ذہنی تناؤ
Al-Risala, July 2002, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
جدید صنعتی دور نے انسانی زندگی کو بعض نئی قسم کی پیچیدگیوں میں مبتلا کر دیا ہے ۔ ابتدائی درجہ میں ہمیشہ موجود تھیں مگر موجودہ انتہائی درجہ میں اُن کا تجربہ انسان کو پہلی بار ہوا ہے ۔ میں سے ایک نمایاں مسئلہ وہ ہے جس کو ذہنی تناؤ (mental tension) کہا جاتا ہے ۔ پیس آف مائنڈ کے ڈسٹرب ہونے کا سبب زیادہ تر وہ چیز ہوتی ہے جس کو ٹینشن یا اسٹریس کہا جاتا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی بھی شخص کے لئے ٹینشن اور اسٹریس سے بچنا ممکن اب سوال یہ ہے کہ اس معاملہ میں کیا کیا جائے ۔ مگر میں کہوں گا کہ ٹینشن یا اسٹریس کوئی برائی بلکہ وہ انسان کے لئے ایک نعمت (boon) کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیوں کہ اگر آدمی کے اندر منٹل ٹینشن نہ ہو تو اس کے اندر برین اسٹارمنگ نہیں ہوگی ۔ اور اگر برین اسٹارمنگ نہ ہو تو مائنڈ کے اندر وہ سرگرمیاں (activiteis) پیدا نہیں ہوں گی جو اعلیٰ انٹلکچول ڈیولپمنٹ کا واحد ذریعہ ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ٹینشن اور اسٹریس کا یہ کوئی صحت مند حل نہیں ہے کہ اس کو روکنے کی کوشش کی جائے یا اس کو مکمل طور پر دبا دینے کی کوشش کی جائے ۔ اس قسم کا حل ایک قسم کی ذہنی تنذیر (intellectual anaesthesia) ہے ۔ ایسی تنذیر ذہنی ترقی کے عمل کو روک کر انسان کو حیوانی سطح پر لے جانے کے ہم معنیٰ ہے ۔
So the solution lies in managing the crisis/ tension and not in suppressing it. معیار کا فرق ایک صاحب نے میری تحریروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آپ کی کتابیں پڑھی مگر آپ کی تحریروں میں تضاد پایا جاتا ہے ۔ میں نے کہا کہ اس کی کوئی مثال دیجئے ۔ انہوں نے کہا
کہ آپ نے ایک طرف سید احمد شہید اور سید اسماعیل شہید کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ لوگ بلا شبہ مگر اسی کے ساتھ آپ یہ لکھتے ہیں کہ ۱۸۳۱ء میں انہوں نے پنجاب میں جو جہاد کیا وہ ایک غیر دانش مندانہ اقدام تھا۔ ایک طرف آپ شہید ین کی تعریف کرتے ہیں اور دوسری طرف آپ اُن کی تنقید کرتے ہیں۔ کیا یہ تضاد نہیں۔
میں نے کہا کہ یہ تضاد کی بات نہیں ہے بلکہ یہ فکری معیار کے فرق کی بات ہے۔ آپ لوگوں کا فکری معیار یہ ہے کہ آپ جن افراد کو اکابر کا درجہ دے دیں، اُن کے بارے میں آپ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ غلطی نہیں کر سکتے، انہوں نے جو کچھ کہا یا کیا وہ سب درست تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے مزعومہ اکابر کے بارے میں اگر کوئی جزئی تنقید بھی کی جائے تو آپ لوگ بھڑک اپنے معیار کے مطابق، آپ اپنے اکابر کو صرف قابل تعریف سمجھتے ہیں، قابل تنقید نہیں۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا معیار وہ ہے جس کو علمی معیار کہا جاتا ہے۔ علمی معیار پُر اسرار شخصی تقدس پر قائم نہیں ہوتا، وہ معلوم اور ثابت شدہ حقائق پر مبنی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمی معیار میں تحلیل اور تجزیہ کا طریقہ رائج ہے۔ علمی معیار کے مطابق، داخلی نیت ایک الگ چیز ہے اور خارجی عمل اُس سے مختلف دوسری چیز۔ یہ علمی معیار شریعت کے عین مطابق ہے۔ اسی بنا پر حدیث میں آیا ہے کہ اگر آدمی کی نیت درست ہو تو اجتہادی خطا پر بھی اس کو ایک درجہ کا ثواب ملے گا (صحیح البخاری) میرا طریقہ یہی علمی معیار والا طریقہ ہے۔ میں شخصی تقدس کے نظریہ کو درست نہیں سمجھتا۔ شخصیتوں کا تجزیہ خالص حقائق کی روشنی میں کرتا ہوں۔ اس تجزیاتی طریق مطالعہ نے مجھے بتایا کہ سید احمد شہید اور سید اسماعیل شہید بلا شبہ مخلص لوگ تھے۔ مگر ۱۸۳۱ء میں انہوں نے پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خلاف جو مسلح جہاد کیا، اس میں بیک وقت دو کمیاں شامل تھیں—— ناقص تیاری اور حالات سے بے خبری۔
