یاد ماضی عذاب ہے یا رب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
Al-Risala, July 2002, pp. 73–75
By Maulana Wahiduddin Khan
انہوں نے اس شعر کو سنتے ہی کہا کہ بہت خوبصورت شعر ہے۔ اُن کا تبصرہ سن کر میں نے کہا کہ میرے نزدیک تو یہ بہت بدصورت شعر ہے۔ پھر میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حافظہ ایک عظیم حافظہ ہی کی وجہ سے ہم چیزوں کو جانتے ہیں اور پہچانتے ہیں۔ اگر یہ دعاء قبول ہو جائے اور آدمی کا حافظہ ختم ہو جائے تو وہ بظاہر ایک انسان ہوگا مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ بھیڑ بکری سے بھی بدتر ہو جائے گا۔ میں کئی ایسے آدمیوں کو جانتا ہوں جن کا حافظہ بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے ختم ہو گیا اُن کا حال یہ ہوا کہ وہ نہ کچھ بول سکتے تھے اور نہ کسی کو پہچانتے تھے۔ وہ بے بسی کی حالت میں چند سال اسی طرح زندہ رہے اور پھر مر گئے۔
اس معاملہ میں سوچنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی حافظہ کو ختم کرنے کے بجائے حافظہ کی ناخوش گوار باتوں کو خوش گوار بنانے کی کوشش کرے۔ وہ اُن کا تجزیہ کر کے انہیں اپنے لیے غیر مؤثر بنا دے۔ مثلاً ایک شخص کے اوپر کسی آدمی کا قرض ہے۔ وہ قرض نہیں دے پا رہا ہے اور اس بنا پر وہ غم میں گھل رہا ہے۔ ایسے آدمی کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ قرض اور قرض کے غم کو ایک دوسرے سے
وہ قرض کی ادائیگی کی تدبیر کرے مگر وہ قرض کو اپنا غم نہ بنائے۔ وہ اپنے آپ کو اس سے بچائے کہ قرض کے مسئلہ کے ساتھ ایک اور مسئلہ اُس کی زندگی میں شامل ہو جائے اور وہ ذہنی ٹینشن (mental tension) ہے۔ جب کہ ٹینشن کا مسئلہ بلاشبہ قرض کے مسئلہ سے زیادہ شدید ہے۔ مسئلہ اگر صرف مسئلہ ہے تو ٹینشن ایک قسم کی ذہنی خودکشی۔ کامیاب زندگی کا راز یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو اس نادانی سے بچائے کہ وہ ایک چھوٹے مسئلہ کو اپنے لیے زیادہ بڑا مسئلہ بنا لے۔ اکثر خبریں آتی ہیں کہ فلاں بڑی کمپنی دیوالیہ ہوگئی۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ بڑی بڑی کمپنیاں دیوالیہ پن (Bankruptcy) کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنی طاقت سے زیادہ بڑی چھلانگ لگانا۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ایک کمپنی کے پاس ذاتی سرمایہ صرف چند ملین ڈالر ہے، مگر وہ ایک ایسے صنعتی کاروبار کا منصوبہ بناتی ہے جس کو قائم کرنے کے لیے کئی بلین ڈالر درکار ہیں۔ اب وہ بینک سے سودی قرض لیتی ہے۔ یہ قرض سود کے ساتھ قسطوں میں ادا کیا جاتا ہے۔ اب اگر کمپنی کی آمدنی حسب اندازہ جاری رہے تو قرض کی قسطیں بھی ادا ہوتی رہیں گی۔ لیکن اگر کسی وجہ سے آمدنی میں خلل پڑ جائے تو کمپنی اس قابل نہ رہے گی کہ وہ قرض کی قسطوں کو ادا کر سکے۔ اسی توازن کے ٹوٹنے کا نام دیوالیہ پن ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہر مادہ پرست انسان کو کسی نہ کسی صورت میں پیش آتا ہے۔ یہ مسئلہ کیوں پیدا ہوتا ہے۔ اس کا ایک نہایت گہرا سبب ہے۔ ہر آدمی پیدائشی طور پر زیادہ کی طلب رکھتا ہے۔ اپنی طلب میں کسی حد پر رکنا انسانی مزاج کے خلاف ہے۔ یہی وہ فطری مزاج ہے جو مذکورہ مسئلہ پیدا کرتا ہے۔ مادی طرز فکر میں اس مسئلہ کا کوئی حل نہیں۔ جو آدمی مادی کامیابی کی اصطلاحوں میں سوچتا ہو وہ کبھی اس کمزوری سے بچ نہیں سکتا۔ اُس سے یہ کہنا کہ تم ایک مادی حد پر رک جاؤ، اُس کے مزاج کے خلاف ہے۔ اس لیے وہ قابل عمل بھی نہیں۔
اس معاملہ میں قابلِ عمل فارمولہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے آخرت پسندانہ سوچ۔ کے مطابق، اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ آدمی دنیا میں بقدر ضرورت پر راضی ہو جائے اور آخرت میں بقدر
شوق طلب گار ہو۔ یعنی دنیا میں ضرورت کو کافی سمجھنا، اور زیادہ کی طلب کا رُخ آخرت کی طرف کر مختصر الفاظ میں، اس کا فارمولا یہ ہے ــــ دنیا میں محدود پر راضی ہونا اور لامحدود کو آخرت میں چاہنا۔ یک طرفہ ایڈجسٹمنٹ جب بھی دو آدمیوں یا دو گروہوں کے درمیان کوئی نزاع پیدا ہو تو ہر فریق کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ دوسرے فریق سے اپنی بات منوائے، وہ دوسرے فریق سے اپنے مزعومہ حق کو وصول کرے۔ یہ طریقہ سراسر غیر فطری ہے۔ اس طریقہ کا واحد انجام یہ ہے کہ وقتی مسئلہ ایک لامتناہی مسئلہ بن جائے۔ مزید یہ کہ اصل مسئلہ تو ختم نہ ہو اور نئے مسئلے پیدا ہو کر معاملہ کو پیچیدہ سے پیچیدہ تر بنا دیں۔ نزاعی مسئلہ کا کامیاب حل صرف ایک ہے ۔ اور وہ یک طرفہ مفاہمت (unilateral adjustment) دونوں میں سے جو فریق پہلے یک طرفہ مفاہمت پر راضی ہو جائے وہی ہمیشہ کا کامیاب ہوتا ہے۔ اور جو فریق راضی نہ ہو اُس کو ہمیشہ یہ قیمت دینی پڑتی ہے کہ وہ معاملہ کے اُس خاتمہ پر ذلت کے ساتھ راضی ہو جس پر ابتدائی مرحلہ میں عزت کے ساتھ سمجھوتہ ہو سکتا تھا مگر اُس وقت اُس نے سمجھوتہ نہیں کیا۔ قرآن میں اس اُصول کو دو لفظ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: والصلح خير (النساء ١٢٨) یعنی صلح بہتر ہے: