال مذکورہ معاملہ کو اچھی طرح واضح کرتی ہے۔ صاحب اگر مذکورہ دیہاتی کی غلط روش کی شکایت کرتے تو موضوع گفتگو بدل جاتا۔ انہوں نے اُس کی اس روش کو یکسر نظر انداز کیا تا کہ دونوں کے درمیان صرف دین ہی موضوع بحث رہے، کوئی غیر متعلق چیز اس میں حائل نہ ہو سکے۔

اس طرح کے معاملہ میں سوچنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ فریق ثانی کی زیادتیوں کو اہمیت دینا اور اس کے خلاف شکایت واحتجاج کرنا۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ فریق ثانی کی زیادتی کو نظر انداز کیا جائے اور اُس کو صبر واعراض کے خانہ میں ڈال دیا جائے۔ پہلی روش کا نقصان یہ ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان موضوع بحث بدل جاتا ہے۔ جب کہ دوسرے طریقہ کا فائدہ یہ ہے کہ موضوع بحث کا سلسلہ نہیں ٹوٹتا۔ اصل قابل بحث نکتہ ہی دونوں کے درمیان بلا انقطاع بحث کا موضوع بنارہتا ہے۔ معاملہ برابر ہو گیا دوسری عالمی جنگ میں امریکہ اور جاپان ایک دوسرے کے حریف تھے۔ دونوں ایک دوسرے کو نقصان پہنچارہے تھے۔ اس کا خاتمہ اس طرح ہوا کہ امریکہ نے ۱۹۴۵ء میں جاپان کے اوپر دو ایٹم بم گرادیئے۔ اس کے نتیجہ میں جاپان کے دو صنعتی شہر تباہ ہوگئے۔ اس واقعہ نے عام جاپانیوں کو سخت

غصہ کر دیا، وہ امریکہ سے انتقام کی باتیں کرنے لگے۔

یہ ایک بے حد نازک موقع تھا۔ جاپان اگر انتقام کے راستہ پر چلتا تو وہ اُس کے لیے صرف مزید تباہی کا سبب بنتا۔ مگر اْس وقت جاپان کے رہنماؤں اور دانشوروں نے ایسی باتیں کیں جنہوں نے جاپانیوں کے ذہن کو منفی رخ سے ہٹا کر مثبت رُخ پر ڈال دیا۔ انہوں نے کہا کہ ۱۹۴۵ میں اگر امریکہ نے ہمارے شہر (ہیروشیما اور ناگاساکی) کو تباہ کیا ہے تو ہم بھی اس سے پہلے ۱۹۴۱ء میں اُن کے بحری مرکز پرل ہاربر کو تباہ کر چکے ہیں۔ اس طرح دونوں کے درمیان معاملہ برابر ہوگیا۔ اب تم اس کو بُھلا دو اور جاپان کی نئی تعمیر میں لگ جاؤ۔ اس متوازن سوچ کا نتیجہ یہ ہوا کہ جاپان چالیس سال کے اندر پہلے سے بھی زیادہ طاقتور مُلک بن گیا۔

جب بھی دو فریقوں کے درمیان نزاع کی صورت پیدا ہوتی ہے تو ہر فریق کی سوچ یک طرفہ رُخ پر چلنے لگتی ہے۔ ہر فریق یک طرفہ طور پر صرف دوسرے فریق کی زیادتیوں کو یاد رکھتا ہے اور اْس کو بیان کرتا ہے۔ اس طرزِ فکر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی سوچ غیر متوازن ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے حصہ کی زیادتی کو بھلا کر صرف دوسرے کے حصہ کی زیادتی کو یاد رکھتے ہیں۔ سوچنے کا یہ طریقہ ہمیشہ تباہ کُن ثابت ہوتا ہے، افراد کے لیے بھی اور قوموں کے لیے بھی۔ اس غیر متوازن طرزِ فکر کو قرآن میں تطفیف کہا گیا ہے اور اْس پرویل کی خبر دی گئی ہے (المطففین (۱-۶)۔ نزاعی معاملات میں غیر متوازن طرزِ فکر ہمیشہ تباہی کا سبب بنتا ہے، اور متوازن طرزِ فکر ہمیشہ ترقی کی طرف لے جاتا ہے۔ سیاق و سباق کی اہمیت کسی بات پر کو صحیح طور سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اُس کے سیاق (context) کو سامنے رکھا اس معاملہ کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اگر سیاق کو بدل دیا جائے تو سارا مفہوم ہی بدل جائے گا۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے ایک مثال لیجئے۔ راقم الحروف کی کتاب تذکیر القرآن پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صاحب نے لکھا ہے:

”مولانا وحید الدین کے نظریات سے اختلاف الگ بات ہے۔ اور مولانا کے اس نظریہ کو کہ

ہندوستانی مسلمان ہندوستان میں بے مسائل (بے حقوق) ہو کر رہیں گے تو انہیں اس ملک میں امن نصیب ہوگا، ورنہ نہیں ہوگا۔ اس نظریہ کو آنے والا مورخ پسپائی، ہزیمت اور بزدلی کے کون سے درجہ میں رکھے گا، یہ وہی جانیں‘‘۔ (علماء دیوبند کی تفسیری خدمات، صفحہ ۴۹) اس تنقیدی ریمارک میں میری کوئی عبارت نقل نہیں کی گئی ہے۔ بلکہ بطور خود کچھ الفاظ لکھ کر اُن کو میرا نظریہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ طریقہ سراسر غیر علمی ہے۔ اس اقتباس میں میرا جو نظریہ بتایا گیا ہے وہ میرا نظریہ ہی نہیں۔ میرا کہنا یہ ہے کہ مسلمان اس ملک میں داعی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور اُن کے مقابلہ میں برادرانِ وطن کی حیثیت مدعو کی ہے۔ یعنی مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان جو رشتہ ہے وہ قومی حریف کا رشتہ نہیں ہے بلکہ وہ داعی اور مدعو کا رشتہ ہے۔

دو قوموں کے درمیان اگر حریف اور رقیب کا رشتہ ہو تو اسی کے مطابق اُن کے تعلقات قائم ایسی حالت میں اگر ایک قوم دوسری قوم کے خلاف اپنے دنیوی حقوق کے لیے احتجاج اور مطالبہ کی مہم چلائے تو وہ بالکل درست ہوگی۔ مثلاً پسماندہ طبقہ کی طرف سے اونچی ذات کے لوگوں کے خلاف یا محنت کش طبقہ کی طرف سے سرمایہ دار طبقہ کے خلاف حقوق طلبی کی مہم۔ ایسے کسی گروہ کے لیے اس قسم کی مہم چلانے کا معیار اُن کے لیے صرف ملکی قانون اور ملکی دستور ہے۔ اب چونکہ ملکی قانون اور ملکی دستور اس قسم کی مہم کی اجازت دیتا ہے اس لیے وہ اُن گروہوں کے لیے جائز مہم قرار پائے گی۔ مگر اہل اسلام کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اہل اسلام کے لیے صرف وہ مسلک درست ہے جو قرآن وسنت کے مطابق درست ہو۔ اور وہ مسلک غلط ہے جو قرآن وسنت سے غلط قرار پائے۔ لحاظ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن وسنت کے معیار کے مطابق، اہل اسلام کی حیثیت داعی کی ہے اور بقیہ قوموں کی حیثیت مدعو کی۔ یہ تعلق بے حد نازک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل اسلام کی حیثیت دینے والے گروہ (giver group) کی ہے اور دوسری قوموں کی حیثیت لینے والے گروہ (taker group) کی ۔

داعی اور مدعو کے اس رشتہ کا تقاضا ہے کہ اہل اسلام اپنے مسائل کے لیے احتجاج اور مطالبات

کا طریقہ نہ اختیار کریں، کیوں کہ اس سے داعی اور مدعو کے درمیان دعوت کی معتدل فضا باقی نہیں اس نازک رشتہ کا تقاضہ ہے کہ اہل اسلام اپنے مسائل کو خود اپنی کوشش سے حل کریں۔ اس وضاحت سے اندازہ ہوتا ہے کہ راقم الحروف نے جو بات دعوت کے سیاق میں کہی تھی اُس کو اُس کے سیاق سے ہٹا کر دوسرے غیر متعلق سیاق سے جوڑ دیا گیا۔ اس طرح کلام کا اصل منشا ء بالکل بدل کر رہ گیا۔

Printed page