مشکل میں آسانی
Al-Risala, July 2002, pp. 76–79
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۹۴ میں فطرت کے ایک عالمگیر اصول کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فإن مع العسر يسراً، إن مع العسر يسرا (الانشراح (۵-۶) یعنی بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے:
With every hardship there is ease, with every hardship there is ease. اس قرآنی آیت میں ایک ایسی سوچ کی تعلیم دی گئی ہے جس کو برتر اند از فکر (high thinking) کہا جا سکتا ہے۔ یعنی مشکلات سے اوپر اٹھ کر سوچنا۔ اس کا مقصد آدمی کے اندر ایک ایسے طرز فکر کو پیدا کرنا ہے جو دشواریوں میں گھر کر نہ رہ جائے بلکہ دشواریوں سے باہر آ کر سوچے ۔ جو آدمی اس برتر سوچ کا ثبوت دے وہ بہت جلد دریافت کرے گا کہ جہاں بظاہر صرف مسائل دکھائی دے رہے تھے وہاں ایسے مواقع بھی موجود تھے جن سے نہ صرف مسائل کو حل کیا جائے بلکہ اپنی نا کامی کو دوبارہ کامیابی میں بدل لیا جائے ۔ اس معاملہ کی بہت سی مثالیں ماضی اور حال میں موجود ہیں ۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ تیرہویں صدی عیسوی میں وسط ایشیا کے وحشی قبائل جن کو منگول کہا جاتا ہے، اپنی کوہستانی بستیوں سے نکلے اور عباسی سلطنت کو ختم کر کے سمر قند سے حلب تک تمام مسلم شہروں میں چھا گئے۔ اس واقعہ کو مؤرخ ابن اثیر نے ایک ایسی آفت بتایا ہے جو تاریخ میں کبھی پیش نہیں آئی اور نہ شاید دوبارہ پیش آئے۔ گویا اپنے ظاہر کے اعتبار سے یہ ایک عظیم عُسْر (بہت بڑی مشکل) کا معاملہ تھا۔ مگر اس مشکل
میں ایک آسان پہلو نکل آیا۔ وہ یہ کہ اس فوجی در اندازی کا دوسرا نتیجہ یہ ہوا کہ مدعو خود داعی کی آبادیوں میں داخل ہو گیا۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ روزانہ مختلف صورتوں میں داعی اور مدعو کے درمیان اختلاط (interaction) اور بحث و گفتگو (dialogue) ہونے لگا۔ یہ جنگ ابتداء میں قتل وخون دکھائی دیتی تھی مگر بعد کے مرحلہ میں وہ اسلام کو موضوع بحث بنانے کا ذریعہ ثابت ہوئی۔ اس طرح ایک فطری نتیجہ کے طور پر مسلمانوں کی طرف سے منگولوں کے اوپر اسلامی دعوت کا عمل (process) جاری ہو گیا۔ کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچاس سال کے اندر منگولوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی____ منگولوں کے ساتھ اس جنگ میں بظاہر مسلمان ہارے تھے مگر عین اُسی وقت اسلام نے شاندار کامیابی حاصل کر لی۔ اِسی تاریخی حقیقت کو ایک مغربی مؤرخ نے ان الفاظ میں ادا کیا ہے____ مسلمانوں کے مذہب نے وہاں کامیابی حاصل کرلی جہاں ان کے ہتھیار نا کام ہو چکے تھے:
The religion of Muslims have conquered where their arms had failed. تعمیم کی غلطی سوچ کی غلطی کی ایک صورت وہ ہے جس کو تعمیم (genralisation) کہا جاتا ہے۔ استثنائی مثال کو لے کر اُس کو عمومی شکل دینا اور اُس سے کُلّی رائے بنانا۔ تعمیم کی غلطی اتنی زیادہ عام ہے کہ بہت کم لوگ اس سے بچے ہوئے نظر آئیں گے۔