سید اسماعیل شہید کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب جہاد کا فیصلہ ہوا تو انہوں نے جہاد کی تیاری شروع کر دی۔ اُس وقت وہ دہلی میں تھے۔ گرمی کے زمانہ میں وہ دہلی کی جامع مسجد کے پتھر کے
فرش پر ننگے پاؤں چلتے تھے۔ اس کو وہ جہاد کی تیاری سمجھتے تھے۔ اُن کا یہ عمل اُن کے قلبی اخلاص کا ثبوت تو ضرور ہو سکتا ہے مگر اس کا کوئی تعلق مہاراجہ رنجیت سنگھ کی اعلیٰ تربیت یافتہ فوج کے خلاف جنگ کی تیاری سے نہیں۔ کیوں کہ اس جنگ میں جو چیز فیصلہ کن بننے والی تھی وہ فوجی طاقت تھی، نہ کہ ننگے پاؤں گرم پتھر پر چلنے کی مشق۔
انہی کمیوں کا یہ نتیجہ تھا کہ اُن کا یہ مسلح جہاد صرف یک طرفہ تباہی پر ختم ہوا۔ کسی شخص کی نیت خواہ کتنا ہی زیادہ درست ہو، لیکن اگر وہ پتھر کو توڑنے کے لیے اپنا سر اُس سے ٹکرانے لگے تو یقینی طور پر حسن نیت کے باوجود اُس کا سر ٹوٹ جائے گا۔ کیوں کہ پتھر کو ہتھوڑے سے توڑا جا سکتا ہے مگر سر سے نہیں۔ بے بنیاد سوچ انڈیا کے ہندو اور مسلمان دونوں ایک ہی قسم کی غلط سوچ میں مبتلا ہیں۔ دونوں ہی یکساں طور پر ایک فرضی یقین میں جی رہے ہیں۔ دونوں کے کیس کو مختصر الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے: مسلم : اسلام سچا ہے، اس لیے میں بھی سچا ہوں۔
ہندو : ہر مذہب سچا ہے، اس لیے میں بھی سچا ہوں۔
یہ دونوں ہی قسم کی سوچ غلط مفروضات پر قائم ہے۔ غیر جانبدارانہ تجزیہ اُن کی غلطی کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس قسم کا یقین محض خوش عقیدگی کی بنیاد پر قائم ہے، وہ کسی حقیقی دلیل کی بنیاد پر قائم نہیں۔
اب مسلمان کے معاملہ کو لیجیے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ اسلام سچا اور برحق مذہب ہے۔ برحق مذہب ہونا اسی دنیا میں آج بھی ایک معلوم اور مسلّم حقیقت ہے۔ قرآن کی متعدد آیتیں اس کا مثلاً: ان الدین عندالله الإسلام (آل عمران (۱۹) اسی طرح فرمایا: ومن يبتغ غير الاسلام دینا فلن يقبل منه و ھو في الآخرة من الخاسرين (آل عمران (۸۵)۔ کی آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کا سچا اور برحق ہونا آج بھی ایک معلوم اور مسلّم حقیقت ہے۔ مگر جہاں تک مسلمانوں کا معاملہ ہے، اُن کی حیثیت اس اعتبار سے بالکل مختلف ہے۔
شخص جو اسلام کا دعویٰ کر رہا ہے یا کوئی گروہ جو اپنے آپ کو اسلامی گروہ بتاتا ہے اُس کا اسلام صرف آخرت میں معتبر اور متحقّق ہوگا، موت سے پہلے کی دنیا میں نہیں۔ موجودہ دنیا میں آدمی کو اندیشہ اور اُمید کے درمیان جینا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ: الایمان بین الرجاء والخوف۔
اب ہندو کے معاملہ کو لیجئے۔ یہ نظریہ کہ ہر مذہب سچا ہے، ایک غیر علمی اور غیر منطقی نظریہ ہے۔ کا تقابلی مطالعہ بتاتا ہے کہ اُن کے درمیان بنیادی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ مثلاً کسی کے نزدیک خدا ایک ہے اور کسی کے نزدیک وہ متعدّد ہے۔ کوئی پرسنل گاڈ میں یقین رکھتا ہے اور کوئی یہ سمجھتا ہے کہ خدا ایک سرایت کی ہوئی اسپرٹ (pervadingspirit) ہے، جس کا کوئی علیحدہ تشخص نہیں۔ کوئی پیغمبری کو مانتا ہے اور کوئی اوتارواد کواورکوئی ابنیتِ خدا کو وغیرہ وغیرہ۔ مذاہب کے درمیان اس قسم کے بنیادی اختلافات موجود ہیں، ایسی حالت میں ہر مذہب کو یکساں بتانا ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے لیے کوئی علمی اور منطقی اساس موجود نہیں۔ مزید یہ کہ ’’ہر مذہب سچا ہے‘‘ کا نظریہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ مذہب سچائی کا نمائندہ اور سچائی کبھی تعدد کو قبول نہیں کرتی۔ سچائی وہی ہے جو ایک ہو، جو سچائی کئی ہو وہ سچائی بھی نہیں۔ مذہب کا مقصد یہ ہے کہ آدمی کو یقین اور اعتماد عطا کرے ۔ وہ اُس کے لیے جینے کا غیر متزلزل جو بحران کے لمحات میں اُس کے لیے بھروسہ بن سکے۔ یہ مقصد صرف ایک سچائی کے تصور سے پورا ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ آدمی صرف کسی ایک سچائی پر اپنے ذہن کو مرتکز کر سکتا ہے، نہ کہ کئی سچائیوں پر۔ بہت سی باتیں ایسی ہیں جو کہنے میں خوب صورت معلوم ہوتی ہیں، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ بے معنی ہوتی ہیں۔ وہ گریمر کے اعتبار سے درست مگر حقیقت کے اعتبار سے غلط۔ ذہنی ترقی میں رکاوٹ دہلی کے ایک اُردو ماہنامہ میں دعوت اسلام کے موضوع پر ایک تبصرہ چھپا ہے۔ صاحب تحریر کا ایک پیرا گراف یہ ہے ’’تحریک اسلامی کے ایک ممتاز، بلند پایہ رہنما نے بڑی اچھی بات کہی کہ موجودہ جدید جمہوری آزاد ہندوستان میں، دار الکفر اور دار الاسلام کی فقہی اصطلاحوں میں نہ پڑیے، یہ پورا ملک دار الدعوہ ہے اور یہ امت مسلمہ امت دعوت ہے۔ (زندگی نو، مارچ ۲۰۰۲ء، صفحہ ۷۲)
اس عبارت میں مذکورہ رہنما کا نام نہیں لیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ رہنما سے مراد کون صاحب امر واقعہ یہ ہے کہ ہندوستان کے بارے میں دار الدعوہ کا لفظ پہلی بار راقم الحروف نے استعمال کیا۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ مجھ سے پہلے کسی نے ہندوستان کو دار الدعوہ کہا ہو۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس سے پہلے مسلم رہنماؤں میں سے کسی نے ہندوستان کو دار الکفر کہا، کسی نے دارالحرب کہا، کسی نے دارالطاغوت کہا، کسی نے دار الامن کہا۔ مگر کوئی بھی شخص ہندوستان کو دار الدعوہ نہ کہہ سکا تھا۔ ہندوستان کے لیے دار الدعوہ کا لفظ پہلی بار میں نے استعمال کیا۔ اور اس کے حق میں شرعی دلائل فراہم کیے۔ اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ مضمون نگار کے نزدیک وہ کون شخص ہے جس نے یہ بتایا کہ ہندوستان دار الدعوہ ہے۔ اگر وہ جانتے ہیں کہ یہ کام راقم الحروف نے کیا ہے، پھر بھی اُنہیں میرا نام لینا پسند نہیں تو یہ ایک قسم کی ذہنی بزدلی ہے۔ اور اگر وہ اپنے حلقہ کے کسی بزرگ کو فرضی طور پر یہ کریڈٹ دینا چاہتے ہیں تو یہ بد ترین قسم کی گروہ پرستی ہے۔ دونوں حالتوں میں یہ حقائق پر مصلحت کو ترجیح دینا ہے۔ سوا اس کی کوئی اور توجیہہ ممکن نہیں۔
تجربہ بتاتا ہے کہ اکثر لوگ اس قسم کی کمزوری میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس کمزوری کا سب سے بڑا نقصان کسی دوسرے کو نہیں پہنچتا بلکہ خود اس شخص کو پہنچتا ہے جو ایسی کمزوری میں مبتلا ہو۔ اُس کو اپنی اس کمزوری کی یہ بھاری قیمت دینی پڑتی ہے کہ اُس کا ذہنی ارتقاء رک جائے۔ اس قسم کی کمزوری آدمی کے ذہن کو بند ذہن بنا دیتی ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ بند ذہن کسی آدمی کے ذہنی اور فکری ارتقاء میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ذہنی ارتقاء کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک ارتقاء یافتہ ذہن ہی کو وہ اعلیٰ چیز حاصل ہوتی ہے جس کو معرفت کہا گیا ہے۔ اور معرفت کا نہایت گہرا تعلق دینی فہم سے ہے۔ کے بغیر علم صرف معلومات ہے، اور معرفت کے ساتھ علم بصیرت کا خزانہ۔