Al-Risala · July 2002

سبق لینا، نہ کہ سبق سکھانا

Al-Risala, July 2002, pp. 79–81

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۹۴۷ سے ۱۹۷۱ تک بنگلہ دیش کا نام مشرقی پاکستان تھا۔ اس وقت وہ پاکستان کا مشرقی حصہ ۱۹۷۱ میں بنگلہ دیش کے لوگوں نے پاکستان کے خلاف مسلح بغاوت کر دی۔ اس جنگ میں انڈیا نے بنگلہ دیشیوں کا ساتھ دیا۔ اس طرح انڈیا کی فوجی مدد کے ذریعہ مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش کے نام سے ایک مستقل ملک بن گیا۔ اس واقعہ کے بعد پاکستان کے لیڈروں نے کہا کہ ہم انڈیا سے انتقام لیں گے ۔ وہ انڈیا پر براہ راست حملہ نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے کشمیر اور پنجاب میں اپنی خفیہ مدد کے ذریعہ پراکسی وار چھیڑ دی۔ یہ پراکسی وار صرف پاکستان کی مزید تباہی کا ذریعہ بنی۔ اس معاملہ میں پاکستان کے لیے سبق سکھانے کی پالیسی درست نہ تھی۔ اُس کے لیے زیادہ صحیح پالیسی سبق لینے کی تھی۔ پاکستان کو ۱۹۷۱ کے واقعہ سے یہ سبق لینا چاہئے تھا کہ بنگلہ دیش کا نام مشرقی پاکستان رکھ کر اس کو ایک ملک کی حیثیت سے پاکستان کا حصہ قرار دینا ایک غیر حقیقت پسندانہ سیاست تھی جو عملاً چلنے والی نہ تھی۔ ۱۹۷۱ میں بنگلہ دیش کی علیحدگی اپنی حقیقت کے اعتبار سے انڈیا کی مداخلت کا نتیجہ نہ تھی بلکہ وہ ایک غیر حقیقت پسندانہ سیاست کا فطری انجام تھا جو اپنے وقت پر پیش آیا۔ پاکستانی لیڈروں کے ذہن میں سبق سکھانے کا تصور اتنا زیادہ چھایا ہوا تھا کہ اس واقعہ سے وہ اصل مطلوب سبق نہ لے سکے۔ چنانچہ اس کے بعد بھی وہ بار بار نہایت سنگین قسم کی غیر حقیقت پسندانہ سیاست میں مبتلا ہوئے اور اس کے بھیانک انجام سے دوچار ہوتے رہے۔ اس کی ایک مثال پاکستان میں جنگجوؤں کی پرورش ہے جو انہوں نے ’’عظیم تر پاکستان‘‘ کے خیالی تصور کو واقعہ بنانے کے لئے کی۔ اگرچہ اس کا بھی فطری انجام یہی ہوا کہ پاکستان ہر اعتبار سے ایک دیوالیہ ملک بن کر رہ گیا۔ ایک مسلمان طالب علم سے ملاقات ہوئی۔ اُن کے سر کے بال منڈے ہوئے تھے۔

دوران انہوں نے بتایا کہ وہ جس مدرسے میں پڑھتے ہیں اُن کے ناظم نے اُن کے دوسرے طالب علموں کے سر کے بال منڈوا دیئے ہیں۔ ناظم صاحب نے وجہ یہ بتائی کہ مجھ کو بڑے بال اچھے نہیں لگتے۔ میں نے پوچھا کہ جن طلبہ کے سر کے بال منڈوائے گئے انہوں نے کچھ احتجاج، وغیرہ مذکورہ طالب علم نے بتایا کہ نہیں۔ طلبہ نے اس کو بہت زیادہ برا مانا لیکن وہ اس پر خاموش رہے۔ اس لیے کہ اگر وہ احتجاج کرتے تو مدرسے سے ان کا اخراج کر دیا جاتا۔

اصولی اعتبار سے دیکھا جائے تو ناظم صاحب کا طلبہ کے سر کے بال منڈوانا طلبہ کے لیے ایک اشتعال انگیز واقعہ تھا۔ مگر ان طلبہ نے ایسا نہیں کیا کہ وہ بال منڈوانے کے معاملہ کو اُصولی اور نظری معیار پر جانچیں ۔ بلکہ وہ سب اس معاملہ میں عملی (پریکٹیکل ) بن گئے۔ ایک معاملہ جو نظری بنیاد پر قابلِ قبول نہ تھا اُس کو انہوں نے عملی بنیاد پر قبول کر لیا۔

غور کیجیے تو ہر آدمی اپنی ذاتی زندگی میں یہی کرتا ہے۔ وہ معاملہ کے نظری پہلو پر اصرار نہ کرتے ہوئے بھی عملی بنیاد پر اُس کو ماننے کے لیے راضی ہو جاتا ہے۔ مگر انہی افراد کا حال یہ ہے کہ جب معاملہ قومی اور ملّی ہو تو وہ فوراً اُس کو نظری اور اصولی اعتبار سے جانچنا شروع کر دیتے ہیں۔ وہ ایسا نہیں کرتے کہ عملی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے مسئلہ کو ختم کر دیں۔

لوگوں میں یہ تضاد کیوں ہے کہ وہ اپنے انفرادی معاملہ میں حقیقت پسند ہوتے ہیں اور جب ملّت کا معاملہ ہو تو وہ غیر حقیقت پسند بن جاتے ہیں۔ اس کا سبب لوگوں میں ذہنی بیداری کا نہ ہونا اصل یہ ہے کہ ذاتی معاملہ میں آدمی اُس کے نفع اور نقصان کو خود بھگت رہا ہوتا ہے، اس لیے وہ کسی سوچ کے بغیر صرف ذاتی تجربہ کی بنیاد پر صحیح رائے تک پہنچ جاتا ہے۔ ذاتی معاملہ میں رائے قائم کرنے کے لیے سوچنے اور فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ذاتی تجربہ کی تلخی اور شیرینی اُس کا رویہ متعین کرنے کے لیے کافی ہو جاتی ہے۔ یہ عین وہی معاملہ ہے جو ہر حیوان کے ساتھ پیش آتا ہے۔ اپنے ذاتی معاملہ میں جان لیتا ہے کہ اُسے کیا کرنا چاہئے ۔ مگر دوسرے کے معاملہ میں وہ اُس کو جان کیوں کہ دوسرے کے معاملہ کو جاننے کے لیے فہم درکار ہے جو کہ حیوان میں نہیں ہوتی۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اُن کے درمیان کوئی ایسی تحریک نہیں اُٹھی جو اُن کے اندر ذہنی بیداری پیدا کرے۔ جو فن تفکیر (art of thinking) کے اصولوں کی روشنی میں اُن کی ذہنی تربیت کرے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی مسلم نسلیں فکری ارتقاء سے محروم ہیں ۔ لوگ بس حیوانی سطح پر جی رہے ہیں، ذہنی ارتقاء یا فکری عمل (thinking process) کی اُنہیں خبر ہی نہیں۔

Printed page