Reconciliation is the best.
Al-Risala, July 2002, pp. 75–76
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں یہ آیت ازدواجی نزاع کے ذیل میں آئی ہے۔ مگر یہ ایک عمومی اصول ہے، اور اس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی۔ صلح(reconciliation) کا اُلٹا لفظ جنگ ہے۔ جنگ کی نفسیات یہ ہے کہ ہر آدمی دوسرے کو زیر کر کے اپنا حق وصول کرنا چاہتا ہے۔ اس کے برعکس صلح کا طریقہ دو اور لو (give and take) کے اصول پر قائم ہے۔ اس دوسرے طریقہ میں ہر فریق یہ کوشش کرتا ہے کہ ٹکراؤ کی نوبت نہ آئے اور پُرامن بات چیت کے ذریعہ دوطرفہ رضامندی سے مسئلہ حل ہو جائے۔
جنگ کے طریقہ میں ہر فریق کی نظر موجود پر ہوتی ہے۔ یعنی جو چیز سامنے موجود ہے اُس پر
جو لوگ جنگ کی نفسیات کا شکار ہوں وہ موجود پر قبضہ کو جیت اور موجود کے کھونے کو ہار مگر صلح کی نفسیات والا انسان حال کے بجائے مستقبل کو دیکھتا ہے۔ اُس کی بصیرت اُس کو یہ بتاتی ہے کہ جو کچھ بروقت سامنے نظر آتا ہے، اُس سے بہت زیادہ وہ ہے جو اگرچہ بروقت نظر نہیں آتا مگر دانش مندانہ عمل کے ذریعہ اُس کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ جنگ پسند آدمی کی نظر حال میں اٹکی ہوئی ہوتی ہے اور صلح پسند آدمی کی نظر مستقبل کی طرف متوجہ رہتی ہے۔ یہی مستقبل بینی تمام بڑی بڑی کامیابیوں کا واحد راز ہے۔