مثلاً بائبل (نیا عہد نامہ) میں ہے کہ حضرت مسیح نے فرمایا: یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں ۔ صلح کرانے نہیں بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں:
“Donot think that I came to bring peace on earth. I did not come to bring peace but a sword.” (Matthew, 10:29)
حضرت مسیح کا یہ قول اُن کے پورے کلام میں ایک استثناء کی حیثیت رکھتا ہے۔ اُن کے زیادہ تر اقوال محبت اور اخلاق جیسی تعلیمات پر مبنی ہیں ۔ ایسی حالت میں مذکورہ قول کو لے کر یہ کہنا کہ حضرت مسیح کا مشن تلوار چلوانا تھا، ایک استثناء کو عموم کا درجہ دینا ہوگا۔ یہ ایک غلط تعمیم ہوگی جو علمی اعتبار سے قابل قبول نہیں۔
اسی قسّم کی غلط تعمیم قرآن کے بارے میں بھی کی گئی ہے۔ قرآن سے قتال کی بعض آیتوں کو لے کر کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن جنگ و قتال کی کتاب ہے۔ حالانکہ یہ ایک کھلی ہوئی غلط تعمیم قرآن کی ننانوے فیصد سے زیادہ آیتیں وہ ہیں جو امن اور انسانیت جیسے مثبت موضوعات سے تعلق رکھتی ہیں۔ ایک فیصد سے بھی کم آیتیں وہ ہیں جو کھلی ہوئی جارحیت کی صورت میں دفاع کے احکام بتاتی ہیں۔ ایسی حالت میں چند آیتوں کو لے کر یہ کہنا کہ یہی قرآن کی عمومی تعلیم ہے، سراسر غلط ہے اور علمی اعتبار سے ناقابل قبول ہے۔
تعمیم کی یہ فکری بُرائی ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔ لوگوں کا عام مزاج یہ ہے کہ جس آدمی سے وہ خوش ہوں گے اُس کی کچھ خوبیوں کو لے کر اُس کو مبالغہ آمیز انداز میں بیان کریں وہ انہی چند خوبیوں کی بنیاد پر اپنے محبوب کی مکمل تصویر بنائیں گے۔ اس کے برعکس، جس آدمی سے وہ ناخوش ہوں اُس کی خوبیوں کو وہ نظر انداز کریں گے۔ وہ ڈھونڈ کر اُس کی کچھ برائیاں نکالیں گے اور ان برائیوں کو مبالغہ آمیز انداز میں بیان کر کے یہ تاثر دیں گے کہ یہی اُن کے مبغوض آدمی کی مکمل تصویر ہے۔ تعمیم کی یہ دونوں ہی صورتیں سراسر غلط ہیں۔ یہ طریقہ غیر علمی بھی ہے اور اخلاق اور انصاف کے خلاف بھی۔ جس معاشرہ میںتعمیم کا یہ طریقہ رایج ہو جائے وہاں ہر آدمی کی تصویر مصنوعی بن لوگ ایک دوسرے کے بارے میں ایسی رائیں قائم کریں گے جن کا حقیقتِ واقعہ سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔
راقم الحروف کو بھی اپنے دعوتی مشن میں اس قسم کی غلط تعمیم کا تجربہ ہوا ہے۔ مثلاً کچھ لوگ میرے بارے میں یہ مشہور کرتے ہیں کہ اُن کو تو بس ایک بات اسلام میں ملی ہے، صلح حدیبیہ۔ یہ سراسر بے بنیاد بات ہے۔ میری دو سو سے زیادہ کتابیں ہیں اور ہزاروں سے زیادہ مقالات و مضامین چھپ چکے ہیں۔ کوئی شخص ان میں دیکھ سکتا ہے کہ میری ان تحریروں میں صلح حدیبیہ کی بات ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ اسلام کی دوسری تعلیمات اور وقت کے مسائل کا اسلامی جواب جیسے مضامین سے میری تحریریں بھری ہوئی ہیں۔ مگر خود ساختہ تعمیم کے ذریعہ یہ غلط تاثر دیا جاتا ہے کہ مجھے تو
سارے قرآن وحدیث میں صرف ایک چیز ملی ہے، صلح۔ جو لوگ ایسا کہتے ہیں اُن کا معاملہ بلاشبہ غیر علمی بھی ہے اور دیانت کے خلاف بھی۔