اقدام نتیجہ خیز ہونا چاہئے
Al-Risala, July 2002, pp. 81–82
By Maulana Wahiduddin Khan
بنی اسرائیل کے اندر پیش آنے والے واقعات میں سے ایک واقعہ وہ ہے جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے زمانہ میں پیش آیا۔ قرآن کے مطابق، ایسا ہوا کہ حضرت موسیٰ اپنی قوم کے اوپر حضرت ہارون کو ذمہ دار بنا کر کچھ دنوں کے لئے کوہ طور پر چلے گئے۔ اس دوران بنی اسرائیل نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ہارون نے انہیں روکا مگر قوم کی طرف سے شدت دیکھ کر وہ اس معاملہ میں خاموش ہوگئے۔ مگر جب حضرت موسیٰ واپس آئے تو انہوں نے اس مصنوعی بچھڑے کو توڑ کر پھینک دیا اور مجرمین کو سزادی (الاعراف، طہ) یہاں یہ سوچنے کی بات ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے عمل میں یہ فرق کیوں تھا۔ وجہ ہے کہ حضرت ہارون نے کھلے ہوئے شرک کے ایک معاملہ کو عملاً برداشت کیا جب کہ حضرت موسیٰ نے اس کو توڑ کر اور جلا کر ختم کردیا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ہارون نے غور و فکر کے بعد یہ جانا کہ اگر وہ عملی اقدام کرتے ہیں تو ایک گروہ ان کا ساتھ دے گا اور دوسرا گروہ بچھڑا پوجنے والوں کے ساتھ رہے گا۔ اس طرح قوم دو گروہوں میں بٹ کر باہمی لڑائی شروع کردے گی، مگر حضرت موسیٰ کے عمل کی صورت میں یہ اندیشہ نہ حضرت موسیٰ کو قوم میں غالب حیثیت حاصل تھی ۔ اس بنا پر یہ ممکن تھا کہ وہ قوم میں جس فیصلہ کو چاہیں
اس واقعہ پر غور کرنے کے بعد یہ اصول ملتا ہے کہ عمل کو ہمیشہ نتیجہ رخی (result-oriented)
ہونا چاہئے ۔ اگر عملی اقدام نہیں کرنے سے نتیجہ مطلوب صورت میں نکلنے والا ہو تو عملی اقدام کیا جائے گا اور اگر یہ اندیشہ ہو کہ عملی اقدام سے حالات بگڑ جائیں گے اور ایک برائی کی جگہ دو برائی پیدا ہو جائے گی تو عملی اقدام نہ کیا جائے گا ۔